منکرین حدیث کے عقائد کی حقیقت قرآنی آیات کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

منکرین حدیث کا ایمانیات، عبادات اور احادیث کے متعلق عقیدہ

گزشتہ ابواب میں متفرق طور پر مناسب جگہوں پر منکرین حدیث کے بعض عقائد بیان کیے گئے ہیں۔ اس باب میں ان کے تمام معروف عقائد و نظریات تفصیل سے بیان کیے جائیں گے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی اسلام اور پرویزی اسلام کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ کے متعلق عقیدہ

پرویز لکھتے ہیں:
”لیکن خدا کے تصور کا ایک مفہوم وہ ہے جسے خدا نے متعین کیا ہے اور جو قرآن کے حروف و نقوش میں جگمگ جگمگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تصور کی رو سے ان مقامات پر خدا سے مفہوم ہے وہ نظام جو اس کے متعین فرمودہ ابدی قوانین کی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔“
(سلیم کے نام خط ، ص : 226 بحوالہ ضرب حدیث ،ص:131)
یہاں پرویز صاحب پر لازم تھا کہ خدا نے جن آیات میں مفہوم متعین کیا ہے وہ ان آیات کا ذکر کرتے اور قرآن کے وہ حروف و نقوش بھی بیان کرتے جن میں خدا کا تصور جگمگ جگمگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
انھوں نے اس عبارت میں خدا کا مفہوم نظام کو قرار دیا جو ابدی قوانین پر قائم ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ پرویز صاحب کے بقول جب یہ نظام قائم ہو جائے تو اس وقت خدا موجود ہوگا اور جب ایسا نظام نہیں ہوگا تو خدا کا وجود بھی نہیں ہوگا۔ کیا خدا کے وجود کا یہ معنی کسی رسول نے بیان کیا یا قرآن کی کسی آیت میں مذکور ہے؟
ایک جگہ لکھتے ہیں: ”چونکہ خدا عبارت ہے ان صفات عالیہ سے جنھیں انسان اپنے اندر منعکس کرنا چاہتا ہے، اس لیے قوانین خداوندی کی اطاعت در حقیقت انسان کی اپنی فطرت عالیہ کے نوامیس کی اطاعت ہے۔“
(معارف القرآن : 420/2)
یہ خدا کا دوسرا عجیب و غریب معنی نکالا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے متعلق دوسرا عقیدہ

پرویز لکھتے ہیں: ”مذہب نے جس خدا کو کائنات سے ماورا عرش پر بٹھا رکھا ہے وہ واقعی کسی انسان کے رزق کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ اس کے رازق ہونے کے دعوی کے باوجود اس کی خدائی میں کروڑوں بندے بھوکے سوتے اور لاکھوں انسان فاقوں سے مرتے ہیں۔ اس کے اس بلند آہنگ اعلان کے باوجود کہ
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا
”زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کے رزق کی ذمہ داری خدا پر نہ ہو۔“
(11-هود:6)
(ترجمہ پرویز) آج آدھی دنیا کو پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیں ہو رہی، لہذا انسانوں کے خود ساختہ مذہب کے پیدا کردہ خدا پر ایمان لانے اور اس کے دعاوی پر توکل رکھنے سے وہ یقین کسی طرح پیدا نہیں ہو سکتا جو انسان کو احتیاج کی فکر سے بے خوف کر دے۔“
(سلیم کے نام خط ص : 226 بحوالہ ضرب حدیث ، ص: 122)
پرویز صاحب صرف منکر حدیث ہی نہیں بلکہ وہ قرآن کے بھی صریح طور پر منکر ہیں۔ خدا کو کائنات سے ماورا عرش پر بٹھانے کی نسبت مذہب کی طرف کی ہے اور آخر پر کہا: خود ساختہ مذہب کے پیدا کردہ خدا۔ العیاذ باللہ۔ اتنی خود سری! انھوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ
”پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔“
(7-الأعراف:54)
نیز فرمایا:
الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ
”وہ رحمان ہے، عرش پر مستوی ہے۔“
(20-طه:5)
رحمان کے عرش پر مستوی ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود صریح آیات کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ یہ کوئی خود ساختہ تصور نہیں بلکہ قرآن کی آیات بینات پر مبنی ہے۔ قرآن کی صریح آیت میں ہے:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا
”اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار نہیں مگر اس کی روزی اللہ کے ذمے ہے۔“
(11-هود:6)
پرویز نے یہ آیت نقل کر کے اس کا تمسخر اڑایا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روسی نظام (مساوات) کا تابع ہو کر سب کو یکساں روزی فراہم کرے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں بلکہ اس نے فرمایا:
يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ
”وہ جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔“
(17- بني إسراءيل: 30 )
اور فرمایا:
وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ
”اللہ نے روزی کے معاملے میں بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے۔“
(16 – النحل : 71)
یعنی روزی کی تقسیم کے معاملے میں اس کا نظام مساوات پر مبنی نہیں۔ اس فرق کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا
”تا کہ ان میں سے بعض (مال دار) بعض (مزدور) سے خدمت لیں۔“
(43 – الزخرف : 32 )
زندگی گزارنے اور نظام چلانے کا یہ بدیہی طریقہ ہے۔
پرویز صاحب کے مذکورہ مکتوبات پڑھنے کے بعد کسی عقل مند شخص سے یہ بات مخفی نہیں رہ جاتی کہ وہ قرآن اور اللہ تعالیٰ کی قرآنی شان کے منکر ہیں۔ جس سے ان کے کفر میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا۔

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق افکار و عقائد

پرویز لکھتے ہیں:
”اللہ اور رسول سے مراد ہی مرکز ملت ہے اور اولوا الامر سے مراد افسران ماتحت۔“
(معارف القرآن: 626/4)
مزید لکھا ہے:
”قرآن کریم میں جہاں اللہ اور رسول کا ذکر آیا ہے اس سے مراد مرکز نظام حکومت ہے۔“
( معارف القرآن : 623/4)
مزید لکھا ہے:
”بالکل واضح ہے کہ اللہ اور رسول سے مراد مرکز حکومت ہے۔“
( معارف القرآن : 623/4)
اور لکھتے ہیں:
”اللہ اور رسول سے مراد مسلمانوں کا امام ہے۔“
( معارف القرآن : 623/4)
ایسے ہی خیالات کا اظہار معارف القرآن630,531/4 میں بھی کیا ہے۔ ایسے صریح کفر کا اظہار کرنے پر تعجب ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے وصف الوہیت، وصف ربوبیت اور وصف اسماء و صفات پر، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رسالت و نبوت پر ایمان لانے کو درمیان سے نکال دیا۔ اس باطل عقیدے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر نظام حکومت ہے تو اللہ اور اس کا رسول بھی ہیں اور اگر نظام حکومت نہیں تو پھر اللہ اور اس کے رسول کا وجود بھی نہیں ہے۔ العیاذ باللہ۔
ایمان بالرسول کے متعلق لکھا ہے:
”رسالت محمدیہ پر ایمان سے مقصود اس کتاب پر ایمان لانا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے دنیا کو ملی۔“
(فردوس گم گشته ، ص : 383)
اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ (قرآن) پر ایمان لانے کے بعد رسول پر ایمان لانے کی کوئی ضرورت نہیں، حالانکہ بہت سی آیات میں ایمان بالرسول اور ایمان بالقرآن کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
رسول سے کیا مراد ہے؟ اس کے بارے میں لکھتے ہیں:
”عملی نظام کی سہولت کے لیے امت اپنے میں سے بہترین افراد کو اپنا نمائندہ بنا کر ”فيكم رسوله“ کے سلسلے کو قائم رکھتی ہے۔ اور یہ کہ رسول کی زندگی کے بعد ”فيكم رسول“ سے مراد ملت کی مرکزی اتھارٹی ہے۔“
(طلوع اسلام، 9 جون 1959ء )
طلوع اسلام کے ایک رکن محمد علی خان بلوچ بی اے آنرز ( کچھ اختلاف کی وجہ سے) فرماتے ہیں: غالباً ہماری طرح آپ حضرات میں بہت سوں نے محسوس کیا ہوگا کہ اب کچھ عرصہ سے اس وجہ اشتراک کے پردہ میں کہ جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں نوع انسانی کو قرآن کی دعوت دی تھی، بزعم خویش آج کل اسی طرح گلبرگ لاہور کی کوٹھی نمبر 25 – بی میں جناب پرویز بھی قرآن کی دعوت دے رہے ہیں۔ جناب پرویز نے اپنی تحریروں میں عموماً اپنے آپ کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مقام پر فائز کر کے ان تمام آیات کو جو آں حضرت سے متعلق ہیں اپنی ذات پر منطبق فرمالیا۔
(حدیث در گزارے، ص: 20، بحوالہ آئینہ پرویزیت،ص: 807)
دیکھا آپ نے! پرویز کے ہم مجلس نے یہ تاثر لیا ہے کہ پرویز صاحب اپنے آپ کو رسول کے درجے میں رکھنا چاہتے ہیں۔

ختم نبوت کا مطلب

لکھتے ہیں: ”ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ اب دنیا میں انقلاب شخصیتوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ تصورات کے ذریعے رونما ہوا کرے گا اور انسانی معاشرہ کی باگ ڈور اشخاص کی بجائے نظام کے ہاتھوں میں ہوا کرے گی۔“
(سلیم کے نام خط : 15 ، ص : 250 طبع اول اگست 1953 ء )
ایک جگہ لکھا ہے: ”تم نے دیکھ لیا سلیم! ختم نبوت کا مفہوم اس جیسا تھا کہ اب انسانوں کو صرف اصولی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ان اصول کی روشنی میں تفصیلات وہ خود متعین کریں گے لیکن ہمارے ہاں یہ عقیدہ پیدا ہو گیا ہے (اور اسی عقیدے پر مسلمان کا عمل چلا آ رہا ہے) کہ زندگی کے ہر معاملے کی تفصیل بھی پہلے سے متعین کر دی گئی ہے اور اب ان تفاصیل میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں ہو سکتا۔ یہ عقیدہ اس مقصد عظیم کے منافی ہے جس کے لیے ختم نبوت کا انقلاب عمل میں لایا گیا۔“
(سلیم کے نام خط : 2,20 /103)
یہ ختم نبوت کی ایک نرالی تعبیر ہے جسے کوئی عقل مند مسلمان ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہ کہنا کہ زندگی کے ہر معاملے کی تفصیل بھی پہلے سے متعین کر دی گئی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیت:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
”بلاشبہ تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔“
(33-الأحزاب:21)
اور
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي
”کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔“
(3-آل عمران:31)
کا اصل معنی بھی یہی ہے اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے مگر چونکہ پرویزی اسلام، نبوی اسلام سے مطلقاً مختلف ہے، اس وجہ سے اس نے ان آیات کا مقصد اپنے مزعوم مقصد کے منافی قرار دے دیا۔

تمام مسلمانوں کے اسلام کے متعلق

آج جو اسلام مسلمانوں میں مروج ہے وہ زمانہ قبل از قرآن کا مذہب ہو تو ہو قرآنی دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
(سلیم کے نام خط، ص : 252 بحوالہ ضرب حدیث )
ایک جگہ لکھا ہے:
”یہی عجمی اسلام ہے سلیم! جو ہزار برس سے ہمارے رگ و پے میں اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ نکل گیا تو اس کے ساتھ ہماری جان بھی نکل جائے گی۔“
(سلیم کے نام خط، ص: 123 ، بحوالہ ضرب حدیث )
جناب پرویز نے ہزار برس تک کے تمام مسلمانوں کے اسلام پر کاری ضرب لگائی ہے۔ وہی بتائیں کہ انھوں نے قرآن اور اسلام کہاں سے سیکھ لیا جبکہ ان کا کہنا ہے کہ ہزار برس تک کے مسلمانوں میں کوئی ایک بھی مسلمان نہیں گزرا۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں تغیر و تبدل کا جواز

لکھتے ہیں : ”دین کی صحیح بنیاد قرآن اور فقط قرآن ہے جو ابدالآباد کے لیے واجب العمل ہے۔ روایات (احادیث) اس عہد مبارک کی تاریخ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں (صحابہ) نے اپنے عہد میں قرآنی اصول کو کس طرح متشکل فرمایا تھا، یہ اس عہد مبارک کی شریعت ہے۔
آگے لکھا ہے: اب یہ حق صرف صحیح قرآنی خطوط پر قائم شدہ مرکز ملت اور مجلس شوریٰ کا ہے کہ وہ قرآنی اصول کی روشنی میں صرف ان جزئیات کو مرتب اور مدون کر سکے جن کی قرآن نے کوئی تصریح نہیں کی۔ پھر یہ جزئیات ہر زمانہ میں ضرورت پڑنے پر تبدیل کی جا سکتی ہیں، یہی اپنے زمانہ کے لیے شریعت ہیں۔“
(مقام حدیث : 291/1)
مزید لکھا ہے:
”قرآن کے ساتھ انسان کو بصیرت عطا ہوئی ہے، اس لیے جن امور کی تفصیل قرآن نے خود بیان نہیں کی ان کی تفصیل قرآنی اصول کی روشنی میں از روئے بصیرت متعین کی جائے گی۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور ہمارے لیے بھی ایسا کرنا منشائے قرآنی اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق ہے۔ اس باب میں اخلاق، معاملات اور عبادات میں کوئی تفریق اور تخصیص نہیں اگر تفریق مقصود ہوتی تو عبادات کی جزئیات قرآن خود ہی متعین کر دیتا۔“
(مقام حدیث : 434/1)
مزید لکھا ہے:
”جس اصول کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے وہ قانون اور عبادت دونوں پر منطبق ہوگا، یعنی اگر جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قرآنی حکومت) نماز کی کسی جزئی شکل میں جس کا تعین قرآن نے نہیں کیا، اپنے زمانے کے کسی تقاضے کے ماتحت کچھ رد و بدل ناگزیر سمجھے تو وہ ایسا کرنے کی اصولاً مجاز ہوگی۔“
(قرآنی فیصلے : 15/3 ، حوالہ کتاب فتنہ انکار حدیث)
ان تحریروں سے واضح ہوا کہ شریعت پرویزی کے عقیدے کے مطابق ہر انسان اپنی صوابدید کے مطابق شریعت محمدیہ میں نسخ اور تبدیلی کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ نماز کا طریقہ بھی ایجاد کر سکتا ہے۔ جب چودہ سو سال سے تواتر کے ساتھ ثابت شدہ مسلمانوں کی عبادات کے وہ طریقے جو صحیح احادیث میں مروی ہیں اور اسلامی احکام و قوانین جو صحیح احادیث میں موجود ہیں ان کو قرآنی حکومت مرکز ملت کی جانب سے منسوخ کیا جا سکتا ہے تو کیا پھر یہ نام نہاد قرآنی حکومت یا مرکز ملت رسول کے درجے پر فائز ہوگا؟ اس قرآنی حکومت کا تصور صرف گلبرگ لاہور میں موجود ہے، اس کے سوا عالم اسلام کے کسی بھی خطے میں اس کا وجود نہیں، لہذا یہ میری جہالت اور حماقت کا مظہر ہے۔

قرآن عبوری دور کے لیے

پرویز لکھتے ہیں: ”اب رہا سوال کہ اسلام میں ذاتی ملکیت نہیں تو پھر قرآن میں وراثت وغیرہ کے احکام کس لیے دیے گئے ہیں؟ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن انسانی معاشرہ کو اپنے متعین کردہ پروگرام کی آخری منزل تک آہستہ آہستہ بتدریج پہنچاتا ہے، اس لیے وہ جہاں اس پروگرام کی آخری منزل کے متعلق اصول اور احکام متعین کرتا ہے وہاں عبوری دور کے لیے ساتھ ساتھ رہنمائی دیتا چلا جاتا ہے۔ وراثت، قرضہ لین دین، صدقہ و خیرات کے احکام اس عبوری دور کے متعلق ہیں جن میں سے معاشرہ گزر کر انتہائی منزل تک پہنچتا ہے۔“
(نظام ربوبیت ، ص: 25)
مزید لکھا ہے: ”قرآن میں صدقہ و خیرات وغیرہ کے لیے جس قدر ترغیبات و تحریصات یا احکام وضوابط آتے ہیں وہ سب اس عبوری دور سے متعلق ہیں۔“
(نظام ربوبیت ، ص : 167)
یہ ہے پرویزیت کی اصل حقیقت کہ جناب پرویز صرف حدیث کے ہی منکر نہیں کیونکہ انکار حدیث تو صرف ابتدائی منزل ہے وہ تو قرآن کے احکام سے انکار کرتے ہیں اور دھوکا دینے کے لیے اس کا نام عبوری دور رکھا، یعنی قرآن کا زیادہ حصہ صرف زمانہ رسول اور عربوں کے لیے خاص ہوا۔ تو پھر هُدًى لِلنَّاسِ (قرآن) لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (2 – البقرة : 185) اور لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا تا کہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا بن جائے۔ ( 25 – الفرقان: 1)جیسی آیات کا کیا مطلب ہوگا؟ معلوم ہوا کہ پرویز صاحب کا مقصد قرآن سے انکار ہے تو پھر اس کے کفر میں کون سا شک و شبہ باقی رہ جاتا ہے؟

ایمان بالآخرت کا معنی

پرویز لکھتے ہیں: ”قرآن ماضی کی طرف نگاہ رکھنے کے بجائے مستقبل کو سامنے رکھنے کی تاکید کرتا ہے، اس کا نام ایمان بالآخرۃ ہے اور یہ بجائے خود ایک بہت بڑا انقلاب ہے جسے رسالت محمدیہ نے انسانی نگاہ میں پیدا کیا، یعنی ہمیشہ نگاہ مستقبل پر رکھنی۔“
وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
”اس زندگی میں مستقبل پر اور اس کے بعد کی زندگی میں بھی۔“
(سلیم کے نام اکیسواں خط 124/2 ، بحوالہ فتنہ انکار حدیث )
آخرت کے بارے میں قرآن کریم میں مختلف نام مذکور ہیں۔ قرآن نے اسے حشر کا دن، بعث کا دن، یوم الحساب، یوم الدین وغیرہ قرار دیا ہے۔ ان میں دنیوی مستقبل کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں تو اس سے صرف دنیاوی مستقبل مراد لینا لوگوں کو ايمان بالآخرة کے صحیح مفہوم و مصداق سے غافل کرنا ہے۔
مزید لکھا: ”اصل سوالات تو یہ ہیں کہ قرآن کے نزدیک حیات کسے کہتے ہیں؟ موت کے کیا معنی ہیں؟ قیامت کا تصور کیا ہے؟ عذاب و ثواب سے کیا مفہوم ہے؟ وقس على هٰذا، مسلمان کو چونکہ اس زندگی سے کوئی رابطہ نہیں رہا، اس لیے اس نے ان اہم سوالات کو قیامت پر ملتوی کر رکھا ہے اور قیامت بھی صرف وہ جو مرنے کے بعد آئے گی۔ وہ اس قیامت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے جو ان کی ایک ایک سانس میں پوشیدہ ہے۔“
(قرآنی فیصلے ، ص : 332 )
ذرا غور فرمائیں پرویز صاحب نے قیامت کا کیا معنی سمجھ لیا! آخر سانس لینے کا قیامت کے ساتھ کیا تعلق ہے؟

جنت جہنم اور میزان اعمال کا مطلب

پرویز لکھتے ہیں: ”بہر حال مرنے کے بعد کی جنت اور جہنم مقامات نہیں ہیں، انسانی ذات کی کیفیات ہیں۔“
(لغات القرآن از پرویز : 449/1 حوالہ فتنہ انکار حدیث )
قرآن کریم میں جنت کا نام مقام أمين اور مقعد صدق بتایا گیا جبکہ جہنم کو مكانا ضيقا کا نام دیا گیا مگر پرویز صاحب اس سے مطلق طور پر انکار کرتے ہیں۔ اس طرح وہ قرآن سے انکار کرتے ہیں۔ایک مقام پر لکھا ہے:
”مسلمان اس جنت اور دوزخ سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا جو قدم قدم پر اس کے سامنے ہے نہ وہ اس میزان کو دیکھتا ہے جس میں قوموں کے اعمال حیات ہر آن تلتے رہتے ہیں۔“
(قرآنی فیصلے ، ص : 332 )
ایک جگہ لکھا ہے: ”قرآن کہتا ہے کہ اب وہ دور سرمایہ داری گزر گیا۔ اب وہ زمانہ نظام ربوبیت کا آ رہا ہے۔ جس میں انصاف کی رو سے میزان کھڑی کی جائے گی۔
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ
”اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے۔“
(21-الأنبياء:47)
اس میزان کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی مزدور کی محنت میں کوئی کمی نہیں کر سکے گا اور محنت کرنے والے کی محنت کا ذرہ ذرہ نتیجہ خیز ہوگا۔ اس کا حساب زمیندار یا سرمایہ دار نہیں کیا کرے گا کہ محنت کش کا حصہ کیا ہے اور اس کا حصہ کتنا۔“
(نظام ربوبیت ، ص : 256)
قرآن کریم میں مذکور میزان اعمال کے ساتھ اس طرح استہزا کرنے پر افسوس صد افسوس! قرآن نے کس آیت میں کہا ہے کہ دور سرمایہ داری گزر گیا؟ اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ مزدوروں اور سرمایہ داروں کے لیے میزان ہے تو کیا تاجروں اور پیشہ وروں یا عورتوں کا کوئی حساب اور میزان نہیں ہوگی؟ یہ ان قرآنی آیات سے جن میں میزان، وزن اور میزان کے ہلکا اور بھاری ہونے کا تذکرہ موجود ہے، صراحتاً انکار اور اپنی طرف سے بے سروپا تاویلات کا انبار لگانا ہے۔

فرشتوں پر ایمان

پرویز لکھتے ہیں: ”اس سے ظاہر ہے کہ ان مقامات (واقعہ خلافت آدم و تجود آدم) میں ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں آثار مرتب کرتے ہیں۔“
( ابلیس و آدم ص: 195)
ایک جگہ لکھا ہے: ”سوال یہ ہے کہ ملائکہ پر ایمان کے معنی کیا ہیں؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ ملائکہ کے متعلق وہ تصور رکھا جائے جو قرآن نے پیش کیا ہے اور انھیں وہی پوزیشن دی جائے جو قرآن نے ان کے لیے متعین کی ہے۔ ملائکہ کے متعلق قرآن میں ہے کہ انھوں نے آدم کو سجدہ کیا، یعنی وہ آدم کے سامنے جھک گئے، جیسا کہ آدم کے عنوان میں بتایا جا چکا ہے۔ آدم سے مراد خود آدمی یا نوع انسان ہے، لہذا ملائکہ کے آدم کے سامنے جھکنے سے مراد یہ ہے کہ یہ قوتیں وہ ہیں جنھیں انسان مسخر کر سکتا ہے۔ انھیں انسان کے سامنے جھکا ہوا رہنا چاہیے۔ کائنات کی جو قوتیں ابھی تک ہمارے علم میں نہیں آئیں انھیں چھوڑیے اور جو قوتیں ہمارے علم میں آ چکی ہیں ان کے متعلق صحیح ایمان یہ ہوگا کہ ان سب کو انسان کے سامنے جھکنا چاہیے۔ اب ظاہر ہے کہ جس قوم کے سامنے کائناتی قوتیں نہیں جھکتیں وہ قوم قرآن کی رو سے صف آدمیت میں شمار ہونے کے قابل ہی نہیں، چہ جائیکہ اسے جماعت مومنین کہا جائے کیونکہ مومن کا مقام عام آدمیوں کے مقام سے کہیں اونچا ہے۔“
(لغات القرآن: 244/1 )
ایک جگہ جبریل علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے: ”انکشاف حقیقت کی روشنی (ذریعہ یا واسطہ) کو جبریل سے تعبیر کیا گیا ہے۔“
(ابلیس و آدم ، ص : 283 )
ہم پرویز اور اس کے مقلدین سے سوال کرتے ہیں کہ وہ قرآن کریم میں ہمیں وہ ایسی آیت دکھائیں جس میں ملائکہ کے متعلق یہ تصور پیش کیا گیا ہو کہ یہ کائناتی قوتیں ہیں یا نفسانی محرکات ہیں۔ وہ اس کے متعلق ہرگز کوئی آیت پیش نہیں کر سکتے۔
قرآن کریم میں ملائکہ کے متعلق چند آیات ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
”اس (جہنم) پر ایسے فرشتے متعین ہیں جو سخت مزاج اور زبردست ہیں، اللہ نے انھیں جو حکم دیا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔“
(66-التحریم:6)
نیز فرمایا:
وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَٰنِ إِنَاثًا ۚ أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ
”اور انھوں نے فرشتوں کو جو کہ رحمان کے بندے ہیں، عورتیں قرار دے رکھا ہے۔ کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے؟“
(19-الزخرف:19)
ذرا غور فرمائیں: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو غلاظ شداد ، لا يعصون اور عباد الرحمٰن جیسی صفات سے متصف کیا ہے۔ کیا ان صفات کے ساتھ پرویز کے عقیدے نفسانی محرکات یا کائناتی قوتیں جنھیں انسان مسخر کر سکتا ہے کی کوئی مناسبت یا تعلق ہو سکتا ہے، نیز کیا نفسانی محرکات اور جسے انسان مسخر و تابع کر سکتا ہے وہ مؤنث ہو سکتی ہیں؟ اس طرح پرویز صاحب کا عقیدہ جاہلیت کے مشرکوں کے قریب ہے جو ملائکہ کو مؤنث کہتے تھے۔ پرویز صاحب ایسی بے سروپا باتوں میں قرآن کا حوالہ دیتے ہیں لیکن قرآن الہی سے وہ اپنے نظریات کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پرویزی قرآن کوئی الگ کتاب ہے۔

عقیدہ تقدیر سے انکار

پرویز لکھتے ہیں: ”مجوسی اساورہ نے یہ سب کچھ اس خاموشی سے کیا کہ کوئی بھانپ ہی نہ سکا کہ اسلام کی گاڑی کس طرح دوسری پڑی پر جا پڑی۔ انھوں نے تقدیر کے مسئلے کو اتنی اہمیت دی کہ اسے مسلمانوں میں جزو ایمان بنا دیا، چنانچہ ہمارے ایمان میں [والقدر خيره وشره من الله تعالٰي] کا چھٹا جز انھی کا داخل کیا ہوا ہے۔
(قرآنی فیصلے، ص: 190)
تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو کوئی مصیبت یا راحت پہنچتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ تکلیف و راحت اللہ تعالیٰ نے پہلے سے مقرر کر کے لکھ دی ہے۔ یہ عقیدہ قرآن کریم میں واضح طور پر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ
”اور اگر انھیں کوئی بھلائی پیش آئے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے، ان سے کہہ دیجیے: سب اللہ کی طرف سے ہے۔“
(4-النساء:78)
نیز فرمایا:
قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا
”کہہ دیجیے کہ جو کچھ اللہ نے ہمارے لیے مقرر کر دیا ہے ہمیں وہی ملے گا۔ اللہ ہی ہمارا کارساز ہے۔“
(9-التوبة:51)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی سے یہ بات کہلوائی ہے کہ ہر مصیبت پہلے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ اور لکھی ہوئی ہے، نیز فرمایا:
مَا أَصَابَ مِنْ مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ أَنْ نَّبْرَأَهَا
”کوئی مصیبت نہ زمین پر پہنچتی ہے اور نہ تمھاری جانوں پر مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں۔“
(57-الحديد:22)
دیکھیں یہ آیات عقیدہ تقدیر کے اثبات اور اس کی تفصیل کے بارے میں کتنی صریح ہیں۔ ان کے علاوہ بھی قرآن کریم میں بہت سی ایسی آیات مذکور ہیں جن سے یہ عقیدہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے لیکن شاید یہ آیات پرویز صاحب کے قرآن میں نہیں ہیں، اس لیے انھوں نے اس عقیدہ تقدیر کو مجوس کی طرف منسوب کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ پرویزی قرآن الگ ہے اور الہی قرآن الگ۔

نظریہ ارتقا

پرویز کا یہ سوال کہ دنیا میں سب سے پہلا انسان کس طرح وجود میں آ گیا ذہن انسانی کے لیے وجہ ہزار حیرت و استعجاب رہا ہے، چنانچہ ان مذاہب میں جن میں تو ہم پرستی نے حقائق کی جگہ لے رکھی ہے اس عقیدے کے حل میں عجیب و غریب افسانہ طرازیوں سے کام لیا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کے متعلق جو کچھ بتایا ہے وہ بالکل وہی ہے جس کی طرف علم و بصیرت کے جدید انکشافات رہنمائی کر رہے ہیں۔ سائنس کے انکشافات کی رو سے خاک ذرے سے مختلف ارتقائی منازل طے کر کے قرن ہا قرن کے بعد انسانی صورت میں متشکل ہو گئی، یعنی سب سے پہلے کوئی ایک فرد صورت انسانی میں جلوہ گر نہیں ہوا۔ بلکہ ایک نوع وجود پذیر ہوئی ان متنوع مراحل کی تفصیل قرآن کریم کی آیات جلیلہ میں عجیب انداز میں سمٹی ہوئی ہے۔
(ابلیس و آدم ص : 63، 64)
پرویزی عقل پر ہزار تف ہو کہ ایک نوع کا وجود تو تسلیم کرتی ہے مگر فرد کا وجود نہیں کرتی۔ عقل والوں سے پوچھو تو سہی کہ کیا نوع کا وجود فرد کے بغیر ہو سکتا ہے؟ کیا انسان کا وجود بغیر افراد کے ہو سکتا ہے؟ پھر انھوں نے یہ نظریہ قرآن کی طرف منسوب کر دیا! آئیں قرآن کریم پڑھیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود کے متعلق کیا کچھ ذکر فرمایا اور پھر اسی انسان کو آدم کا نام دیا، چنانچہ ارشاد فرمایا ہے:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ
”اور جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا: بے شک میں ایک بشر بجنے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو بد بودار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔“
(15-الحجر:28)
نیز فرمایا:
خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ
”اسی نے انسان کو ٹھیکری کی طرح کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔“
(55-الرحمن:14)
نیز فرمایا:
إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
”در اصل عیسیٰ علیہ السلام کی مثال بھی اللہ کے نزدیک آدم علیہ السلام کی مثال کی طرح ہے اللہ نے اسے مٹی سے بنایا، پھر اسے کہا: ہو جا تو وہ ہو گیا۔“
(3-آل عمران:59)
نیز فرمایا:
وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ
”اور انسانوں کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا، پھر حقیر پانی کے جوہر (نطفے) سے اس کی نسل چلائی۔“
(32-السجدة:7-8)
مذکورہ بالا تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انسان آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا۔ آدم ایک خاص شخص اور فرد کا نام ہے جو نوع انسانی کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلیفہ بنایا، اسماء کی تعلیم دی، فرشتوں سے سجدہ کرایا، جنت میں بسایا اور آپ کے ساتھ کلام فرمایا۔ یہ سارے فضائل آپ حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت کے دلائل ہیں، لہذا وہ پہلے نبی ہیں۔ ان آیات میں خلق انسان پر قرن ہا قرن کے گزرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر پرویزی قرآن میں کسی جگہ ہو تو ہو، اللہ کے قرآن میں کہیں بھی نہیں۔

آدم علیہ السلام کی ذات سے انکار

پرویز صاحب لکھتے ہیں: ”ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ (آدم) جس کے جنت سے نکلنے کا قصہ قرآن کریم کے مختلف مقامات پر آیا ہے، نبی تھے۔ قرآن سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر قصہ آدم کی جو تفاصیل بیان کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت سے نکلنے والا آدم کوئی خاص فرد نہیں تھا بلکہ انسانیت کا تمثیلی نمائندہ تھا۔ بالفاظ دیگر قصہ آدم کسی خاص فرد (یا جوڑے) کا قصہ نہیں بلکہ خود (آدمی) کی داستان ہے جسے قرآن نے تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے۔ اس داستان کا آغاز انسان کی اس حالت سے ہوتا ہے جب اس نے قدیم (Primitive) انفرادی زندگی کی جگہ پہلے پہل تمدنی (Social Life) زندگی شروع کی۔
(لغات القرآن، ص214/1)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آدم کا لفظ 25 مرتبہ بیان فرمایا ہے: عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ , اسْجُدُوا لِآدَمَ, يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ, فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ , إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا , إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ, وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَىٰ آدَمَ مِنْ قَبْلُ اور بنی آدم کا لفظ ان 25 مقامات کے علاوہ ہے۔ ان تمام آیات کریمہ میں سے کوئی ایک جگہ ایسی بتلاؤ کہ اس میں لفظ مثل آیا ہو، یا ایسا کوئی لفظ ہو جس کا معنی اور مفہوم تمثیلی نمائندہ ہو یا اس میں کوئی تمثیلی انداز ہو۔ پرویز صاحب اور اس کے مقلدین پوری کوشش کے باوجود بھی ایسا کوئی لفظ قرآن کریم میں نہیں بتا سکتے۔
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ آدم کو تمثیل اس وقت کہا جا سکتا ہے جب آدم کی خلقت ظاہر میں موجود ہوتی یا اس کا کوئی تصور ہوتا کیونکہ مثال کے لیے کسی خارجی یا ذہنی وجود کا ہونا ضروری ہے۔ مزید برآں اگر آدم کو ایک فرد (جیسا کہ حقیقت ہے) کہا جائے تو اس سے کون سی آفت آن پڑتی ہے۔ اس کی مثال پرویز صاحب کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر اور عقیدے میں موجود ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو مثیل مسیح کے خطاب اور صفت سے نوازا ہے اور استدلال کے لیے انھی احادیث کا سہارا لیا ہے جن میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ ان سب احادیث میں یہ لکھا ہے:
ينزل فيكم عيسى ابن مريم
”تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔“
(صحيح مسلم، الإيمان، باب نزول عیسی ابن مریم حديث : 156,155 )
مرزا نے اپنی طرف سے اس میں لفظ مثیل کا اضافہ کیا اور ينزل کا معنی يخلق ”پیدا ہوگا“ کر دیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تم میں عیسیٰ علیہ السلام کا شبیہ پیدا ہوگا۔ مرزا قادیانی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ انزال پیدا کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لفظ نزول (جو مجرد ہے) کسی بھی جگہ پیدا ہونے کے معنی میں نہیں آیا۔ لغت کی کتاب یا نص قرآن و حدیث اور اشعار عرب میں اس کے معنی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ لفظ مثل بھی مرزا صاحب کی طرف سے بڑھایا گیا ہے۔ اسی طرح پرویز صاحب بھی آدم علیہ السلام کے متعلق قرآنی آیات میں کسی جگہ بھی یہ دلیل اور قرینہ پیش نہیں کر سکے کہ یہ بطور مثال ہے۔ ثابت ہوا یہ ان کی اپنی عقل کی اختراع ہے۔

معجزہ معراج سے انکار

پرویز لکھتے ہیں: ”سورہ بنی اسرائیل کی آیت اسرای میں کہا گیا ہے کہ خدا اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گیا تا کہ وہاں اسے اپنی آیات دکھائے۔ خیال ہے کہ اگر یہ واقعہ خواب کا نہیں تو یہ حضور کی شب ہجرت کا بیان ہے اس طرح مسجد اقصیٰ سے مراد مسجد نبوی ہوگی جسے آپ نے وہاں جا کر تعمیر فرمایا۔
(معارف القرآن: 736/4 )
اس تاویل بلکہ تحریف میں پرویز صاحب کی بے عقلی یا ہٹ دھری کا کھلا ثبوت موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے: ”خیال ہے یعنی قرآنی مقاصد کو اپنے ”خیال“ کا تابع بنا کر جرم عظیم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ پہلے تو خیال کے حوالے سے کہا کہ یہ خواب کا واقعہ ہے۔ اگر خواب ہے تو پھر اس میں اتنا بڑا کمال کیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت پر دلالت کرے۔ خواب میں تو عام انسان بھی کبھی مکہ مکرمہ جاتا ہے تو کبھی مدینہ طیبہ اور کبھی وہ امریکہ کے چکر لگاتا ہے تو کبھی برطانیہ کے۔خیال وہ ہوتا ہے جو ذہن کی اختراع ہو اور اس کے اثبات کے لیے کوئی دلیل نہ ہو، پھر یہ کہا ہے کہ شب ہجرت کا بیان ہے۔“ اب ملاحظہ فرمائیں قرآن کریم کی متعلقہ آیت:
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا
”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی۔“
(17-بنی اسرائیل:1)
آیت پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک رات کا ہے، یعنی ایک رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گیا جبکہ ہجرت کے واقعے کے بارے میں تو معلوم ہے کہ وہ ایک رات کا نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت تقریباً دس راتوں میں مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ پہنچے تھے، لہذا پرویز صاحب کا یہ خیال حقیقت سے متصادم ہے، پھر یہ کہنا کہ مسجد اقصیٰ سے مراد مسجد نبوی ہوگی انتہائی بے وقوفی کا اظہار ہے۔ کیا مسجد نبوی اس وقت تعمیر ہوئی تھی؟ کیا کسی زمانے میں مسجد نبوی کا نام مسجد اقصیٰ بھی رکھا گیا تھا؟ کیا یہ نام لغت کے لحاظ سے مسجد نبوی کے لیے موزوں ہے؟ جبکہ اس روز روئے زمین پر مسجد اقصیٰ دمشق میں موجود تھی جو حجاز سے تقریباً ایک ماہ کی مسافت پر تھی۔ مسجد نبوی کا تو اس وقت نام ونشان بھی نہیں تھا۔ مزید برآں اس سورت (بنی اسرائیل) کا تمام مضمون مکی سورتوں جیسا ہے اور یہ سورت مکی ہے۔ اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مقیم تھے، نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: اسري بعبده وہ اپنے بندے کو لے گیا۔ (17-بنی اسرائیل:1)فعل ماضی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ وہ لے جائے گا۔
ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ معجزہ معراج کے ایک حصے پر مشتمل ہے جو مکہ مکرمہ سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) کی طرف رات کے ایک حصے میں رونما ہوا۔
مشرکین مکہ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کا انکار بھی کیا۔ اور معراج کا دوسرا حصہ یعنی آسمانی معراج، سورہ نجم میں واضح طور پر مذکور ہے۔ واقعہ معراج سے انکار کرنا قرآن کریم سے انکار کرنا ہے، جو کہ کفر ہے۔

پرویزی اسلام میں صرف چار چیزیں حرام ہیں

اپنے مجلے میں محمد صبیح ایڈوکیٹ کے ایک رسالے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے داد تحقیق دے کر لکھا ہے: ”سید محمد صبیح صاحب نے اس رسالہ میں بتایا ہے کہ قرآن کی رو سے صرف مردار، بہتا خون، لحم خنزیر اور غیر اللہ کے نام کی طرف منسوب چیزیں حرام ہیں، ان کے علاوہ اور کچھ حرام نہیں۔ یہ قرآن کا واضح فیصلہ ہے جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ہمارے مروجہ اسلام میں حلال و حرام کی جو طولانی فہرستیں ہیں، وہ سب انسانوں کی خود ساختہ ہیں اور کسی انسان کو حق حاصل نہیں کہ وہ کسی شے کو حرام قرار دے دے۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔
(ماہنامہ طلوع اسلام مئی 1952 ء )
یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم میں کھانے کی چیزوں میں سے صرف انھی چار کی تخصیص کی گئی ہے لیکن اولاً ہم الزامی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ان چار کے علاوہ انسانوں اور حیوانات کا پیشاب اور گندگی، بعض جانور بشمول سانپ، بچھو اور چھپکلی وغیرہ اور خود انسان کا بدن بھی حرام ہیں۔ شاید پرویزی حضرات ان تمام چیزوں کو حلال سمجھ کر استعمال کرتے ہوں۔ ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان چیزوں کو کس دلیل نے حرام کیا ہے؟ ہو سکتا ہے دنیا میں جو آدم خور موجود ہیں، وہ بھی پرویز صاحب کے مقلد ہوں۔
جبکہ تحقیقی طور پر ہم یہ کہتے ہیں کہ جس آیت میں ان مذکورہ چار چیزوں کا تذکرہ ہے اس میں تمام حرام کھانوں کا بیان مقصود نہیں بلکہ صرف یہ مقصود ہے کہ یہ چار چیزیں بیان کی جائیں جو تمام ادیان سماویہ میں بالاتفاق حرام ہیں۔ ان کے علاوہ ہر دین میں الگ الگ حرام چیزیں یقیناً موجود ہیں لیکن اختلاف ادیان کی وجہ سے ان چیزوں کو مطلق حرام نہیں کہا جاتا، البتہ مذکورہ بالا چار چیزوں کے علاوہ بھی بعض دیگر اشیاء اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے حرام ٹھہرائی ہیں جو درج ذیل آیت میں اجمالی طور پر مذکور ہیں۔
وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ
”اور وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ناپاک چیزوں کو ان کے لیے حرام ٹھہرائے گا۔“
(7-الأعراف:157)
صحیح احادیث میں اس اجمال کی تفصیل موجود ہے۔ صحیح احادیث میں جن چیزوں کو کھانے سے منع کیا گیا ہے اگر عقل سلیم سے ان کا جائزہ لیا جائے اور ڈاکٹروں سے بھی ان کے متعلق پوچھا جائے تو وہ بتائیں گے کہ ان اشیاء میں فلاں فلاں خبائث اور مضرات موجود ہیں، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، عقل سلیم بھی ان کی حرمت کا تقاضا کرتی ہے تو عقل کے اندھے پرویزی ایسی احادیث کا کیوں کر انکار کرتے ہیں جو عقل کے عین مطابق ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا عناد صرف احادیث کے ساتھ ہے، خواہ وہ عقل کے موافق ہوں یا نہ ہوں۔

ارکان اسلام کی غلط تاویلات اور مسخرہ پن

اس سے پہلے نماز، روزہ، زکاۃ اور حج کے متعلق پرویزیوں کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے۔ اب ارکان اسلام سے ان کے انکار کے دوسرے طریقے بیان کیے جاتے ہیں۔

نماز کے متعلق پرویزی خیالات

سورۃ نور کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اجتماعات صلاۃ کے لیے کم از کم دو اوقات متعین تھے (فجر وعشاء) تب ہی تو قرآن کریم نے ان کا ذکر نام لے کر کیا ہے۔
(لغات القرآن : 1043/3 تفسیر آیت : 58 )
مزید لکھا ہے: ”اگر جانشین رسول (قرآنی حکومت) نماز کی کسی جزئی شکل میں جس کا تعین قرآن نے نہیں کیا، اپنے زمانے کے کسی تقاضے کے تحت کچھ رد و بدل ناگزیر سمجھے تو وہ ایسا کرنے کی اصولاً مجاز ہوگی۔
( قرآنی فیصلے ، ص : 15,14)
اس کے جواب میں فرمان الہی ملاحظہ فرمائیں۔ ارشاد ہوا:
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى
”نمازوں کی حفاظت اور پابندی کرو خصوصاً درمیانی نماز کی۔“
(2-البقرة:238)
کیا پرویز صاحب نے قرآن کریم میں یہ آیت نہیں دیکھی؟ ضرور دیکھی ہوگی، یہاں الصلوٰة کا لفظ جمع کے صیغہ الصلوٰت کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں حقیقی معنی میں تین اور تین سے زیادہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دو پر جمع کا اطلاق مجازاً ہوگا۔ یہاں پر پرویز صاحب بلا ضرورت حقیقت چھوڑ کر مجاز کی طرف گئے ہیں۔ اگر حقیقت تسلیم کرتے ہیں تو تیسری نماز کا اقرار کرنا ضروری ہے۔ مزید برآں الصلوٰة الوسطيٰ پر غور کرنا بھی ہمارے لیے ضروری ہے کیونکہ الوسطيٰ کا معنی ہے ”درمیان“ یعنی جس کے دو طرف برابر ہوں۔ اگر الصلوٰت دو ہیں تو پھر ان میں سے وسطیٰ کس کو کہا جائے گا؟ لہذا لازمی طور پر دو سے زیادہ ماننا پڑے گا، چنانچہ عربی الفاظ کے تقاضے کی وجہ سے اس آیت کا اطلاق پانچ سے کم نمازوں پر نہیں ہوتا۔ اس موضوع پر پہلے بحث گزر چکی ہے۔
(ص 91:38-92)
اسی طرح اس آیت
أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ
”سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نمازیں پڑھا کرو۔“
(17-بنی اسرائیل:78)
کی تشریح بھی گزر چکی ہے۔ کیا لدلوك الشمس اور غسق الليل نماز فجر اور نماز عشاء کو کہا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! کیونکہ دلوك کا معنی زوال ہے یا غروب۔ زوال معنی کیا جائے تو پھر نماز ظہر اور عصر اس میں شامل ہوں گی اور اگر غروب معنی کیا جائے تو اس میں نماز مغرب شامل ہوگی۔
بہر صورت صلاة کو صرف دو اوقات کے ساتھ خاص کرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ صرف دو نمازیں (فجر اور عشاء) فرض ہیں، یہ ان کی جانب سے کفر کا اختلاط ہے کیونکہ ایک آیت ماننا اور دوسری آیات سے انکار کرنا أفتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض کا لازم مصداق بنتا ہے۔
اسی طرح نماز کا طریقہ بھی صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے اس طریقے میں کسی جانشین رسول کو بھی رد و بدل کرنے کا اختیار دینا اجرائے رسالت کا دروازہ کھولنا ہے۔ عبادات میں رد و بدل مستقل تشریعی کام ہے اور تشریعی کام اللہ تعالیٰ کی اجازت سے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ہوتے ہیں، کسی غیر رسول کو تشریعی اختیار دینا عین شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ
”کیا ان کے کچھ شریک ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ نکالا ہے کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا۔“
(42-الشورى:21)
اور یہ اجرائے رسالت کا فاسد نظریہ در حقیقت مرزا غلام احمد کی موافقت اور تقلید کا اثر ہے۔
پرویز لکھتا ہے: سجدہ سے مراد ہی قانون خداوندی کی اطاعت ہے، یعنی سجدہ پر غیر خداوندی قانون کی اطاعت سے انکار، رکوع کے معنی قانون خداوندی کی عملی تصدیق اور اس کے سامنے جھک جانا ہے۔
(سلیم کے نام خط ، ص : 209 210 )
اگر سجدہ اور رکوع کا یہی معنی ہے تو پھر اطيعوا الله کا کیا معنی ہے؟ جس کا ذکر بار بار قرآن کریم میں موجود ہے۔ زمین پر ایک خاص ہیئت کے ساتھ پیشانی اور ناک رکھ کر سجدہ کرنا اطاعت الہی ہے اور رکوع میں گردن اور کمر خاص ہیئت میں جھکانا اطاعت الہی ہے لیکن اس کے برعکس یہ مراد لینا بالکل غلط اور باطل ہے کہ زمین پر پیشانی رکھے اور کمر جھکائے بغیر صرف قانون الہی کی اطاعت ہی سجدہ اور رکوع ہے، یعنی کسی انسان نے صبح کے وقت اور عشاء کے وقت اطاعت الہی کی تو پرویزی اسلام کے مطابق اس شخص کی نماز ہو گئی، حالانکہ سجدہ اور رکوع کا یہ معنی لغت میں ہے نہ شرع میں۔ پرویزیوں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ آپ کے نزدیک یہ اطاعت قانون خداوندی ہے کیا چیز؟

زکاۃ کے متعلق پرویزی خیالات

پرویز نے لکھا ہے: ”قرآن نے زکاۃ کا حکم دے کر اس کی شرح اور قیود کو غیر متعین چھوڑ دیا ہے تاکہ ہر زمانے کی اسلامی حکومت اپنی اپنی ضروریات کے مطابق اسے خود متعین کرتی رہے۔ قرون اولیٰ میں اگر خلافت راشدہ نے اپنے زمانے کی ضرورت کے مطابق اڑھائی فیصد مناسب سمجھا تھا تو اس وقت یہی شرح شرعی تھی۔ اگر آج کوئی اسلامی حکومت کہے کہ اس کی ضروریات کا تقاضا دس فیصد ہے تو یہی دس فیصد شرعی شرح قرار پائے گی۔
(سلیم کے نام خط ، ص:82-83 )
ایک شخص کے جواب میں لکھا ہے: ”زکاۃ کے متعلق قرآن میں حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں سے زکاۃ وصول کرے فرمایا:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً
(9 – التوبة : 103)
”اس لیے زکاۃ اس ٹیکس کے سوا اور کچھ نہیں جو اسلامی حکومت مسلمانوں پر عائد کرے۔ اس ٹیکس کی کوئی شرح متعین نہیں کی گئی، اس لیے کہ شرح زکاۃ کا انحصار ضروریات ملکی پر ہے حتیٰ کہ ہنگامی صورتوں میں وہ سب کچھ لے سکتی ہے جو کسی کی ضرورت سے زائد ہو۔
وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ ۖ قُلِ الْعَفْوَ
(2 – البقرة : 219)
لہٰذا جب کسی جگہ اسلامی حکومت نہ ہو تو زکاۃ بھی باقی نہیں رہتی۔“
( قرآنی فیصلے، ص:35 )
پرویز صاحب کے اس کلام سے چند باتیں سامنے آتی ہیں:
➊ قرآن نے زکاۃ کی شرح متعین نہیں کی۔ میں کہتا ہوں یہ غلط ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ
”اور جو کچھ تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیں وہ لے لو۔“
(59-الحشر:7)
اس آیت کریمہ میں وہ تمام احادیث شامل ہیں جن میں زکاۃ کی شرح کا تعین کیا گیا ہے۔
➋ خلافت راشدہ نے زمانہ کی ضرورت کے مطابق زکاۃ کی مقدار (اڑھائی فیصد) متعین کی تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کیا خلفائے راشدین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ مقدار سے انحراف کر کے اپنی طرف سے کوئی مقدار متعین کی تھی؟ ہرگز نہیں! انھوں نے بعینہ وہی مقدار متعین کی تھی جو صحیح مرفوع احادیث میں مذکور تھیں۔ انھوں نے ان مقداروں میں کوئی رد و بدل نہیں کیا تو پھر ان کے بعد کسی شخص کو ان مقداروں میں رد و بدل کرنے کا اختیار دینا خلافت راشدہ کے طریقے سے انحراف ہوگا اور یہ انحراف قطعاً ظلم ہوگا۔
➌ اگر آج کوئی اسلامی حکومت کہے کہ اس کی ضرورت کا تقاضا دس فیصد ہے تو دس فیصد شرح ہی شرعی زکاۃ ہوگی۔ پرویز صاحب کے اس فاسد نظریے کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا طریقہ بدلنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دوسرا شارع بن سکتا ہے اور وہ تب ہی شارع بن سکتا ہے جب وہ منصب رسالت پر فائز ہو، لہذا پرویز صاحب نے رسالت کا دروازہ کھول دیا اور یہی مرزائیت ہے۔
➍ زکاۃ کی وصولی کے لیے اسلامی حکومت لازمی ہے۔ بہت سی وجوہات کی بنا پر یہ نظریہ بھی باطل ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ مکی سورتوں (مومنون، ذاریات اور معارج) میں زکاۃ ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تو کیا مکہ میں اسلامی حکومت موجود تھی؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
‏ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ‎﴿٢٤﴾‏ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ‎﴿٢٥﴾‏
”اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے مالوں میں سائلین اور محروم لوگوں کے لیے متعین حق ہے۔“
(70-المعارج:24-25)
اس آیت میں حق معلوم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ قرآنی اصطلاح میں معلوم وہی چیز ہے جس کا علم وحی کے ذریعے سے حاصل ہو اور وحی کے ذریعے سے وہی مقداریں طے شدہ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں موجود ہیں۔ اگر کوئی حکومت ان مقداروں میں تبدیلی کرتی ہے تو وہ حق معلوم کو بدلتی ہے جو قرآن کریم کی صریح مخالفت ہے۔
➎ اسلامی حکومت ضرورت کے تحت سب کچھ لے سکتی ہے۔
یہ نظریہ قرآن کی ان آیات سے متصادم ہے جن میں لفظ مِن استعمال کیا گیا ہے۔ اور مِن تبعیض کے لیے (کچھ کا معنی بیان کرتا) ہے، یعنی بعض مال خرچ کرنا، بعض مال صدقہ کرنا۔ جیسے فرمایا:
وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
”اور جو ہم نے انھیں رزق دیا ہے وہ اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں۔“
(2-البقرة:3)
اور العفو کا یہ مطلب نہیں کہ کل مال خرچ کر دیا جائے یا سارا مال صدقے میں لے لیا جائے کیونکہ اس لفظ کے معنی ہیں: ”زائد از ضرورت“ یعنی اضافی۔ تو یہ لفظ کہ ضرورت سے زیادہ ہو اس ضرورت سے زائد مال کی مقدار کے تعین کے لیے پرویز صاحب کے پاس کیا دلیل ہے؟ اور اگر استدلال میں لفظ مِن پیش کیا جائے تو ضرورت اور تبعیض سے مراد وہ مقدار ہے جو شریعت نے مقرر کی ہے کیونکہ انسانوں کی ضروریات میں لازمی طور پر فرق ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میرے پاس میری ضرورت سے زائد کچھ بھی نہیں تو پھر اسے کیا کہا جائے گا؟ پس ضرورت سے زیادہ سے مراد وہ زیادہ ہے جسے شریعت نے زیادہ کہا، یعنی مقررہ نصاب سے زیادہ خرچ کرنا۔
روزہ، حج اور قربانی کے متعلق پرویزی عقیدہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔

انفرادی ملکیت سے انکار اور پرویزی دلائل کے

قل العفو”کہہ دیجیے کہ جو زائد از ضرورت ہے۔“ اس دلیل کا جواب پہلے دیا جا چکا ہے، اس کے علاوہ یہ آیت ذاتی ملکیت کے اثبات میں دلیل ہے کیونکہ ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جو چیزیں اس شخص کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہیں کیا وہ اس شخص کی ذاتی ملکیت نہ ہوں گی؟ کیوں نہیں! ضرور ہوں گی۔
‏ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ
”اور اللہ نے روزی کے معاملے میں بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے، پس وہ لوگ جن کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنی روزی انھیں نہیں دیتے جو ان کے غلام ہیں کہ وہ اس (روزی) میں برابر ہو جائیں۔“
(16-النحل:71)
پرویز صاحب نے اس کے ترجمے میں تحریف کرتے ہوئے لکھا ہے: اس کا خلاصہ یہ ہے کہ رزق سے مراد اکتسابی استعداد ہے جس کی وجہ سے ماحصل میں فرق ہوتا ہے، پھر یہ معاشی فضیلت حاصل کرنے والے کم استعداد والوں کو اپنی زائد پیداوار نہیں لوٹاتے کیونکہ یہ لوگ معاشرہ کی برابری کے منکر ہیں۔
(قانون ربوبیت ، ص : 139)

تبصرہ:

اس آیت میں انفرادی ملکیت صراحت سے ثابت ہو رہی ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جن کے پاس فاضل دولت موجود ہوتی ہے اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو نادار ہوتے ہیں۔ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، البتہ پرویز صاحب نے مفہوم بیان کرنے میں شکوہ ظاہر کیا ہے کہ یہ امراء اپنی فاضل دولت غریبوں کو نہیں دیتے تاکہ طبقاتی ناہمواری ختم ہو جائے لیکن بطور جواب شکوہ یہ نہیں کہا گیا کہ حکومت پر لازم ہے کہ امراء سے زیادہ دولت چھین لے اور ساری دولت اپنے قبضے میں لے لے۔ وہ تو قرآن میں اس طرح مذکور ہے:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً
”ان کے مال میں سے صدقہ لے لیں۔“
(9-التوبة:109)
یہ نہیں فرمایا کہ ان کا سارا مال لے لیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت کا جو مفہوم پرویز صاحب نے لیا ہے وہ تو سراسر تحریف ہے۔ آیت کے سیاق و سباق کا بغور مطالعہ کریں، اللہ تعالیٰ مشرکین کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انسانی فطرت کے لحاظ سے مالک اپنے ملازم کو اپنے ساتھ سرمایہ داری میں برابر کا شریک نہیں کرتا اور ایسا کرنا ممکن بھی نہیں کیونکہ پھر مالک اور ملازم میں لفظی فرق بھی بے مقصد ہوگا۔ جب مالک اور ملازم ایک کاروبار میں برابر شریک نہیں ہو سکتے تو یہ مشرک کس طرح عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں کو اتنی قدرت اور اختیار دے رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی قدرت مستقلہ کی صفت میں شریک ہو جائیں اور وہ مخلوق کی حاجت روائی کریں۔ اگر آیت میں پرویزی خیال کے مطابق مساوات قائم کرنا مراد ہو تو پھر مشرک لوگ کیوں کر قابل مذمت قرار پائیں گے؟
حاصل کلام یہ ہے کہ جس آیت میں شرک کی تردید مقصود ہوتی ہے تو پرویز صاحب اس آیت سے شرک کا درست ہونا ثابت کرتے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ پرویز صاحب کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی ملکیت کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ حدیث میں وارد ہے:
إنا لا نورث نحن معشر الأنبياء لا نورث ولا نورث ما تركنا صدقة
”ہم انبیاء کی جماعت نہ وارث بنتے ہیں نہ مورث بلکہ ہمارا متروک مال صدقہ ہے۔“
( یہ حدیث اگر چہ صحیحین میں موجود ہے لیکن وہاں اس کے الفاظ مختصر ہیں اور پرویز صاحب کے الفاظ مجھے نہیں مل سکے۔ (ناصر) صحيح البخاري، المغازي، باب غزوة خيبر، حديث: 4241، وصحيح مسلم، الجهاد، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم (لانورث) حديث: 1758)

تبصرہ:

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی ملکیت کا ذکر فرمایا ہے:
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ
”اور جان لو کہ جو چیز بطور غنیمت تمھارے ہاتھ آئے تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔“
(8-الأنفال:41)
نیز فرمایا:
مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ
”اور ان دیہات والوں سے اللہ نے اپنے رسول کو جو دلوایا ہے تو وہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔“
(59-الحشر:7)
تو کیا ان دونوں آیتوں میں وَلِلرَّسُولِ ”رسول کے لیے“ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی ملکیت ثابت نہیں ہوتی؟ یہ قرآن ہے جس سے صراحتاً رسول کی ذاتی ملکیت ثابت ہوئی اور حدیث میں ذاتی ملکیت کی نفی نہیں بلکہ وراثت کی نفی ہے اور یہ انبیاء علیہم السلام کی خصوصیت ہے کیونکہ امت کے لیے قرآن کریم میں آیات میراث موجود ہیں۔
اسی طرح باغ فدک، جو اہل سنت و اہل تشیع، دونوں کے نزدیک مشہور ہے، وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تصرف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسے ورثہ سمجھتے ہوئے اس میں سے وراثت کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حدیث کے ذریعے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت بیان کی تھی کہ انبیاء علیہم السلام جو ترکہ چھوڑیں وہ ورثاء کو نہیں ملے گا بلکہ وہ صدقہ ہوگا۔

انفرادی ملکیت کے اثبات میں قرآنی دلائل

➊ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ
”اللہ وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا اور تم میں سے بعض کو درجوں میں بعض پر فضیلت دی تاکہ جو کچھ تمھیں دیا ہے اس میں تمھیں آزمائے۔“
(6-الأنعام:165)
اس آیت میں دو جملے ہیں۔ پہلے جملے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر بسایا اور ان کی معیشت کے لیے مختلف اسباب پیدا کیے۔ دوسرے جملے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے فہم و فراست اور مال و عزت کے لحاظ سے بعض انسانوں کو بعض پر فوقیت دی ہے اور پھر یہ چیزیں عطا کر کے اللہ تعالیٰ انھیں آزماتا ہے اور یہ آزمائش تب ہی ممکن ہے کہ یہ چیزیں انسان کی ملکیت ہوں۔
➋ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا
”اور اسی طرح ہم نے بعض انسانوں کے ذریعے بعض کو آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہیں کہ کیا ان لوگوں کو اللہ نے ہمارے درمیان میں سے فضل و احسان کے لیے چن لیا ہے۔“
(6-الأنعام:53)
اس آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر لوگ مال دار تھے جبکہ صحابہ کرام میں سے اکثر مسکین تھے۔ کافر کہنے لگے: یہ کیسے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان مسکینوں ہی پر (نعمت اسلام کا) احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش کی نسبت اپنی طرف فرمائی جو لفظ فتنا ”ہم نے آزمائش کی“ سے ظاہر ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ
”اور اللہ نے روزی کے معاملے میں بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے۔“
(16-النحل:71)
اس آیت کی تشریح چند صفحات پہلے گزر چکی ہے بلکہ آیت کے اندر ہی مالک اور مملوک کا تقابلی ذکر ہے، پس مملوک مالک کے لیے ایک ذاتی ملکیت ہے۔
➍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ ۖ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ
”اس (اللہ تعالیٰ) نے تمھارے لیے (توحید کی) ایک مثال تمھی میں سے بیان کی ہے کہ کیا جن (غلاموں) کے تم مالک ہو ان میں سے کوئی ہے جو اس روزی میں جو ہم نے تمھیں دے رکھی ہے تمھارے برابر کا شریک ہو۔“
(30-الروم:28)
اس آیت میں بھی مالک اور مملوک کا بطور مثال تقابل پیش کیا ہے تو مملوک وہ ہے جو مالک (موٹی) کی ذاتی ملکیت ہو۔
➎ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا
”کیا وہ آپ کے رب کی رحمت کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان کی روزی دنیا میں ان کے درمیان تقسیم کر رکھی ہے اور بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیتے رہیں۔“
(43-الزخرف:32)
آیت کے شروع میں مشرکین کے اس زعم کا رد کیا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ مسکین شخص ہے، اس کے مقابلے میں طائف اور مکہ کے کسی مال دار شخص کو نبوت ملنی چاہیے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت خود تقسیم کرتا ہے کسی کو اس کی تقسیم کا اختیار نہیں دیتا۔ یہ تو نبوت ہے اللہ تعالیٰ نے دنیوی وسائل و اسباب کی تقسیم اپنے ہاتھ میں رکھی ہے کہ اس نے اس میں بھی بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس فضیلت کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: مال دار لوگ مزدوروں سے خدمت لے سکیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو مال عطا فرما کر انھیں ذاتی ملکیت کا حق عطا فرمایا۔
➏ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ
”اور اس شخص نے اللہ کی محبت میں قریبی رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کو مال دیا۔“
(2-البقرة:177)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اعمال خیر کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ حصہ رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کو دیتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص جو مال دیتا ہے وہ اس مال کا ذاتی مالک ہے۔ اگر وہ مال اس کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو تو وہ کیسے خرچ کر سکتا ہے؟ اس سے بھی واضح ہوا کہ معاشرے میں اللہ کی تقسیم کے مطابق بعض لوگ مال دار ہوتے ہیں اور بعض محتاج۔
➐ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ
”اور جو اس کی طاقت رکھیں کہ فدیہ دے سکیں تو ان کے ذمہ ایک مسکین کا کھانا کھلانا ہے۔“
(2-البقرة:184)
اس سے معلوم ہوا کہ فدیہ دینے والا ذاتی ملکیت رکھتا ہے اور معاشرے میں مسکین بھی موجود ہے جو فدیہ لینے کا مستحق ہے۔
➑ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ
”پس اس (قسم توڑنے) کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔“
(5-المائدة:89)
معاشرے میں قسم اٹھائی جاتی ہے اور بعض اوقات قسم توڑنی پڑتی ہے تو قسم توڑنے کی صورت میں کفارہ مقرر کیا گیا ہے اور اس کی پہلی صورت دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اگر کسی کی ذاتی ملکیت ہی نہ ہو تو پھر وہ اس کفارے کی ادائیگی کیسے کرے گا؟
➒ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا
”پس جو اس کی استطاعت نہ رکھے تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“
(58-المجادلة:4)
اس آیت میں بھی ذاتی ملکیت کا ثبوت ملتا ہے۔ ملکیت ہوگی تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے گا اور ظہار کا کفارہ ادا ہو سکے گا۔
قرآن کریم میں زکاۃ کا حکم دیا گیا ہے اور یہ ارکان اسلام میں سے ہے اگرچہ پرویزی اسلام میں اس کا نام حکومتی ٹیکس ہے۔ زکاۃ تبھی ادا ہوگی جب کوئی شخص کسی مال کا ذاتی طور پر مالک ہوگا۔ اگر اسلام میں ذاتی ملکیت کا تصور نہ ہو تو پھر زکاۃ کا حکم عبث معلوم ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی حکم عبث نہیں۔ تاریخ اسلام میں مذکور ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے منکرین زکاۃ کے ساتھ جہاد کیا تھا۔
حج بھی ارکان اسلام میں سے ہے اس سے انکار کفر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ ‎﴿٩٧﴾‏
”اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگوں پر حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور جو شخص انکار کر دے تو اللہ تمام دنیا سے بے نیاز ہے۔“
(3-آل عمران:97)
استطاعت کا مطلب یہ ہے کہ حج کا ارادہ رکھنے والے شخص کے پاس اتنا مال ہو جو اس کے زاد راہ اور اس کے اہل و عیال کے اخراجات کے لیے کافی ہو تو یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ اس مال کا ذاتی طور پر مالک ہو۔ اگر ذاتی ملکیت کا تصور ختم ہو جائے تو پھر حج کا رکن ساقط ہو جائے گا کیونکہ کوئی شخص انفرادی طور پر اتنا مال نہیں رکھ سکے گا جو اس کے زاد راہ اور اہل و عیال کے لیے کافی ہو۔
اسلام میں میراث کا معاملہ پوری طرح کار فرما ہے۔ مرنے والے کے وارثوں کے لیے ورثے کے حصے مقرر ہیں۔ سورۂ نساء (4) آیت 11، 12 و 176 میں اس معاملے کی تفصیل آئی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان ذاتی طور پر ہر مال کا مالک ہو سکتا ہے تبھی تو اس کے مرنے کے بعد اس کا مال وارثوں میں تقسیم ہوگا، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ انفرادی ملکیت میں نظریہ مساوات غلط ہے۔ ان دلائل سے ثابت ہوا کہ انفرادی اور ذاتی ملکیت سے انکار کرنا قرآن کریم اور ارکان اسلام سے انکار کرنا ہے، لہذا پرویزی اسلام یقیناً نبوی اسلام کا مکمل طور پر مدمقابل اور مخالف ہے۔

احادیث کا انکار اور ان سے تمسخر

چونکہ یہ مسئلہ پرویزیت کی بنیاد ہے اس بارے میں غلام احمد پرویز کی بے شمار تلبیسات اور عبارات ہیں ہم ان میں سے بعض نقل کرنے پر اکتفا کریں گے۔
➊ لکھا ہے: ”مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھنے کے لیے جو سازش کی گئی ہے اس کی پہلی کڑی یہ عقیدہ پیدا کرنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وحی کے علاوہ جو قرآن میں محفوظ ہے ایک اور وحی بھی دی گئی تھی جو قرآن کے ساتھ بالکل قرآن کے ہم پلہ ہے۔ یہ وحی روایات میں ملتی ہے، اس لیے روایات عین دین ہیں۔ یہ عقیدہ پیدا کیا گیا اور اس کے ساتھ روایات سازی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے روایات کا ایک انبار جمع ہو گیا۔ اسی طرح اس دین کے مقابل جو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ایک اور دین مدون کر کے رکھ دیا اور اس کو اتباع سنت رسول اللہ قرار دے کر امت کو اس میں الجھا دیا۔“
(مقام حدیث : 421/1 از پرویز )

تبصرہ:

اس سے پہلے ثابت کیا گیا ہے کہ وحی (غیر متلو) قرآن کریم کی آیات سے صراحت کے ساتھ ثابت ہے، پس یہ عقیدہ کسی غیر کی سازش نہیں بلکہ اس سے انکار کرنا ابلیسی سازش ہے اور یہ کہنا کہ روایات سازی کا سلسلہ شروع کیا گیا، پرویز صاحب نے اس اقتباس میں ساری احادیث کو موضوع قرار دے دیا، حالانکہ انھوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ احادیث جو قرآن کے مطابق یا عقل کے موافق ہوں انھیں مانتا اور تسلیم کرتا ہوں۔ ایسی تضاد بیانی باطل پرستوں کا کام ہے اور ان کا یہ کہنا کہ وحی کے ذریعے سے ایک اور دین مدون کر کے رکھ دیا، یہ بھی ہرزہ سرائی ہے کیونکہ وحی غیر متلو قرآن کے مقابل نہیں بلکہ اس کی شرح اور تفصیل ہے، جیسا کہ گذشتہ ابواب میں ثابت کیا گیا ہے۔
➋ مزید لکھا ہے: ”بہر حال جھوٹ پہلی سازش کے تحت بولا گیا یا بعد میں اہلہان مسجد نے نیک کاموں کے لیے اس جھوٹ کی حمایت کی، نتیجہ دونوں کا ایک ہے، یعنی یہ جھوٹ مسلمانوں کا مذہب بن گیا۔ وحی غیر متلو اس کا نام رکھ کر اسے قرآن کے ساتھ قرآن کی مثل ٹھہرایا گیا۔“
(مقام حدیث : 122/2)
پرویز صاحب نے اس اقتباس میں یہ تصریح کی ہے کہ مسلمانوں کا مذہب (حدیث) جھوٹ ہے۔ علمائے حدیث کو اہلہان مسجد کا خطاب دے دیا۔ یہ بات باعث شرم ہے کہ دین کے علم برداروں کو اہلہان کہا جائے اور دین کے مفسدین اور منکرین حدیث کو مصلحان۔ یہ صاحب تو اس آیت کریمہ کا مصداق قرار پاتے ہیں:
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
”اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد مت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔“
(2-البقرة:11)
➌ پرویز صاحب کی کتاب مقام حدیث پڑھیے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ احادیث کا کتنا تمسخر اڑایا گیا ہے۔ چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
”اور (احادیث) جو ملا کی غلط نگاہی اور کوتاہ اندیشی سے ہمارے دین کا جز بن رہی ہے دیکھیے کہ انھی احادیث کی رو سے وہی جنت جس کے حصول کا قرآنی طریقہ پر مذکور ہے کتنے سستے داموں ہاتھ آ جاتی ہے؟ لیجیے اب روایات کی رو سے جنت کے ٹکٹ خرید لیے دیکھیے کتنی سستی جا رہی ہے۔“
”سب سے پہلے السلام علیکم کیجیے اور ہاتھ ملائیے، جنت مل گئی۔“
ابو داود کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ جب دو مسلمان مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ انھیں بخش دیتا ہے۔
(سنن أبي داود الأدب، باب في المصافحة حديث : 5212)
اب مسجد میں چلیے اور وضو کیجیے جنت حاضر ہے۔ مسلم کی حدیث ہے کہ وضو کرنے والے کے تمام گناہ پانی کے ساتھ بہتے جاتے ہیں یہاں تک کہ پانی کا آخری قطرہ ہر عضو کے آخری گناہ کو ساتھ لے کر ٹپکتا ہے۔“
(صحيح مسلم، الطهارة، باب خروج الخطايا مع ماء الوضوء، حديث : 244)
کہیے کس قدر سستی رہی جنت! وضو کیا تو تمام گناہ اس کے پانی میں بہہ گئے اور اگر ساتھ دو رکعتیں نفل پڑھ لیے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے آگے جنت میں پہنچ گئے۔
اس سے بھی آسان مسلم کی حدیث ہے کہ ”جو شخص مؤذن کے جواب میں اذان کے الفاظ دہراتا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔
(صحیح مسلم، الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن حديث : 385)
جسے قانون کی اصطلاح میں جرم کہا جاتا ہے اسے مذہب کی زبان میں گناہ کہتے ہیں۔ جرم ایک مرتبہ کا بھی کم نہیں ہوتا لیکن عادی مجرم کے لیے سوسائٹی میں کوئی جگہ ہی نہیں اس کے برعکس ملا کے مذہب نے جرائم کے لیے ایسا لائسنس دے رکھا ہے کہ صبح سے شام تک جرم پر جرم کیے جاؤ لیکن ساتھ نمازیں بھی پڑھتے جاؤ سب جرم معاف ہو جائیں گے۔ ترمذی کی حدیث ہے کہ
( جامع الترمذي، الصلاة، باب ماجاء في فضل التكبيرة الأولى، حديث : 241)
چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرنے والا دوزخ اور نفاق دونوں سے بری کر دیا جاتا ہے۔ لیجیے ایک چلہ پورا کر لیجیے اور عمر بھر کے لیے جو جی میں آئے کیجیے، دوزخ میں آپ کبھی نہیں جا سکتے۔
(ان عبارات کے لیے دیکھیے ، مقام حدیث : 2 / 96-100)
نبوی اسلام والو! ذرا دیکھو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا کیسے تمسخر اڑایا گیا ہے۔ قرآن کریم کی درج ذیل آیات کا مطالعہ کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ ۖ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنذِرُوا هُزُوًا ‎﴿٥٦﴾
”ہم جو رسول بھیجتے رہے ہیں تو محض اس لیے کہ خوش خبری سنائیں اور عذاب سے ڈرائیں اور جو لوگ کافر ہیں وہ باطل کے ذریعے سے (رسولوں کے ساتھ) ناحق جھگڑتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے حق و صداقت کو پھسلا دیں اور میری آیتوں کو اور جس سے انھیں ڈرایا جاتا ہے اسے انھوں نے ہنسی مذاق بنالیا۔“
(18-الكهف:56)
نیز فرمایا:
ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا
”یہی جہنم ان کی سزا ہے کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور رسولوں کا مذاق اڑایا۔“
(18-الكهف:106)
ان دونوں آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پرویزی ان ارشادات ربانی کے مصداق ہیں۔ پہلی آیت میں رسول کا کام خوشخبری سنانا اور عذاب سے ڈرانا بیان کیا گیا ہے۔ پرویز صاحب نے جو احادیث بیان کی ہیں وہ سب خوشخبری کے زمرے میں آتی ہیں مگر انھوں نے ان احادیث کا استہزا کیا، ان کی باطل تاویلات کیں اور ان کا تمسخر اڑایا ہے تاکہ یہ احادیث حق ثابت نہ ہوں۔
اس آیت میں وما أنذروا کے الفاظ آيتي کے بعد آئے ہیں، لہذا یہ الفاظ احادیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ آيتي کا معنی ہے ”میری آیات“ اور ”وما انذروا“ کے معنی ہیں: ”جس کے ذریعے سے وہ ڈرائے گئے“ اب میری آیات تو قرآن کریم ہوا اور جس چیز کے ذریعے سے وہ ڈرائے گئے، یقینی بات ہے کہ اس سے مراد احادیث ہیں، لہذا یہ لوگ قرآن اور حدیث کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ مزید برآں پرویز صاحب سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ احادیث قرآن یا عقل سے بھی متصادم نہیں جبکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ جو حدیث قرآن اور عقل سے متصادم نہ ہو وہ صحیح ہوتی ہے، پھر تو خوشخبری والی یہ احادیث صحیح ہیں کیونکہ یہ آپ کے وضع کردہ اصول کے مطابق صحیح ہیں۔ قرآن کریم سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا ‎﴿٣١﴾‏
”اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمھیں منع کیا جاتا ہے باز رہو تو ہم ضرور تمھارے قصور (چھوٹے گناہ) معاف کر دیں گے اور تمھیں ایک باعزت جگہ (جنت) میں داخل کریں گے۔“
(4-النساء:31)
نیز فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ
”بے شک اللہ یہ (جرم) نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا وہ جس کے چاہے گناہ بخش دے گا۔“
(4-النساء:116)
نیز فرمایا:
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ
”دن کے دونوں سروں اور رات کی گھڑیوں میں۔ یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔“
(11-هود:114)
اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں صغیرہ گناہوں کی بخشش کے لیے کبیرہ گناہوں سے اجتناب کی شرط قائم کی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے گا تو میں اس کے صغیرہ گناہ معاف کر دوں گا اور جنت میں داخل فرما دوں گا۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ شرک کے سوا میں جس کے چاہے گناہ معاف کر دوں گا جبکہ تیسری آیت میں فرمایا کہ نیک اعمال (نماز، وضو اور مصافحہ وغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہیں۔ پرویز صاحب نے ان احادیث کو بطور استہزا پیش کیا ہے جن میں خوش خبری سنائی گئی ہے تو انھیں چاہیے کہ (نعوذ باللہ) وہ متعلقہ آیات کریمہ کا بھی استہزا کریں کیونکہ جو خوش خبری احادیث میں ہے وہی آیات میں ہے۔ ان آیات اور احادیث کا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صحیح شرعی ایمان اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند ہے کہ وہ اس کی بدولت کبھی تو ویسے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے اور کبھی کسی ایک نیک عمل کے باعث گناہ معاف فرمادیتا ہے اور سستی جنت بھی عطا کر دیتا ہے، البتہ جن لوگوں کے پاس صحیح شرعی ایمان نہیں، جیسے پرویزی ہیں، ان کے لیے یہ بشارتیں سہل نہیں، لہذا وہ سستی جنت حاصل نہیں کر سکتے۔
اسی لیے وہ ایسی نصوص کے ساتھ استہزا کرتے ہیں۔
➍ ایک جگہ لکھتے ہیں ”لیکن دین میں حجت کے طور پر وہ (حدیث) پیش نہیں کی جا سکتی اس (حدیث) کو دین بنالینے سے بڑا نقصان ہوا ہے کہ قرآن کریم جو سراسر زندگی ہے حجاب میں آ گیا ہے“۔
( مقام حدیث : 168/1)
پرویز صاحب کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرتب کردہ جزئیات (احادیث) دین، شریعت اور مذہب نہیں ہیں بلکہ قرآن کے لیے حجاب ہیں اور پرویز کے نظریے کے مطابق ہر زمانے کے مسلمانوں کا اجتماعی نظام (امام وقت) جو قرآنی اصولوں کے مطابق جزئیات مرتب کرے، وہ شریعت اور واجب العمل ہے۔ پرویز کے اس نظریے سے یہ ثابت ہوا کہ وہ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآنی شرح سے بدظن کرتے ہیں اور دین سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ وہ بادشاہ وقت کی تشریح کو دین اور مذہب قرار دیتے ہیں۔ اس نظریے کے نتیجے میں دین اسلام میں ہزاروں شریعتیں ہوں گی کیونکہ ہر زمانے کا بادشاہ (امام) نئی نئی تشریحات لائے گا۔
➎ ایک جگہ پر لکھتا ہے: ”حدیث کا صحیح مقام دینی تاریخ کا ہے، اس سے تاریخی فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن دین میں حجت کے طور پر نہیں پیش کی جا سکتی۔“
( مقام حدیث : 168/2)
پرویز صاحب کا مطلب ہے کہ دینی احکام، مثلاً: نماز، روزہ، حج اور زکاۃ وغیرہ کے طریقے اور جزئیات حدیث سے نہیں لیں گے بلکہ بادشاہ وقت (مرکز ملت) یہ کام کرے گا۔ کیا پرویز صاحب بتائیں گے کہ چودہ سو سال میں کسی (مسلمان) بادشاہ وقت نے نماز پڑھنے کا کوئی ایسا طریقہ رائج کیا (ہے) جو حدیث نبوی میں نہ ہو؟ حج کا کون سا وقت مقرر کیا جو ذوالحجہ کے علاوہ ہو؟ وہ کسی ایک امام اور بادشاہ کا نام اور مثال نہیں پیش کر سکتے، پھر ان کے نزدیک، چودہ سو سال میں مسلمانوں نے جو نمازیں پڑھیں اور حج ادا کیے یہ سب کے سب بے دینی کے زمرے میں آئیں گے۔ اگر کوئی سوچے کہ دین پرویز صاحب کے پاس ہے تو ایں خیال است و محال است و جنون۔
➏ پرویز صاحب کے استاد حافظ محمد اسلم جیراج پوری کہتے ہیں: ”نہ حدیث پر ہمارا ایمان ہے نہ اس پر ایمان لانے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے۔“
(طلوع اسلام، دسمبر 1950ء ، ص : 17)
پرویز صاحب نے لکھا ہے:
احادیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال کے مجموعے کا نام ہے۔
( مقام حدیث :44/1 )
اس کلام میں احادیث پر ایمان لانے سے صریح انکار ہے اور دلیل میں لکھا ہے: ”ہمیں اس پر ایمان لانے کا حکم نہیں دیا گیا۔“
( مقام حدیث :44/1 )
ایمان بالرسول کے باب میں ہم نے ثابت کیا ہے کہ رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ رسالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اقوال و افعال (بجز خصوصیات) کی اطاعت اور اتباع ہم پر لازم ہے اور ہم اس کے مکلف ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اتباع رسول سے متعلق آیات قرآنیہ: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي، (3 – أل عمران: 13) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، (33 – الأحزاب : 21) وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ،(59 – الحشر : 7 ) سے کیا مراد ہے؟
➐ پرویز صاحب نے لکھا ہے: جہاں تک احادیث کا تعلق ہے ہم ہر اس حدیث کو صحیح سمجھتے ہیں جو قرآن کریم کے مطابق ہو یا جس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت داغدار نہ ہوتی ہو۔
(طلوع اسلام کا مقصد و مسلک ، شق نمبر 14)
پرویز صاحب نے تصحیح حدیث کے لیے یہ تین معیار قائم کیے ہیں اور ان کے استاد حافظ اسلم نے مرویات ابو ہریرہ رحمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”ان میں بہت سی حدیثیں ایسی ہیں کہ ان پر علم و عقل کی رو سے گرفت کی گئی ہے یا کی جا سکتی ہے۔ اس لیے ہمارا ضمیر قبول نہیں کر سکتا کہ اس طرح کی روایتیں انھوں نے یا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہوں گی۔“
(مقام حدیث ، ص : 82 )
اس عبارت میں دو معیار مزید بیان کیے گئے ہیں، علم اور عقل۔ پرویزی ان پانچ معیاروں کی وجہ سے اکثر ذخیرۂ حدیث سے انکار کرتے ہیں۔

پرویزی معیارات پر تنقیدی بحث

➊ مطابقت قرآن: اگر مطابقت کا یہ مطلب ہو کہ قرآن اور حدیث کے مضمون میں کوئی اختلاف نہ ہو تو پھر حدیث کی کیا ضرورت ہے کیونکہ قرآن ماننے ہی سے ضرورت پوری ہو جاتی ہے، نیز اگر مطابقت کا مطلب یہ ہو کہ حدیث کا مضمون قرآن کے خلاف نہ ہو تو وہ حدیث صحیح ہوگی اور یہ بات اس وقت معلوم ہوتی ہے، جب قرآن کا مفہوم معلوم ہو اور مفہوم قرآن ائمہ مفسرین اور ائمہ محدثین کے اصول سے واضح ہوتا ہے جس میں کسی صحیح حدیث کی تکذیب لازم نہیں آتی۔ لیکن طلوع اسلام کے طریقے پر مفہوم قرآن متعین نہیں ہو سکتا۔ وہ تو ہر آن بدلتا ہی رہتا ہے۔ اور اس طریقے پر تو کسی وقت کسی حدیث کو صحیح قرار دیا جائے گا اور کسی وقت غیر صحیح قرار دیا جائے گا۔
مزید برآں اگر ایک حدیث بظاہر قرآن کے مخالف ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا انکار کیا جائے کیونکہ اس طرح کی کئی آیات ایسی ہیں جو بظاہر دوسری آیات سے مختلف نظر آتی ہیں تو اس صورت میں کیا فیصلہ کیا جائے؟ اگر آیات کو ترک کیا جائے تو یہ یہودیوں کا طریقہ ہے کہ وہ آیات الہیہ میں تعارض پیدا کر کے رد کر دیتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آیات کے درمیان تطبیق پیدا کی جائے یا ناسخ و منسوخ کا فیصلہ کیا جائے، لہذا اگر کوئی حدیث بظاہر قرآن کے خلاف نظر آئے تو وہاں بھی اسی طرح تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، جیسا کہ علماء، مفسرین اور محدثین کی کتابوں میں موجود ہے، مثلاً:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ
”بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“
(27-النمل:80)
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ مردے نہیں سنتے جبکہ حدیث میں ہے کہ غزوہ بدر میں جو کفار قتل کیے گئے تھے انھیں قلیب بدر (کنویں) میں ڈال دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کلام فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے پوچھنے پر یہ بھی فرمایا کہ یہ سنتے ہیں۔
( صحيح البخاري، الجنائز، باب ماجاء في عذاب القبر، حديث: 1370، وصحيح مسلم، الجنائز، باب الميت يعذب ببكاء حديث : 932)
مذکورہ آیت اور قلیب بدر کے متعلق حدیث میں بظاہر تضاد ہے۔ ان کے درمیان تطبیق یوں پیدا کی جائے گی کہ آیت کا معنی عام ہے کہ مردے نہیں سنتے جبکہ قلیب بدر کے مقتولین کے سننے کو معجزے پر محمول کیا جائے گا۔ اسی طرح کئی اور مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ بعض اوقات کثرت معانی کے لحاظ سے ان میں تطبیق پیدا کی جاتی ہے، یعنی آیت میں اس لفظ کا ایک معنی اور حدیث میں اس لفظ کا دوسرا معنی مراد لیا جاتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ قرآن کے معیار ہونے سے حدیث کی تکذیب لازم نہیں آتی۔ تاہم پرویز صاحب اپنی کج فہمی کی بنا پر بہت سی احادیث کو قرآن کا مخالف قرار دے کر رد کر دیتے ہیں۔
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر داغ نہ آئے: اس معیار کے متعلق ایک الزامی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن کی کسی آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و شان پر بظاہر کوئی داغ آتا ہو تو کیا اس آیت سے انکار کر دیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ ‎﴿١﴾‏ أَن جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ ‎﴿٢﴾
”اس (رسول) نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا، اس بات پر کہ ایک نابینا اس کے پاس آیا۔“
(80-عبس:1-2)
اب اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اخلاقی رویے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
ایک موقع پر فرمایا:
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ‎﴿١﴾‏ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا ‎﴿٢﴾‏
”ہم نے آپ کو فتح دی اور فتح بھی بالکل واضح، تاکہ اللہ آپ کی اگلی پچھلی تمام لغزشیں معاف کر دے۔“
(48-الفتح:1-2)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی لغزش ہوئی جو سیرت و شان پر داغ تصور کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح فرمایا:
وَلَوْلَا أَن ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا
”اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ کرتے تو آپ کچھ نہ کچھ ضرور ان کی طرف مائل ہو جاتے۔“
(17-بنی اسرائیل:74)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تثبیت نہ ہونے کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت میں کسی کمزوری کا پہلو معلوم ہوتا ہے۔ ان آیات کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انھیں اس لیے رد کیا جا سکتا ہے کہ ان کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و کردار پر کوئی داغ لگتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں! بلکہ ائمہ مفسرین نے ان آیات کی ایسی توجیہات کی ہیں جن کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر کسی قسم کے داغ کا شائبہ تک باقی نہیں رہ جاتا۔ احادیث کے متعلق بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ بالفرض کسی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر حرف آنے کا شبہ پیدا ہوا تو محدثین نے حدیث کی ایسی توجیہ کی جس کی وجہ سے وہ شبہ یکسر زائل ہو گیا، لہذا جب توہین رسول کا شبہ قرآن کی صحت کے لیے معیار نہیں بنتا تو پھر حدیث کی صحت کے لیے وہ شبہ کیوں کر معیار بن سکتا ہے؟
➌ صحابہ کرام کی سیرت پر داغ لگنا: یہاں بھی وہی کلام ہے جو پہلے معیاروں کے متعلق گزر چکا ہے۔ قرآن کریم میں ایسی آیات ہیں جن میں صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کی بعض کمزوریوں کی طرف اشارے ملتے ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا
”اگر تم دونوں توبہ کر لو تو تمھارے لیے بہتر ہے) کیونکہ یقیناً تمھارے دل مائل ہو چکے ہیں۔“
(66-التحريم:4)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ‎﴿٢٨﴾
‏ ”اے نبی! اپنی ازواج مطہرات سے فرمادیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کے ساز و سامان کی طلب گار ہو تو آؤ میں تمھیں ساز و سامان دوں اور خوش اسلوبی سے تمھیں رخصت کر دوں۔“
(33-الأحزاب:28)
نیز فرمایا:
حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ
”یہاں تک کہ تم نے خود ہی ہمت ہار دی اور تم معاملے میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دکھایا جو کہ تم چاہتے تھے۔“
(3-آل عمران:152)
نیز فرمایا:
عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ
”اللہ کو معلوم ہے کہ تم خود اپنی ذات کے ساتھ خیانت کیا کرتے تھے، لہذا اس نے تمھاری طرف توجہ کی اور تمھیں معاف کر دیا۔“
(2-البقرة:187)
وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهِ وَتَرَكُوكَ قَائِمًا
”اور جب انھوں نے تجارت یا کھیل تماشا دیکھا تو وہ اس کی طرف بھاگ گئے اور آپ کو کھڑا چھوڑ گئے۔“
(62-الجمعة:11)
کیا ان آیات میں صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کو ان کی کوتاہیوں اور غلط روش پر تنبیہ نہیں کی گئی تو کیا پھر پرویزی معیار کے مطابق ان آیات کو چھوڑ دیا جائے؟ نہیں، ہرگز نہیں! اور ان کی تاویل کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ صحابہ کرام معصوم نہیں تھے۔ انھی آیات میں ان کی توبہ کی قبولیت کا شرف بھی مذکور ہے، چنانچہ اسی طرح اگر کوئی حدیث ایسی ہو جس میں کسی صحابی کی کوئی کمزوری مذکور ہو تو ہم اس حدیث کو کیوں چھوڑ دیں؟
مندرجہ بالا گفتگو سے معلوم ہوا کہ صحت حدیث کے لیے یہ تینوں معیار مقرر کرنا سراسر تلبیس ہے۔
➍ حدیث علم کے خلاف نہ ہو: اس علم سے کیا مراد ہے؟ اگر انسان کا اپنا علم ہو تو اس نے یہ علم کہاں سے حاصل کیا ہے اور اس کی دلیل کیا ہے؟ بسا اوقات انسان اپنے آپ کو عالم سمجھتا ہے، حالانکہ وہ جاہل ہوتا ہے۔ ایسے ہی عالموں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ‎﴿١٠١﴾‏
”اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آیا جو ان کتابوں کی جو پہلے سے ان کے پاس تھیں تصدیق کرتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ نے جنھیں کتاب دی گئی تھی اللہ کی کتاب کو اس طرح پس پشت ڈال دیا گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں۔“
(2-البقرة:101)
نیز فرمایا:
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
”یاد رکھو وہ خود ہی بے وقوف ہیں لیکن وہ نہیں جانتے۔“
(2-البقرة:13)
یعنی ایسے لوگ جاہل مرکب ہیں، لہذا ان کا علم کسی طرح بھی قبولیت حدیث کے لیے معیار نہیں بن سکتا۔
اگر علم سے مراد علم مشاہدہ ہو تو مطلب یہ ہے کہ جو حدیث مشاہدے کے خلاف ہو اسے منکرین حدیث نہیں مانتے تو پھر اس طرح انبیاء علیہم السلام کے معجزات بلکہ جدید سائنسی علوم بھی مشاہدات کے خلاف ہیں تو پھر کیا وہ بھی نہیں مانیں گے؟ اگر مانتے ہیں تو یہ لوگ ان کی عجیب سی تاویلات کرتے ہیں جو علم و عقل کے خلاف ہوتی ہیں، لہذا علم مشاہدہ کے ذریعے سے احادیث سے کیوں کر انکار کر سکتے ہیں؟
➎ حدیث عقل کے خلاف نہ ہو: آیات یا احادیث کو عقل کی میزان میں جانچنے کے موضوع پر آٹھویں باب میں مفصل بیان ہو چکا ہے۔ یہاں قارئین کو یہ بتانا مقصود ہے کہ مفسرین و محدثین عقل کے استعمال کے منکر نہیں۔ عقل کے استعمال کے متعلق بہت سی آیات ہم پہلے بیان کر چکے ہیں لیکن محدثین کے استعمال عقل اور منکرین حدیث کے استعمال عقل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ محدثین کرام عقل کو وحی کے تابع رکھ کر استعمال کرتے ہیں۔ وہ آیات و احادیث کو پڑھنے اور ان کی اتباع کے بعد عقل اور تفکر و تدبر سے بھی کام لیتے ہیں۔ جبکہ منکرین حدیث عقل کو وحی کا تابع نہیں بلکہ وہ عقل کو حق و باطل اور حسن و قبح کے فرق کے لیے آخری معیار سمجھتے ہیں۔ معتزلہ کے تمام فرقوں کا یہی طریقہ کار تھا۔
طلوع اسلام کا مسئلہ شق نمبر 14 میں پرویز صاحب نے بھی یہ تصریح کی ہے:
”تنہا عقل انسانی زندگی کے مسائل کا حل دریافت نہیں کر سکتی، اسے اپنی رہنمائی کے لیے وحی کی اس طرح ضرورت ہے جس طرح آنکھ کو سورج کی روشنی کی ضرورت ہے۔“ لیکن اس کے باوجود عملی طور پر پرویز صاحب اپنے اس قول کے پابند نہیں ہیں، بہت سی صحیح احادیث کو اپنی عقل کی میزان سے جھٹلاتے ہیں۔
انھوں نے وحی میں عقل کی مداخلت ثابت کرنے کے لیے بزعم خویش قرآن سے ایک دلیل پیش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
‏ وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ‎﴿٧٣﴾
”اور وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے آیات خداوندی پیش کی جائیں تو ان پر بہرے اور اندھے بن کر نہیں گرتے بلکہ عقل و فکر سے کام لے کر قبول و اختیار کرتے ہیں۔“ (یہ ترجمہ پرویز صاحب کا ہے)
(25-الفرقان:73)
پرویز صاحب نے ذكروا کا ترجمہ کیا ہے ”پیش کی جائیں“ حالانکہ اس کا ترجمہ ہے ”جب انھیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جاتی ہے۔“ اور آیت میں لم يخروا محاورہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی جب انھیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے تو یہ نہیں ہے کہ وہ ان سے متاثر نہیں ہوتے یا وہ ان پر عمل نہیں کرتے بلکہ وہ اس نصیحت سے متاثر ہو کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ اس کا معنی ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ اس نصیحت کو عقل کی کسوٹی پر پیش کرتے ہیں اگر عقل کے موافق ہوئی تو اسے قبول کر لیا اور اگر اس کے موافق نہ ہوئی تو اسے رد کر دیا۔ یہ طرز فکر و عمل تو کافروں کا ہے۔ مسلمانوں کو تو نصوص شرعی کے مقابلے میں عقل استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ‎﴿٣٦﴾
”اور کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو انھیں ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی گمراہی میں ہے۔“
(33-الأحزاب:36)
اس آیت میں ایسے لوگوں کا رد ہے جو قرآن و حدیث کی نصوص کے مقابلے میں اپنی رائے اور عقل استعمال کرتے ہیں۔ اس فکر سے بدعات شروع ہوتی ہیں اور اس کے حامل افراد سراسر گمراہ ہیں۔
یہاں تک ہم نے پرویزی اسلام کے اہم عقائد بیان کیے ہیں جو ان کے مکتوبات سے لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی ایسی جزئیات ہیں جن میں قربانی سے انکار، عذاب قبر سے انکار، تعدد ازواج سے انکار اور رجم سے انکار وغیرہ شامل ہیں، حالانکہ ان تمام امور کے اثبات کے متعلق قرآن و سنت کی نصوص موجود ہیں اور چودہ سو سال سے امت کے نزدیک مسلم ہیں۔
مندرجہ بالا تمام عقائد و نظریات میں آپ نے نبوی اسلام اور پرویزی اسلام میں واضح فرق محسوس کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام مکمل فرما دیا ہے۔ اب اس میں کسی ترمیم اور اضافے کی گنجائش ہے نہ کسی کو اس کا اختیار حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
”آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔“
(5-المائدة:3)
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دین اسلام مکمل فرمایا اور اسی دین کو تمھارے لیے پسند کیا جبکہ پرویزی دین، دین محمدی سے بالکل الگ دین ہے۔ اس تضاد کے ہوتے ہوئے غلام احمد پرویز کے کفر میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے؟

نوٹ:

مذکورہ عقائد اور انکار حدیث جیسے تقریباً 39 عقائد کی بنا پر تمام علمائے کرام نے پرویز صاحب کی زندگی میں ان کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر کیا تھا۔ کیا یہ سارے علمائے کرام دین نہیں سمجھتے؟ ذرا عقل سے بھی کام لینا چاہیے اور پرویزی گمراہیوں سے بچنا چاہیے۔