مضمون کے اہم نکات
عشرہ ذوالحجہ میں ممنوع افعال
جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہے، وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد نہ سر کے بال کٹوائے یا منڈوائے، نہ مونچھیں کتروائے، نہ زیرِ ناف بال مونڈے، نہ زیرِ بغل بال اُکھاڑے اور نہ ناخن ترشوائے، تا وقتیکہ وہ قربانی نہ کر لے۔ یہ تمام کام ایسے شخص کے لیے جائز و ممنوع ہیں:
① سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دخلت العشر وأراد أحدكم أن يضحي، فلا يمس من شعره وبشره شيئا
”جب دس ذوالحجہ (یعنی ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو) کا آغاز ہو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنا چاہے تو وہ اپنے بال اور جلد کے کسی حصہ کو نہ چھوئے (یعنی بدن کے کسی حصہ سے بال نہ اتروائے)۔“
صحیح مسلم، كتاب الأضاحي، باب نهى من دخل عليه عشري ذي الحجة، وهو يريد التضحية الخ : 1977۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب من أراد أن يضحي الخ : 4369۔ سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، باب من أراد أن يضحى فلا ياخذ في الخ : 3149۔
② ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان له ذبح يذبحه، فإذا أهل هلال ذي الحجة، فلا يأخذن من شعره ولا من أظفاره شيئا، حتى يضحي
”جس کے پاس ذبیحہ ہے، جسے وہ ذبح کرنا چاہتا ہے، پس جب هلالِ ذوالحجہ طلوع ہو جائے تو جب تک وہ قربانی نہ کر لے اپنے بال اور ناخنوں سے کچھ نہ کاٹے۔“
صحيح مسلم، كتاب الأضاحي باب نهى من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو يريد التضحية …. الخ : 1977۔ سنن أبی داود : 2791۔
③ عمرو بن مسلم بن عمار لیثی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كنا فى الحمام قبيل الأضحى فاطلى فيه أناس، فقال بعض أهل الحمام: إن سعيد بن المسيب يكره هذا أو ينهى عنه، فلقيت سعيد بن المسيب فذكرت ذلك له، فقال: يا ابن أخي، هذا حديث قد نسي وترك، حدثتني أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه وسلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كان عنده ذبح يريد أن يذبحه، فإذا أهل هلال ذي الحجة، فلا يمس من شعره وظفره شيئا حتى يضحي
”ہم عید الاضحیٰ سے چند روز قبل حمام میں تھے کہ حمام میں کچھ لوگوں نے (زیرِ ناف بالوں کی صفائی کے لیے) بال صفا پاؤڈر استعمال کیا، اس پر کسی شخص نے کہا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ اس عمل (ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بال مونڈنا) کو مکروہ قرار دیتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں، پھر میری (راوی) سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے (مذکورہ واقعہ) انہیں بیان کیا تو انہوں نے کہا: بھتیجے! یقیناً یہ حدیث بھلا دی گئی ہے اور متروک ہو چکی ہے، مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہے، جسے وہ ذبح کرنا چاہتا ہے سو جب ہلالِ ذی الحجہ طلوع ہو جائے تو جب تک قربانی نہ کر لے اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کاٹے۔“
صحيح مسلم، كتاب الأضاحی : 1977۔ سنن بیهقی : 266/9، 267۔ صحيح ابن حبان : 5918۔
فوائد:
① قربانی کا ارادہ رکھنے والا ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن جسم کے کسی حصے کے بال نہ کاٹے، نہ مونڈھے اور نہ اکھاڑے اور ناخن نہ تراشے، یہ عمل اس کے لیے حرام ہے۔
② قربانی کے بعد جسم کے بال کاٹنا، مونڈھنا، اکھاڑنا اور ناخن تراشنا جائز و مباح ہے۔
③ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بعض شافعیہ کہتے ہیں: ”ناخن نہ لینے کی ممانعت سے مقصود ناخن تراشنا، توڑنا یا کسی بھی طریقے سے ناخن زائل کرنا ہے اور بال کاٹنے کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ (ان دنوں میں) بال مونڈھ کر، ہلکے کر کے، اکھاڑ کر، جلا کر یا بال صفا پاؤڈر استعمال کر کے بال زائل نہ کیے جائیں اور اس حکم میں زیرِ بغل، زیرِ ناف بال، مونچھیں اور سر کے بال یکساں حکم رکھتے ہیں۔“
سیدنا ابراہیم مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”بدن کے تمام اجزاء کا حکم بال اور ناخنوں کی مثل ہے (یعنی بدن کے کسی بھی حصہ کے بال قطعاً زائل نہ کیے جائیں) اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
فلا يمس من شعره وبشره شيئا
”وہ اپنے بال اور جلد کو بالکل نہ چھوئے۔“
شرح النووى : 137/13، 138۔
مذاہب و آراء:
جس شخص کا قربانی کا ارادہ ہے، اس کے لیے ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بال اور ناخن زائل کرنا حرام، مکروہِ تنزیہی یا جائز ہیں؟ اس بارے میں ائمہ اربعہ کی مختلف آراء ہیں، جنہیں ذکر کرنے کے بعد ہم راجح موقف کی نشاندہی کریں گے:
① سعید بن مسیب، ربیعہ، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، داود ظاہری اور بعض شافعیہ کا مذہب ہے کہ جس نے قربانی کرنی ہے، اس کے لیے بال زائل کرنا اور ناخن تراشنا حرام ہے، تا وقتیکہ وہ قربانی ذبح نہ کر لے۔
② امام شافعی اور ان کے اصحاب کا موقف ہے کہ یہ عمل مکروہِ تنزیہی ہے، حرام نہیں۔
③ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں: یہ عمل مکروہ نہیں (بالکل جائز ہے) کیونکہ قربانی کرنے والے پر بیوی سے مباشرت اور لباس پہننا حرام نہیں، لہذا جیسے قربانی نہ کرنے والے کے لیے بال زائل کرنا اور ناخن تراشنا مکروہ نہیں اسی طرح قربانی کرنے والے کے لیے یہ چیزیں بھی مکروہ نہیں ہیں۔
لیکن احادیثِ الباب امام ابو حنیفہ کے موقف کی تردید کرتی ہیں۔ (نیل الاوطار: 119/5)
④ امام مالک رحمہ اللہ سے تین اقوال منقول ہیں:
① مکروہ نہیں۔
② مکروہ ہے۔
③ نفل قربانی میں حرام اور فرض قربانی میں غیر مکروہ ہے۔
شرح النووى : 137/13۔ المغنى ابن قدامه مع الشرح الكبير : 96/11۔
راجح موقف:
اول الذکر علماء کا موقف کہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بال اور ناخن زائل کرنا حرام ہے، راجح ہے۔ کیونکہ نہی حرمت پر دلالت کرتی ہے اور یہاں کوئی قرینہ صارفہ نہیں، جو نہی کو کراہت پر محمول کرے۔
① ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہاں (بال اور ناخن زائل کرنے کی) نہی حرمت کی متقاضی ہے۔“
المغنى لا بن قدامه مع الشرح الكبير : 96/11۔
② امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ”(احادیثِ الباب کا) ظاہر مفہوم حرمت کے قائلین کے موقف کی تائید کرتا ہے کہ جس کا قربانی کا ارادہ ہو اس کے لیے بال اور ناخن زائل کرنا حرام ہیں۔“
نيل الأوطار : 119/5۔
بال اور ناخن زائل نہ کرنے کی حکمت:
امام نووی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ عشرہ ذوالحجہ میں بال اور ناخن کاٹنے کی ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا کامل الاعضاء رہے اور اسے جہنم سے کامل الاعضاء آزاد کیا جائے۔
شرح النووى : 138/13۔ نيل الأوطار : 119/5۔
قربانی کرنے والا اگر بال یا ناخن کاٹ لے تو؟
اگر قربانی کا ارادہ کرنے والا عشرہ ذوالحجہ میں بال یا ناخن زائل کر لے تو وہ گناہ گار ضرور ہوگا، اس لیے اس حرام عمل کے ارتکاب سے اجتناب لازم ہے اور بدعملی کی صورت میں استغفار کرنا چاہیے، البتہ اس پر کوئی فدیہ یا جرمانہ نہیں ہے۔ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إذا ثبت هذا فإنه يترك قطع الشعر وتقليم الأظفار، فإن فعل استغفر الله تعالى، ولا فدية فيه إجماعا، سواء فعله عمدا أو نسيانا
”جب (عشرہ ذوالحجہ میں بال اور ناخن قطع کرنے کی حرمت) ثابت ہو چکی ہے تو قربانی کرنے والے کو بال قطع کرنے اور ناخن تراشنے سے باز رہنا چاہیے۔ پھر اگر وہ اس کا مرتکب ہو تو اسے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیے اور اس (گناہ کے ارتکاب پر) بالاجماع اس پر کوئی فدیہ نہیں، خواہ اس نے یہ کام قصداً کیا ہے یا بھول کر۔“
المغني لابن قدامه مع الشرح الكبير : 97/11۔
گھر کے افراد اس حکم میں شامل ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ عشرہ ذوالحجہ میں بال کاٹنے اور ناخن تراشنے سے صرف وہ شخص اجتناب کرے گا، جو قربانی کا منتظم اور سرپرست ہے۔ باقی اہل خانہ جن کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے یا گھر کے دیگر افراد جو قربانی میں شامل ہیں، وہ ان امور کے پابند نہیں، کیونکہ احادیث میں قربانی کا ارادہ رکھنے اور قربانی کرنے والے شخص کے لیے بال اور ناخن زائل کرنے کی ممانعت ہے، باقی افراد اس حکم میں شامل نہیں۔
سعودی فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ:
یہ حدیث (جس میں بال اور ناخن کاٹنے کی ممانعت ہے) صرف اس شخص کے ساتھ خاص ہے، جو قربانی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ لوگ جن کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے، وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، انہیں بال کاٹنے، مونڈھنے اور ناخن تراشنے کی ممانعت نہیں ہے، کیونکہ اصل جواز ہے اور ہمیں اس جواز کے خلاف کوئی دلیل معلوم نہیں ہے۔
فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء : 500/13۔