حدیث 27: بنی اسرائیل چوہے ہیں
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”بنی اسرائیل کا ایک گروہ کھو گیا، معلوم نہیں کیا ہوا، میں خیال کرتا ہوں کہ وہ لوگ چوہے ہی ہیں۔ جب ان کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ نہیں پیتے اور جب ان کے سامنے بکریوں کا دودھ رکھا جائے تو پی لیتے ہیں۔“
صحيح البخاري ، بدء الخلق، باب خير مال المسلم حديث: 3305، وصحيح مسلم، الزهد، باب في الفأر حديث : 2997
منکرین حدیث کہتے ہیں: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ موجودہ چوہے بنی اسرائیل کا مسخ شدہ گروہ ہوں اور چوہے کی صورت میں ان کی نسل باقی رہ گئی ہو،جب کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت مروی ہے کہ مسخ شدہ قوم تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہتی۔
اس کے دو مدلل جواب ہیں۔ حدیث میں وارد لفظ لا أراها اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا اور اس وقت آپ کی طرف یہ وحی نہیں آئی تھی کہ مسخ شدہ قوم تین دن سے زیادہ باقی نہیں رہتی۔ اور جب وحی آئی کہ مسخ شدہ قوم تین دن سے زیادہ باقی نہیں رہتی جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی مرفوع حدیث میں ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مسند احمد اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله لم يمسخ شيئا فيدع له نسلا أو عاقبة
”یقیناً اللہ تعالیٰ جس چیز کو مسخ کر دیتا ہے اس کی نسل باقی نہیں رکھتا۔“
صحيح مسلم، القدر، باب بيان أن الآجال، حديث: 2663؛ ومسند أحمد: 1/390 واللفظ له
تو معلوم ہوا کہ آپ کا یہ خیال درست نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہلی بات ارشاد فرمائی تھی وہ اپنے خیال کی بنیاد پر تھی، اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کے الفاظ بولے ہیں، مزید یہ کہ آپ نے استدلال کیا کہ چوہے اونٹ کا دودھ نہیں پیتے (اس لیے کہ بنی اسرائیل پر اونٹ کا دودھ بھی حرام تھا) اگر وحی ہوتی تو آپ یہ استدلال نہ کرتے، بعد میں جب وحی آگئی تو آپ نے بیان فرما دیا۔
یہ حدیث تشبیہ پر محمول ہے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی مثال چوہوں کی طرح ہے کہ وہ اونٹ کے دودھ سے نفرت کرتے ہیں اور بکریوں کا دودھ پیتے ہیں۔ چوہے کے ساتھ صرف انہی بنی اسرائیل کے لوگوں کی مثال دی تھی جو کسی گناہ کی پاداش میں مسخ کر دیے گئے تھے جیسا کہ صحیح مسلم میں مذکور ہے۔
صحيح مسلم، الزهد والرقائق، باب في الفأر وأنه مسخ حديث : 2997
کہ اس قسم کی قوم مسخ ہوئی تھی۔