خلاف فطرت فعل اور استمناء کا حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

خلاف فطرت، فعل کبائر میں سے ہے

جنسی خواہش کی جو تنظیم اسلام نے کی ہے اس سلسلہ کی ایک اہم بات یہ ہے کہ جس طرح زنا اور اس کے ذرائع کو حرام ٹھهرایا ہے، اسی طرح خلاف فطرت فعل کو بھی جسے لوگ لواطت یا عمل قوم لوط“ کے نام سے جانتے ہیں، حرام کر دیا ہے۔
یہ فعل خبیث خلاف فطرت گندگی سے آلودہ کرنے والا مردانگی کو خراب کرنے والا اور عورت کے حق میں ظلم ہے۔
کسی سوسائٹی میں اس خباثت کے پھیلنے سے ان کی زندگی میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اس فعل کے غلام بن جاتے ہیں اور پھر اخلاق، عرف، ذوق سلیم سب کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ اس معاملہ میں ہمارے لیے قرآن کا بیان کردہ قصہ یعنی قوم لوط کافی ہے۔ اس قوم نے اس گندے اور بے حیائی کے کام کا آغاز کر کے اسے رواج دیا تھا وہ جائز اور پاکیزہ عورتوں کو چھوڑ دیتے تھے تاکہ خبیث اور حرام شہوت کا ارتکاب کریں۔ اس لیے اللہ کے نبی سیدنا لوط علیہ السلام نے ان سے کہا :
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ 165 وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ
دنیا والوں میں سے تم ہی ہو جو مردوں کے پاس جاتے ہو اور تمہارے لیے جو بیویاں اللہ نے پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔
سورہ الشعراء : 165، 166
اور قرآن نے اس کا ابطال کرتے ہوئے اسے ظلم و زیادتی ، جہالت و فساد اور جرم قرار دیا۔ جو شخص اس بے حیائی کا مرتکب ہو اس کی سزا کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ آیا فاعل و مفعول دونوں پر زنا کی حد جاری کی جائے؟ یا دونوں کو قتل کر دیا جائے ؟ پھر قتل کرنے کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ تلوار سے قتل کیا جائے یا آگ میں ڈال دیا جائے یا دیوار پر سے گرا دیا جائے؟
اتنی سخت سزا اس لیے تجویز کی گئی ہے کہ اسلامی معاشرہ کو ان فاسد اور مضر جراثیم سے پاک رکھا جائے جن سے مہلک عناصر ہی جنم لیتے ہیں۔

استمناء (ہاتھ سے منی خارج کرنے) کا حکم

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے خون میں طبعی طور پر تحریک پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ہاتھ سے منی خارج کرتے ہیں تاکہ ان کے اعصاب کو آرام ملے اور جوش ٹھنڈا پڑ جائے۔ اسے آج کل ”عادت سرية“ (پوشیدہ عادت بد) کہتے ہیں۔
اکثر علماء کے نزدیک یہ حرام ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے :
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ‎5 إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ 6فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ
جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ بجز اپنی بیویوں اور اپنی لونڈیوں کے کہ اس بارے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ لیکن جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے گا تو ایسے ہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔
سورہ المؤمنون : 5 تا 7
جو شخص اپنے ہاتھ سے منی خارج کرتا ہے وہ قضائے شہوت کے لیے بیوی یا لونڈی کے علاوہ اور طریقہ اختیار کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۔
اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ منی کو جسم کے دیگر فضلات کی طرح ایک فضلہ خیال کرتے تھے۔ اور اس بنا پر اس کا اخراج جائز سمجھتے تھے۔ جیسا کہ فصد کھولنا جائز ہے۔ اس مسلک کی تائید علامہ ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ نے کی ہے۔ اور فقہائے حنابلہ نے اس کا جواز دو شرطوں کے ساتھ تسلیم کیا ہے :
◈ ایک یہ کہ آدمی کے زنا میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو۔
◈ دوسرا یہ کہ نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔
امام احمد رحمہ اللہ کی رائے ایسے حالات میں اختیار کی جا سکتی ہے جبکہ شہوانی خواہشات کا غلبہ اور حرام کے ارتکاب کا اندیشہ پیدا ہو جائے۔ مثال کے طور پر کوئی نوجوان جو زیر تعلیم ہو یا وطن سے دور کسی مقام پر کام کاج کرتا ہو اور جنسیات والے ماحول سے اس کا واسطہ پڑ رہا ہو اور اس بنا پر وہ تکلیف اور پریشانی محسوس کرتا ہو، تو ایسی صورت میں اگر وہ اس ذریعہ کو اختیار کر کے جوشِ طبع کو ٹھنڈا کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بشرطیکہ اس معاملہ میں حد سے تجاوز نہ کرے اور اس کا عادی نہ بن جائے۔ لیکن اس سے بہتر طریقہ وہ ہے جس کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جو نوجوان مسلمان نکاح نہ کر سکتا ہو وہ بکثرت روزے رکھے کہ روزہ قوت ارادی کی پرورش کرتا ہے، صبر کی تعلیم دیتا ہے، تقویٰ کی صلاحیت اور اللہ کی نگرانی کا تصور ذہن میں پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء
اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ شادی کرے کیونکہ یہ نظروں کو نیچا رکھنے کا اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ لیکن جو شخص نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو اسے روزہ رکھنا چاہیے کہ روزہ شہوت کو توڑ دیتا ہے۔
بخارى كتاب النكاح باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم من استطاع منكم الباءة ح : 5065 ، مسلم كتاب النكاح باب استحباب النكاح ح : 1400