ظالم کو روکنے، فتنوں میں پناہ اور بادشاہوں کی چوکھٹ پر جانے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

ظالم كو ظلم سے روكنے كے احكامات

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انصر أخاك ظالما أو مظلوما
”اپنے بھائی کی مدد کرو، ظالم ہو یا مظلوم۔“
ایک آدمی نے عرض کیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جب وہ مظلوم ہوگا تو میں اس کی مدد کروں گا، مجھے بتائیں کہ جب وہ ظالم ہو تو میں اس کی کیسے مدد کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تحجزه وتمنعه من الظلم فإن ذلك نصره
”تمہارا اسے ظلم سے باز رکھنا اور منع کرنا اس کی مدد کرنا ہے۔“
بخاري، كتاب الاكراه 6952، ترمذی، کتاب الفتن 2255۔
② سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾
”ایمان والو! تم اپنے ذمہ دار ہو، اگر تم ہدایت پر ہو تو کسی کا گمراہ ہونا تمہارے لیے مضر نہیں۔“
(سورة المائدة: 105)
حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن الناس إذا رأوا الظالم فلم يأخذوا على يديه أوشك أن يعمهم الله بعذاب منه
”جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں (اسے ظلم سے نہ روکیں) تو قریب ہے کہ اللہ اپنی طرف سے انہیں عمومی عذاب سے دوچار کر دے۔“
ابوداؤد، کتاب الملاحم 4338، ترمذی، کتاب الفتن 2168۔

فتنوں میں ٹھکانا اور جائے پناہ حاصل کرنے کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ستكون فتن القاعد فيها خير من القائم، والقائم خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، من يشرف لها تستشرفه، ومن وجد ملجأ أو معاذا فليعذ به
”عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو شخص دور سے بھی انہیں جھانکے گا وہ اسے بھی سمیٹ لے گا، پس جو شخص ان حالات میں کوئی ٹھکانا یا جائے پناہ پائے اس سے پناہ حاصل کرلے۔“
بخاری، کتاب الفتن 7081، مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعة 2886/10۔

بادشاہوں کی چوکھٹ پر جانے کی ممانعت

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سكن البادية جفا، ومن اتبع الصيد غفل، ومن أتى أبواب السلاطين افتتن
”جس نے جنگل میں سکونت اختیار کی اس کا دل سخت ہو گیا، جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہو گیا، اور جو بادشاہوں کی چوکھٹ پر گیا تو وہ فتنوں سے دوچار ہو گیا۔“
ابوداؤد، کتاب الصيد 2859، ترمذی، کتاب الفتن 2256، نسائي، الصيد والذبائح 172/7۔