کیا بقیہ کے پاس بحیر کی کتاب تھی؟ شیخ زبیر علی زئیؒ کی ”پوری تفصیلات“ پر ایک نظر

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

جواب نمبر تین یہ دیا گیا ہے کہ بقیہ کی بحیر سے عن والی روایت بھی صحیح اور سماع پر محمول ہوتی ہے اگرچہ وہ سماع کی صراحت نہ کرے، کیوں کہ بقیہ کے پاس اپنے استاد بحیر کی کتاب تھی اور وہ اس کتاب سے روایت کرتا تھا، لہٰذا سماع کی تصریح کی ضرورت ہی نہیں۔ لیکن مرزا صاحب نے اتنا بڑا دعویٰ تو کر دیا ہے اور یہ بات بار بار دہرا کر رعب ڈال رہے ہیں لیکن دلیل کیا دی ہے؟ یقین کیجیے صرف باتیں ہی گھمائی ہیں دلیل کا تو نام و نشان نہیں۔ ویسے تو آپ بابی نہیں علمی کتابی ہیں جبکہ ایک علمی کتابی کا طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعوے پر دلیل پیش کرتا ہے نہ کہ کسی عالم کا قول، ورنہ تو وہ علمی کتابی ہے ہی نہیں بلکہ بابی اور مقلد ہے۔ تو یہاں پر مرزا صاحب کی ساری گفتگو کا مدار شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی ایک بے دلیل عبارت ہے، مرزا صاحب شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے متعلق کہتے ہیں کہ فضائل صحابہ کتاب میں زبیر صاحب نے یہ روایت بھی نقل کی ہے، اور اس کے متعلق لکھا ہے ”سندہ حسن“ آگے شیخ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ ”یہ جو روایت ہے بقیہ بن ولید عن بحیر بن سعد یہ محمول ہوتی ہے سماع کی تصریح پر اگرچہ یہ راوی عن سے بھی روایت کرے تب بھی یہ روایت سماع کی تصریح پر محمول ہوتی ہے، اس لیے کہ جو بقیہ تھا وہ بحیر کی کتاب سے روایت کرتا تھا“۔ لہٰذا سماع کی تصریح کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
لیکن اس دعوے پر کوئی دلیل نہ تو جناب زبیر صاحب نے دی ہے نہ ہی انجینئر صاحب نے، اور بلا دلیل دعوے کی علم کے میدان میں رتی برابر بھی حیثیت نہیں ہوتی اگرچہ وہ دعویٰ کرنے والا کوئی بھی ہو، اور پھر یہ بات محدثین کے اقوال کے خلاف ہے۔ اس کے بعد انجینئر صاحب شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی اسی عبارت کا بقیہ حصہ پڑھتے ہوئے فرماتے ہیں: پھر شیخ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ ”میری کتاب الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین دیکھیں اس کے صفحہ نمبر 69 پر میں نے بقیہ کے متعلق پوری تفصیلات لکھی ہوئی ہیں“۔ اس کے بعد انجینئر صاحب پنجابی میں فرماتے ہیں کہ شیخ زبیر صاحب تو اس روایت کو گھر تک پہنچا کر گئے ہیں!
یہ الفاظ کہ ”میں نے وہاں بقیہ کے متعلق پوری تفصیلات لکھی ہوئی ہیں“ شیخ زبیر صاحب نے تو نہیں کہے، خیر اگر مرزا صاحب نے ”پوری تفصیلات“ کہا ہی ہے تو آئیے دیکھتے ہیں کہ وہاں کون سی پوری تفصیلات لکھی ہوئی ہیں۔ اب مرزا صاحب وہ پوری تفصیلات والی عبارت ”الفتح المبین“ سے پڑھتے ہیں کہ وہاں زبیر صاحب نے بقیہ کے متعلق لکھا ہے:

”کہ امام نسائی بھی اسے ثقہ مانتے ہیں 197 ہجری میں وہ فوت ہوا ہے اور وہ حسن الحدیث صدوق راوی ہے [اگر وہ سماع کی تصریح کر دے]، اس سے تدلیس تسویہ ثابت نہیں ہے، اور اس کی تفصیل کے لیے آپ شیخ البانی کا جو احادیث ضعیفہ ہے اس کو آپ دیکھ لیں………… اور روایت جو ہے بقیہ عن بحیر ابن سعد صحیح ہوتی ہے۔“

لیں جی! یہ ہیں وہ پوری تفصیلات! انجینئر صاحب! آپ سے انتہائی سنجیدہ گزارش ہے کہ یہ کام چھوڑ دیں اور لوگوں کو یوٹیوب پر لطیفے سنایا کریں، آپ کافی اچھا ہنسا لیتے ہیں۔
دلیل اور حوالوں کا ذکر تو دور کی بات یہاں تو لفظ ”کتاب“ تک استعمال نہیں ہوا، لیکن یہ مرزا صاحب اور ان کے اندھے بہرے مقلدین کے لیے پوری تفصیلات ہیں، اور وہ اس پر بالکل مطمئن بیٹھے ہیں۔
اس کے جواب سے پہلے ہم مرزا صاحب کی دھوکے بازی واضح کر دیں کہ جو مرزا صاحب یہاں اس ویڈیو میں ہم پر الزام لگا رہے ہیں کہ ہم شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت بڑا جھوٹ اور بہتان ہے! زبیر صاحب کے نام پر دھوکے ہم نہیں آپ دے رہے ہیں جناب، جس کتاب ”فضائل صحابہ“ سے مرزا صاحب نے زبیر صاحب کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہماری اس (سنن ابو داود والی) روایت کو حسن کہا ہے، اور جس بنیاد پر کہا ہے وہ پوری تفصیلات آپ کے سامنے ہیں! لیکن کیا اسی کتاب میں آپ کو یہ باب: ”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت“ نظر آیا؟ اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل پر احادیث نظر آئیں؟ اور ان فضائل کو جناب زبیر صاحب نے جو حسن اور صحیح قرار دیا ہے وہ سب نظر آیا؟ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جو اقوال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق اور شان میں منقول ہیں دیکھے؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایک وتر پڑھنے کے سلسلے میں صحیح بخاری کی روایت کے خلاف جو آپ شرح معانی الآثار کی ایک ضعیف روایت جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پیش کرتے ہیں اور وہاں شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، نظر آیا؟ اسی باب کے آخر پر ایک عبارت کہ: ”صحابہ کرام کے درمیان اجتہادی وجوہ سے جو جنگیں ہوئیں ان پر سکوت اختیار کرنا چاہیے۔ امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو [برا کہتا ہے] تو اس کے اسلام پر تہمت لگاؤ“ یہ سب دکھائی دیا؟ یہ سب تو آپ جناب زبیر صاحب کے نام پر بیان نہیں کرتے بلکہ پوری بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ دن رات ان تمام باتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر تمام صحابہ کرام کے متعلق شیخ زبیر صاحب کی نصیحت اور آپ رحمہ اللہ کے منہج پر کون عمل پیرا ہے؟ اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے کہ زبیر صاحب کے نام پر دھوکہ ہم دے رہے ہیں یا مرزا انجینئر صاحب؟
اگر اس سلسلے میں ہم انہیں غلط کہہ رہے ہیں تو ہم خود سے کچھ نہیں کہہ رہے بلکہ انہی کی سیرت، تعلیمات اور نصیحت پر عمل پیرا ہیں کہ غلطی ہر کسی سے ہو جاتی ہے، بعض اوقات کسی سے دلائل مخفی بھی رہ سکتے ہیں، لہٰذا چاہے کوئی بھی ہو علمی میدان میں دلائل کی بنیاد پر کسی سے اختلاف رائے ہو سکتا ہے، اور کسی کی غلط بات کو مسترد کیا جا سکتا ہے بلکہ کیا جانا چاہیے۔ پھر مزید عرض ہے کہ خود جناب زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا ایک قول بھی یہی ہے کہ بقیہ عن بحیر والی روایت ضعیف ہے اور انہوں نے بقیہ کو تدلیس تسویہ کا مرتکب بھی قرار دیا ہے۔

شیخ زبیر صاحب کی پوری تفصیلات پر ایک نظر:

عرض ہے کہ مرزا صاحب نے باوجود علمی کتابی ہونے کے اپنے دعوے پر کوئی ایک دلیل نہیں دی ہے، اور اس کے لیے آپ نے صرف اور صرف شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے، تو ہم سب سے پہلے اس کا رد خود جناب زبیر صاحب رحمہ اللہ ہی کے قلم سے کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ سنن ابو داود کی تخریج میں حدیث نمبر-2515- جو بقیہ حدثنی بحیر عن خالد بن معدان ہی کی سند سے ہے کے متعلق لکھتے ہیں:
[اسناده ضعيف] اخرجه النسائي…… من حديث بقية به، وهو يدلس تدليس التسوية، ولم أجد تصريح سماعه المسلسل……۔
”اس کی سند ضعیف ہے، اسے امام نسائی نے بھی بقیہ کے طریق سے روایت کیا ہے، اور وہ تدلیس تسویہ کرتا تھا، میں نے (اس روایت میں) اس کا سماع بالمسلسل نہیں پایا۔“
یہاں زبیر صاحب خود بقیہ کو تدلیس تسویہ کا مرتکب قرار دے رہے ہیں، اور اس کے اپنے استاد سے سماع کی تصریح کر دینے کے بعد بھی (باقی سند میں) سماع کی صراحت کی نفی کر رہے ہیں اور اسی بنا پر اس روایت کو ضعیف قرار دے رہے ہیں۔ یعنی اس بات کا بھی رد ہو رہا ہے کہ بقیہ کے پاس بحیر کی کتاب تھی اور اس کی بحیر سے روایت سماع پر محمول ہو کر صحیح ہوتی ہے۔ اب شیخ زبیر رحمہ اللہ کی یہ عبارت دلائل اور محدثین کے اقوال کے موافق ہے لہٰذا ترجیح اسی کو ہو گی جبکہ جو عبارت اس کے خلاف ہے اس کی خود زبیر صاحب نے کوئی دلیل پیش نہیں کی اور نہ ہی مرزا صاحب نے۔ لیکن مرزا صاحب اس صحیح قول کو چھپا کر ایک بے دلیل قول کی مشہوری کرا رہے ہیں تو بتائیں زبیر صاحب کے نام پر دھوکہ کون دے رہا ہے؟ یہاں مرزا صاحب بالکل واضح طور پر دھوکے باز اور دوغلے ثابت ہوتے ہیں۔ اسی زیر بحث ویڈیو کے شروع پر کہا کہ حق تو بیان ہی صرف ہمارے پلیٹ فارم سے ہو رہا ہے، اور کہیں سے اس کی مثال دینا ناممکن ہے۔ حالانکہ ان کا دلائل اور حق گوئی کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے، صرف اپنی منشا کے مطابق چیزیں بیان کرنے کو یہ حق گوئی کا نام دیتے ہیں۔ اور صرف کسی کی ایسی غلطی کو پکڑتے ہیں جو ان کے حق میں ہو اور اسے اچھالنے لگتے ہیں، اگر اسی عالم کا قول اس کے خلاف ہو تو اس سے بھی ان کو کوئی سروکار نہیں۔ دوسروں کو بابی بابی اور مقلد کہہ کر طعنے دیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر خود بھی بابی اور مقلد بن جاتے ہیں اور یہ تقلید کی بدترین قسم ہے۔
شیخ زبیر صاحب کے اُس قول کو اگر غلط کہا جا رہا ہے تو یہ انہی کے دوسرے قول کی بنیاد پر ہے جو کہ دلائل کے موافق ہے، اور پھر آپ خود ”الفتح المبین“ میں بقیہ کے حوالے سے لکھ چکے (جو عبارت مرزا صاحب نے بیان بھی کی ہے) ”اور وہ حسن الحدیث صدوق راوی ہے اگر وہ سماع کی تصریح کر دے“ وہاں ہم نے ان الفاظ کی طرف توجہ دلانے کے لیے انہیں بریکٹ میں لکھا ہے، کہ یہاں اس کے حسن الحدیث ہونے کی شرط یہ لگائی جا رہی ہے کہ اگر وہ سماع کی تصریح کر دے، تو پھر اس کی روایت قبول ہو گی ورنہ نہیں۔ لیکن پھر آپ ہی سے سننے کو ملتا ہے کہ بقیہ اگر بحیر سے سماع کی صراحت نہ بھی کرے تو روایت صحیح ہو گی۔ اب اس عمومی حکم سے بقیہ عن بحیر کو خارج کرنے کے لیے کوئی دلیل بھی تو ہونی چاہیے نا! وہ دلیل کیا ہے؟ مرزا صاحب نے شیخ زبیر رحمہ اللہ کی کتاب ”الفتح المبین“ کے حوالے سے جو کچھ پڑھا اس میں ان کے مدعے کے مطابق کوئی دلیل تو نہیں، لیکن اس صفحے پر موجود ایک عبارت ہے کہ جس کا ذکر مرزا صاحب نے نہیں کیا، اور اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ سب عربی میں ہے اور اس کا ترجمہ انہیں کہیں سے ملا نہیں، اور خود یہ ترجمہ کرنے کے قابل نہیں! بہرحال شیخ زبیر نے دلیل کے طور پر علامہ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ کا یہ قول ذکر کیا ہے:
بقية عن بحير صحيحة، سواء صرح بالتحديث أم لا۔
”بقیہ کی بحیر سے روایت صحیح ہے، اگرچہ بقیہ سماع کی تصریح کرے یا نہ کرے۔“ (تعلیقۃ علی العلل لابن ابی حاتم:ص 157)
لیکن علامہ صاحب نے بھی اس کی کوئی دلیل پیش نہیں فرمائی، ہمیں تو جواب دینے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ خود شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے اصول وضوابط کے مطابق بھی اس قول سے مدعا ثابت نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اپنے مقالات: جلد دوم، ص 287 پر ایک روایت جو کہ اعمش عن ابی صالح کے طریق سے ہے پر جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس میں اعمش مدلس ہیں اور کسی سند میں ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں ہے………. حافظ ذہبی نے اعمش کی ابو صالح وغیرہ سے روایت کو سماع پر محمول قرار دیا ہے جو کہ دلائل کی روشنی میں غلط ہے“۔
اور وہ دلائل کون سے ہیں؟ اس سلسلے میں جناب زبیر صاحب رحمہ اللہ نے پہلے عمومی اقوال پیش کیے ہیں کہ اعمش مدلس ہے اور یہ کہ مدلس کی عن والی روایت قبول نہیں ہوتی اور پھر اس حوالے سے چند حوالے ذکر کیے کہ جس میں اعمش عن سے روایت کر رہا ہے اور محدثین نے ان روایات پر جرح کی ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اگر اعمش مدلس ہے اور اس کی معنعن روایت پر ائمہ نے جرح کی ہے تو پھر اگر اس حوالے سے بقیہ کے متعلق دلائل پیش کیے جائیں تو ایک الگ سے طویل مضمون بن جائے۔ بقیہ کی عن والی روایات کو تو بعض دفعہ موضوع (من گھڑت) تک کہہ دیا گیا ہے۔ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 456/6و142/6، المجروحین لابن حبان:202/1، الموضوعات لابن الجوزي:54/3)۔
تو اگر ان دلائل کی روشنی میں امام ذہبی کا قول نا قابل قبول ہے تو بقیہ کے متعلق بھی علامہ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ کا قول قابل قبول نہیں! اور پھر بقیہ کی تدلیس تو اعمش سے کئی گنا زیادہ مضر اور خطرناک ہے، بقیہ متروک، مجہول اور کذاب راویوں سے بھی تدلیس کیا کرتا۔ (المجروحین لابن حبان:200/1، دیوان الضعفاء للذہبی:619)
بقیہ کی روایات کے متعلق محدثین کا طے شدہ اصول ہے کہ اس کی روایت صحیح صرف اسی صورت ہو گی جب یہ حدثنا، أخبرنا یا سمعت کہہ کر روایت بیان کرے اور جہاں یہ عن سے بیان کرے تو حجت نہیں۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والذي استقر عليه الأمر من قول الأئمة أن بقية ثقة في نفسه لكنه مكثر من التدليس عن الضعفاء والمتروكين يسقطهم ويعنعن الحديث عن شيوخهم وهو قد سمع من أولئك الشيوخ كالأوزاعي وابن جريج ومالك وغيره فلا يحتج بحديثه إلا بما قال فيه حدثنا أو أخبرنا أو سمعت۔
”اور جو معاملہ ائمہ کے اقوال کی روشنی میں طے پاتا ہے وہ یہ ہے کہ بقیہ فی نفسہ تو ثقہ ہے لیکن ضعیف اور متروک راویوں سے بہت زیادہ تدلیس کرنے والا تھا اور انہیں سند سے گرا کر اپنے اساتذہ سے صیغہ عن سے روایت کرتا………… پس اس کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جائے گی الا یہ کہ جس روایت میں حدثنا یا أخبرنا یا سمعت جیسے الفاظ کہے۔“ (اللآلیء المصنوعة:238/1)
یعنی انہوں نے تمام محدثین کے اقوال کو سامنے رکھ کر یہ خلاصہ اخذ کیا ہے کہ بقیہ کی روایت صرف اسی صورت میں قابل قبول ہے کہ جب وہ سماع کی صراحت کرے (اور اگر عن کے ساتھ بیان کرے تو نہیں)۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ بقیہ کے متعلق لکھتے ہیں:
وقال غير واحد كان مدلسا، فإذا قال عن فليس بحجة۔
”اور بہت سے ائمہ نے یہ کہا ہے کہ بقیہ مدلس تھا، پس جب وہ ”عن“ کے صیغے سے روایت کرے تو حجت نہیں۔“ (میزان الاعتدال:331/1)
لہٰذا بقیہ کے متعلق اس طے شدہ اصول سے ”بقیہ عن بحیر“ کو مستثنیٰ کرنے کے لیے بہت مضبوط دلیل کی ضرورت ہے، کہ جہاں وضاحت ہو کہ آخر کیوں بقیہ عن بحیر صحیح ہے اور علامہ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ کا قول ان تمام دلائل کے مقابلے میں نہایت کمزور ہے وہ تو خود دلیل کا محتاج ہے۔ لہٰذا جو قول شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے پیش فرمایا ہے وہ خود ان کے اصول کے مطابق قابل قبول نہیں تو مرزا صاحب کا ان کا نام لے کر شور مچانا بے کار بلکہ محض دھوکا ہے۔
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ تو صرف علامہ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ کا قول پیش کیا کرتے، اور مرزا صاحب نے بھی ان کی تقلید میں مکھی پر مکھی مارتے ہوئے صرف اسی پر اکتفا کیا ہے، لیکن اس سلسلے میں الکامل فی ضعفاء الرجال:264/2، میں اشارہ موجود ہے کہ بقیہ کے پاس بحیر کی کتاب تھی۔ لیکن وہ روایت ثابت نہیں ہے، شاید اسی وجہ سے جناب زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اس کا حوالہ نہیں دیا، واللہ اعلم۔ الکامل کی اس روایت کے متعلق علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
”عرض ہے کہ یہ ثابت نہیں کہ بقیہ کے پاس بحیر بن سعد کی کوئی کتاب تھی۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی:(264/2) کے حوالے سے کہنا کہ بقیہ کے پاس بحیر بن سعد کی کتاب تھی، صحیح نہیں، کیوں کہ اس کی سند میں امام ابن عدی کے استاذ فضل بن عبداللہ بن سلیمان مجہول ہیں، کسی سے توثیق ثابت نہیں۔ (شاید) اسی بنیاد پر ابن عبدالہادی رحمہ اللہ نے یہ دعوی کیا کہ بقیہ کی بحیر بن سعد سے روایت سماع پر محمول ہے۔ جس بنیاد پر یہ کہا گیا، وہی ضعیف ہے۔ لہٰذا یہ ثابت نہیں کہ بقیہ بن ولید کے پاس بحیر کی کوئی کتاب تھی۔ بقیہ کے پاس بحیر کی کتاب نہ ہونے کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ یہ (مرزا صاحب کی پیش کردہ سنن ابوداود اور مسند احمد کی) روایت مختلف الفاظ سے مروی ہے، اگر روایت کتاب سے ہو تو الفاظ میں اختلاف نہیں ہوتا۔“ (دفاع صحابہ: 586)