رات میں قربانی کرنا کیسا ہے؟قران و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

رات کے وقت ذبح کرنا

مذکورہ بالا چار دنوں میں نماز عید اور خطبہ عید کے بعد سے لے کر آخری دن غروب آفتاب تک، جب بھی چاہے، ذبح کر سکتا ہے۔ بعض علمائے امت نے ان دنوں کی راتوں میں ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس بارے میں درج ذیل دو دلیلیں پیش کی ہیں:
➊ سورۃ الحج میں ہے: ﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾
اور ہم نے جو پالتو چار پائے ان کے لیے مہیا کر دیے ہیں، ان کی قربانی کرتے ہوئے مقررہ دنوں میں اللہ تعالیٰ کا نام لیں۔
(22-الحج:28)
اس آیت کریمہ سے ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقررہ دنوں میں قربانی کا ذکر فرمایا ہے، ان کی راتوں میں نہیں۔
ملاحظہ ہو: المغني 387/13.
➋ حدیث شریف میں ہے کہ:
”نهى النبى صلى الله عليه وسلم عن الذبح بالليل“
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو ذبح کرنے سے منع فرمایا۔“
ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد، کتاب الأضاحي، باب النهي عن التضحية بالليل، 23/4 .
لیکن ان دونوں دلیلوں سے استدلال ۔۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔۔۔ درست نہیں، کیونکہ:
● آیت کریمہ سے یہ مقصود نہیں کہ دن کو ہی ذبح کرو اور رات کو ذبح نہ کرو، بلکہ مراد یہ ہے کہ ان متعین دنوں میں بشمول ان کی راتوں کے ذبح کرو۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ اگر کوئی شخص اس بات پر قسم کھائے کہ ”میں فلاں شخص سے تین دن گفتگو نہیں کروں گا“ تو اس سے مقصود یہ تو نہیں ہوتا کہ وہ دن کے اجالے میں تو گفتگو نہیں کرے گا اور رات کی تاریکی میں کرے گا، بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ وہ ان تین دنوں میں ان کی راتوں سمیت اس شخص سے گفتگو نہیں کرے گا۔
ملاحظہ ہو: المحلى 48/8
● جہاں تک حدیث سے استدلال کا تعلق ہے، اگر یہ حدیث ثابت ہوتی تو اس بارے میں حرف آخر تھی لیکن یہ حدیث بالکل ثابت نہیں۔
حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے : اسے طبرانی نے [المعجم] الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس میں سلیمان بن ابی سلمہ جنابزی ہے اور وہ متروک ہے۔ (مجمع الزوائد (23/4) اور (متروک) اس راوی کو کہتے ہیں، جس کا عام گفتگو میں جھوٹ بولنا ثابت ہو اور ایسے راوی کی بیان کردہ روایت مردود ہوتی ہے۔ (ملاحظہ ہو: التلخيص الحبير 142/4 ؛ والمحلى 48/8).
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نماز عید اور خطبہ عید کے بعد سے لے کر چوتھے دن غروب آفتاب تک، کسی وقت بھی قربانی کے جانوروں کا ذبح کرنا درست ہے۔

تنبیہ:

محتاجوں اور مسکینوں کو گوشت سے محروم کرنے کی خاطر رات کو ذبح کرنا ناپسندیدہ حرکت ہے۔