دعا صرف اللہ رب العزت سے: قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دعا مجھ سے مانگو:

[وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ]

اور تمھارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (ف:127) بے شک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہو کر۔[المؤمن:60]

(فائدہ:127) کے تحت لکھا ہے حدیث شریف میں ہے کہ دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اور قرآن کریم میں دعا بمعنی عبادت بہت جگہ وارد ہے۔ حدیث شریف میں ہے: [الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ] دعا عبادت ہے۔

[أبو داؤد:1479]،[ ترمذی:2969]

اس تقدیر پر آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ تم میری عبادت کرو میں تمھیں ثواب دوں گا۔ [ترجمہ احمد رضا خاں صاحب و تفسیر مراد آبادی] یہاں دعا اور عبادت دونوں صحیح ترجمے کیے۔ نیز دیکھیے: [الأعراف:56،55] از احمد رضا خان صاحب۔ [فائدہ:100]یہاں بھی صحیح ترجمہ دعا کیا۔ اور [الرعد: 14 تا 16][صفحہ:1107] پر لکھتےہیں: اللہ کے سوا کسی سے دعا نہ مانگی جائے ۔ اور [صفحہ:1107] پر مزید لکھتے ہیں: اللہ تعالی ہی معبود ہے۔ اور قرآن مجید سے اکیس حوالے درج ہیں۔ اور اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ ہر نفع و نقصان اللہ تعالی کے اختیار میں ہے۔ اور قرآن سے پانچ حوالے درج ہیں۔

مراد آبادی صاحب نے تفسیر میں لکھا کہ دعا سے مراد عبادت ہے اور بریلوی وشیعہ حضرات دن رات مسجدوں میں اور مسجدوں سے باہر غیراللہ کو پکار رہے ہیں۔ (یعنی) بقول مراد آبادی صاحب کے غیر اللہ کی عبادت کر رہے ہیں جو سرا سر شرک وکفر ہے۔

دعا کے لیے مزیدحوالہ جات کے لیے دیکھیے:

[البقرة:186]،[السجدہ:16]،[ النمل:62]ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ دعا صرف اللہ تعالی سے مانگو (اور یہاں احمد رضا خان نے ہر جگہ پکارنا ترجمہ کیا) اور فرمایا کہ میں تمھاری شہ رگ کے بھی قریب ہوں۔ [ق:16]اور میں ہر چیز جو زمین و آسمان میں کھلی یا چھپی ہے اور دلوں کے بھید بھی جانتا ہوں۔ [التغابن:4]،[سبا:3]،[فاطر:38]

اللہ تعالیٰ کو پکارنا اللہ تعالی کی عبادت ہے،

جیسا کہ ہم ابھی احمد رضا خان صاحب کے [قرآنی ترجمہ و مراد آبادی کی تفسیر] سے ثابت کر چکے ہیں۔ اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو ان کو تمھاری پکار کا علم نہیں۔ [فاطر:14،[الأحقاف: 6،5] اس سے پہلے ہم ثابت کر چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی پتا نہیں کہ اس وقت دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ نیز فرمایا: جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے کام نہیں نکال سکتے۔ [فاطر:14]

اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا شرک ہے۔

[الأنعام:41،40]،[العنكبوت:61 تا 66]،[الجن:20]،[المومن:74،73]

اللہ تعالی کے سوا دوسروں کو پکارنا کفر ہے۔

[الأعراف:37تا41]

غیر اللہ کی عبادت شرک ہے۔

[یونس:104 تا 107]،[الزمر:64تا67]

اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنا ان کی عبادت ہے۔

[المومن:60 تا 68]،[الأحقاف:4تا6]

دعا صرف اللہ رب العزت سے: قرآن و حدیث کی روشنی میں – Haq-Ki-Talash_page-0230

دعا صرف اللہ رب العزت سے: قرآن و حدیث کی روشنی میں – Haq-Ki-Talash_page-0231

دعا صرف اللہ رب العزت سے: قرآن و حدیث کی روشنی میں – Haq-Ki-Talash_page-0232

 

اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنا بیکار ہے،

کیونکہ وہ نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ [الأنعام:71]،[يونس:106] فرمایا:

خالص اللہ کو پکارو۔

[اعراف:29]،[مومن:66،65،14]

اور فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔

[الجن:18]،[المومنون:117]،[القصص:88]،[النمل:62]،[الشعراء: 213]،[الفرقان:77،68]

خالق کی بجائے مخلوق کو نہ پکارو۔

[النحل:20]،[الأعراف:189تا198]

یاد رہے کہ اصحاب کہف اور ان کی قوم کے درمیان بھی یہی جھگڑا تھا کہ قوم دوسروں کو پکارتی تھی۔ اور اللہ کے یہ ولی غیراللہ کو پکارنے سے انکاری تھے۔ [الكهف:14تا16]

[ہُوَ الَّذِیۡ یُسَیِّرُکُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا کُنۡتُمۡ فِی الۡفُلۡکِ ۚ وَ جَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ وَّ فَرِحُوۡا بِہَا جَآءَتۡہَا رِیۡحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَہُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ]

وہی ہے جو تمھیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے اور ان پر ہر جگہ سے موج آجاتی ہے اور وہ یقین کر لیتے ہیں کہ ان کو گھیر لیا گیا ہے، تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ہر عبادت کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں، یقینا اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔ [یونس:22]

یعنی پھر وہ دعا میں غیر اللہ کی ملاوٹ نہیں کرتے، جس طرح عام حالت میں کرتے ہیں۔ عام حالات میں وہ کہتے ہیں، کہ یہ بزرگ بھی اللہ کے بندے ہیں، انھیں بھی اللہ نے اختیارات سے نواز رکھا ہے اور انھی کے ذریعے سے ہم اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں۔  لیکن جب اس طرح شدائد میں گھر جاتے ہیں تو یہ سارے شیطانی فلسفے بھول جاتے ہیں، اور صرف اللہ تعالٰی یا درہ جاتا ہے۔ اور پھر صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ اس سے

ایک بات: تو یہ معلوم ہوئی کہ انسانی فطرت میں اللہ واحد کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیا گیا ہے، انسان ماحول سے متاثر ہو کر اس جذبے یا فطرت کو دبا دیتا ہے، لیکن مصیبت میں یہ جذبہ ابھر آتا ہے۔ اور یہ فطرت عود آتی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ توحید فطرت انسانی کی آواز اور اصل چیز ہے، جس سے انسان کو انحراف نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے انحراف فطرت سے انحراف ہے جو سرا سر گمراہی ہے۔

دوسری بات: یہ معلوم ہوئی کہ مشرکین جب اس طرح مصائب میں گھر جاتے تھے تو وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کی بجائے صرف ایک اللہ کو پکارتے تھے۔ چنانچہ سیدنا عکرمہ (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں آتا ہے کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو یہ وہاں سے فرار ہو گئے، باہر کسی جگہ جانے کے لیے کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی طوفانی ہواؤں کی زد میں آگئی۔ جس پر ملاح نے کشتی میں سوار لوگوں سے کہا کہ آج اللہ واحد سے دعا کرو، تمھیں اس طوفان سے اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ سیدنا عکرمہ رضي اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے سوچا اگر سمندر میں نجات دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو خشکی میں بھی یقینا نجات دینے والا وہی ہے۔ اور یہی بات محمد (ﷺ) کہتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے فیصلہ کر لیا اگر یہاں سے میں زندہ بچ کر نکل گیا تو مکہ واپس جا کر اسلام قبول کرلوں گا ۔ چنانچہ یہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہو گئے۔

[سنن نسائی، کتاب المحاربة (تحريم الدم)، الحكم في المرتد:4072]

اسی مفہوم کے لیے دیکھیے:

[ترجمہ مع تفسیر احمد رضا خان صاحب، (لقمان:25 تا 32)،(العنكبوت:61تا66)،(يونس:18 تا 23)،(الأنعام:41،40  ،63 تا 66)،(النحل:21،20، 53تا56)،(الروم:30تا35)،(الزمر:49، 1تا8) ان سب جگہوں پر احمد رضا خان صاحب نے پکارنا ترجمہ کیا، لیکن افسوس امت محمدیہ ﷺ کے عوام اس طرح شرک میں پھنسےہوئے ہیں، کہ شدائد و آلام میں بھی وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے فوت شدہ بزرگوں ہی کو مشکل کشا سمجھتے، اور انھی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ إنالله وإنا إليه راجعون

پکارنے کا معالمہ چونکہ بڑا اہم ہے، اس لیے اس معاملہ پر مکمل اور تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔

میرے سامنے اس وقت [المعجم المفهرس لألفاظ القرآن الکریم] ہے، یہ دار المعرفت بیروت لبنان سے چھپی ہے، اس کے مصنف کا نام محمد فواد عبد الباقی ہے، یہ کتاب عربی میں ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ قرآن مجید میں فلاں لفظ کتنی دفعہ وارد ہوا ہے اور یہ کس کس سورت اور آیت میں ہے۔ اس کے [صفحہ:326تا330]پر ،،دعو،، سے بننے والے الفاظ کی مکمل فہرست درج ہے، جس کی تفصیل کچھ یوں ہے، الفاظ کے بعد بریکٹ کے اندر وہ تعداد درج ہے، جتنی تعداد میں یہ لفظ قرآن کے اندر وارد ہوا ہے: دعا (5) دعاکم (2) دعانا (2) دعوا (6) أدعو (4) تدع (4) تدعوا (5) تدعون (17) تدعونا (2) تدعونني (3) تدعوهم(5) ندع (2) ندعوا (4) يدع (5) يدعوا (8) يدعوكم (4) يدعون (23) أدع (10) أدعوا (14) وغيرهم۔

اور اس کتاب کے [صفحہ560تا565]تک (عبد) سے بننے والے الفاظ کی مکمل فہرست درج ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے: أعبد (13) تعبدوا (7) تعبدون (23) نعبد (7) يعبد (8) يعبدون (12) أعبدوا (21) العبد (10) العباد (20) عبادك (7) عبادنا (12) عباده (34) عبادی (17) عابدون (5) عبادته (4) وغيرهم

اس سے ثابت ہوا کہ ،،دعو،، سے بنے الفاظ (جن کے معنی دعا کرنا، مانگنا، پکارنا ہیں) اور ،،عبد،، سے بنے الفاظ (جن کے معنی عبادت، ہو جایا بندگی ہیں) قطعی مختلف ہیں۔