«لا اکراہ فی الدین» کا مفہوم

Read in English
فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

11- لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کا مفہوم

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایسا دین ہے جو دلائل و براہین اور معجزات کے لحاظ سے کامل و اکمل ہونے کے ساتھ ساتھ بالکل واضح بھی ہے۔ اس کی بنیاد عقل اور بصیرت ہے۔ یہ فطرت کے عین مطابق اور ہدایت و رشد پر مبنی دین ہے۔ اس دین کو جو اختیار کرتا ہے وہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کا بھی سبب بنتا ہے۔
مذکورہ امور کی بنا پر کسی کو دین اسلام کی طرف مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی کو مجبور تو اس چیز کی خاطر کیا جاتا ہے جو حق کے خلاف ہو اور انسان کا دل اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہ ہو یا اس کے دلائل مخفی ہوں، واضح اور روشن نہ ہوں، لہٰذا دین اسلام کا انکار تو انسان تکبر اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ہی کر سکتا ہے، ورنہ اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ حق (ہدایت) اور گمراہی کھل کر سامنے آ چکے ہیں، اس لیے کسی کو کوئی عذر پیش کرنے اور قبول نہ کرنے کی صورت باقی نہیں رہی۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ ”تفسیر ابن کثیر“ میں اس آیت کی تفسیر کے تحت رقمطراز ہیں:

”دین اسلام میں داخل ہونے کے لیے کسی کو مجبور کرنے کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ اس کے دلائل و براہین روز روشن کی طرح واضح ہیں۔ جس انسان کی اللہ تعالیٰ راہنمائی فرماتے ہیں، اسے شرح صدر اور نور بصیرت سے نوازتے ہیں تو وہ پورے یقین اور وثوق کی بنا پر دین اسلام کو اختیار کر لیتا ہے اور جن کو اللہ کی طرف سے راہنمائی نصیب نہ ہو اور اس کا دل بصیرت سے خالی ہو اور اس کی آنکھیں اور کان دیکھنے اور سننے سے عاری ہوں تو ایسے انسان کو جبراً دائرہ اسلام میں داخل کرنا کسی صورت بھی فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔“

(اللجنة الدائمة: 221166)