ذبح کے وقت حاضر ہونا
جو شخص خود قربانی کا جانور ذبح نہ کرے اس کا ذبح کے وقت وہاں حاضر ہونا لازم نہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی تو گائے ذبح کرتے وقت ازواج مطہرات وہاں موجود نہیں تھیں، بلکہ انھیں قربانی کا گوشت ملنے پر اس قربانی کی اطلاع موصول ہوئی۔ (صحیح بخاری: 5548) نیز جن روایات میں قربانی کے وقت حاضر ہونے کا حکم ہے وہ روایات ضعیف و ناقابلِ حجت ہیں۔
❀ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا فاطمة: قومي إلى أضحيتك فاشهديها، فإنه يغفر لك عند أول قطرة تقطر من دمها كل ذنب عملتيه
اے فاطمہ! اپنی قربانی کی طرف اٹھو اور اس کے ذبح کے وقت حاضری دو، کیونکہ اس عمل سے اس کے پہلے قطرہ خون گرنے پر تیرے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے جو تو نے کیے ہیں۔
ضعيف جداً : مستدرك حاكم: 222/4۔ طبراني كبير : 15002۔ طبراني اوسط : 2609۔ سنن بیهقی : 283/9۔
نضر بن اسماعیل بجلی ضعیف اور ثابت بن ابی صفیہ، ابو حمزہ شمالی سخت ضعیف راوی ہیں۔
یہی روایت (مستدرک حاکم: 222/4، مسند بزار : 1202 ، سنن بیہقی : 283/9 ) میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس کی سند بھی ضعیف ہے اس میں ابو داؤد بن عبد الحمید ضعیف اور عطیه بن سعد بن جنادہ عوفی متروک راوی ہے۔ اور یہ روایت مصنف عبدالرزاق: (8128) میں زہری سے مروی ہے اور اس کی سند بھی انتہائی ضعیف ہے، اس میں عبداللہ بن محرر متروک اور زہری کا ارسال ہے۔
عید گاہ میں قربانی کا جانور ذبح کرنا
عید گاہ میں قربانی کا جانور ذبح کرنا مستحب فعل ہے، دلائل حسب ذیل ہیں:
① نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان عبد الله ينحر فى المنحر، قال عبيد الله يعني منحر النبى صلى الله عليه وسلم
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربانی قربان گاہ میں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربان گاہ (عید گاہ) میں ذبح کرتے تھے۔
صحيح بخاري، كتاب الأضاحي، باب الأضحى والنحر بالمصلى: 5551۔ سنن بیهقی: 240/5۔
② سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذبح وينحر بالمصلى
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں (قربانی کا جانور) ذبح اور نحر کرتے تھے۔
صحيح بخاري، كتاب الأضاحي، باب الأضحى والنحر بالمصلى:5552 ۔ سنن أبی داؤد، کتاب الضحايا، باب الإمام يذبح بالمصلى: 4371۔ سنن ابن ماجه، كتاب الأضاحي باب الذبح بالمصلى: 3161۔
(یہ احادیث دلیل ہیں کہ) عید گاہ میں قربانی کا جانور ذبح اور نحر کرنا مستحب ہے اور عید گاہ میں قربانی کا جانور ذبح کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ذبح کا عمل فقراء کے سامنے ہو اور وہ قربانی کا گوشت حاصل کر سکیں۔
نيل الأوطار : 129/5۔