کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے؟
ویسے تو قرآن مجید میں اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت میں جتنی بھی آیات مروی ہیں، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے عموم میں داخل ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾
”اور مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں پہل کرنے والے اور سبقت لے جانے والے (یعنی سینئر صحابہ) اور پھر ان پہل کرنے والوں کی جنہوں نے اچھے طریقے سے پیروی کی (یعنی جونیئر صحابہ) ، دونوں سے اللہ راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ اور اللہ نے ان سب کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں کہ جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں اور وہ ان باغات میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔“
(التوبة:100)
ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾
”تم میں سے وہ لوگ کہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد و قتال کیا اور اللہ کے راستے میں انفاق کیا تو وہ ان کے برابر نہیں ہیں کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد جہاد و قتال کیا اور اللہ کے راستے میں انفاق کیا۔ اور جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد و قتال کیا اور اللہ کے راستے میں انفاق کیا تو وہ ان سے درجے میں افضل ہیں کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد جہاد و قتال کیا اور اللہ کے راستے میں انفاق کیا۔ البتہ اللہ نے دونوں سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔“
(الحديد: 10)
تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد و قتال بھی کیا اور انفاق بھی کیا کیونکہ طائف اور حنین کی جنگوں میں آپ مسلمانوں کی طرف سے شریک تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں آپ کو شام کا گورنر لگایا تھا اور آپ کے ہاتھوں بہت سے علاقے فتح ہوئے۔ لہذا آپ کی فضیلت تو قرآن مجید کے عموم سے ثابت ہوئی لیکن آپ کی فضیلت میں متعین احادیث بھی وارد ہیں کہ جن میں سے تین احادیث کافی معروف ہیں اور ان میں سے دو کا ذکر ہم ذیل میں کر رہے ہیں جبکہ تیسری کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔
①ہادی و مہدی ہونے کی دعا:
مرزا صاحب اپنی ایک تحریر ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ کے تیسرے باب میں لکھتے ہیں: ”صحابیت کے سوا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نقل نہیں ہوئی ہے۔“
( واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر : 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، ص 27)
مرزا صاحب سے پہلے بعض شیعہ اسکالرز بھی اپنی بعض تحریروں میں کچھ ایسی ہی فکر پیش کر چکے ہیں لیکن یہ دعویٰ درست نہیں ہے جیسا کہ سنن الترمذی کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا:
اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به
”اے اللہ! انہیں ہادی بھی بنا اور مہدی بھی، اور ان کے ذریعے خلقِ خدا کو ہدایت دے۔“
(الترمذي، محمد بن عيسى بن سؤرة، سنن الترمذي ، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَابُ مَنَاقِبِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، 1975م، 687/5 )
ہادی ہدایت کا راستہ دکھانے والا اور مہدی سے مراد وہ شخص ہے کہ جسے ہدایت کا راستہ دکھایا گیا ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اس روایت کو اپنی کتاب ”التاریخ الکبیر“ میں لے کر آئے ہیں۔ (البخاري، محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة التاريخ الكبير دائرة المعارف العثمانية، حيدر آباد، 240/5 ) امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”حسن“ کہا ہے۔ (سنن الترمذي ، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَابُ مَنَاقِبِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، 687/5 ) علامہ الجورقانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ روایت ”حسن“ ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی سند ”قوی“ ہے اور ایک سے زائد طرق سے مروی ہے۔ (الذهبي، محمد بن أحمد بن عثمان تلخيص العلل المتناهية، المحقق ياسر إبراهيم محمد، مكتبة الرشد، الرياض، الطبعة الأولى، 1419هـ، ص 53 ) ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت ”حسن“ ہے۔ (أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تخريج مشكاة المصابيح ، المحقق: علي بن حسن بن عبد الحميد الحلبي، دار ابن القيم الدمام، الطبعة الأولى، 1422هـ، 486/5 ) ابن حجر الہیثمی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو ”حسن“کہا ہے (أحمد بن محمد بن علي بن حجر الہيتمي الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة، مؤسسة الرسالة، لبنان، الطبعة الأولى، 1997م، 626/2 ) اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح “ کہا ہے۔ (سنن الترمذي، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَابُ مَنَاقِبِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، 687/5 )
②کتاب کے علم اور عذاب سے بچنے کی دعا:
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے مروی دوسری روایت المعجم الکبیر للطبرانی اور مسند احمد وغیرہ کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللهم علم معاوية الكتاب والحساب وقه العذاب
”اے اللہ! معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب اور حساب (فرائض) کا علم سکھا اور انہیں عذاب سے بچا۔“
(مسند الإمام أحمد بن حنبل: 383/28؛ الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب، المعجم الكبير، دار الصميعي، الرياض، الطبعة الأولى، 1994 م، 251/18 )
ابن خزیمہ (ابن خزيمة، أبو بكر محمد بن إسحاق، صحيح ابن خزيمة، المكتب الإسلامي، بيروت، 214/3) اور ابن حبان نے اس روایت کو ”صحیح “کہا ہے۔ (محمد بن حبان بن أحمد بن حبان، صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الثانية، 1993 م، 191/16 ) علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”صحیح لغیرہ“ کہا ہے۔ (أيضاً ) اگرچہ بعض اہل علم نے اس روایت کی استنادی حیثیت پر کچھ اعتراضات کیے ہیں لیکن محققِ عصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے ان اعتراضات کا کافی و شافی جواب اپنی تحریروں میں دیا ہے۔
(الألباني، محمد ناصر الدين، سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، 2002م، 88/7-94)
تو خلاصہ کلام یہی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور منقبت ایک سے زائد صحیح روایات سے ثابت ہے اور یہ بیان درست نہیں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ البتہ مرزا صاحب نے اپنے کتابچے میں امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی ایک روایت بھی صحیح ثابت نہیں ہے۔
تو پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قول ہی ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کب سے ”بابی“ یعنی بابوں کو ماننے والے ہو گئے! ان کا تو نعرہ ہی یہی ہے: ”نہ میں وہابی نہ میں بابی، میں ہوں مسلم علمی کتابی“۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرزا صاحب سے بڑھ کر کوئی ”بابی“ نہیں ہے۔
باقیوں کے ہاں تو پھر ”بابوں“ کو نقل کرنے کا کوئی ضابطہ ہے جو انہوں نے بنا رکھا ہے لیکن مرزا صاحب کے ہاں تو وہ بھی نہیں ہے۔ مرزا صاحب جب چاہتے ہیں، اپنے مقصد کے لیے بابوں کو نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اس کتابچے میں اپنے موقف کی دلیل کے طور پر بابوں کے بیسیوں اقوال جمع کر دیے ہیں۔ اور جب چاہتے ہیں، بابوں پر نقد شروع کر دیتے ہیں جبکہ وہ ان کے موقف کے خلاف ہوں۔
مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں ”بابوں“ کو اس لیے نقل کرتا ہوں کہ یہ لوگ ”بابوں“ کو مانتے ہیں۔ تو بھئی، پھر یہاں بھی علامہ البانی رحمہ اللہ کو نقل کرو ناں اپنے کتابچے میں کہ وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی روایات کو ”صحیح“ کہہ رہے ہیں۔ کیا وہ لوگ جن کے لیے آپ بابوں کو نقل کرتے ہیں، یہاں علامہ البانی رحمہ اللہ کو نہیں مانتے؟
تو اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا صاحب اپنی تحقیق میں ”خائن“ ہیں، حق بات کو چھپاتے ہیں، تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہر منفی بات، جہاں سے انہیں ملی، بھلے تاریخ کی کتابوں سے، بھلے بابوں کے اقوال سے، اپنے کتابچے میں جمع کر دی ہے جبکہ ان کے بارے میں ہر مثبت بات چھپا لی ہے، بھلے حدیث کی کتابوں میں موجود ہو۔ تو اسے غیر جانبدارانہ تحقیق کہتے ہیں! یہ تو پرلے درجے کی خیانت پر مبنی تحقیق ہے۔ رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل، تو وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہیں، اپنے مناقب میں بھی اور درجات میں بھی، اور یہ سب صحیح روایات سے ثابت ہے۔