کیا امیر معاویہؓ (نعوذباللہ) بدعت کی ترویج کرنے والے تھے؟
مرزا صاحب نے اپنے کتابچے ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ میں جا بجا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سنت کو ختم کر کے اپنی بدعات کو رواج دینے کے لیے کوشاں تھے۔ مرزا صاحب اپنے اس کتابچے کے تیسرے باب میں، حدیث نمبر 29 اور 30 کے تحت دو حدیثیں بیان کرتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فطرانہ ایک صاع نکالا کرتے تھے یہاں تک کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے کہا:
”میں سمجھتا ہوں کہ شامی گندم کے 2 مد (نصف صاع)، ایک صاع کھجور کے برابر ہیں۔ چنانچہ لوگوں نے بھی اسی پر عمل شروع کر دیا تو سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں تو زندگی بھر اسی طرح نکالتا رہوں گا جیسا کہ میں نکالتا رہا ہوں۔“
( محمد علی مرزا، واقعہ کر بلا کا حقیقی پس منظر : 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، ص 14)
اس روایت کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے بھی مرزا صاحب نے بریکٹس میں ایسے اضافے کیے ہیں کہ جن سے یہ تاثر دیا کہ لوگ سنت کو چھوڑ کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کرتے تھے حالانکہ عربی متن میں ایسے کچھ الفاظ نقل نہیں ہوئے ہیں جیسا کہ ”رائے اور اجتہاد“ اور ”سنت کے مطابق فطرانہ ایک صاع ہی“ کے الفاظ عربی متن میں نہیں ہیں جبکہ مرزا صاحب نے بریکٹس لگا کر ان کا حدیث میں اضافہ کیا ہے۔ قَالَ: «إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ، تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ» فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أَخْرِجُهُ كَمَا كُنتُ أَخْرِجُهُ، أَبَدًا مَا عِشتُ» (صحيح مسلم، كِتَابِ الزَّكَاةِ، بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، 678/2) اور پھر رائے اور اجتہاد کو ایک ساتھ بریکٹ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے اجتہاد، سنت کے خلاف رائے رکھنے کا دوسرا نام ہے۔
بہر حال امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ طرز عمل سنت کی مخالفت نہیں بلکہ سنت کا معنی متعین کرنے کے لیے ایک اجتہاد ہے جو انہوں نے کیا جیسا کہ بہت سے فقہا اور ائمہ، سنت کا معنی متعین کرنے کے لیے اجتہاد کرتے ہیں اور بعض دوسرے علما جو سنت کے ظاہر معنی کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں تو وہ انہیں بعض اوقات سنت کو ترک کرنے کا طعنہ بھی دے دیتے ہیں جبکہ امر واقعہ میں ایسا نہیں ہوتا کہ انہوں نے سنت کو ترک کیا ہو بلکہ وہ سنت کا ایک گہرا مفہوم متعین کر کے اس کی پیروی کی دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔
تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کو اس طرح سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کے نزدیک فطرانے میں اصل پیمانہ نہیں بلکہ قیمت ہے۔ مدینہ میں کھجور عام تھی لہذا سستی تھی جبکہ گندم کم تھی لہذا مہنگی تھی اور شامی گندم تو ویسے ہی نایاب شے تھی۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری نظر میں اگر کوئی شخص شامی گندم کا نصف صاع بھی ادا کر دے تو وہ چونکہ قیمت میں مدینہ کی کھجور کے ایک صاع کے برابر ہے لہذا فطرانہ ادا ہو جائے گا کیونکہ قیمت اصل ہے نہ کہ پیمانہ۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اسی رائے کی وجہ سے یہ فتویٰ دیا کہ صدقہ فطر میں قیمت دینا جائز ہے۔ (النووي، يحيى بن شرف المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة الثانية، 1392هـ، 61/7 ) اور ہماری نظر میں یہی موقف راجح ہے کہ صدقہ فطر میں قیمت دی جا سکتی ہے، کھجور دینا ہی ضروری نہیں ہے۔ اور قدیم زمانے میں چونکہ بارٹر سسٹم رائج تھا لہذا درہم و دینار کے علاوہ ایک جنس بھی دوسری جنس کی قیمت بن جاتی تھی اور اس طرح سے بھی خرید و فروخت ہوتی تھی کہ ایک جنس کے بدلے دوسری جنس بطور قیمت ادا کر دی جائے۔
دوسری توجیہ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر پیمانے کو اصل بنایا جائے تو یہاں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجازی اور شامی صاع کے فرق کا لحاظ کیا ہے کہ شامی صاع حجازی صاع سے بڑا تھا تو کہا کہ اس کا نصف بھی، حجازی صاع کے مقابلے میں کفایت کرے گا۔ لہذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ حدیث میں جس صاع کا حکم ہے تو وہ مدینہ کا صاع ہے نہ کہ کسی دوسرے علاقے کا۔ اور اگر کسی دوسرے علاقے کا صاع مدینہ کے صاع سے مقدار میں بڑا ہو گا مثلاً دوگنا ہو تو اس صاع کا نصف بھی نکالا جا سکتا ہے کیونکہ وہ نصف صاع مقدار میں مدینہ کے مکمل صاع کے برابر ہو گا۔
دوسری روایت بھی صحیح مسلم کی ہے کہ جس کے مطابق عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو بعض مہمات میں چاندی کے برتن حاصل ہوئے تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان برتنوں کو لوگوں یعنی سپاہیوں کی تنخواہوں کے عوض فروخت کر دیا جائے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی مخالفت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو سونے، چاندی کو چاندی، گندم کو گندم، جو کو جو، کھجور کو کھجور اور نمک کو نمک کے بدلے برابر برابر لینے دینے کا حکم دیا ہے اور کمی بیشی سے منع کیا ہے اور کمی بیشی کو سود قرار دیا ہے۔
(صحيح مسلم، كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ، بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا، 1210/3)
اصل میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذمہ سپاہیوں کی تنخواہیں تھیں۔ اور تنخواہ درہم کی صورت ادا ہوتی تھی جو کہ چاندی کا سکہ تھا اور اس کا ایک خاص وزن ہوتا تھا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سپاہیوں کو ان کی تنخواہ یعنی چاندی کے سکوں کے عوض، چاندی کے برتنوں کی پیشکش کی جو کہ مال غنیمت میں حاصل ہوئے تھے اور اس میں وزن کی برابری کا لحاظ نہ کیا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ چاندی کا سکہ اور چاندی کا برتن یہ دو اجناس بن جاتی ہیں کہ جن میں کمی بیشی جائز ہے اور سنت کے خلاف نہیں ہے جبکہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ یہ ایک ہی جنس ہے لہذا اس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ آج بھی سنارے خالص سونے اور زیورات کی صورت میں جو سونا ہوتا ہے، اس کی قیمت میں فرق کرتے ہیں، چاہے وزن برابر ہی کیوں نہ ہو، یعنی میکنگ، پالشنگ وغیرہ کے پیسے بھی لگائے جاتے ہیں۔ تو خالص چاندی اور چاندی کے زیورات دو اجناس ہیں لہذا ان میں کمی بیشی جائز ہے، یہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف تھا۔
تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اجتہادات سے آپ کو اختلاف ہے، ضرور اختلاف رکھیں کہ صحابہ نے خود ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے، لیکن ان کی اجتہادی آرا کو سنت کی خلاف ورزی قرار دے کر اپنے قارئین اور فالوورز کو صحابہ کے بدعتی ہونے کا تاثر نہ دیں کہ وہ سنت کے مقابلے میں اپنی رائے کی تنفیذ کرتے تھے، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔ ہمارے علما نے تو ائمہ کے بارے ایسے طعن سے منع کیا ہے کہ ان پر سنت کے ترک کرنے کا طعن کیا جائے چہ جائیکہ کہ صحابہ کے بارے ایسا کہا جائے جبکہ معقول تاویل موجود ہو۔