قرآن سے حرمتِ موسیقی پر استدلال اور اہلِ اشراق کی تنقید کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد الحق اثری کی کتاب اسلام اور موسیقی پر اشراق کے اعتراضات کا جائزہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حرمتِ موسیقی کے دلائل پر اہل اشراق کی تنقید کا جائزہ

اس حقیقت کا اعتراف تو اہل اشراق کو بھی ہے کہ ”موسیقی“ کی حرمت پر فقہائے اربعہ متفق ہیں، بلکہ ہم نے عرض کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ ”موسیقی“ حرام اور ناجائز ہے۔ کسی ایک صحابی سے بھی سندِ صحیح کے ساتھ اس کا جواز منقول نہیں، جیسا کہ قبل ازیں حافظ ابن حجر، علامہ قرطبی، حافظ ابن تیمیہ اور علامہ البانی رحمہم اللہ کے حوالہ سے ہم نقل کر چکے ہیں۔ اہل اشراق پرویزی فکر کے مطابق سلف امت سے ہٹ کر نئے اصول اور نئے استدلال سے میدان میں اترے ہیں، اس لیے سلف سے بے نیاز ہو کر بات کرنے کے عادی ہیں۔ انھوں نے اپنے مؤقر ماہنامہ کے متعدد صفحات سیاہ کیے مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام رحمہم اللہ کو اپنا ہمنوا ثابت نہیں کر سکے۔ قرآنِ پاک کی اصطلاح میں یہ طرزِ فکر [غیر سبیل المؤمنین] کا مصداق ہے۔ [أعاذ نا الله منه] بلکہ ہر دور میں بدعتی فرقوں کا یہی اندازِ استدلال رہا، انھوں نے سلف سے بے نیاز ہو کر قرآنِ مجید کو تختۂ مشق بنایا اور یوں خدمتِ قرآن کے پردے میں مرمتِ قرآن کرتے رہے۔ یہی کچھ جناب غامدی صاحب اور ان کے اصحاب کر رہے ہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ دین نے قرآنِ مجید سے حرمتِ موسیقی پر استدلال کیا، جس کی ضروری تفصیل ہم پہلے عرض کر چکے، مگر اہل اشراق کو قرآن میں یہ حکم نظر نہیں آیا، بلکہ الٹا یہ فرمایا گیا کہ قرآنِ مجید تو موسیقی یا آلاتِ موسیقی کی شناعت کے بارے میں خاموش ہے۔ (اشراق:ص31 اپریل2006ء)

اسی طرح ان کی دیدہ دلیری بلکہ غلط بیانی بھی دیکھیے، فرماتے ہیں: بائبل اور احادیث میں موسیقی کی شناعت بیان ہوئی ہے۔ یہ شناعت علی الاطلاق نہیں بلکہ بعض موقعوں پر ان کے شراب نوشی اور فواحش سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہے، الاعتصام نے پہلے دو ابواب کی طرح اس باب پر بھی کوئی نقد و تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ (ایضاً)

پہلے دو ابواب پر ہم خاموش کیوں رہے اس کی تفصیل گزر چکی ہے، لیکن کیا اشراق کی اس فکر پر تبصرہ یہاں ان کی ترتیب کے تحت نہیں کیا تو کیا اس سے بالکلیہ ہم نے خاموشی اختیار کی؟ ہم حرمتِ موسیقی کی علت اور غامدی صاحب کے جلی عنوان سے جب ان کی غلط فہمی کا ازالہ کر چکے ہیں تو اس کے باوجود یہ کہنا کہ الاعتصام نے اس بات پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا، کس قدر خلافِ واقع اور دیدہ دلیری ہے۔ شاید وہ تبصرہ اسی کو سمجھتے ہیں جو ان کی ترتیب کے مطابق ہو۔ سبحان الله

قرآن اور حرمتِ موسیقی

پہلی آیت:

سورۂ لقمان کی (آیت نمبر:6) میں بیان ہوا ہے:

لوگوں میں کچھ وہ بھی ہیں جو [لہو الحدیث] خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے علم کے بغیر بھٹکا دیں۔

اسی آیت کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: کہ آیت میں [لہو الحدیث] سے مراد غنا ہے۔ بلکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تین بار اللہ کی قسم کھا کر فرمایا: کہ اس سے غنا مراد ہے، یہی اکثر مفسرین کی رائے ہے اور فقہائے کرام نے اس آیت سے غنا کی حرمت پر استدلال کیا، جیسا کہ بحوالہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اسی ضمن میں ہم نے اشراق کے ایرادات سے تعرض کیا، اور بعض مفسرین کے کلام سے جو کچھ انھوں نے نقل کیا اور ان کے نام سے قارئینِ کرام کو دھوکا دیا اس کی ساری دلچسپ تفصیل پہلے بیان ہو چکی، جس کا کوئی معقول جواب اہل اشراق نے نہیں دیا۔ بس اپنی جبیں سے مٹی جھاڑنے کی کوشش کی، جو تحصیلِ حاصل کے زمرہ میں آتی ہے، اب دیکھیے جو کچھ ہمارے مضمون پر تبصرہ میں انھوں نے فرمایا وہ کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

ہمارا استدلال دو لفظوں میں یہ تھا کہ عربی لغت، عرفِ قرآن اور سیاقِ کلام اور مفسرین کی آرا کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو [لہو الحدیث] کا مصداق متعین طور پر غنا کو قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں۔ الخ (اشراق:ص32)

بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ ان کے ان دعاوی کا جواب ہم ”سوچ کی کجی“ کے تحت عرض کر چکے، قرآن کا سیاق، مفسرین کی آرا اور لغت پر انحصار کی وضاحت پہلے کر دی گئی۔ اس لیے ”دو لفظوں“ کا سوال محض طفل تسلی ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کی ضد کا اندازہ کیجیے کہ [لہو الحدیث] کے بارے میں حضرت مفتی محمد شفیع مرحوم کی عبارت سے جو غلط فہمی پیدا ہو سکتی تھی اس کا ازالہ کرتے ہوئے عرض کیا گیا تھا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ اس سے [الغناء وأشباهه] مراد ہے اور ایک قول میں اگر انھوں نے باطل الحدیث فرمایا ہے تو دوسری روایت میں باطل الحدیث [هو الغناء ونحوه] کے الفاظ ہیں گویا باطل الحدیث میں بھی وہ اول وہلہ میں غنا ہی مراد لیتے ہیں۔

اہلِ اشراق کی دیانت و امانت کی داد دیجیے کہ اسی عبارت میں سے درمیان کا حصہ نقل کر کے اپنے قارئین کو ہمارے حوالے سے باور کرانا چاہتے ہیں کہ خود الاعتصام نے لکھا ہے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک قول میں اس سے مراد باطل الحدیث فرمایا ہے۔ (اشراق:ص33)

مگر وہ بھولے سے یہ نہیں بتلاتے کہ الاعتصام میں اس کے متصل بعد باطل الحدیث سے مراد ان کا دوسرا قول مذکور ہے کہ وہ غنا وغیرہ ہے۔ مزید لطف کی بات یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول حضرت مفتی محمد شفیع کی عبارت کی وضاحت میں ہے، مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہماری وضاحت کے باوصف مفتی صاحب کی اسی عبارت کو ہمارے خلاف ثابت کرنے کے لئے نقل کیا جاتا ہے۔ [لا حول ولا قوة إلا بالله] حالانکہ ہم خود مفتی صاحب کے حوالے سے نقل کر آئے ہیں کہ [لہو الحدیث] سے جن حضرات نے ہر ایسا کھیل مراد لیا ہے جو اللہ سے غافل کر دے ان کے نزدیک بھی گانا بجانا اس میں شامل ہے۔ (معارف القرآن: ص25 ج7)

اس وضاحت کے باوجود مفتی صاحب کی عبارت سے [لہو الحدیث] کو عام ہی سمجھنا بڑی طفلانہ حرکت ہے۔ بعینہٖ یہی حرکت انھوں نے دیگر مفسرین کے نام سے بھی کی ہے، انھی مفسرین کے حوالے سے وہ پہلے بھی ان کا ادھورا موقف نقل کر چکے، چنانچہ امام ضحاک، قتادہ، حسن بصری کے علاوہ امام ابن جریر، علامہ زمخشری، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا مودودی رحمہم اللہ وغیرہ کی ادھوری عبارتیں ذکر کرنے میں جس ہوشیاری کا ثبوت دیا اس کی تفصیل ہمارے تفیدی مقالے میں پہلے سے موجود ہے۔ اور اب اہل اشراق نے الاعتصام میں انھی مکمل عبارتوں سے ایک ٹکڑا نقل کر کے یہ تأثر دیا ہے کہ دیکھو جی یہ معنی تو الاعتصام نے بھی نقل کیے ہیں۔ [إنا لله وإنا إليه راجعون]

ان حضرات کے نام سے جو غلط تأثر اہل اشراق نے دیا ہم اس کی تفصیل عرض کر چکے ہیں۔ بلکہ مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر کے حوالے سے بھی ان کی بے خبری پر ماتم کر چکے مگر اہل اشراق وہی باتیں بادنیٰ تصرف دہرانے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے۔

اس بحث کے آخر میں اہل اشراق نے یہ بات بھی دہرائی کہ ہم نے موسیقی کو مطلق طور پر [لہو الحدیث] کے اطلاق سے خارج قرار نہیں دیا۔ بلکہ صراحت سے لکھا ہے کہ مفسدین نے لوگوں کو قرآن سے دور کرنے اور خرافات میں مشغول کرنے کے لیے لہو ولعب کے جو ذرائع اختیار کیے ہوں گے وہ اس زمانے کے لحاظ سے ظاہر ہے کہ خطبات، کھیل تماشے، موسیقی کی محفلیں اور مشاعرے ہی ہو سکتے ہیں۔ (اشراق: ص34-62 مارچ2004ء)

حالانکہ ہم اس کے بارے میں بھی عرض کر چکے ہیں کہ خطبات اور مشاعرے کا ذکر تو بروزنِ بیت آ گیا ہے، قرآن کے مقابلے میں ان کی فصاحت و بلاغت، شعر و شاعری کو کون سنتا تھا؟ تمام تر مخالفتوں کے باوجود رؤسائے کفار راتوں کو چھپ کر رسول اللہ ﷺ سے قرآن پاک سنتے تھے۔ اس کے مقابلے میں جو لایا گیا یہی ”موسیقی کی محفلیں“ اور یہی ”کھیل تماشے“ کی مجلسیں تھیں۔ جیسا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا ہے قرآن پاک میں [يشترى لهو الحديث] ہے جس کا ترجمہ خود غامدی صاحب نے یہ کیا کہ جو [لہو الحدیث] خرید کر لاتے ہیں، ابن عباس وغیرہ اس کے معنی [شراء المغنية] گانے والیوں کو خریدنا کرتے ہیں۔ اسی کو امام ابن جریر طبری نے راجح قرار دیا ہے کہ اس سے مراد قیمتاً خریدی ہوئی چیز ہے۔ یہ سب اس بات کی برہان ہے قرآن کے مقابلے میں یہاں غنا و مغنیہ مراد ہے۔ گو اس میں وہ سب باتیں شامل ہیں جو یادِ الٰہی سے غافل کر دیں۔“ ملخصاً

مگر غور فرمایئے آپ نے کہ اہل اشراق نے اس کے بارے میں بھی خاموشی اختیار کی۔ اسی لیے ہم نے عرض کیا ہے کہ اس آیت کے حوالے سے اہل اشراق کا حالیہ دفاعی تبصرہ تحصیلِ حاصل کے زمرہ میں آتا ہے۔ اور چار صفحات پر مشتمل ان کی تحریر محض طفل تسلی ہے۔

علاوہ ازیں جب اہل اشراق تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے موسیقی کو [لہو الحدیث] کے اطلاق سے خارج نہیں کیا۔ تو اس کے بعد یہ کہنا کس حد تک درست ہے کہ قرآن مجید تو موسیقی یا آلاتِ موسیقی کی شناعت کے بارے میں خاموش ہے،آپ کی طبیعت اگر متعین طور پر لہو الحدیث سے موسیقی مراد لینے پر مطمئن نہیں تو نہ سہی، مگر آپ کے نزدیک موسیقی لہو الحدیث سے جب خارج نہیں بلکہ اس میں شامل ہے تو موسیقی کی شناعت و قباحت تو فی الجملہ قرآن مجید میں بیان ہو چکی، اس کے باوجود کہنا کہ قرآن موسیقی کی شناعت کے بارے میں خاموش ہے۔ کہاں تک مبنی بر حقیقت ہے؟

دوسری آیت

حضرات فقہائے کرام نے حرمتِ موسیقی پر سورۃ النجم کی آیت (59، 60، 61) سے بھی استدلال کیا ہے، جن میں بیان ہوا ہے کہ ”کیا تم اس کلام پر تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو، روتے نہیں ہو اور تم ”سامد“ ہو؟“

”سامد“ کے معنی غنا ہے، اہل اشراق نے بھی اعتراف کیا ہے کہ سامد کے معنی لغوی اعتبار سے غنا بھی ہیں مگر اہل اشراق فرماتے ہیں کہ سیاق سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں مغنی مراد لینا درست نہیں۔ (اشراق:ص35)

عجیب بات ہے کہ [لہو الحدیث] کے بارے میں فرمایا: گیا تھا کہ عربی لغت اور سیاقِ کلام کو ملحوظ رکھا جائے تو اس کے معنی غنا نہیں۔ مگر یہاں ”سامد“ کا لغوی ترجمہ اور معنی غنا ثابت ہوتے ہیں تو فرمایا جاتا ہے کہ سیاق سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں غنا یا مغنی مراد لینا درست نہیں۔ پہلے لغت کے سہارے انکار تھا حالانکہ سیاقِ کلام وہاں بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ لہو الحدیث کے معنی غنا ہیں۔ اور اب لغوی طور پر سامد کے معنی مغنی یا غنا ثابت ہو جاتے ہیں تو سیاقِ کلام کو بہانہ بنایا جاتا ہے۔ سبحان الله

حالانکہ سیاقِ کلام سے بھی یہاں غنا مراد لینا کوئی بعید نہیں جیسا کہ تفہیم القرآن کےحوالے سے ہم نقل کر آئے ہیں۔ بلکہ یہ سیاق سورۂ لقمان کی آیت [لہو الحدیث] کے بھی عین مطابق ہے۔ لیکن اس کے برعکس فرمایا جاتا ہے کہ بیشتر مفسرین اس سے گانے والا مراد نہیں لیتے، ہم نے عرض کیا کہ وہ بیشتر مفسرین کون ہیں؟ اس کے جواب میں (اشراق: ص24مارچ2004ء) حوالہ دیے بغیر فرمایا جاتا ہے: فلاں نے اس کے معنی تکبر، فلاں نے غافل، فلاں نے غضب ناک ہونے والا، فلاں نے کھیلنے والا کیے ہیں۔ (اشراق: ص35)

حالانکہ ہم اس بارے میں بھی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ محض لفظی نزاع ہے، [لاھون، غافلون] لہو ولعب کیا غنائے معروف سے خارج ہیں؟ یہ دراصل ایک ہی حقیقت کے مختلف نام ہیں یہ تفسیری اختلاف، اختلافِ تنوع ہے تضاد نہیں۔ تعجب ہے کہ اس سلسلے میں بحوالہ تفہیم القرآن یہ بھی نقل کیا گیا کہ مجاہد تکبر سے سر نیوڑھانے والے کو سامد کہتے ہیں۔ مگر یہ نہیں بتلاتے کہ خود صاحبِ تفہیم نے ترجمۂ قرآن کیا اور تفسیر میں اول وہلہ میں کیا مراد لیا ہے۔ اسی طرح زمخشری کے حوالے سے یہ تو نقل کرتے ہیں کہ سامد کے معنی مغرور اور غضب ناک ہونے والا مراد ہے۔ مگر یہ ذکر نہیں کرتے کہ انھوں نے [اسمدی لنا ای غنی لنا] کہ ہمیں گانا سناؤ بھی سامد کے معنی بیان کیے ہیں۔ اہل اشراق کے اس اغماض کو آخر ہم کیا نام دیں؟ پھر یہ بات تو اپنی جگہ اصولِ تفسیر میں بیان ہوئی ہے کہ جب ایک لفظ سے متعدد معانی مراد لیے گئے ہوں اور ان میں تضاد کی کیفیت نہ ہو تو وہ بھی معنی درست ہوں گے یہی صورت تفسیری اقوال کی بھی ہے۔ اور اگر یہ اختلافِ نا قابلِ تطبیق ہو تو ترجیح کی صورت اختیار کی جائے گی۔ جیسا کہ البرہان (ص167-172 ج2) اور الاتقان (ص 176-178ج2) میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ اس آیت کے حوالے سے غور فرمائے کہ ”سامد“ کے معنی لغوی طور پر، لہو ولعب میں مبتلا، غافل، بھولنے والا، متکبر، کھڑا ہونے والا، غنا اور متحیر کے استعمال ہوئے ہیں۔ (تاج العروس: ص381 ج2)

ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ غنا میں لہو ولعب اور غفلت بھی شامل ہے، لہذا ان میں تو کوئی تضاد نہیں، اسی طرح تکبر اور کھڑا ہونے والے میں بھی تضاد نہیں، البتہ غنا، متکبر اور متحیر کے مابین بظاہر تضاد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ آیت کے پس منظر میں اہل مکہ ان تینوں بیماریوں میں مبتلا تھے اس لیے مخاطبین کے اعتبار سے تینوں معانی میں کوئی تضاد نہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سب افعال ”سامد“ کا مصداق ہیں اور قرآن پاک سے روکنے کا سبب ہیں اور ان میں ایک غنا یعنی موسیقی ہے۔ اس لیے یہ بھی اس آیت کا مصداق ہے اور اس کی حرمت کی ایک دلیل ہے۔

جناب غامدی صاحب اور ان کے ہمنوا مصر ہیں کہ سامد کے معنی یہاں غافل ہو جانا اور قرآن سے بے اعتنائی برتنا ہے۔

(اشراق:ص65 مارچ2004ء، اشراق:ص35 اپریل2006ء)

ان کی اسی بات پر عرض کیا گیا تھا کہ سوال یہ ہے کہ مشرکین مکہ کی غفلت کا باعث اور کیا تھا؟ کس چیز میں مبتلا ہو کر انھوں نے قرآن پاک سے بے اعتنائی اختیار کی، متکبر بے اعتنا نہیں ہوتا معاند ہوتا ہے اور معاند مخالفت کے نت نئے بہانے اور حیلے تراشتا ہے، وہ غافل نہیں ہوتا۔ ان معاندین نے قرآن سے بے اعتنائی کے لیے جو حیلہ اختیار کیا وہ یہی موسیقی و غنا تھا، جس کے جواب میں اہل اشراق نے لکھا ہے کہ قرآن جب اپنے مخاطبین کے حوالے سے غفلت یا اس مفہوم کا کوئی دوسرا لفظ اختیار کرتا ہے تو اس سے اس کی مراد نہایت درجہ بے پروائی اور بے اعتنائی ہوتی ہے۔ جب انسان تکبر، عناد اور اس جیسی دوسری حقیر چیزوں میں مبتلا ہو کر توحید، رسالت اور آخرت سے بے پروا ہو جائے تو اس سے بڑھ کر غفلت اور کیا ہو گی۔ الخ (اشراق:ص36)

قارئین کرام غور فرمائیں، ہم نے کیا عرض کیا اور اہل اشراق کیا فرما رہے ہیں، اور کیا ہمارے سوال کا کوئی جواب بن پایا؟ کہ جب اہل اشراق ”سامد“ کے معنی غافل کرتے ہیں تو یہ غفلت کس سبب سے تھی؟ اور کس چیز میں مبتلا ہو کر انھوں نے قرآن سے بے اعتنائی اختیار کی؟ ظاہر ہے کہ اس کا سبب ”لہو الحدیث“ ہے جیسا کہ سورۂ لقمان کی آیت سے واضح ہوتا ہے۔ اور سامد کے کا معنی بھی ”لہو“ کیے گئے، اس کے معنی بعض نے اگر غفلت کیے ہیں توبھی ان میں کوئی تضاد نہیں کیوں کہ غنا میں یہ سب عناصر پائے جاتے ہیں۔ مگر افسوس اس سیدھی سی بات کو اہل اشراق سمجھ نہ پائے تو اپنی لفظی اور عبارت کی خوب صورتی میں ’غفلت‘ سے متعلق چند آیات کی بنا پر طول بیانی سے سمجھا کہ جواب ہو گیا۔ فرمایا گیا کہ ”متکبر ہو یا معاند وہ غفلت میں ہی مبتلا ہوتا ہے۔“ مگر اتنی سی بات نہ ملحوظ رہی کہ متکبر ہو یا معاند جس سے عناد رکھتا ہے اور جس کے مقابلے میں تکبر کرتا ہے اس سے وہ غافل نہیں ہوتا البتہ دوسرے امور سے وہ غافل ہو سکتا ہے قرآنِ پاک اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کفار استکبار اور عناد کا شکار تھے اور مقابلے کے لئے ہر حیلہ بہانہ تراشتے تھے مگر اپنے انجام کے اعتبار سے غافل تھے۔ اور کبھی یہی تکبر اور عناد قرآن پر تدبر سے مانع ہوتا اس اعتبار سے انھیں غافل قرار دیا گیا دونوں کے اعتبارات کو اہل اشراق ملحوظ رکھتے تو اس طول بیانی کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس آیت میں ’سامد‘ گانے والے کو کہتے ہیں۔ ’سامد‘ کے معنی گو لہو و لعب، غافل، بھولنے والا بھی ہیں لیکن یہ نتیجہ کے اعتبار سے ایک ہی حقیقت کے مختلف مسمی ہیں۔ اسی طرح ’سامد‘ متکبر اور متحیر کو بھی کہتے ہیں۔ مگر یہاں سامد کے معنی غنا اور گانے والا کرنا راجح ہے کیوں کہ یوں یہ آیت سورۂ لقمان میں [لہو الحدیث] کی تفسیرِ غنا کے بالکل موافق ہے، وہاں بھی قرآن کے مقابلے میں غنا اور لہو و لعب کا ذکر ہے اور یہاں بھی۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ یہاں غنا مراد نہیں، یہ محض اس لیے کہ اس سے غنا کی مذمت کا پہلو نکلتا ہے۔

تیسری آیت

موسیقی کی حرمت و شناعت کے لئے اہل علم نے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (64) سے بھی استدلال کیا ہے، جس میں ذکر ہوا ہے کہ: اے شیطان مردود! ان میں سے جن پر تیرا بس چلے ان کو اپنی صوت سے پھسلا لے۔ اس آیت میں شیطانی صوت سے کیا مراد ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، امام مجاہد رحمہ اللہ اور امام ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غنا و مزامیر اور لہو و لعب مراد ہے، مگر غامدی صاحب وغیرہ کا خیال ہے کہ ’شیطان کی آواز کو غنا سے محدود کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ (اشراق: ص67 مارچ2004ء، ایضاً: ص37 اپریل2006ء)

اولاً: گزارش ہے کہ شیطان کی آواز میں موسیقی اور گانا بجانا شامل ہے یا نہیں؟

 ثانياً: شیطان کی آواز کو غنا سے محدود نہ کرنے سے کیا موسیقی اس سے خارج ہو جاتی ہے؟

ثالثاً: کیا موسیقی صوتِ شیطان ہے یا صوتِ الرحمن؟ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جس طاغوت کی عبادت ہے وہ شیطان، ایمان کے مقابلے میں کفر، سنت کے مقابلے میں بدعت، صراطِ مستقیم کے مقابلے میں ضلالت و گمراہی سب شیطانی ہتھکنڈے ہیں۔ اسی طرح صوتِ الرحمن کے مقابلے میں جو آواز ہے وہ صوتِ شیطان ہے، وہ موسیقی ہو یا تقریر یا کوئی تعلیم، بہر حال یہ شیطانی آواز ہے۔ قارئینِ کرام غور فرمائیں کہ صوتِ شیطان کی تخصیص موسیقی سے نہ کرنے کے باوجود جب موسیقی صوتِ شیطانی میں شامل ہے تو اس کے بعد یہ کہنا کہ الاعتصام کا موقف ”سرتاسر ہماری تائید ہے“ کس قدر بودا پن ہے۔ جب وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ”ہر وہ چیز صوتِ شیطان ہے جو انسان کو اس کے پروردگار سے سرکشی یا دوری کا درس دیتی ہو، یہ درس تقریر ہو، کوئی تعلیم، کوئی شاعری اور کوئی موسیقی ہو تو وہ بلا شبہ صوتِ شیطان ہے۔ (اشراق: ص37)

اس اعترافِ حقیقت کے بعد موسیقی کو صوتِ شیطان سے خارج کرنا شیطان کو خوش کرنے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟

ہم نے عرض کیا تھا کہ موسیقی ایک باقاعدہ فن ہے۔ سادہ طریقے پر حسنِ صوت سے با مقصد شعر پڑھنا موسیقی نہیں۔ اہل اشراق کو ہماری یہ گزارش بڑی ناگوار گزری، ان کی اس حوالے سے سخن سازی کی حقیقت ”غنا اور اہل عرب“ کے عنوان سے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اہل اشراق سمجھنے کی کوشش کریں پھر تو یہ مسئلہ صاف ظاہر ہے قرآنِ مجید پڑھنے میں حسنِ صوت مستحسن اور محمود ہے، لیکن اگر اسے بھی غنا کی طرز پر گا کر پڑھا جائے تو نا جائز ہے۔ اور ہر سننے والا سمجھ دار سمجھ لیتا ہے کہ یہ گانے کے انداز پر پڑھ رہا ہے، یہی معاملہ نعت و اشعار پڑھنے کا بھی ہے، موسیقی بلا شبہ ایک فن ہے، نعت خوانی اگر حسنِ صوت سے ہو تو فبہا،مگر اس میں بھی اگر موسیقی کی طرز پر گانے کا سا عنصر پایا جائے تو وہ بھی درست نہیں، خواہ نعت خواں نے یہ فن سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو۔

چوتھی آیت

موسیقی کی شناعت و قباحت پر علمائے امت نے سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 75 سے بھی استدلال کیا ہے، جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے عباد الرحمن کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:[وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ ] وہ لوگ کسی زور میں شریک نہیں ہوتے۔ ”زور“ کے معنی جھوٹ اور باطل کے ہیں، اور امام مجاہد، امام محمد بن حنفیہ اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد غنا ہے، مگر زور سے غنا ہی مراد نہیں بلکہ غنا بھی زور کے مفہوم میں شامل ہے۔

اہلِ اشراق نے علمائے امت کے استدلال پر فرمایا ہے کہ الاعتصام نے یہ کہہ کر کہ ”زور“ سے ”غنا ہی“ مراد نہیں ازخود امام مجاہد اور امام ابو حنیفہ وغیرہ کے قول کی تردید کر دی ہے۔ کیوں کہ ان حضرات سے ”غنا بھی“ کا نہیں بلکہ ”غنا ہی“ کا مفہوم مروی ہے۔ (اشراق:ص39)

یہ بات اگر فکرِ غامدی کے تحت کی گئی ہے تو ہم اہل اشراق کو ایسی باتیں کرنے میں مجبور سمجھتے ہیں۔ مگر علمائے امت کے ہاں دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، زور کا اطلاق ہر باطل اور جھوٹ پر ہوتا ہے۔ اور غنا میں بھی چوں کہ یہ عنصر غالب طور پر پایا جاتا ہے اسی لیے حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا :کہ الغنا من أعظم الزور کہ غنا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ (اغاثۃ اللھفان:ص261 ج1)

ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ: نبی کریم ﷺ نے اشعار کو شیطان کی طرف منسوب کیا اور ان سے [أعوذ بالله من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه] کہہ کر اللہ کی پناہ طلب کی ہے، قرآنِ مجید نے فرمایا ہے: کہ شعرا کی تابع داری گمراہ کرتے ہیں، ہم نے غامدی جماعت کے امام، مولانا اصلاحی کے حوالے سے بھی لکھا کہ شعرا کی ”خدمات“ کے بارے میں بالآخر انھوں نے لکھا ہے کہ ”ان کے کلام میں کچھ افادیت ہوتی بھی ہے تو وہ ان کے تضادِ فکر میں غائب ہو جاتی ہے۔ جھاڑ جھنکار کے جنگل میں اگر صالح پودے بھی لگا دیے جائیں تو وہ مثمر نہیں ہوتے، انصاف شرط ہے کہ ’جھاڑ جھنکار کے جنگل کو ’زور‘ نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟ اس لئے ’زور‘ سے اگر امام مجاہد وغیرہ نے غنا اور موسیقی مراد لی ہے تو یہ عین قرآنی موقف کے مطابق ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ’صراطِ مستقیم‘ کی تفسیر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ قرآنِ مجید مراد لیتے ہیں۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما، جابر رضی اللہ عنہ، محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ دینِ اسلام مراد لیتے ہیں۔ ابو العالیہ رحمہ اللہ اور حسن بصری رحمہ اللہ اس سے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ مراد لیتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تفسیر بظاہر مختلف ہونے کے باوجود مختلف نہیں متفق ہے۔ کیوں کہ دینِ اسلام اتباعِ قرآن ہی کا دوسرا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ اور شیخین بھی اسی قرآن اور اسلام کے ہی متبع تھے۔ (ملخصاً اصولِ تفسیر)

بالکل اسی طرح ’زور‘ سے مراد بھی اگر غنا لیا گیا ہے تو دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ کیوں کہ جھوٹ اور باطل کا عنصر غنا اور موسیقی میں بھی پایا جاتا ہے، یا یوں سمجھیے کہ اس میں ’زور‘ کی ایک نوع کا بیان ہے، علمائے امت اس نوعیت کی تفسیر کو اختلافِ تنوع میں شمار کرتے ہیں۔ مگر اہل اشراق ان کے برعکس اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں۔ یہ بات انھوں نے بڑے طمطراق سے فرمائی: کہ اگر سیاقِ کلام، عرفِ قرآن اور زبان کے نظائر میں اس کے مصداق کی تعیین کے لئے کوئی قرینہ نہیں تو اسے متعین کرنے کی کوشش درحقیقت قرآن کے مدعا سے تجاوز اور اس کے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے مترادف ہے۔ (اشراق:ص34)

قارئین کرام! ان کے سابقہ کالم پر نظر ڈال لیجیے کہ ’الاعتصام‘ نے یہ کہہ کر کہ ’زور‘ سے غنا ہی مراد نہیں ازخود امام ابوحنیفہ، امام مجاہد اور حضرت محمد بن حنفیہ کے قول کی تردید کر دی ہے۔ الخ، اس لئے الاعتصام نے کوئی معنی متعین نہیں کیے بلکہ عرض کیا ہے کہ زور کا ایک مصداق غنا بھی ہے۔ اور اہل اشراق کے کہنے کے مطابق ’غنا ہی‘ کے معنی متعین کیےہیں تو امام مجاہد، حضرت محمد بن حنفیہ اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ نے بلکہ امام ضحاک نے اس سے مراد شرک لیا ہے۔ ان حضرات کا جو علمی مقام و مرتبہ ہے کسی امتی سے مخفی نہیں، ان کے بارے میں یہ تاثر کہ ان کا بیان کردہ مفہوم قرآن کے مدعا سے تجاوز اور اس کے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے مترادف ہے۔ اہل اشراق کی بہت بڑی جسارت اور سلف کے بارے میں سوءِ ظن پر مبنی ہے۔ ہم عرض کر آئے ہیں کہ ”زور“ کا مفہوم غنا اور موسیقی لینا عرفِ قرآن کے قطعاً منافی نہیں، اس لیے انھوں نے ”زور“ سے مراد غنا لیا تو کوئی غلطی نہیں کی، اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ ”جہاں تک ’غنا بھی‘ کا تعلق ہے تو ہم نے یہ کہاں بیان کیا ہے کہ غنا کا کوئی مظہر کسی طور بھی باطل میں شامل نہیں ہو سکتا۔ ہم نے تو جا بجا بیان کیا ہے وہ غنا جو کسی باطل کو ترویج دے وہ ہر حال میں شنیع ہے۔ (اشراق:ص39)

مگر یہ بات دراصل غنا اور موسیقی کے اصل مفہوم سے صرفِ نظر کا نتیجہ ہے، ہم بارہا عرض کر چکے کہ اونچی اور خوش آواز سے اشعار پڑھنا غنائے معروف میں شامل ہی نہیں۔ موسیقی اور غنائے معروف جو ایک فن کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے، وہ بہر نوع غلط اور حرام ہے۔ اس بنیادی فرق کو اہل اشراق نے ملحوظ نہیں رکھا اس لیے اس نوعیت کی باتیں ہمارے نزدیک اصل موضوع ہی سے خارج ہیں۔ جب اہل اشراق موسیقی کو اصلاً جائز قرار دے چکے تو اب اس سے باطل کی ترویج کا فیصلہ کون کرے گا اور اس کا پیمانہ کیا ہو گا؟ سکۂ رائج الوقت میں بھی موسیقی کی محفلیں بہر حال باطل کی ترویج کا مظہر ہیں، ان حالات میں موسیقی کو اصلاً جائز قرار دینا اہل موسیقی کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔