کیا امیر معاویہؓ کاتبِ وحی نہ تھے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کی کتاب "انجینئیر محمد علی مرزا: افکار و نظریات” سے ماخوذ ہے۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی نہ تھے؟

مرزا صاحب اپنی تحریر ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ میں تیسرے باب کے ذیل میں صحیح مسلم کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں یہ ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین درخواستیں کیں؛ ایک یہ کہ میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیں، دوسرا یہ کہ میرے بیٹے معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب رکھ لیں، اور تیسرا یہ کہ مجھے کفار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیں جیسا کہ میں مسلمانوں سے لڑتا رہا۔ اس حدیث کے راوی ابوزمیل رحمہ اللہ، جو کہ تابعی ہیں، کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انکار نہ فرماتے تھے لہذا اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو انکار نہیں فرمایا۔
(واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر: ص 13)
مرزا صاحب نے ابوزمیل راوی کے تبصرے کو بنیاد بناتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اس قابل نہ تھیں کہ ازواجِ مطہرات میں شامل ہوتیں اور نہ ہی معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بننے کے لائق تھے۔ بس یہ کام سفارش سفارش میں ہو گیا ہے اور اس میں بھی زیادہ عمل دخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کا تھا کہ آپ کو ناں کرنی نہیں آتی تھی۔
مرزا صاحب کے اس کتابچے کے ہر صفحہ پر جو ہیڈر (Header) چل رہا ہے، اس کے عنوان میں یہ ہے کہ ”صرف قرآن اور صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں“۔
اب راوی کا فہم کب سے حدیث ہو گیا؟ اسے تو اصطلاح میں ”ادراج“ کہتے ہیں یعنی راوی کا حدیث میں اپنی طرف سے اضافہ کرنا اور وہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ اب صحیح مسلم میں ہر بات تو حدیث نہیں ہے لہذا یہ کہنا کہ یہ صحیح مسلم میں ہے، کوئی دلیل نہیں ہے۔ پہلے دیکھنا پڑے گا کہ صحیح مسلم میں وہ بات کس حیثیت میں نقل ہوئی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ائمہ دین اور راویوں کے اقوال اور ان کا فہم بھی منقول ہے جو کہ حدیث نہیں ہے۔
تو ابوزمیل راوی کی یہ بات درست نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو مانگا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ عطا کر دیتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے عہدہ مانگنے پر انہیں عہدہ دینے سے انکار کر دیا تھا حالانکہ وہ متقی ترین اصحاب میں سے تھے۔ (مسلم بن الحجاج، المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم المعروف بصحيح المسلم، كِتَابُ الْإِمَارَةِ، بَابُ كَرَاهَةِ الْإِمَارَةِ بِغَيْرِ ضَرُورَةٍ، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1457/3) تو اس روایت سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مانگنے پر کوئی منصب یا عہدہ عنایت نہیں فرماتے تھے بلکہ صلاحیت اور استعداد دیکھ کر فیصلہ فرماتے تھے۔ پس حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتبِ وحی رکھنے کا فیصلہ ان کی صلاحیت اور استعداد کی بنیاد پر ہوا تھا۔ اسی طرح صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نکاح کے لیے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نظر دیکھ کر انکار فرما دیا اور قرآن سکھانے کے حق مہر کے عوض اسی مجلس میں موجود اپنے ایک دوسرے صحابی سے اس عورت کا نکاح کر دیا۔ (البخاري،محمد بن إسماعيل، الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه المعروف بصحيح البخاري، كِتَابُ النِكَاحِ، بَابُ النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ، دار طوق النجاة، مصر، الطبعة الأولى، 1422هـ، 14/7 )تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار کرنا آتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے بھی تھے۔ تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو نکاح میں کسی میرٹ پر قبول کیا گیا اور وہ ان کا حسن و جمال اور خاندانی وجاہت تھی کہ صحیح مسلم ہی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے رشتہ پیش کرتے وقت کہا تھا کہ میری بیٹی أحسن العرب وأجمله یعنی عرب کی خوبصورت ترین عورتوں میں سے ہے۔
دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت میں تو ”کاتبِ رسول“ کے الفاظ ہیں نہ کہ ”کاتبِ وحی“ کے، لہذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وحی نہیں لکھتے تھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خط لکھتے تھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی بھی لکھتے تھے اور خطوط بھی لکھا کرتے تھے جیسا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کو (دلائل النبوۃ) میں اپنی سند سے نقل کرتے ہیں تو اس میں وحی کے الفاظ کی صراحت بھی موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا:
فقال: اذهب فادع لي معاوية، وكان يكتب الوحي
”جاؤ، معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ، اور وہ وحی لکھا کرتے تھے۔“
( البيهقي، أحمد بن الحسين بن علي دلائل النبوة، بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ أَكَلَ بِشِمَالِهِ ، وَدُعَائِهِ عَلَى مَنْ كَانَ يَخْتَلِجُ بِوَجْهِهِ وَغَيْرِهِمَا ، وَمَا ظَهَرَ فِي كُلِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ آثَارِ النُّبُوَّةِ، دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة الأولى، 1988 م ، 243/6)
یہ الفاظ کہ ”وہ وحی لکھا کرتے تھے“، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ہیں اور یہ ایک بہت بڑی شہادت ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے۔
اسی طرح سے تیسرا اعتراض جو کہ مرزا صاحب کی طرف سے کیا گیا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے اور فتح مکہ کے بعد کون سی وحی نازل ہوئی ہے جسے وہ لکھا کرتے تھے؟ 99.99 فی صد وحی تو نازل ہو چکی تھی، اب کون سی وحی معاویہ رضی اللہ عنہ لکھا کرتے تھے؟
تو فتح مکہ رمضان 8 ہجری میں ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 11 ہجری میں ہوئی۔ درمیان میں اڑھائی سال کا وقفہ ہے اور کیا اس میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی؟ دینِ اسلام، اڑھائی سال پہلے مکمل ہو چکا تھا؟ اور نہ سہی غزوہ تبوک کو ہی لے لیں جو فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں ہوا اور ایک پارے سے زائد پر مشتمل سورۃ التوبہ ہے جو اس غزوے کو تفصیل سے بیان کر رہی ہے۔ (السيوطي، جلال الدین، الد المنثور، دار الفكر، بيروت، 759/2) سورۃ التوبہ کے علاوہ سورۃ المائدہ ہے جو ایک پارے سے زائد پر مشتمل ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ فتح مکہ کے بعد نازل ہوا۔ (الدر المنثور: 4/3) اس کے علاوہ سورۃ البقرہ کی سود کی آیات ہیں یا دیگر وہ آیات ہیں کہ جن کے بارے میں شانِ نزول کی روایات میں یہ تصریح موجود ہے کہ وہ آخر میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہیں۔(الدر المنثور: 104/2) تو یہ سب مل کر کیا کل قرآن مجید کا 0.01 فی صد بنتا ہے؟ تو اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے بے تکے انداز میں اس قسم کے دعوے کرنا بہت ہی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے کہ جس میں مرزا صاحب مبتلا ہے۔ یہ رویہ علمی نہیں بلکہ جذباتی ہے کہ جس میں ایک سوچی سمجھی رائے کو جذبات کے زور پر منوانے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ درست طرز عمل نہیں ہے۔ تو نہ تو ٹامک ٹوئیاں مارنے کا نام تحقیق ہے اور نہ ہی تھیٹر کے مداریوں اور فنکاروں کے جیسے ایکسپریشن دینے سے کوئی چیز ثابت ہوتی ہے۔