کیا امیر معاویہؓ اسلام لانے کے بعد (نعوذباللہ) شراب پیتے تھے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کی کتاب "انجینئیر محمد علی مرزا: افکار و نظریات” سے ماخوذ ہے۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد (نعوذباللہ) شراب پیتے تھے؟

محمد علی مرزا صاحب اپنے ایک کتابچے ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر: 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں“ میں حدیث نمبر 31 کے تحت مسند احمد کی ایک روایت کے ترجمے میں ڈنڈی مارتے ہوئے یہ الزام لگاتے ہیں کہ معاذ اللہ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، اسلام لانے کے بعد شراب پیتے تھے۔ مرزا صاحب نے مسند احمد کی روایت کا غلط ترجمہ یوں نقل کیا ہے:
”سیدنا عبد اللہ بن بریدہ تابعی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملنے گئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں فرشی نشست (یعنی قالین) پر بٹھایا، پھر کھانا لایا گیا جو ہم نے تناول کیا، پھر ہمارے سامنے ایک مشروب لایا گیا جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پینے کے بعد (وہ مشروب والا برتن) میرے والد کو پکڑا دیا تو انھوں نے (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ”جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔“ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں قریشی نوجوانوں میں سب سے حسین ترین اور خوبصورت دانتوں والا نوجوان تھا اور جوانی کے ان دنوں میں میرے لیے دودھ اور اچھے قصہ گو آدمی سے بڑھ کر کوئی چیز لذت آور نہیں ہوتی تھی۔“
(انجینر محمد علی مرزا، واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر: 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، نوجوانان اہل سنت اسلام آباد، اسلام آباد، 2017ء، ص 15)
اس حدیث کا عربی متن یہ ہے:
حدثنا زيد بن الحباب، حدثني حسين، حدثنا عبد الله بن بريدة قال: دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلسنا على الفرش، ثم أتينا بالطعام فأكلنا، ثم أتينا بالشراب فشرب معاوية، ثم ناول أبي، ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال معاوية: كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغرا، وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن.
مرزا صاحب نے اپنے ترجمے میں بریکٹس میں جو اضافے کیے ہیں، وہ عربی متن میں نہیں ہیں۔ عربی متن میں یہ بات موجود نہیں ہے کہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا: ”جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔“ عربی متن میں صرف یہ موجود ہے کہ اس نے یہ کہا۔ اور یہ ”اس“ سے مراد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مشروب پینے کے بعد برتن سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کو پکڑاتے ہوئے کہا کہ ”جب سے اُس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اُسے نوش نہیں کیا۔“
(أحمد بن حنبل الشيباني، مسند احمد، مؤسسة الرسالة، بيروت، 2001 م، 25/38-26)
اب صحیح ترجمے کے حدیث کے اصل معنی سمجھیں:
پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر تو جس برتن سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا تھا، اس میں شراب ہوتی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کبھی یہ نہ کہتے کہ ”جب سے اُس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا“ کیونکہ شراب کو تو قرآن مجید نے حرام کیا ہے یعنی اس کی حرمت کا اعلان قرآن مجید میں نازل ہوا ہے۔ تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے فقیہ صحابی سے بعید ہے کہ ایک چیز قرآن مجید میں حرام ہوئی ہو تو وہ یہ کہہ دیں کہ اسے سنت نے حرام قرار دیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے شربت کی بعض صورتوں سے منع کیا تھا کہ جسے ”نشہ آور نبیذ“ کہتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ تین دن تک نبیذ استعمال کرتے اور اس کے بعد جو بچ جاتا تھا تو اسے بہا دیتے تھے اور بچا کر نہ رکھتے تھے۔ (مسلم بن الحجاج النيسابوري، المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم المعروف بصحيح المسلم، كتاب الْأَشْرِبَةِ، بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1589/3) تو مذکورہ بالا حدیث میں ضمیر سے مراد ”نبیذ“ یعنی کھجور کا وہ مشروب ہے کہ جس میں کچھ خمار آچکا ہو اور اس مشروب کے بارے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے تو میں نے اسے استعمال نہیں کیا۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ان کے مخالفین نے الزام لگایا تھا، شراب نوشی کا نہیں، اتنی جرات نہیں تھی کسی میں، بلکہ نبیذ پینے کا الزام تھا۔ اور نبیذ اصلاً جائز تھی جیسا کہ بیان ہو چکا کہ عرب پانی میں کھجور یا انگور ڈال کر رکھ لیتے تھے تاکہ میٹھا شربت بن جائے تو اس کے پینے کی اجازت تھی جیسا کہ احادیث میں ہے(صحيح مسلم، كتاب الأشْرِبَةِ، بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ، 1575/3) لیکن بعض اوقات ایک خاص وقت کے بعد یا دو قسم کی نبیذ یعنی کھجور اور انگور کی نبیذ کو ملانے سے اس مشروب میں سکر یعنی مدہوشی آجاتی تو اسے پینے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا تھا۔ (أيضاً )
تیسری بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس مجلس میں جس مشروب کو پیا تھا تو وہ دودھ تھا جیسا کہ اسی روایت کے آخر میں دودھ کا ذکر لفظوں میں موجود ہے۔ اور اسی دودھ کے برتن کو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھاتے ہوئے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بات کہی کہ ”جب سے اُس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اُسے نوش نہیں کیا۔“ یعنی اسے بریدہ رضی اللہ عنہ! یہ دیکھ لیں کہ میرے گھر میں میرے دسترخوان پر وہ چیز نہیں پی جاتی کہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے یعنی نشہ آور نبیذ۔ اور میرے بارے وہ باتیں درست نہیں ہیں جو بعض لوگ پھیلا رہے ہیں کہ میں نشہ آور نبیذ پیتا ہوں۔ تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ جملہ اپنی صفائی میں کہا ہے۔ یہ جملہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کا نہیں ہے۔ اور اس اسلوب کلام کو علم بلاغت میں اصطلاحاً ”استطراد“ کہتے ہیں۔
(بہاء الدين السبكي، أحمد بن علي بن عبد الكافي ، عروس الأفراح في شرح تلخيص المفتاح، المكتبة العصرية، بيروت، 2003 م، 239/2)
چوتھی بات یہ ہے کہ روایت کا آخری حصہ بتلاتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تو دور جاہلیت میں بھی دودھ کا شوقین تھا تو اے بریدہ رضی اللہ عنہ! دین اسلام لانے کے بعد نبیذ میرا پسندیدہ مشروب کیسے ہو سکتا ہے! یہ بات زیادہ وضاحت کے ساتھ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ان الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے:
فقال معاوية: ما شيء كنت أستلذه وأنا شاب فآخذه اليوم إلا اللبن، فإني أخذه كما كنت أخذه قبل اليوم
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے جوانی میں بھی دودھ سے زیادہ کچھ پسند نہ تھا اور آج بھی میں، دودھ ہی لے رہا ہوں جیسا کہ آج سے پہلے بھی میں دودھ ہی لیتا تھا۔
(أبو بكر بن أبي شيبة، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار مكتبة الرشد، الرياض، الطبعة الأولى 1409ھ، 188/6)
تو مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت میں اس مشروب کے لیے ”دودھ“ کے الفاظ واضح طور موجود ہیں۔ تو اتنے واضح الفاظ کے بعد کہ میں آج کے دن دودھ پی رہا ہوں، صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا طعن کہ وہ شراب پیتے تھے، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔
پانچویں بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کے پاس اس کی دلیل کیا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شراب پیتے تھے تو ان کی دلیل یہ ہے کہ اس روایت میں شراب کا لفظ آیا ہے۔ اور عربی زبان میں شراب کے لیے ”خمر“ کا لفظ آتا ہے نہ کہ شراب کا۔ اردو میں شراب کے لیے شراب کا لفظ ہے۔ عربی میں شراب کسے کہتے ہیں؟ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لقد سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدحي هذا الشراب كله: العسل والنبيذ، والماء واللبن
”میں نے اپنے اس برتن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی شراب یعنی مشروب پلایا ہے: شہد بھی، نبیذ بھی، پانی بھی اور دودھ بھی۔“
(صحيح مسلم، كتاب الْأَشْرِبَةِ ، بَابُ إبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا، 1591/3)
تو حدیث مبارکہ کے مطابق عربی زبان میں شراب سے مراد پانی، نبیذ یا دودھ ہوتا ہے اور یہ تینوں دین اسلام میں حلال ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزا صاحب کا یہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بہتان عظیم ہے کہ جس سے ان کو اعلانیہ توبہ کرنی چاہیے کیونکہ ہمارے دین نے عام مسلمان پر بھی ایسی تہمت لگانے سے منع کیا ہے، چہ جائے ان پر لگائی جائے جو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، کاتب وحی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر ان لاء (brother in law) ہوں، امیر المومنین ہوں، اور جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد و قتال کیا ہو۔