مقدمہ
جنوری 2019ء کے وسط میں راقم الحروف اپنے تین دوستوں کے ساتھ مرزا صاحب سے ملاقات کے لیے ان کے ادارے جہلم گیا تھا۔ دوران ملاقات کچھ گفتگو بھی ہوئی۔ مرزا صاحب سے ملاقات ہمارے ایک دوست عاصم مغل صاحب کے توسط سے ہوئی تھی اور اس ملاقات کے لیے انہیں تین ماہ کھپنا پڑا۔ ہم نے مرزا صاحب سے درخواست کی تھی کہ ہم آپ سے بحث کے لیے نہیں آنا چاہتے، ہم آپ سے آپ ہی کی تحریر ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر: 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں“ پر چند سوال کرنے آئیں گے اور ان کا جواب سننا چاہیں گے۔ اور ہم اس سوال جواب کی گھنٹہ بھر کی نشست کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے تو مرزا صاحب نے کہا کہ سوال پہلے لکھ کر بھیج دیں۔ خیر ایک مہینہ پہلے انہیں سوالات لکھ کر بھیج دیے گئے۔ اور ایک مہینہ پہلے ایک بچے کو بھی آپ پانچ سوالات پکڑا دیں تو وہ بھی تیاری تو کر لے گا لیکن حیرت ہوئی کہ مرزا صاحب نے دوران ملاقات صاف انکار کر دیا کہ کون سے سوالات؟ کیسے سوالات؟ بس ایک سوال کرنے کی آپ کو اجازت ہے۔ اور اس کی بھی آپ ریکارڈنگ نہیں کر سکتے جبکہ ہمارے ایک ساتھی اپنا کیمرہ لے کر گئے ہوئے تھے بلکہ ساتھ ہی مرزا صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ میں سے کسی نے اس گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ بھی کی تو اللہ کے ہاں گریبان پکڑ لوں گا۔ تو یہ تو ان کے خوف کا عالم ہے۔
باقی مختلف سوشل میڈیا کے گروپس میں ان کے جو میسجز گھومتے رہتے ہیں کہ مرزا صاحب علماء سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، جنہوں نے ملنا ہے تو اس ای میل یا ان فون نمبروں پر رابطہ کریں تو یہ سب ڈھکوسلا ہے، یا مہذب الفاظ میں اس کو مارکیٹنگ کہتے ہیں اور عام لوگ اس قسم کے میسجز کو سچ سمجھ لیتے ہیں۔ مرزا صاحب کے اہل علم سے ملاقات سے گھبرانے کی وجہ جو ان سے ملاقات کے بعد سمجھ آئی ہے، وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب واقعی میں کسی صاحب علم کے سامنے دومنٹ نہیں بیٹھ سکتے۔ ابو یحی نورپوری صاحب اتنے عرصے سے مرزا صاحب پر نقد کر رہے ہیں اور خوب علمی نقد کر رہے ہیں، ان کی ویڈیوز دیکھ کر ہزاروں لوگ مرزا صاحب کو سننا چھوڑ رہے ہیں۔ نہ مرزا صاحب ان کو جواب دے رہے ہیں، اور نہ ملاقات کا وقت دیتے ہیں۔
ایک مرتبہ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کے بیٹے آصف حمید صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا کہ مرزا صاحب اہل تشیع کے ہاں ان کے مدارس کا وزٹ کر آتے ہیں تو آپ ان سے مل کر آئے ہیں، اگر ہمارے ہاں بھی آجائیں تو ان سے کچھ موضوعات پر تبادلہ خیال بھی ہو جائے اور وہ ادارے قرآن اکیڈمی اور تنظیم اسلامی وغیرہ کے مرکز کا دورہ بھی کر لیں اور مل بیٹھ کر کھانا وانا بھی کھالیں۔ تو میں نے عاصم مغل بھائی کے ذریعے مرزا صاحب کو پیغام بھجوایا تو یہ جواب موصول ہوا کہ آپ کو تو پتہ ہے کہ مرزا صاحب کہیں جاتے نہیں ہیں حالانکہ ابھی کچھ دن پہلے ہی وہ مولانا طارق جمیل صاحب اور اہل تشیع کے ایک مرکز کا دورہ کر کے لوٹے تھے۔ تو ہمارے دوست عاصم مغل صاحب جو کافی عرصہ مرزا صاحب سے متاثر رہے، اس پر کافی حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ میں انہیں مخلص سمجھتا تھا لیکن ان سے واسطہ پڑنے پر معلوم ہوا کہ یہ صریح جھوٹے لوگ ہیں۔ اور یقین نہیں آرہا کہ یہ ایسی دوغلی پالیسیوں کے حامل ہیں کہ جہاں انہیں کچھ دنیاوی مفاد نظر آتا ہے، وہاں چل پڑتے ہیں اور جہاں کسی علمی گفتگو یا کام کی بات کا ماحول ہو تو وہاں سے دامن بچا کر نکل جاتے ہیں۔
ابھی بھی اگر مرزا صاحب کے کسی فالوور کا یہ خیال ہے کہ ہماری بات غلط ہے اور مرزا صاحب تو اہل علم سے ملاقات کے لیے بہت گرم جوش ہیں تو بھئی مجھے آپ مرزا صاحب سے وقت لے دیں، جہاں کہیں گے، دوبارہ آجاؤں گا، لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ پروگرام فیس بک لائیو چلے گا اور میں صرف اور صرف ان کی تحریر پر سوال اٹھاؤں گا، کوئی بحث نہیں کروں گا، البتہ اب کی بار سوال پہلے لکھ کر نہیں بھیجوں گا۔
چلیں، اس میں حرج نہیں کہ آپ کو نہیں آتا لیکن دوسری طرف جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میں کسی بھی عالم دین کی صرف نحو کی غلطیاں نکال کر دکھا سکتا ہوں تو اس جھوٹ پر بہت افسوس ہوتا ہے۔ تو جھوٹ نہ بولیں تو کوئی آپ کو ناواقفیت کا ٹیگ نہیں لگائے گا لیکن جب آپ اپنے آپ کو نابغہ العصر اور حضرت العلام ثابت کرنے میں لگ جائیں گے اور باقی سارے تو شاید آپ کے سامنے گٹھنے ٹیک کر بیٹھنے کے قابل ہیں تو پھر لوگ آپ کو آپ کی حیثیت بتلائیں گے۔ جب آپ خود اِل مینرڈ (ill mannered) ہوں گے اور صحابہ کرام پر طعن و تشنیع کریں گے، علماء اور مولویوں کو خوب رگڑا لگائیں گے، ہر کسی کو کھری کھری سنائیں گے، تو لوگ آپ کو آپ کی اوقات بجا طور یاد دلوائیں گے اور پھر آپ کو برا لگے گا حالانکہ یہ سارا محاذ آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے خود کھولا ہوا ہے لہذا بند بھی آپ کو ہی کرنا ہے۔
بہرحال ہم نے مرزا صاحب کے اس رویے سے مایوس ہو کر ان کے کتابچے ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر: 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں“ پر تقریباً اٹھارہ گھنٹے کی ویڈیوز ریکارڈ کروائیں اور انہیں اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کر دیا کہ جس کا لنک کتابچے کے آخر میں ہم نقل کر رہے ہیں۔ بعض دوستوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بعض مقامات پر بحث گہری ہو جاتی ہے لہذا اس کو پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے تو ان ویڈیوز کو تحریری صورت دے دیں۔ تو اسی غرض سے ویڈیو کے اس مواد کو تحریری صورت میں پیش کیا جا رہا ہے اور یہ کتابچہ اس سلسلے کی پہلی قسط ہے۔ اس کے بعد دوسری قسط بھی شائع ہو گی، ان شاء اللہ عز و جل۔
مرزا صاحب اپنے اس کتابچے کو اپنا بنیادی ترین فکر بتلاتے ہیں بلکہ ان کے بقول یہ کتاب ان کی ”دی بیسٹ پراڈکٹ“ ہے اور وہ اسے علماء کے خلاف ”ہائیڈروجن بم“ قرار دیتے ہیں۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے جو ویڈیوز تیار کی تھیں تو اس کے جواب میں مرزا صاحب کے فالوورز بلکہ ان بعض ساتھیوں کی طرف سے بھی بہت کچھ گالم گلوچ سننے کو ملا حالانکہ ہم نے ویڈیو میں شاید ہی کوئی ایک جملہ بھی ایسا بولا ہو جو مخاطب کے لیے قابل اعتراض ہو سکتا تھا۔ بعض دوستوں کا کہنا یہی ہے کہ واسطہ پڑنے پر معلوم ہوا ہے کہ یہ بدمعاشوں کا ٹولہ ہے جن کا کام علماء اور مذہبی طبقات کو محض لعن طعن کرنا، گالم گلوچ دینا اور ان کی شخصیت کو مسخ کرنا ہے۔ خیر اس بات کا تو میں بھی گواہ ہوں کہ جتنی گندی زبان مرزا صاحب علماء کے بارے میں استعمال کرتے ہیں، الامان والحفیظ۔ مجھ سے ملاقات کے دوران حضرت صاحب کہہ رہے تھے کہ یہ علماء مجھے پر بھونکتے ہیں۔ اب بھلا کوئی شریف آدمی ایسے گفتگو کرتا ہے۔ خیر وہ تو یہ بھی کہہ دیں گے کہ مجھے شریف مت سمجھو اور انہوں نے ہم سے ایسی باتیں کیں بھی تھیں۔ بھئی جب آپ علماء کو ناصبی کہو گے تو وہ جواب میں آپ کو رافضی ہی کہیں گے، اور کیا کہیں گے! تو انہوں نے تو رافضی بھی نہیں کہا، صرف نیم رافضی کہا ہے، یہ بھی ان کا بھلا ہے کہ آپ کا لحاظ کیا ہے اور آپ نے تو ان کو پکا ناصبی کہنا شروع کر دیا ہوا ہے بلکہ جس کا آپ سے ذرا اختلاف ہوتا ہے، آپ اس پر ناصبی کے فتوے لگانا شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر آپ کی وہ ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر آن دی ریکارڈ ہے کہ جس میں آپ نے یہ کہا تھا کہ پاکستان کا کوئی ایک مدرسہ ایسا دکھا دیں کہ جہاں مولوی کو حجرے میں منہ کالا کرنے کے لیے بچے میسر نہ ہوں۔ اور آپ کے یہ الفاظ کہ میں ان مولویوں کی شلوار اتار کر ان کے ہاتھ میں پکڑا دوں گا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
تو یہ کچھ گفتگو اس لیے کر دی کہ مرزا صاحب اور ان کے ساتھیوں کو مسکین بننے کا بڑا شوق ہے کہ ہمیں یہ کہہ دیا، ہمیں وہ کہہ دیا، بالکل محلے کے اس بچے کی طرح جو گلی میں ہر بچے سے چھیڑ خوانی کرنے کے بعد کٹ کھا کر گھر آجاتا ہے اور اب ماں کو شکایتیں لگاتا ہے کہ مجھے فلاں نے مارا ہے لیکن یہ نہیں سوچتا کہ جس نے مارا ہے، اس نے جواباً مارا ہے اور انہیں بھی یہ سوچ نہیں آتی۔ تو رہی بات مرزا صاحب کے کتابچے کی تو مرزا صاحب کے اس کتابچے کے چھ مصادر ہیں: احادیث مبارکہ جو کہ صحیح ہیں، احادیث مبارکہ جو کہ ضعیف ہیں، مرزا صاحب کا احادیث کے تراجم میں پریکٹس کی صورت میں اضافے کرنا، مرزا صاحب کا احادیث کے مفاہیم میں انحراف کے لیے سطحی اور بے کار قسم کے حواشی اور فٹ نوٹس لگانا، مرزا صاحب کا تاریخ کی کتابوں سے حوالے نقل کرنا، مرزا صاحب کا بابوں کو حوالہ بنانا۔ تو مرزا صاحب کی یہ فکر ان چھ چیزوں سے مرکب ہے کہ جس میں صحیح ضعیف احادیث، مرزا صاحب کی من مانی تاویلات اور بابوں کے وہ اقوال جو مرزا صاحب کی فکر کو سپورٹ کرتے تھے، آگئے ہیں۔
یہ تو مرزا صاحب کے مصادر ہوئے، اور جہاں تک اس کتابچے کے موضوع کی بات ہے، تو یہ کتابچہ چھ ابواب پر مشتمل ہے کہ جس کے 32 صفحات ہیں اور ان میں دو ابواب یعنی 17 صفحات بالخصوص جبکہ بقیہ ابواب میں بھی روایات کی بڑی تعداد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے کہ جنہیں مرزا صاحب نے کھینچ تان کر، کبھی بریکٹس کی صورت ترجمے میں مذموم اضافے کر کے، اور کبھی گھٹیا قسم کے فٹ نوٹس لگا کر، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے ہر مثبت بات کو بھی منفی بنا دیا ہے۔ یہ کتابچہ واقعہ کربلا کا پس منظر کم اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف چارج شیٹ زیادہ معلوم ہوتا ہے بلکہ اس کتابچے کا صحیح عنوان ”امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف چارج شیٹ“ ہی بنتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے تئیں، اس امت میں پیدا ہونے والے ہر فساد کی جڑ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
تو واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر بیان کرتے کرتے چھ میں سے پانچ ابواب تو مرزا صاحب نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگا دیے اور آخر ایک باب میں یزید کا تذکرہ کر دیا تو گویا واقعہ کربلا کا یہ طویل پس منظر ذکر کر کے مرزا صاحب یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ کربلا میں ہونے والے ظلم عظیم کے اصل ذمہ دار یزید کم اور ان کے والد محترم زیادہ ہیں جو اس وقت دنیا میں تھے ہی نہیں، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔ اور یہ سارا کتابچہ آپ پڑھ لیں تو اسے پڑھ کر یہی تاثر قائم ہوتا ہے کہ لوگ کربلا کا الزام یزید کو دیتے ہیں حالانکہ اصلاً تو اس الزام کے حقدار تو ان کے والد محترم تھے کہ جنہوں نے وہ ساری بیک گراؤنڈ بنائی تھی کہ جس کی وجہ سے کربلا کا سانحہ ہوا۔
اب یہ بددیانت اور خائن لوگ کس طرح سے وہ حدیثیں جو اپنے مفہوم میں عام ہیں، کھینچ تان کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگاتے ہیں اور ان کے ساتھی صحابہ کرام پر چسپاں کرتے ہیں! ایک طرف انہیں رضی اللہ عنہ لکھ رہے ہیں اور صحابی مان رہے ہیں، دوسری طرف ان کی گردن اڑانے کو جہاد قرار دے رہے ہیں۔ بس ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ چونکہ فلاں صحابی رسول ہے، لہذا اس کی گردن اڑانے سے پہلے بس ”رضی اللہ عنہ“ پڑھ لینا تاکہ پورے ادب اور احترام سے گردن اڑائی جا سکے، معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ اور یہی کام مرزا صاحب اور ان کے فالوورز کر رہے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ، شرابی، حرام خور، سود خور، بدعتی، باغی اور واجب القتل ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگانے کے بعد بس استدعا یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ سب کچھ ماننے اور کہنے سے پہلے ان کے نام کے ساتھ ”رضی اللہ عنہ“ پڑھ لیا جائے، فيا اللعجب.
مرزا صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ میں جا بجا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام کا گروہ، باغی گروہ تھا۔ اور وہ صرف انہیں باغی کہنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے کتابچے کے پانچویں باب بعنوان ”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکومت مل جانے کے بعد بتدریج اس امت پر کیسی ملوکیت مسلط ہوئی اور اس کا بھیانک نتیجہ کیا نکلا؟“ میں، ص 25 پر، صحیح مسلم کی یہ حدیث بھی نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ نالائق لوگ جانشین بنیں گے، وہ زبان سے جو کہیں گے، وہ کریں گے نہیں۔ اور جو ان سے ہاتھ سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، جو ان سے زبان سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، اور جو ان سے دل سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، اور اس کے بعد تو رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔
ابوالحسن علوی