کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد حرام اشیاء استعمال کرتے تھے؟
مرزا صاحب نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ اسلام لانے کے بعد حرام امور کا ارتکاب کرتے تھے یعنی آسان الفاظ میں ان کی نظر میں وہ فاسق و فاجر شخص تھے کیونکہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو فاسق و فاجر ہی کہا جاتا ہے۔ مرزا صاحب اپنے کتابچے ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ کے تیسرے باب میں حدیث نمبر 31 کے تحت سنن ابو داود کی ایک روایت کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں حرام اشیا مثلاً ریشم، سونا اور درندوں کی کھال بطور قالین استعمال ہوتی تھی۔ مرزا صاحب نقل کرتے ہیں کہ مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا:
”اے معاویہ رضی اللہ عنہ! اگر میں سچ بیان کروں تو میری تصدیق کر دینا اور اگر جھوٹ بولوں تو میری تردید کر دینا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ چنانچہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تو نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا پہننے سے منع فرماتے ہوئے سنا تھا؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تو نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم پہننے سے منع فرماتے ہوئے سنا تھا؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تو نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درندوں کی کھالوں (کے لباس) کو پہننے سے اور ان پر (قالین کے طور) بیٹھنے سے روکا تھا؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! اے معاویہ رضی اللہ عنہ! یہ سب (حرام اشیاء استعمال ہوتی ہوئی) میں نے تیرے گھر میں دیکھی ہیں۔“
(محمد علی مرزا، واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر : 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، ص 15)
پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اس حدیث کی تحقیق میں علامہ البانی رحمہ اللہ اور شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو ”اسنادہ صحیح“ کہا ہے۔ (ايضاً)اور جب محدثین کسی حدیث کے بارے ”اسنادہ صحیح“ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ حدیث ”صحیح“ ہے۔ اور یہ مرزا صاحب کی بنیادی ترین غلطی ہے کہ وہ ”صحیح الاسناد“ اور ”صحیح“ حدیث کا فرق نہیں جانتے۔ اور اپنی اسی ناواقفیت کے سبب اپنے کتابچے کا عنوان ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر: 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں“ رکھ بیٹھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک ”اسنادہ صحیح“ کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ حدیث ”صحیح“ بھی ہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ”صحیح“ حدیث کی پانچ شرائط ( سند میں تمام راوی عادل ہوں ، تمام راوی ضابط ہوں، سند متصل ہو ، حدیث کی سند یا متن شاذ نہ ہو اور اس میں علت نہ ہو۔ آخری دو شرائط کا تعلق زیادہ تر متن سے ہے۔) میں سے پہلی تین شرائط کی ہم نے اس روایت میں تحقیق کر لی ہے کہ جن کا تعلق صرف سند سے ہے، باقی کی دو شرائط کہ جن کا تعلق سند اور متن سے ہے، اس کو دیکھنے کی ہمیں فرصت نہیں ملی، وہ تم دیکھ لو۔ یا آسان الفاظ میں ہم نے اس روایت کی آدھی تحقیق مکمل کر لی ہے، باقی کی دوسرے محققین پر چھوڑتے ہیں۔ اور ان دونوں مصطلحات کا یہ فرق حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ قَوْلُهُمْ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، أَوْ حَسَنُ الْإِسْنَادِ دُونَ قَوْلِهِمْ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَوْ حَدِيدٌ حَسَنٌ لِأَنَّهُ قَدْ يُقَالُ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ ، وَلَا يَصِحُ لِكَوْنِهِ شَاذًا أَوْ مُعَلَّلًا. (ابن الصلاح، عثمان بن عبد الرحمن معرفة أنواع علوم الحديث، دار الفكر المعاصر ، بيروت، 1986 ص 13) اور ان کے بعد دیگر ائمہ نے بھی اس کو نقل کیا ہے جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ وغیرہ نے۔ صحة الإسناد لا يلزم منہا صحة الحديث قال: والحكم بالصحة أو الحسن على الإسناد لا يلزم منه الحكم بذلك على المتن، إذ قد يكون شاذاً أو معللاً (ابن كثير، إسماعيل بن عمر، الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث، دار الكتب العلمية، بيروت، ص 43) تو ایسی حدیث کہ جس کی تحقیق ابھی نامکمل ہے، اسے آپ اپنے دعویٰ کی دلیل بنا رہے ہیں! یا تو پہلے اس کی تحقیق مکمل کرتے تو پھر بھی کوئی بات تھی۔
تیسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے اس کتابچے میں حدیث کی تحقیق کے ضمن میں چند محققین کی تحقیقات کو اپنا مصدر بنایا ہے کیونکہ خود تو انہیں کچھ آتا جاتا نہیں ہے اور وہ اس کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ دینی علوم جو کہ مدارس میں پڑھائے جاتے ہیں، ان کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ سب کچھ اردو میں دستیاب ہے۔ تو جن اہل علم کی حدیث کی تحقیق مرزا صاحب نے اپنے کتابچے میں ذکر کی ہے، ان میں علامہ البانی رحمہ اللہ، شیخ شعیب ارنؤوط رحمہ اللہ، شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ان حضرات میں کسی حدیث کی تحقیق میں اختلاف ہو جاتا ہے تو پھر مرزا صاحب کے ہاں ذاتی پسند و ناپسند کے علاوہ کوئی دوسرا اصول نظر نہیں آتا کہ جس کے تحت وہ ایک محقق کی تحقیق قبول کر رہے ہوں اور دوسرے کی چھوڑ دیں۔ مثال کے طور پر اسی روایت کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے اگر ”صحیح الاسناد“ کہا ہے تو شیخ شعیب ارنؤوط رحمہ اللہ نے اسی روایت کو ”اسنادہ ضعیف“ کہا ہے (أبو داود، سليمان بن الأشعث السجستاني، سنن أبي داود، المحقق: شعيب الأرنؤوط، دار الرسالة العالمية، بيروت، 2009 م ، 219/6) یعنی اس کی سند ضعیف ہے لیکن مرزا صاحب نے شیخ شعیب ارنؤوط رحمہ اللہ کی تحقیق نقل نہیں کی کیونکہ وہ ان کے سوچے سمجھے نتائج کے خلاف تھی اور اپنے قارئین سے وہ ان کی تحقیق کو چھپانا چاہتے تھے۔ تو خلاصہ کلام یہی ہے کہ اول تو اس روایت کی تصحیح اور تضعیف میں اختلاف ہے تو ایک اختلافی حدیث کو آپ کیسے بنیادی دلیل بنا سکتے ہیں جبکہ اختلاف کرنے والے محقق، آپ کے مصادر تحقیق میں بھی شامل ہوں۔ دوسرا اگر ہم علامہ البانی رحمہ اللہ اور شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تحقیق پر بھی اعتماد کر لیں تو بھی یہ روایت ”صحیح“ درجے کی روایت نہیں ہے بلکہ اس سے کم تر درجے کی روایت ہے یعنی ”صحیح الاسناد“ روایت ہے جو صحیح اور ضعیف روایت کے مابین ایک درجہ ہے۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے یہ الزام ثابت نہیں ہے بلکہ صحیح روایات تو اس کے خلاف ہیں۔
چوتھا نکتہ یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اگر یہاں اس روایت میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کی ہے تو اپنے اسی کتابچے میں انہوں نے بعض مقامات پر بعض احادیث کی تحقیق کے معاملے میں علامہ البانی رحمہ اللہ کے قول کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ ان کے مزعومہ نتائج کے خلاف تھی۔ مرزا صاحب کی یہ ساری تحقیق pick and choose کے اصول پر کھڑی ہے اور اس میں تعصب بہت زیادہ موجود ہے۔ اسی طرح امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو منکر کہا ہے، (ابن كثير إسماعيل بن عمر، البداية والنهاية، دار الفكر، بيروت، 1986 م، 36/8) چلیں امام ابن کثیر رحمہ اللہ تو مرزا صاحب کے کتابچے کے مصادر میں نہیں ہیں لیکن شیخ شعیب ارنووط رحمہ اللہ تو ہیں ناں۔ تو جو شخص مرزا صاحب کے مصادر میں ہے، اسے بھی وہ مکمل نقل نہیں کرتے، صرف اپنی مرضی کے نتائج کے لیے نقل کرتے ہیں، بھلے وہ علامہ البانی رحمہ اللہ ہوں، شیخ شعیب ارنؤوط رحمہ اللہ ہوں، یا شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ہوں۔ تو مرزا صاحب نے اپنے کتابچے میں مختلف محققین کی تحقیق میں سے اپنے نتائج سے میل کھانے والی تحقیقات اٹھا کر ایک کھچڑی پکائی ہے اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس کھچڑی کی نسبت ان سب محققین کی طرف کرنے کا تاثر بھی دیے جا رہے ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ معجم الطبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دے کر کہا کہ اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو چیزوں سے منع کیا اور میں بھی تمہیں ان نو چیزوں سے منع کرتا ہوں؛ نوحہ کرنے سے، شعر سے، دور جاہلیت کی طرح عورتوں کے بن سنور کر باہر نکلنے سے، تصاویر سے، درندوں کی کھالوں سے، موسیقی سے، سونے سے، بدکاری سے اور ریشم سے۔
(الطبراني، سلیمان بن أحمد، المعجم الكبير، مكتبة ابن تيمية، القاهرة، الطبعة الثانية، 1994 م، 373/19)
اس روایت کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے
(الألباني، ناصر الدین، صحیح الجامع الصغیر وزياداته، المكتب الإسلامي، بيروت، 1163/2-1164)
لیکن مرزا صاحب کو اپنے کتابچے میں یہ روایت نقل کرنے کی توفیق نہ ہوئی کیونکہ یہ ان کے مقصد کے خلاف جا رہی ہے اور وہ مقصد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو گندا کرنا ہے۔ پھر اس روایت کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”صحیح الاسناد“ بھی نہیں بلکہ ”صحیح“ کہا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ ان کے کتابچے کے مصادر میں ہیں۔ تو ایک ہی موضوع پر ایک ہی محقق سے ”صحیح“ روایت مرزا صاحب نے نہ لی لیکن اس سے درجے میں کم ”صحیح الاسناد“ روایت لے لی، کیوں؟
چھٹی بات یہ کہ جب مرزا صاحب ایک موضوع پر ایک روایت لے آئے ہیں تو دیانت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس کے خلاف اگر کوئی روایت موجود ہے تو اس کا بھی ذکر کریں اور حق بات نہ چھپائیں۔ لہٰذا اس کتابچے کے پہلے صفحے پر مرزا صاحب نے جو الزام علماء کو دیا ہے کہ وہ حق بات چھپاتے ہیں، تو اس کتابچے کے مطالعے سے صاف نظر آ رہا ہے کہ یہی کام مرزا صاحب نے پورے دھڑلے سے اس کتابچے میں کیا ہے۔ تو یہ کتابچہ تحقیق کے کن اصولوں پر مرتب ہوا ہے؟ ایک ہی اصول ہے؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی طرح سے عدالت اور کردار میں گندا ثابت کرنا ہے۔ لہٰذا وہ ان کے بارے میں مروی ہر اچھی بات چھپا لیتے ہیں یا پھر اس کی من گھڑت تاویل کر دیتے ہیں حالانکہ وہ صحیح روایات سے ثابت ہوتی ہے اور ان کے بارے میں ہر گھٹیا بات نقل کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں حالانکہ وہ بات جن روایات میں مروی ہوتی ہے، وہ روایات صحیح نہیں ہوتیں یا ضعیف ہوتی ہیں۔
اس کتابچے کی ایک اور بات جو نوٹ کرنے والی ہے، وہ یہ کہ مرزا صاحب جب جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا ان کے ساتھی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مثلاً عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ وغیرہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کے ساتھ ”سیدنا“ کا لفظ نہیں لکھتے لیکن جب جب کسی دوسرے صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ آتا ہے تو ہر جگہ ان کے نام کے ساتھ ”سیدنا“ کا اضافہ کرتے ہیں حالانکہ یہی معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سابقہ کتابچے ”رافضیت، ناصبیت اور یزیدیت کا تحقیقی “ میں ”سیدنا“ لکھتے رہے ہیں۔ یہ دوسرا کتابچہ نومبر 2012ء میں شائع ہوا ہے کہ جس میں مرزا صاحب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ”سیدنا“ لکھتے رہے، اور ان کی غلطی کو اجتہادی خطا کہتے رہے، اور یہ بھی لکھتے رہے کہ جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں شامل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک گنا اجر ملے گا۔ ( محمد علی مرزا، رافضیت، ناصبیت اور یزیدیت کا تحقیقی جائزہ، نوجوانان اہل سنت اسلام آباد، اسلام آباد، 2012،ص 3) ان کا چار صفحوں کا یہ تحقیقی مقالہ ریسرچ پیپر (5a) کہلاتا ہے لیکن اسی ریسرچ پیپر کی دوسری قسط یعنی (5b) بعنوان ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر: 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں“ ان کا یہ موقف تبدیل ہو چکا تھا اور ”سیدنا“ معاویہ رضی اللہ عنہ اب نہ صرف محض معاویہ رضی اللہ عنہ بن چکے تھے بلکہ وہ شرابی، بدعتی، فاسق و فاجر یعنی گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والے اور باغی بھی تھے بلکہ واجب القتل بھی تھے۔ ٹھیک ہے کہ ایک سوچنے سمجھنے والے انسان کے موقف میں ارتقاء ہوتا ہے لیکن سمجھدار انسان علی الاعلان اپنے پہلے موقف سے رجوع کرتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے کہ اب میں دوسرا موقف اختیار کرنے جا رہا ہے۔ تو ان کے ریسرچ پیپر (5b) میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی کہ انہوں نے (5a) سے رجوع کیا ہو بلکہ دونوں کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ ان کی نظر میں دوسرا پہلے کا تتمہ ہے لیکن دونوں میں ان کی طرف سے پیش کردہ موقف کا تقابلی جائزہ لیں تو تضادات کا مجموعہ ہے۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک بندہ اگر اتنا بے وقوف ہو کہ اسے یہ بھی نہ معلوم ہو سکے کہ اس کا پہلا موقف کچھ تھا اور دوسرا کچھ ہے اور وہ پہلے کو اجمال اور دوسرے کو تفصیل بناتا رہے حالانکہ دونوں متضاد موقف ہوں تو اس کی تحقیق کا لیول کیا ہو گا!