قبر پرستوں کے مضحکہ خیز 5 خیالات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

قبر پرستوں کے مضحکہ خیز خیالات

● بعض لوگوں کا یہ گمان رکھنا دین اسلام کے خلاف ہے کہ فلاں شہر میں انبیاء و صالحین کی قبریں ہیں اس لیے وہاں مشکلات و مصائب کا نزول نہیں ہے۔
● اسی طرح یہ خیال کرنا بھی غلط ہے کہ بغداد میں مصائب اس لیے مل جاتے ہیں کہ وہاں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور بشر الحافی اور منصور بن عمار کی قبریں ہیں۔
● اور شام میں اس لیے وباء داخل نہیں ہوتی کہ وہاں انبیاء اور خصوصاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قبریں ہیں۔
● اور مصر اس لیے محفوظ ہے کہ وہاں نفیسہ وغیرہ کی قبور ہیں۔
● اور حجاز میں اس لیے دبا کا آنا مشکل ہے کہ وہاں رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ اور اہل بقیع کا مسکن ہے۔
یہ سب بدگمانیاں ہیں جو دین اسلام اور کتاب و سنت اور اجماع امت کے خلاف ہیں۔
بیت المقدس ہی کو دیکھ لیجیے کہ وہاں کتنے ہی انبیاء و صالحین کی قبریں تھیں۔ جب انہوں نے (وہاں کے رہنے والوں نے) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی مخالفت کی تو ان پر ایسے حاکم مسلط کر دیے گئے جنہوں نے انہیں اس نافرمانی کا مزہ چکھا دیا۔