عبادت اللہ کی طریقہ رسول اللہ کا
تمام علماءِ امت کا مندرجہ ذیل باتوں پر اتفاق ہے:
● اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کسی کی نہیں۔
● اللہ تعالیٰ کے سوا توکل کسی پر نہیں۔
اور رسول اللہ کے حقوق میں امت کا کوئی شخص شریک اور ساجھی نہیں، جیسے آپ کے احکامات میں آپ کی لازمی اطاعت و فرمانبرداری ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
”جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی۔“
(4-النساء:80)
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ
”ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن (حکم) کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔“
(4-النساء:64)
رسول اللہ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوگی۔ ارشادِ الٰہی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ
”اے نبی! جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔“
(48-الفتح:10)
بیعتِ رضوان کے موقع پر صحابہ نے یہ عہد باندھا تھا کہ وہ جہاد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے اور جنگ کی صورت میں وہ شہید تو ہو جائیں گے لیکن بھاگنا پسند نہیں کریں گے۔