کنکریوں اور پرندوں سے فال لینے اور ظلم کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

زمین پر کنکریاں مار کر فال لینے کی ممانعت

① قطن بن قبیصہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
العيافة والطيرة والطرق من الجبت
”پرندوں کو اڑا کر فال لینا، بدشگونی لینا اور زمین پر کنکریاں مار کر فال لینا یہ سب شیطانی کام ہیں۔“
ابوداؤد، کتاب الطب 3907، مسند احمد، مسند المكيين 579/3 حدیث 15921۔

ظلم کی ممانعت

① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله ليملي للظالم فإذا أخذه لم يفلته
”اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے چھوڑتا نہیں۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾
”تیرے رب کی پکڑ اسی طرح ہوتی ہے جب وہ ظالم بستیوں والوں کو پکڑتا ہے، اس کی پکڑ یقیناً سخت دردناک ہوتی ہے۔“
بخاری، تفسير القرآن الكريم 4686، مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2583/61۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ظلم قيد شبر من الأرض طوقه الله به إلى سبع أرضين
”جو شخص بالشت برابر ناجائز زمین حاصل کرتا ہے تو اللہ اس کے بدلے میں اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنائے گا۔“
بخاری، کتاب المظالم وغصب 2453، مسلم، کتاب المساقات 1612/142۔

پرندوں کو اڑا کر فال لینے کی ممانعت

① قطن بن قبیصہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
العيافة والطيرة والطرق من الجبت
”پرندوں کو اڑا کر فال لینا، بدشگونی لینا اور زمین پر کنکریاں مار کر فال لینا یہ سب شیطانی کام ہیں۔“
ابو داؤد، کتاب الطب 3907، مسند احمد، مسند المكيين 579/3، حدیث 15221۔