سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اقربا پروری کے الزام کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اقربا پروری کا الزام!

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفہ راشد اور امیر المومنین ہیں۔ آپ کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد ہیں۔ آپ کے دورِ خلافت پر امن وسکون کی چھاپ تھی۔ اسلام کی سربلندی اور فتوحات کا دور دورہ تھا۔ عدل وانصاف کا علم بلند تھا۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اچھا عقیدہ رکھے۔ ان کی شان میں تنقیص نہ کرے۔ ان کی اجتہادی خطاؤں کو ہوا نہ دے۔ بتقاضا بشریت ان سے جو لغزشیں سرزد ہوئی ہیں، ان کے لیے استغفار کرے۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ (233ھ) فرماتے ہیں :
كل من يشتم عثمان أو طلحة أو أحدا من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم دجال لا يكتب عنه وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين .
”جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ یا کسی بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرے، وہ دجال ہے، اس سے حدیث نہ لکھی جائے۔ اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔“
(تاریخ ابن معين برواية الدوري : 2670)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوئی ایسی ہستیاں نہیں تھیں کہ لوگ انہیں کوستے رہیں۔ ان کے خلاف منفی رائے قائم کرتے رہیں۔ تمام صحابہ کا احترام واجب ہے۔ اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔
◈ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب لکھتے ہیں :
”جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جانشین ہوئے، تو رفتہ رفتہ وہ اس پالیسی سے ہٹتے چلے گئے، انہوں نے پے در پے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطا کیے اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایات کیں، جو عام طور پر لوگوں میں ہدف اعتراض بن کر رہیں۔“
(خلافت و ملوکیت ص : 106)
مولانا کا یہ انداز قطعا درست نہیں، سوائے الزام کے اس کی کوئی حقیقت نہیں اور بغیر دلیل کے خلیفہ راشد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوئے ظن ہے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جسے بھی عہدہ پر فائز کیا، اس میں قابلیت کو مدنظر رکھا۔ اگر وہ اس عہدے کا اہل تھا، تو اسے عہدہ دے دیا، خواہ رشتہ دار تھا یا غیر اصل بنیاد قابلیت تھی۔
مودودی صاحب یہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
”اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ اپنے خاندان کے جن لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حکومت کے یہ مناصب دیے، انہوں نے اعلیٰ درجہ کی انتظامی اور جنگی قابلیتوں کا ثبوت دیا اور ان کے ہاتھوں بہت سی فتوحات ہوئیں۔“
(خلافت و ملوکیت ص : 108)
اہل سنت میں سے کوئی بھی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ رائے نہیں رکھتا کہ انہوں نے اپنوں کو نوازا اور غیروں کو نظر انداز کیا۔ یا یہ کہا ہو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنوں پر فیاضی کے حوالے سے غیر محتاط تھے۔
خلیفہ کو اختیار ہے کہ جسے چاہے کوئی منصب تفویض دے، یا کسی کو معزول کر دے۔ دوسروں کو اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں ہے۔ خصوصاً خلیفہ راشد جس کی خلافت علی منہاج النبوت ہو، اس پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
اس پر سہاگہ یہ کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اقربا پروری کے حوالے سے کسی صحابی یا تابعی نے اعتراض نہیں کیا۔
◈ مودودی صاحب لکھتے ہیں :
”جب ولید بن عقبہ کوفہ کی گورنری کا پروانہ لے کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، تو انہوں نے فرمایا : معلوم نہیں، ہمارے بعد تو زیادہ دانا ہو گیا ہے، یا ہم تیرے بعد احمق ہو گئے ہیں؟ اس نے جواب دیا : ابو اسحاق برافروختہ نہ ہو، یہ تو بادشاہی ہے، صبح کوئی اس کے مزے لوٹتا ہے، تو شام کوئی۔ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں، واقعی تم لوگ اسے بادشاہی بنا کر چھوڑو گے۔“
(الاستیعاب لابن عبدالبر : 1554/4، از ناقل ، خلافت و ملوکیت ص : 108)
یہ جھوٹی روایت ہے۔ حکم بن عتیبہ سے نیچے سند معلوم نہیں۔ حکم مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
نیز لکھتے ہیں :
”قریب قریب ایسے ہی خیالات حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی ظاہر فرمائے۔“
(الاستیعاب لابن عبدالبر : 1554/4 از ناقل ، خلافت و ملوکیت ص : 108)
جھوٹی روایت ہے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
جعفر بن سلیمان سے نیچے سند معلوم نہیں ہوسکی۔
ان روایات کی بنا پر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلط تاثر دینا قرین انصاف نہیں۔
◈ مودودی صاحب لکھتے ہیں :
”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کے آخری چھ سالوں میں اپنے رشتہ داروں اور خاندان کے لوگوں کو حکومت کے عہدے دیے اور مروان کے لیے مصر کا خمس (یعنی افریقہ کے اموال غنیمت کا خمس، جو مصر کے صوبے کی طرف سے آیا تھا) لکھ دیا اور اپنے رشتہ داروں کو مالی عطیے دیے اور اس معاملہ میں یہ تاویل کی کہ وہ یہ صلہ رحمی ہے، جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ انہوں نے بیت المال سے روپیہ بھی لیا اور قرض رقمیں بھی لیں اور کہا کہ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما نے اس مال میں سے اپنا حق چھوڑ دیا تھا اور میں نے اسے لے کر اپنے اقربا میں تقسیم کیا ہے۔ اسی چیز کو لوگوں نے ناپسند کیا ہے۔“
(طبقات ابن سعد : 64/3 ، خلافت و ملوکیت ص : 326)
جھوٹی روایت ہے۔
محمد بن عمر واقدی ”متروک وکذاب“ ہے۔
زہری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
زہری نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ امام زہری رحمہ اللہ (58ھ) میں پیدا ہوئے اور (124ھ) میں وفات پائی۔ جبکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات (35ھ) میں ہوئی، بھلا وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کیسے خبر دے سکتے ہیں؟
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
مرسل الزهري ليس بشيء .
”زہری کی مرسل کچھ بھی نہیں۔“
(تاریخ ابن معین بروایۃ الدوری : 1027)
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
مراسيل الزهري رديئة .
”زہری کی مراسیل ردی ہیں۔“
(السنن الکبری : 107/10)
◈ مودودی صاحب لکھتے ہیں :
”افریقہ میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے وہاں کے بطریق سے تین سو قطار سونے پر مصالحت کی تھی۔ فأمر بها عثمان لآل الحكم پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ رقم آلِ حکم یعنی مروان بن حکم کے باپ کے خاندان کو عطا کر دینے کا حکم دیا۔“
(تاریخ طبری : 314/3 ، خلافت و ملوکیت ص : 327)
یہ واقدی کی گھڑنتل ہے۔ محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ محمد بن کعب سن (40ھ) میں پیدا ہوئے اور (120ھ) میں فوت ہوئے۔ جبکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات (35ھ) کو ہوئی۔ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق خبر کیسے دے سکتے ہیں؟
◈ مودودی صاحب لکھتے ہیں :
”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود ایک موقع پر ایک مجلس میں جہاں حضرت علی، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ان کے مالی عطایا پر اعتراضات زیر بحث تھے، اپنے طرز عمل کی یہ تشریح فرمائی : میرے دونوں پیش رو اپنی ذات اور اپنے رشتہ داروں کے معاملے میں سختی برتتے رہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے رشتہ داروں کو مال دیا کرتے تھے، میں ایک ایسے خاندان سے ہوں، جس کے لوگ قلیل المعاش ہیں۔ اس وجہ سے میں نے اس خدمت کے بدلے میں، جو میں اس حکومت کی کر رہا ہوں، اس مال میں سے روپیہ لیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسا کرنے کا حق ہے۔ اگر آپ لوگ اسے غلط سمجھتے ہیں، تو اس روپے کو واپس کرنے کا فیصلہ کر دیجئے۔ میں آپ کی بات مان لوں گا، سب لوگوں نے کہا: آپ نے یہ بات بہت ٹھیک فرمائی۔ پھر حاضرین نے کہا: آپ نے عبداللہ بن خالد بن اسید اور مروان کو روپیہ دیا ہے، ان کا بیان تھا کہ یہ رقم مروان کو پندرہ ہزار کی اور ابن اسید کو پچاس ہزار کی مقدار میں دی گئی ہے، چنانچہ یہ رقم دونوں سے بیت المال کو واپس دلوائی گئی اور لوگ راضی ہو کر مجلس سے اٹھے۔“
(تاریخ طبری : 345/4 ، خلافت و ملوکیت ص : 328)
روایت سخت ضعیف ہے، اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ قرشی ضعیف و منکر الحدیث راوی ہے۔ اسے احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، بخاری، فلاس، ابو حاتم، ابو زرعہ، نسائی، ترمذی، عبجلی، ساجی، ابن حبان، محمد بن سعد، دار قطنی، ابن عدی اور عقیلی وغیرہم رحمہم اللہ نے ضعیف، منکر الحدیث اور متروک الحدیث قرار دیا ہے۔
◈ مودودی صاحب لکھتے ہیں :
”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جن لوگوں کو میں نے عہدے دیے ہیں، انہیں آخر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی تو عہدوں پر مامور کیا تھا، پھر میرے ہی اوپر لوگ کیوں معترض ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: عمر رضی اللہ عنہ جس کو جس جگہ کا حاکم مقرر کرتے تھے، اس کے متعلق اگر انہیں کوئی قابل اعتراض بات پہنچ جاتی تھی، تو وہ بری طرح اس کی خبر لے ڈالتے تھے، مگر آپ ایسا نہیں کرتے۔ آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی برتتے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ آپ کے بھی تو رشتہ دار ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
لعمري إن رحمهم مني لقريبة، ولكن الفضل فى غيرهم .
”بے شک میرا بھی ان سے قریبی رشتہ ہے، مگر دوسرے لوگ ان سے افضل ہیں۔“
(تاریخ طبری : 338/4 ، خلافت و ملوکیت ص : 331)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا عمر رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو گورنر نہیں بنایا تھا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: عمر رضی اللہ عنہ کا غلام یرفأ بھی ان سے اتنا نہ ڈرتا تھا، جتنے معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے ڈرتے تھے۔ اب یہ حال ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ آپ سے پوچھے بغیر جو چاہتے ہیں، کر گزرتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا حکم ہے۔ مگر آپ انہیں کچھ نہیں کہتے۔“
جھوٹی روایت ہے۔
➊ واقدی نے اسے گھڑا ہے۔
➋ عبداللہ بن مسلم بن عبید اللہ قرشی کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع ولقا نہیں۔
◈ مودودی صاحب لکھتے ہیں :
”مدینے میں جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ہر طرف نکتہ چینیاں ہونے لگیں اور حالت یہ ہوگئی کہ چند صحابہ زید بن ثابت، ابواسید الساعدی، کعب بن مالک اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم کے سوا شہر میں کوئی صحابی ایسا نہ رہا، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حمایت میں زبان کھولتا۔“
(تاریخ طبری : 338/4 ، خلافت و ملوکیت ص : 330)
جھوٹی روایت ہے۔
➊ واقدی نے اسے گھڑا ہے۔
➋ عبد اللہ بن مسلم بن عبید اللہ قرشی کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع ولقا نہیں۔
لگتا ہے کہ یہ روافض کی گھڑی ہوئی کارستانیاں ہیں، جن کی بنا پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اقربا پروری کی تہمت لگائی جاتی ہے۔
◈ مودودی صاحب لکھتے ہیں :
”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی کا یہ پہلو بلاشبہ غلط تھا اور غلط کام بہر صورت غلط ہے، خواہ وہ کسی نے کیا ہو۔ اس کو خوامخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا نہ عقل وانصاف کا تقاضا ہے اور نہ دین ہی کا یہ مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ مانا جائے، مگر واقعہ یہ ہے کہ اس ایک پہلو کو چھوڑ کر جملہ پہلوؤں سے ان کا کردار بحیثیت خلیفہ ایک مثالی کردار تھا، جس پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں، علاوہ ازیں ان کی خلافت میں بحیثیت مجموعی خیر اس قدر غالب تھی اور اسلام کی سربلندی کا اتنا بڑا کام ان کے عہد میں ہورہا تھا کہ ان کی پالیسی کے اس خاص پہلو سے غیر مطمئن ہونے کے باوجود عام مسلمان پوری مملکت میں کسی جگہ بھی ان کے خلاف بغاوت کا خیال تک دل میں لانے کے لیے تیار نہ تھے۔“
(خلافت و ملوکیت ص : 116)
مودودی صاحب جس پالیسی کا ذکر کر رہے ہیں، اس کی حقیقت آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں، مزید کہنے کی ضرورت نہیں۔ یہ محض روافض کی وکالت ہے۔ جھوٹی روایات کی بنا پر ایک خلیفہ راشد کی شخصیت کو دبے لفظوں میں داغ دار کرنا ایمان کا نقصان ہے۔

تنبیہ :

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن کیا جاتا ہے کہ آپ نے حکم بن ابی العاص اور ان کے بیٹے مروان، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلا وطن کر دیا تھا، انہیں اپنے دور خلافت میں مدینہ واپس بلا لیا تھا۔
یہ بے سند اور بے بنیاد واقعہ ہے۔ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم بن ابی العاص اور ان کے بیٹے مروان کو جلا وطن کیا اور نہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ واپس بلایا۔ یاد رہے کہ اسلامی تاریخ میں روافض کی صدیوں سالوں مداخلت رہی ہے۔ بہت ساری بے سند اور بے سروپا باتیں تاریخ کا حصہ بنا دی گئیں۔ جس کو رجال اور سند سے واسطہ نہیں، وہ آنکھیں بند کر کے تاریخی روایات پر اعتماد نہ کرے۔ جس نے ایسا کیا، وہ سبیل مومنین سے بھٹک گیا۔

دعوت فکر :

مودودی صاحب تو دنیا سے چلے گئے، اب ان کے ساتھیوں کو چاہیے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق اپنی رائے بدل لیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اقربا پروری جیسا سنگین الزام لگانے سے بچیں۔