فحش گوئی، قطع رحمی اور سنی سنائی بات آگے بیان کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

فحش گوئی کی ممانعت

① سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بد کلام تھے نہ فحش گو تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
إن من خياركم أحسنكم أخلاقا
”تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے تم میں سے اخلاق اچھے ہیں۔“
بخاری، کتاب المناقب 6029، مسلم، کتاب الفضائل 2321/68.
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما كان الفحش فى شيء إلا شانه، وما كان الحياء فى شيء إلا زانه
”جس چیز میں فحش ہو تو وہ اسے بد نما عیب دار بنا دیتا ہے اور جس چیز میں حیا ہو تو وہ اسے مزین کر دیتا ہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1974، ابن ماجه، کتاب الزهد 4185، مسند احمد 3/ 202، حدیث 12695۔
③ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من شيء أثقل فى ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن، فإن الله يبغض الفاحش البديء
”روز قیامت، مومن کے ترازو میں حسن خلق سے زیادہ کسی اور چیز کا وزن نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ فحش گو زبان دراز سے بغض (دشمنی) رکھتا ہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 2002۔

قطع رحمی کی ممانعت

① سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يدخل الجنة قاطع
”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
بخاری، کتاب الادب 5984، مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2556/18۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله خلق الخلق حتى إذا فرغ منهم قامت الرحم فقالت: هذا مقام العائذ بك من القطيعة، قال: نعم أما ترضين أن أصل من وصلك؟ وأقطع من قطعك؟ قالت: بلى قال: فذاك لك
”اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا، حتیٰ کہ جب وہ اس سے فارغ ہو چکا تو صلہ رحمی نے کھڑے ہو کر عرض کی: میرا یوں کھڑا ہونا اس شخص سے تیری پناہ کے لیے ہے جو قطع رحمی کرے گا۔ اللہ نے فرمایا: ہاں ٹھیک ہے، کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اسے ملاؤں گا (اس پر مہربانی کروں گا) جو تجھے ملائے گا؟ اور میں اس سے قطع تعلق کر لوں گا جو تجھے قطع کرے گا؟ اس (رحم) نے عرض کیا: کیوں نہیں، بلکہ میں راضی ہوں۔ اللہ نے فرمایا: پھر ایسے ہی ہو گا۔“
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقرؤوا إن شئتم: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ – إلٰي قَوْلهٖ – أَقْفَالُهَا ﴾
”اگر تم چاہو تو یہ آیت تلاوت کرو: عجب نہیں کہ اگر تم حاکم بن جاؤ۔
بخاری، کتاب الادب 5987، مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2554/16۔

سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنے کی ممانعت

① سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن الله كره لكم قيل وقال، وإضاعة المال، وكثرة السؤال
”یقینا اللہ کو سنی سنائی بات کو بلا تحقیق آگے بیان کرنا، مال ضائع کرنا اور کثرت سوال ناپسند ہے۔“
بخاري، كتاب في الاستقراض و أداء الديون والحجر والتفليس 2408، مسلم، كتاب الاقضية 593/12۔