کلمۂ توحید «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ایمان کی سب سے اعلیٰ شاخ

فونٹ سائز:

کلمۂ توحید اسلام کی بنیاد اور سب سے افضل ذکر

الفرع الثاني: من فضائل شهادة لا إله إلا الله: أنها أعلى شعب الإيمان

دوسری فصل:

کلمۂ شہادت «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ یہ ایمان کی سب سے اعلیٰ شاخ ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: [الإيمان بضع وسبعون -أو بضع وستون- شعبة، فأفضلها قول لا إله إلا الله]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ستر سے اوپر (یا ساٹھ سے اوپر) شعبے (اجزاء) ہیں۔ سب سے افضل جز "لا إله إلا اللهکا اقرار ہے۔

[صحیح البخاری:9]،[صحیح المسلم:35 واللفظ لہ]

قال الطيبي:

[أفضل الذكر: قول لا إله إلا الله، وهي الكلمة العليا، وهي القطب الذي يدور عليها رحى الإسلام، وهي القاعدة التي بني عليها أركان الدين، وهي الشعبة التي هي أعلى شعب الإيمان، بل هو الكل، وليس غيره]

اور امام طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سب سے افضل ذکر «لا إلٰه إلا الله» کہنا ہے۔ یہی سب سے بلند کلمہ ہے، یہی وہ محور ہے جس کے گرد اسلام کی چکی گردش کرتی ہے، یہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کے ارکان قائم کیے گئے ہیں، اور یہی ایمان کی وہ شاخ ہے جو تمام شاخوں سے بلند تر ہے؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی پورا ایمان ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔

[شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن:5/1733]

وقال الصنعاني:

[هذه الكلمة الشريفة هي التي أباح الله الأرواح والأنفس والأموال وصانها بها، وبعث رسله أولهم وآخرهم بدعاء الخلق إليها، كل رسول يقول: [اعۡبدوا اللٰہ ما لکمۡ منۡ الٰہ غیۡرہٗ] [الأعراف: 59]، وهي أعلى شعب الإيمان]

اور امام صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یہی عظیم الشان کلمہ وہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جانوں، نفوس اور اموال کی حرمت قائم فرمائی اور اسی کے ذریعے ان کی حفاظت کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام رسولوں کو، پہلے سے آخری تک، مخلوق کو اسی کلمے کی دعوت دینے کے لیے مبعوث فرمایا۔ ہر رسول یہی کہتا تھا: [اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ] اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، اور یہی ایمان کی سب سے بلند شاخ ہے۔

[التنوير شرح الجامع الصغير (الصنعاني):2/554]