حدیث 9: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کرنے کی حدیث
صحيح البخاري، الطب، باب السحر ، حدیث : 5766
منکرین حدیث کے اعتراضات:
➊ جادو کفر و شرک ہے، یہ کسی صالح انسان پر خصوصاً نبی پر اثر انداز نہیں ہوتا۔
➋ اگر نبی پر جادو کا اثر تسلیم کر لیا جائے تو اس سے شریعت قابل اعتماد نہیں رہتی۔ اس طرح پتہ نہیں چلتا کہ نبی نے فلاں کام وحی کی روشنی میں کیا ہے یا جادو کے اثر کی وجہ سے کیا ہے۔
➌ قرآن کریم نے کفار مکہ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسحور کہا کرتے تھے:
إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا
”تم ایک ایسے آدمی کی پیروی کرتے ہو جس پر کسی نے جادو کر رکھا ہے۔“
(25-الفرقان:8)
لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر تسلیم کرنا کفار کے قول کی تائید کرنا ہے۔
جواب اعتراض اول:
کسی چیز کا حرام ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ اس میں تاثیر نہیں ہوتی، مثلاً کسی نے روٹی چوری کی، یہ روٹی کھانے سے بھوک ختم ہو جائے گی اگرچہ وہ حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں میں تاثیر رکھی ہے۔ حرام میں بھی اللہ تعالیٰ کے اذن سے تاثیر ہوتی ہے اور وہ بندوں کی آزمائش کے لیے ہوتی ہے۔
سحر کی تاثیر کا اثبات قرآن کریم کی بہت سی آیات میں مذکور ہے۔ فرمایا:
وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
”وہ اللہ کے حکم کے سوا کسی کو بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔“
(2-البقرة:102)
نیز فرمایا:
مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ
”جس سے زن و شوہر میں جدائی ڈالتے تھے۔“
(2-البقرة:102)
نیز فرمایا:
فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ
”پھر جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کر دیا اور انہیں خوف زدہ کر دیا۔“
(7-الأعراف:116)
نیز فرمایا:
يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ
”ان کے جادو کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کو (وہ رسیاں) ایسے نظر آنے لگیں جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔“
(20-طه:66)
نیز فرمایا:
وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ
”اور جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے (میں تیری پناہ مانگتا ہوں) جو گرہوں پر پھونکیں مارتی ہیں۔“
(113-الفلق:4)
ان آیات سے ثابت ہوا کہ سحر اور جادو کے لیے اثر ہے اور انبیائے کرام بھی من جملہ بشر ہیں، ان پر بھی جادو اثر انداز ہو سکتا ہے، اس شر کا مقصد سحر آفرینی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سحر کے آثار عام بندوں پر اور انبیاء علیہم السلام پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو سورۂ طہ میں يخيل إليه آیا ہے اور صحیح بخاری کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق يخيل إليه کے لفظ سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام پر سحر صرف ان کی قوت خیالیہ پر پڑتا ہے، اس سے زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں محفوظ رکھتا ہے جبکہ خیال کی تبدیلی تو ایک بیماری کی طرح ہے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام پر غشی طاری ہو سکتی ہے۔
جواب اعتراض دوم:
جب معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام پر سحر کی تاثیر وقتی طور پر خیالی ہوتی ہے، لہذا اس سے شریعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کا واقعہ صرف ایک مرتبہ ہوا، جس کا اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کے بتانے کے ذریعے سے ازالہ کر دیا اور اس مدت میں نزول وحی کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اگر کوئی وحی ہوتی تو صحابہ کرام رضي اللہ عنہم ضرور اسے نقل کرتے یا دشمن ہی اس بات کا پراپیگنڈہ کرتے لیکن اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔
جواب اعتراض سوم:
مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسحور کہا لیکن اس کا حدیث سحر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، جس کی درج ذیل وجوہ ہیں:
➊ اولاً ہم اس کا الزامی جواب دیتے ہیں کہ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا کہ آپ بشر ہیں، کھاتے پیتے ہیں بازاروں میں چلتے ہیں۔ یہ کفار کے دعوے تھے، کیا ہم ان باتوں سے صرف اس لیے انکار کر دیں کہ اس سے مشرکین کی تصدیق ہوتی ہے؟ اگر ایک بات ثابت ہو اور مشرکین اسے کہتے ہوں تو اس سے انکار کرنا کیسے درست ہے؟
➋ مسحور سے مراد وہ شخص ہے کہ سحر کی وجہ سے اس کا اس قدر دماغ خراب ہو کہ وہ مجنون ہو جائے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحر کی وجہ سے مجنون نہیں ہوئے تھے اگرچہ مشرکین نے انبیاء علیہم السلام کو ساحر اور مجنون کہا تھا۔
➌ کفار کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسحور کہنا مکی سورتوں میں مذکور ہے جبکہ سحر کا واقعہ مدینہ طیبہ میں پیش آیا۔ مکی زندگی میں آپ پر کوئی سحر نہیں کیا گیا۔ مشرکین جھوٹ کی بنا پر آپ کو مسحور کہتے تھے، البتہ مدینہ طیبہ میں آپ پر سحر کیا گیا جس کا آپ پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا اور وہ جلد ہی زائل ہو گیا۔