اطاعت رسول کے بغیر مکہ و مدینہ سکونت بھی مفید نہیں
قبر مکرمہ یا کسی دوسری قبر پر اعتکاف کرنا یا اس کے قریب بیٹھ جانے کو کسی عالم کسی صحابی اور خود رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحب قرار نہیں دیا اور نہ ہی کسی قبر کے نزدیک مکان بنانے کا قصد کرنا چاہیے۔ مدینہ طیبہ میں اس شخص کو فضیلت حاصل ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے جیسے وہ لوگ جنہیں ہجرت کا حکم تھا۔ اس وقت بلاشبہ مدینہ منورہ میں رہائش مکہ مکرمہ سے بھی افضل تھی بلکہ مدینہ منورہ میں رہنا واجب تھا لیکن فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لا هجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية“
فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں۔ البتہ جہاد اور نیت ہے۔
صحيح بخاري كتاب الجهاد : باب فضل الجهاد والسير (حديث : 2783) صحيح مسلم كتاب الامارة : باب المبايعة بعد الفتح على الاسلام (حدیث : 83/ 1864، 1353)
فتح مکہ کے بعد جو شخص مکہ مکرمہ یا کسی اور جگہ سے مدینہ منورہ اس نیت سے جاتا کہ وہاں رہائش اختیار کرے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس جانے کا حکم دے دیتے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج کے موقع پر لوگوں کو مکہ چھوڑنے کا حکم دیتے تاکہ اہل مکہ کو تکلیف نہ ہو اور وہ تنگی محسوس نہ کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بوقت ہجرت دوسرے علاقوں میں ولایت وغیرہ کی ذمہ داری سونپ کر بھیج دیا کرتے تھے۔
جب مدینہ منورہ دارالہجرت تھا اس وقت بھی اطاعت رسول کرتے ہوئے مدینہ سے دور جانا افضل ترین ٹھہرا تو ہجرت کے بعد کا کیا حکم ہوگا؟ یہ اس شخص کی بات ہے جسے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نفع بخش ہو اور جو شخص ایسا نہیں ہے تو اسے قبر مکرمہ کا قرب فائدہ مند نہ ہوگا۔ جیسے صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”يا فاطمة بنت محمد لا أغني عنك من الله شيئا يا صفية عمة رسول الله لا أغني عنك من الله شيئا يا عباس عم رسول الله لا أغني عنك من الله شيئا“
”اے میری تخت جگر فاطمہ! میں اللہ کے ہاں تمہاری کسی قسم کی کفایت نہ کر سکوں گا۔ اے میری پھوپھی صفیہ! میں اللہ کے ہاں تمہاری کسی قسم کی کفایت نہ کر سکوں گا۔ اے میرے چا عباس میں اللہ کے ہاں تمہاری کسی قسم کی کفایت نہ کر سکوں گا۔“
صحيح بخاري كتاب التفسير : سورة الشعراء (حديث : 4772) صحیح مسلم، کتاب الايمان : باب قوله تعالى (وانذر عشيرتك الاقربین) (حدیث : 204، 206)
ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إن آل أبى فلان ليسوا لي بأولياء إنما ولي الله وصالح المؤمنين“
”ال بنی فلاں میرے اولیاء نہیں اللہ تعالیٰ اور صالح مومنین کے سوا میرا کوئی ولی اور دوست نہیں ہے۔“
صحیح بخاری کتاب الادب باب قبل الرحم ببلالها حديث: 5990 صحیح مسلم کتاب الایمان: باب موالاة المؤمنين و مقاطعة غيرهم (حديث: 215)
ایک دوسرے موقع پر ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”إن أوليائي إلا المتقون حيث كانوا ومن كانوا“
”متقین جہاں بھی ہوں وہ میرے ولی اور دوست ہیں۔“
مسند احمد (235/5) نحو المعنی
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا
”یقیناً اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں۔“
(22-الحج:38)
رشد و ہدایت اللہ اور رسول کی اطاعت میں
مومنین جہاں بھی ہوں اللہ کریم ان کے ایمان کی وجہ سے ان کی مدافعت کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبات میں فرمایا کرتے تھے کہ:
”من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولن يضر الله شيئا“
”جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ رشد و ہدایت پر ہے اور جو ان کی مخالفت کرتا ہے وہ اپنی ہی ذات کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔“
سنن ابی داؤد کتاب الصارة: باب الرجل يخطب على قوس (حديث: 197) و اسنادہ ضعیف اس کی سند میں ابو عیاض راوی مجہول ہے۔
فرمان الہی ہے:
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا ﴿٦٩﴾
”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔“
(4-النساء:69)