ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا
① سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر
سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔
ابوداؤد، کتاب الملاحم 4344، ترمذی، کتاب الفتن 2174۔
② سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں رکاب میں تھا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كلمة حق عند سلطان جائر
ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا۔
نسائی، کتاب البيعة 161/6، روایت صحیح ہے۔
فتنوں سے ہاتھ روکنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ويل للعرب من شر قد اقترب، أفلح من كف يده
عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت و تباہی ہے جو قریب پہنچ چکا ہے۔ جس نے اپنا ہاتھ روک لیا وہ کامیاب ہو گیا۔
ابوداؤد، کتاب الفتن والملاحم 4249، روایت صحیح ہے۔
فتنوں میں گھروں میں بیٹھے رہنے کے احکامات
① سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”يا أبا ذر!“
”اے ابوذر!“
میں نے عرض کیا، میں حاضر ہوں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كيف أنت إذا أصاب الناس موت يكون البيت فيه بالوصيف؟
”تمہاری اس وقت حالت کیسی ہوگی جب لوگ موت کا شکار ہوں گے اور اس وقت قبر ایک غلام کے بدلے میں ملے گی؟“
میں نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ یا انہوں نے کہا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کام میرے لیے جو پسند فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عليك بالصبر
”تم صبر کو لازم پکڑنا۔“
یا فرمایا:
تصبر
”تم صبر کرنا۔“
پھر فرمایا:
”يا أبا ذر!“
”اے ابوذر!“
میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كيف أنت إذا رأيت أحجار الزيت قد غرقت بالدم؟
”اس وقت تمہاری کیسی حالت ہوگی جب تم زیت (مدینہ کا محلہ) کے پتھروں کو خون سے رنگین دیکھو؟“
میں نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے جو پسند فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عليك بمن أنت منه
”تمہارا جن کے ساتھ تعلق ہے تم انہیں لازم پکڑنا (بس انہی کے ساتھ رہنا)۔“
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شاركت القوم إذن
”پھر تو تم لوگوں کے ساتھ شریک ہو گئے۔“
میں نے عرض کیا: تو پھر آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تلزم بيتك
”اپنے گھر میں ٹک جانا۔“
میں نے عرض کیا، اگر وہ میرے گھر میں آ جائے؟ (تو پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإن خشيت أن يبهرك شعاع السيف فألق ثوبك على وجهك يبوء بإثمك وإثمه
”اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ تلوار کی چمک کے ذریعے تم پر غالب آ جائے گا تو پھر تم اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لینا، اس طرح وہ تمہارے اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹے گا۔“
ابوداؤد، کتاب الفتن والملاحم 4261، ابن ماجه، كتاب الفتن 3958، روایت صحیح ہے۔
② سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کے (ظہور کے متعلق) فرمایا:
كسروا فيها قسيكم، واقطعوا أوتاركم، والزموا جوف بيوتكم، وكونوا كابن آدم
”اس وقت اپنی کمانیں توڑ دینا، اپنی (کمان کی) تانت کاٹ دینا، اپنے گھروں کے اندر ٹک کر بیٹھ جانا اور آدم علیہ السلام کے (اچھے اور بہتر) بیٹے کی طرح ہو جانا۔“
ابوداؤد، كتاب الفتن والملاحم 4259، ترمذی، کتاب الفتن 2204، روایت صحیح ہے۔
جماعت كے ساته منسلك رهنے كے احكامات
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام جابیہ پر ہمیں خطبہ دیا تو کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أراد منكم بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة، فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد
”جو شخص جنت کا عمدہ حصہ چاہتا ہے تو وہ جماعت کے ساتھ منسلک ہو جائے، کیونکہ شیطان اکیلے شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو افراد سے بہت دور ہوتا ہے۔“
ترمذی، کتاب الفتن 2165، مسند احمد، مسند العشرة المبشرة بالجنة 26/1، روایت صحیح ہے۔