نبی کریم ﷺ کے نام ”عاقب“ کا معنی اور ختمِ نبوت پر اس کی دلالت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔

عاقب کا معنی

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا محمد، وأحمد، والحاشر، والماحي، والخاتم، والعاقب .
”میں محمد، احمد، حاشر، ماحی، خاتم اور عاقب ہوں۔“
(مسند الإمام أحمد : 81/4 ، المعجم الكبير للطبراني : 1563 ، وسنده صحيح)
امام حاکم رحمہ اللہ (604/2) نے اس حدیث کو امام مسلم کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن لي أسماء، أنا محمد، وأنا أحمد، وأنا الماحي الذى يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر، الذى يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب الذى لا نبي بعدي .
”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ نے کفر کو مٹایا، میں حاشر ہوں، میرے بعد حشر قائم ہوگا، میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 1523 وسنده حسن)
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن لي أسماء أنا محمد وأحمد والعاقب والماحي والحاشر الذى يحشر الناس على عقبي، والعاقب آخر الأنبياء .
”میرے کئی نام ہیں، میں محمد، احمد، عاقب، ماحی، حاشر ہوں، حاشر اسے کہتے ہیں، جس کے بعد حشر قائم ہو اور عاقب کا معنی آخری نبی ہے۔“
(مسند البزار : 3413 وسنده صحيح)
امام بزار رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔

تنبیہ :

بعض احادیث میں العاقب الذى لا نبي بعده کے الفاظ ہیں، جن کے بارے میں بعض علما کا کہنا ہے کہ یہ امام زہری رحمہ اللہ کا ادراج ہے۔ درست بات یہی ہے کہ عاقب کی تفسیر مرفوعا بھی ثابت ہے اور شاگرد کے پوچھنے پر امام زہری رحمہ اللہ نے بھی کر دی ہے، کیوں کہ مذکورہ بالا حدیث میں صراحت موجود ہے کہ یہ الفاظ مرفوع ہیں۔ مذکورہ بالا احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام عاقب بیان ہوا ہے، اس کا معنی کیا ہے، ملاحظہ ہو :
امام نافع بن جبیر رحمہ اللہ (99ھ) فرماتے ہیں :
أما العاقب فإنه عقب الأنبياء .
”عاقب تمام انبیا کے بعد آنے والے کو کہتے ہیں۔“
(طبقات ابن سعد : 105/1 ، المعرفة والتاريخ للفسوي : 266/3، الشريعة للآجري : 1014، شرح مشكل الآثار للطحاوي : 1151 وسنده صحيح)
امام زہری رحمہ اللہ (125ھ) عاقب کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
الذي ليس بعده نبي صلى الله عليه وسلم .
”جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔“
(مسند الإمام أحمد : 80/4 وسنده صحيح)
امام یزید بن ہارون رحمہ اللہ (206ھ) کہتے ہیں :
سألت سفيان عن العاقب؟ فقال : آخر الأنبياء .
”میں نے امام سفیان بن حسین رحمہ اللہ سے عاقب کا معنی پوچھا، تو کہنے لگے : آخری نبی۔“
(غريب الحديث لأبي عبيد : 243/1 وسنده صحيح)
امام ابو عبید رحمہ اللہ (224ھ) لکھتے ہیں :
كذلك كل شيء خلف بعد شيء ، فهو عاقب له .
”دو چیزوں میں سے بعد میں آنے والی پہلی کی عاقب ہوتی ہے۔“
(غريب الحديث : 243/1)
مشہور لغوی امام، ابن درید رحمہ اللہ (321ھ) لکھتے ہیں :
العاقب : الذى يجيء فى أثر صاحبه، ومنه قول النبى صلى الله عليه وسلم : أنا العاقب لأنه ختم الأنبياء .
”عاقب کا معنی ہے : جو اپنے ساتھی کے بعد آئے، فرمان نبوی ہے : میں عاقب ہوں۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیا کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔“
(جمهرة اللغة : 346/1)
امام اللغۃ، ابو منصور ازہری رحمہ اللہ (370ھ) لکھتے ہیں :
من أسمائه العاقب أيضا معناه آخر الأنبياء .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عاقب بھی ہے، یعنی آخری نبی۔“
(تهذيب اللغة : 138/7)
امام اللغۃ، ابو نصر جوہری رحمہ اللہ (393ھ) لکھتے ہیں :
قول النبى صلى الله عليه وسلم : أنا العاقب، يعني آخر الأنبياء، وكل من خلف بعد شيء، فهو عاقبه .
”فرمان نبوی : میں عاقب ہوں کا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ دو چیزوں میں سے بعد میں آنے والی پہلی کی عاقب کہلاتی ہے۔“
(الصحاح تاج اللغة : 184/1)
لغوی امام ابن فارس رحمہ اللہ (395ھ) لکھتے ہیں :
رسول الله صلى الله عليه وسلم العاقب؛ لأنه عقب من كان قبله من الأنبياء صلوات الله عليهم .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاقب ہیں، یعنی پہلے انبیا کے بعد دنیا میں تشریف لائے۔“
(مجمل اللغة : 395)
مشہور لغوی امام، ابن سیدہ رحمہ اللہ (458ھ) لکھتے ہیں :
العاقب : الآخر، وفي الحديث : أنا العاقب، أى آخر الرسل .
”عاقب کا معنی ہے آخری، حدیث میں جو انا العاقب آیا ہے، اس کا معنی ہے: میں آخری نبی ہوں۔“
(المحكم : 239/1)
قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں :
أنا العاقب جاء مفسرا فى الحديث : الذى ليس بعده نبي يعني أنه جاء آخرهم، قال ابن الأعرابي : العاقب هو الذى يخلف من قبله فى الخير .
”لفظ عاقب نے اس حدیث کی تفسیر کی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا کے آخر میں تشریف لائے ہیں۔ ابن الاعرابی رحمہ اللہ کہتے ہیں : عاقب نام ہے اس کا، جو خیر میں پہلے کے بعد آتا ہے۔“
(مشارق الأنوار : 98/2)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں :
من أسماء رسول الله العاقب، وهو آخر الأنبياء، فإنه خلف من قبله وجاء بعدهم .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام عاقب بھی ہے، جس کا معنی آخری نبی ہے، کیوں کہ آپ اپنے سے پہلے والے انبیا کے بعد تشریف لائے۔“
(غريب الحديث : 111/2)
علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ (606ھ) لکھتے ہیں :
في أسماء النبى صلى الله عليه وسلم العاقب هو آخر الانبياء، والعاقب والعقوب الذى يخلف من كان قبله فى الخير .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام عاقب بھی ہے، معنی اس کا آخری نبی ہے۔ عاقب اور عقوب اسے کہتے ہیں، جو خیر میں پہلوں کے بعد آئے۔“
(النّهاية في غريب الحديث : 268/3)
علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) لکھتے ہیں :
ذهب قوم إلى أن بنزول عيسى عليه السلام يرتفع التكليف، لئلا يكون رسولا إلى أهل ذلك الزمان، يأمرهم عن الله تعالى وينهاهم، وهذا أمر مردود بالأخبار التى ذكرناه من حديث أبى هريرة، وبقوله تعالى : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ، وقوله عليه الصلاة والسلام : لا نبي بعدي، وقوله : وأنا العاقب ، يريد آخر الأنبياء وخاتمهم، وإذا كان ذلك فلا يجوز أن يتوهم أن عيسى ينزل نبيا بشريعة متجددة، وغير شريعة محمد نبينا صلى الله عليه وسلم، بل إذا نزل، فإنه يكون يومئذ من أتباع محمد صلى الله عليه وسلم .
”بعض لوگ کہتے ہیں عیسی علیہ السلام کی آمد کے بعد لوگ شریعت کے مکلف نہیں رہیں گے، اس زمانے کے لوگ شریعت پر عمل کریں گے تو اس سے لازم آئے گا کہ سیدنا عیسی علیہ السلام ان کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اور انہیں اللہ کے اوامر و نواہی سے خبردار کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک مردود اور باطل نظریہ ہے، عیسی علیہ السلام کو ایک نئی شریعت کا پیشرو سمجھنا ہی غلط ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پڑھیں، اللہ کا فرمان ملاحظہ ہو : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ نیز فرمایا میں سب سے آخر میں آنے والا نبی ہوں۔ ان احادیث کے ہوتے یہ خیال ہی نہیں کیا جا سکتا کہ سیدنا عیسی علیہ السلام کوئی نئی شریعت لے کر نازل ہوں گے، بلکہ وہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار بن کر نازل ہوں گے۔“
(صحيح البخاري : 3532 ، صحيح مسلم : 2354 ، التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة : 792/2)
امام اللغہ، ابن منظور افریقی رحمہ اللہ (711ھ) لکھتے ہیں :
العاقب أيضا، ومعناه آخر الأنبياء .
”عاقب کا معنی آخری نبی ہے۔“
(لسان العرب : 165/12)
علامه ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) لکھتے ہیں :
العاقب : الذى جاء عقيب الأنبياء كلهم، وليس بعده نبي، فكان إرساله من علامات الساعة .
”عاقب اسے کہتے ہیں، جو تمام انبیا کے بعد آئے، اس کے بعد کوئی نبی نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 336/4)