اختلاف و قتل اور فتن میں عبادت کرنے کی فضیلت
① سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العبادة فى الهرج كهجرة إلي
اختلاف و فتن میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مترادف ہے۔
مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعة 2948، ترمذی، کتاب الفتن 2201۔
فتن میں نیک عمل کرنے کے احکامات
① سیدنا عتبہ شعبانی بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، میں نے کہا: اے ابو ثعلبہ! آپ اس آیت ﴿عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ﴾ ”تم اپنے ذمہ دار ہو“ (المائدة: 105) کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے اس کے متعلق ایک باخبر شخص سے پوچھا ہے۔ میں نے بھی اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا:
بل ائتمروا بالمعروف وتناهوا عن المنكر حتى إذا رأيت شحا مطاعا وهوى متبعا ودنيا مؤثرة وإعجاب كل ذي ر أى برأيه فعليك بخاصة نفسك ودع عنك العوام فإن من ورائكم أياما الصابر فيهن مثل القابض على الجمر للعامل فيهن مثل أجر خمسين رجلا يعملون مثل عملكم
نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو حتیٰ کہ جب تم دیکھو کہ بخیلی مع حرص کی اطاعت کی جائے، خواہش کی اتباع کی جائے، دنیا کو ترجیح دی جائے اور ہر رائے دہندہ اپنی رائے کو پسند کرے تو پھر تم اپنے ہی ذمہ دار ہو اور عام لوگوں کو چھوڑ دو اس لیے کہ تمہارے بعد ایسے ایام آئیں گے کہ ان میں صابر شخص ہاتھ میں انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہو گا۔ ان ایام میں عمل کرنے والے کے لیے تمہارے جیسے عمل کرنے والے پچاس آدمیوں کی مثل اجر ہو گا۔
عبداللہ بن مبارک بیان کرتے ہیں، عقبہ کے علاوہ دیگر راویوں نے مجھے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں۔ پوچھا گیا:
بل منكم
”ہم میں سے یا ان میں سے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل عملكم
بلکہ تم میں سے (پچاس آدمیوں کی مثل)۔
ابوداؤد، کتاب الملاحم 4341، ترمذی، کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ 3058، روایت حسن ہے۔
فتنوں سے بچنے کا حکم
① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر يفر بدينه من الفتن
وہ زمانہ قریب ہے جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات کی طرف چلا جائے گا اور فتنوں سے راہِ فرار اختیار کر کے اپنے دین کو بچا لے گا۔
بخاری، بدء الخلق 3300،19، ابوداؤد، کتاب الفتن والملاحم 4267۔