عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت
① سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يكفر السنة الماضية والباقية
”اس سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“
مسلم، کتاب الصيام 1162۔ ابو داؤد، کتاب الصوم 2425۔
② سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صيام يوم عرفة إني أحتسب على الله أن يكفر السنة التى قبله ، والسنة التى بعده
”عرفہ کے دن روزے کے متعلق مجھے اللہ سے امید ہے کہ اس سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“
ترمذی، كتاب الصوم 749۔
یوم عرفہ کے دن مقام عرفات میں روزہ رکھنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن (9 ذوالحجہ) میدانِ عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
ابوداؤد، کتاب الصوم 2440۔ ابن ماجه ، کتاب الصيام 1732۔ مسند احمد 406/2۔
ماہ محرم کے روزوں کی فضیلت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم ، وأفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل
”رمضان کے بعد اللہ کے ماہِ محرم کے روزے سب سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد نمازِ تہجد سب سے افضل ہے۔“
مسلم، کتاب الصيام 1163۔ ابو داؤد، کتاب الصوم 2429۔
② سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے سوال کیا تو کہا: رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں؟ انہوں نے اسے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ میں نے ایک آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے سنا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ماہِ رمضان کے بعد آپ مجھے کس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن كنت تريد صياما بعد شهر رمضان فصم المحرم فإنه شهر الله فيه يوم تاب فيه على قوم ويتوب فيه على قوم آخرين
”اگر تم ماہِ رمضان کے بعد روزے رکھنا چاہتے ہو تو محرم کے روزے رکھو اس لیے کہ وہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ہے، اس روز اس نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور اس میں دوسروں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔“
ترمذی، کتاب الصوم 741۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق ضعیف اور نعمان بن سعد مجہول الحدیث ہے۔