نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر 6 قرآنی دلائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

فصل 1:رفع اور نزول عیسیٰ علیہ السلام از روئے قرآن

دلیل اول:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ﴿۵۴﴾إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَىٰ
”اور انہوں (یہودیوں) نے (عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق) تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی جبکہ اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ جب اللہ نے کہا تھا: اے عیسیٰ!“
(3-آل عمران:54-55)
طریقہ استدلال یہ ہے کہ یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کے لیے مختلف منصوبے بنائے جن میں پھانسی پر چڑھانا بھی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے خفیہ تدبیر کے ذریعے سے انہیں قتل ہونے سے بچایا اور وہ تدبیر یہ تھی کہ فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا پورا قبض کرنے والا ہوں۔ اور پورا قبض کرنے کی تفسیر اگلے جملے میں مذکور ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔

دلیل دوم:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ
”بلکہ اللہ نے اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“
(4-النساء:158)
اس آیت میں قتل اور صلیب سے بچانے کا طریقہ اور پورا پورا قبض کرنے کی تفسیر رفع کے ساتھ مذکور ہے۔ اگر مُتَوَفِّيكَ سے موت دینا اور رفع سے درجات بلند کرنا مراد لیا جائے جیسا کہ منکرین مراد لیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی تدبیر کیسے کامیاب قرار پائے گی؟ اس صورت میں تو یہودی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے جان چھڑالی اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو گئی، حالانکہ ایسے نہیں ہوا۔
یہاں رفع سے اس کا حقیقی معنی مراد ہے، یعنی اوپر لے جانا۔ قرآن کریم میں رفع کا مادہ 29 مرتبہ بیان ہوا ہے، ان میں سے 12 مواقع پر اس سے درجات بلند کرنا مراد ہے، اور اکثر مواقع پر درجات کا اشارہ بھی مذکور ہے۔ 17 مواقع پر رفع سے حقیقی معنی اوپر اٹھا لینا مراد ہے۔ ان میں سے بعض آیات یہ ہیں:
وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ
”اور ہم نے تم پر طور کو بلند کیا۔“
(2-البقرة:63)
نیز فرمایا:
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ
”اور جب ابراہیم (اور اسماعیل علیہما السلام بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔“
(2-البقرة:127)
نیز فرمایا:
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ
”اور اس (یوسف علیہ السلام) نے اپنے والدین کو تخت شاہی پر بٹھایا۔“
(12-يوسف:100)
نیز فرمایا:
اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا
”اللہ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو جنہیں تم دیکھتے ہو بغیر ستونوں کے بلند کیا۔“
(13-الرعد:2)
مؤلف محمد ہادی کو قرآن کریم میں یہ آیات نظر نہیں آتیں اور انہیں یہ قاعدہ بھی یاد نہیں کہ جب تک حقیقی معنی کا امکان ہو تو مجازی معنی نہیں لیا جاتا جبکہ قرآن کریم میں مجاز کے وجود سے بھی کئی علماء انکار کرتے ہیں، لہذا اس آیت بل رفعه الله إليه ”بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔“ میں صرف حقیقی معنی مراد ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جہاں رفع درجات کا معنی مراد ہوتا ہے وہاں حرف إِلَى استعمال نہیں ہوتا لیکن یہاں الفاظ إلى اور إليه صاف دلیل ہیں کہ یہاں رفع درجات مراد نہیں، لہذا اس رسالے کے مؤلف کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو علامہ نہ سمجھے بلکہ کسی عالم حق پرست کے سامنے صحیح طور پر زانوئے تلمذ طے کرے۔

دلیل سوم:

بل رفعه الله إليه میں حرف بل سے بھی رفع مسیح ثابت ہوتا ہے کیونکہ حرف بل کے ماقبل اور مابعد میں مغایرت اور منافات ہوتی ہے۔ یہاں بھی وما قتلوه وما صلبوه اسے قتل کیا نہ اسے سولی چڑھایا پہلے فرمایا، پھر جب بل کے ذریعے سے عطف کیا گیا۔ لہذا معلوم ہوا کہ قتل ہوئے نہ انہیں سولی چڑھایا گیا (اور یہود و نصاریٰ میں سے کوئی بھی ان کی طبعی موت مرنے کا قائل نہیں) تو کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔

دلیل چہارم:

فرمانِ الہی ہے:
وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
”اور اہل کتاب میں سے سب کے سب اس (مسیح علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور ایمان لائیں گے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہی دیں گے۔“
(4-النساء:159)
اس میں ابن عباس، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم اور حسن اور ابو مالک کا قول ہے کہ اس آیت میں موته اور به میں جو ضمیر ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے اور اس قول کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام تم میں اتر آئیں گے، وہ عدل و انصاف سے فیصلے کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور مال و دولت کی فراوانی ہوگی یہاں تک کہ مال و دولت کو قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہوگا۔“
پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر تم چاہتے ہو تو اس (مندرجہ بالا) آیت کی تلاوت کرو۔
صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام، حديث: 3448
اس سے واضح ہوا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی اس حدیث سے تفسیر کی اور اس سے یہ استدلال کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔
اگرچہ اس آیت کی تفسیر میں دو دوسرے اقوال بھی ہیں جو عکرمہ، مجاہد اور ضحاک (تابعین) سے منقول ہیں لیکن مرفوع روایت اور صحابی کی روایت جو سند کے لحاظ سے صحیح بھی ہو تو اس کے مقابلے میں تابعی کا قول نہیں قبول کیا جائے گا۔ قول اول کی آیت کے آخری جملے سے بھی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا:
وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ‎
”اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہی دیں گے۔“
(4-النساء:159)
عیسیٰ علیہ السلام کی اس شہادت کا تذکرہ سورۂ المائدہ کے آخر میں مذکور ہے۔ رسالے کے مؤلف محمد ہادی نے تمام مفسرین اور صحیحین کی مذکورہ حدیث کے مقابلے میں صرف امام نووی رحمہ اللہ کا قول بیان کر کے فتویٰ لگایا ہے کہ لوگ بغیر سوچے سمجھے کتاب اللہ پر ظلم کرتے ہیں، پھر انہوں نے تلبیس کر کے اس تفسیر کے بعض لوازمات پر رد کر کے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: جب نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد لوگ اس پر ایمان لائیں گے تو پھر یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے امتی ہو گئے نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے۔
کسی پر ایمان لانے سے اس کا امتی بننا کہاں سے لازم آتا ہے؟ ایمان، تصدیق کرنے اور بات ماننے کو کہا جاتا ہے۔ جو غافل لوگ محمد ہادی کے اس رسالے کو مان لیں، کیا وہ اس کے امتی بن جائیں گے؟
دوسری بات یہ کہی ہے کہ گواہی مجرموں پر دی جاتی ہے نہ کہ ایمان والوں پر۔ یہ تو بالکل نادانوں کی سی بات ہے۔ کیا ہادی صاحب کی نظر سے یہ آیت نہیں گزری؟
لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا
”تا کہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو، اور اللہ کا رسول تمہارا گواہ ہو۔“
(2-البقرة:143)
یہاں عليكم ”تم پر“ کا خطاب صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اور اہل ایمان سے ہے، کیا آپ کے نزدیک وہ مجرم تھے؟

دلیل پنجم:

فرمان الہی ہے:
وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
”اور البتہ وہ قیامت کی ایک نشانی ہے، پس اس نشانی میں شک نہ کرو۔“
(43-الزخرف:61)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابو ہریرہ، ابن عباس، ابو العالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، سدی اور ضحاک رضی اللہ عنہم سے اور ابن جریر رحمہ اللہ نے حسن، مجاہد، قتادہ، ضحاک اور ابن زید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایات نقل کی ہیں کہ انه میں ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور اس سے مراد ان کا قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہونا ہے۔ یہاں علم ”دلیل“ کے معنی میں ہے اور یہ معنی قرآن پاک میں بہت جگہ استعمال ہوا ہے، چنانچہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آسمان سے نزول قیامت کے لیے دلیل ہے اور یہ ان مفسرین کی رائے ہے جو کہتے ہیں کہ یہاں علم علامت کے معنی میں ہے کیونکہ ہر دلیل مدعی کے لیے علامت ہوتی ہے۔ یہاں کسی مفسر نے تحریف نہیں کی، لہذا اس بات پر جناب ہادی کو سخت غصہ آ گیا۔ وہ کہتے ہیں: ”اب قرآن کے الفاظ میں تبدیلی کرنا کون سا اسلام ہے۔ یہاں علم کا معنی علامت اور نشانی کیا گیا ہے، البتہ بعض مفسرین نے انه کی ضمیر کا مرجع قرآن کریم کو بنایا ہے، لیکن ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ قول حقیقت سے بہت دور ہے۔“
اس آیت میں واتبعون کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع فرمان ہوں گے جسے امتی بھی کہا جا سکتا ہے۔ نزول کے بعد وہ صفت نبوت کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع اور امتی ہوں گے۔ دونوں صفات میں کوئی تضاد نہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی اور رسول تھے لیکن آپ نے اگر کبھی اپنے کسی صحابی کے پیچھے مقتدی بن کر نماز پڑھی تو اس وقت آپ کا وصف نبوت زائل نہیں ہوا۔
◈ نوٹ: کسی آیت کی تفسیر میں دو تین یا زیادہ اقوال ثابت ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو اپنی پسند کے مطابق لے لینا اور باقی اقوال چھوڑ دینا یہ مفسر اور عالم کے شایان شان نہیں۔ بلکہ دلیل اور ثبوت کی بنیاد پر راجح معنی لینا چاہیے۔

دلیل ششم:

فرمان الہی ہے:
وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا
”وہ (عیسیٰ علیہ السلام) بچپن اور بڑھاپے میں لوگوں سے باتیں کرے گا۔“
(3-آل عمران:46)
ابن جریر نے ابن زید سے اور صاحب اللباب نے حسین بن الفضیل سے روایت نقل کی ہے کہ بڑھاپے کا زمانہ عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان کی طرف اٹھائے جانے سے پہلے نہیں گزرا بلکہ نزول کے بعد بڑھاپے کی عمر میں لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔ ویسے تو بڑھاپے میں ہر شخص باتیں کر سکتا ہے لیکن عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نزول کے بعد بڑھاپے کی عمر میں ہوں گے۔ آسمان میں ان کی جو عمر گزر گئی وہ چونکہ خرق عادت عمر ہے اسی لیے وہ دنیوی زندگی کے ساتھ شمار نہیں کی جاتی۔ یہ قرآنی دلائل ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے رفع حقیقی اور پھر نزول پر دلالت کرتے ہیں۔