علامہ شبلی نعمانی کے بارے میں اہل علم کی آراء
(سوال): علامہ شبلی نعمانی حنفی صاحب کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
(جواب):
علامہ شبلی نعمانی کا شمار ہند کے مشہور مؤرخین میں ہوتا ہے۔ آپ اردو، فارسی اور عربی سمیت کئی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے، ادیب اور شاعر تھے۔ مذہب میں حنفی تھے اور معتزلی فکر کے حامل تھے۔
علامہ سید ابو الحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں:
[کان مع ذٰلک معجبا برأیہٖ، لا ینقاد لأحد ولو کان برھانہٗ مقنعا، وفیہ شیء من التلون…… کانت عادتہٗ أنہٗ ربما یأخذ رأیا فی أمر من الأمور من رجل، ثم یعرض علی الناس وینسبہٗ إلٰی نفسہٖ، وربما یعرضہٗ علٰی ذٰلک الرجل بعارضة وبلاغة، ویمھد لہ المقدمات کأنہٗ خصیمہٗ فی ذٰلک الأمر، وکان معتزلیا فی الأصول، شدید النکیر علی الأشاعرة]
علامہ شبلی نعمانی خود رائے اور خود پسند تھے، کسی کی بات تسلیم نہیں کرتے تھے، خواہ اس کی دلیل مضبوط اور نا قابل تسخیر ہو۔ علامہ شبلی میں کچھ نہ کچھ تلون (موقع دیکھ کر رنگ بدلتے رہنا) بھی پایا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ مولانا شبلی نعمانی کی عادت تھی کہ جب کسی شخص سے کسی معاملے میں رائے لیتے، پھر اسے اپنی رائے بنا کر لوگوں پر پیش کر دیتے، کبھی رائے کی نسبت بلاغت کے ساتھ اسی شخص کی طرف کر دیتے، مگر اس کے لیے کچھ تمھیدی الفاظ لکھتے کہ گویا وہ اس معاملہ میں ان کے مخالف ہیں۔ علامہ نعمانی اصول میں معتزلی تھے، اشاعرہ پر شدید نکیر کرتے تھے۔
[تکملة نزهة الخواطر: 1242/8]
علامہ تقی عثمانی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:
ان کے بارے میں ندوۃ کے سربراہ کے یہ الفاظ بڑے قابل قدر اور مؤلف کے انصاف کے آئینہ دار ہیں۔
[تبصرے: ص501]
لہذا علامہ شبلی نعمانی کی کتابیں پڑھنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ان کی کتابوں میں کئی باتیں بے اصولی اور گمراہی پر مبنی ہیں۔