کتاب فضائلِ اعمال کا تجزیہ قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اصلاح عقائد

چند لمحات فضائل اعمال کے ساتھ

اللہ رب العزت نے اُمت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو بہترین اُمت قرار دیا۔ اور فرمایا کہ تمہیں لوگوں کی اصلاح کے لیے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، ائمہ محدثین، علماء کرام رحمہم اللہ اجمعین، دین اسلام کی تبلیغ ونشر واشاعت میں ہر طرح سے مصروف عمل رہے۔ لوگوں کو اللہ تعالٰی کے اوامر کو بجالانے اور نواہی سے اجتناب پر ابھارتے. اسی مشن کو لیے ہمارے برصغیر پاک و ہند میں بھی کئی ایک مختلف مذاہب، مسالک و مکاتب فکر کی جماعتیں، تحریکیں شب و روز مصروف ہیں۔ جو اپنے تئیں لوگوں کو دین کی دعوت دے رہے ہیں۔ آج کی اس نشست میں ہم برصغیر کی معروف تبلیغی جماعت کا مختصر جائزہ لیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جماعت کے بندوں میں دعوت دین کا جذبہ، اس کے لیے شب و روز محنت کرنا، اپنا مال و وقت اس میں صرف کرنا۔ یہ سب باتیں موجود ہیں،لیکن کیا صرف نجات کے لیے محنت ہی کافی ہے یا اصلاح عقیدہ و نظریات بھی ضروری ہے۔ ان شاء اللہ” الدین النصیحہ “ کے پیش نظر چند ایک گزارشات عرض کی جائیں گی کہ ہم سب غور کریں کہ آیا یہ دین اسلام ہی ہے، جس کی ہم دعوت دے رہے ہیں؟

پہلا واقعہ :

کتاب ” فضائل اعمال“ کا مختصر تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نے صحیح، ضعیف، موضوع روایات و واقعات نقل کرنے کے ساتھ ساتھ بزرگوں کے ایسے واقعات قلمبند کیے ہیں، جو کہ صراحتاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
سفیان ثوری سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جارہا تھا۔ میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اُٹھاتا ہے، یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے: اللهم صـل على محمد وعلى آل محمد میں نے اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل ہے؟ (یا محض رائے سے) اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا: سفیان ثوری۔ اس نے کہا: کیا عرق والے سفیان؟ میں نے کہا: ہاں! کہنے لگا: تجھے اللہ کی معرفت حاصل ہے؟ میں نے کہا: ہاں ہے۔ اس نے پوچھا: کس طرح معرفت حاصل ہے؟ میں نے کہا: رات سے دن نکالتا ہے۔ دن سے رات نکالتا ہے، ماں کے پیٹ میں بچے کی صورت پیدا کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ نہیں پہچانا۔ میں نے کہا: پھر تو کس طرح پہچانتا ہے؟ اس نے کہا: کسی کام کا پختہ ارادہ کرتا ہوں اس کو فسخ کرنا پڑتا ہے۔ اور کسی کام کے کرنے کی ٹھان لیتا ہوں، مگر نہیں کر سکتا۔ اس سے میں نے پہچان لیا کہ کوئی دوسری ہستی ہے جو میرے کاموں کو انجام دیتی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا۔ میری ماں وہیں رہ گئی (یعنی مرگئی) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے۔ اس سے میں نے اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوا، اس نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا، جس سے وہ بالکل روشن ہو گیا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں ان سے عرض کرنے لگا: آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انہوں نے فرمایا: کہ میں تیرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میں نے عرض کیا: مجھے کوئی وصیت کیجیے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کرے یا اُٹھایا کرے تو اللهم صل على محمد وعلى آل محمد پڑھا کر.
فضائل اعمال، ص: 879-880 – فضائل درود شریف، حکایت نمبر: 46 – مکتبہ رحمانیہ، اردو بازار، لاہور۔
اس واقعہ پر تبصرہ سے قبل اسی سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیں:

دوسرا واقعہ :

امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ہی کی طرف یہ واقعہ منسوب کیا گیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”میں طواف کر رہا تھا، میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہر قدم پر درود پڑھتا ہے۔ اور کوئی تسبیح و تہلیل وغیرہ نہیں پڑھتا۔ میں نے اس سے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ تو اس نے پوچھا تو کون ہے؟ میں نے کہا: میں سفیان ثوری رحمہ اللہ ہوں۔ اس نے کہا: اگر تو اپنے زمانے کا یکتا نہ ہوتا تو میں نہ بتاتا اور اپنا راز نہ کھولتا۔ پھر اس نے کہا: میں اور میرے والد حج کو جارہے تھے۔ ایک جگہ پہنچ کر میرا باپ بیمار ہو گیا۔ میں علاج کا اہتمام کرتا رہا کہ ایک دم ان کا انتقال ہو گیا۔ اور منہ کالا ہو گیا۔ میں دیکھ کر بہت ہی رنجیدہ ہوا اور انا لله پڑھی اور کپڑے سے ان کا منہ ڈھک دیا۔ اتنے میں میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاحب جن سے زیادہ حسین میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور ان سے صاف ستھرا لباس کسی کا نہیں دیکھا، اور ان سے زیادہ بہترین خوشبو میں نے کہیں نہیں دیکھی۔ تیزی سے قدم بڑھاتے چلے آ رہے ہیں۔ انھوں نے میرے باپ کے منہ پر سے کپڑا ہٹایا اور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو اس کا چہرہ سفید ہو گیا۔ وہ واپس جانے لگے تو میں نے جلدی سے ان کا کپڑا پکڑ لیا اور میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، آپ کون ہیں؟ کہ آپ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرے باپ پر مسافرت میں احسان فرمایا: وہ کہنے لگے کہ تو مجھے نہیں پہچانتا میں محمد بن عبد اللہ صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ یہ تیرا باپ بڑا گنہگار تھا، لیکن مجھ پر کثرت سے درود بھیجتا تھا۔ جب اس پر مصیبت نازل ہوئی تو اس کی فریاد کو پہنچا۔ اور میں ہر اس کی فریاد کو پہنچتا ہوں جو مجھ پر کثرت سے درود بھیجے.“
فضائل اعمال، ص: 877- فضائل درود شریف، حکایت نمبر: 43 – مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔

تجزیہ :

ان دو واقعات سے معلوم ہوا کہ:
● محمد رسول اللہ ﷺ غیب جانتے ہیں۔
● لوگوں کی مشکل کشائی کرتے ہیں۔
● غیر محرم عورتوں کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ نعوذ باللہ!

◈قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ:

حالانکہ جو بات غیب جاننے کی ہے، تو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾
آپ کہیے کہ میں تو اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں،سوائے اس کے جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب کا علم رکھتا تو بہت ساری بھلائیاں اکٹھا کر لیتا، اور مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، میں تو صرف ایمان والوں کو جہنم سے ڈرانے والا اور جنت کی خوشخبری دینے والا ہوں۔“
(7-الأعراف:188)
یعنی معلوم یہ ہوا کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم علم غیب نہیں رکھتے۔ جبکہ واقعات مذکورہ سے معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جانے کے بعد بھی لوگوں کے حالات سے باخبر ہیں۔
اور نہ صرف باخبر ہیں، بلکہ فریاد رسی بھی کرتے ہیں، جس کی نفی بھی قرآن کی آیت مذکورہ میں واضح موجود ہے۔ بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو عقیدہ توحید سکھایا کہ:
”جب بھی سوال کرو تو اللہ سے کرنا، اور جب مدد مانگو تو اللہ سے مانگو، اور یہ بات ذہن نشین کر لو کہ اگر ساری اُمت تجھے فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھی ہو جائے تو تجھے اس وقت تک فائدہ نہیں پہنچا سکتی، جب تک اللہ نہ چاہے، اور اسی طرح اگر ساری اُمت تجھے نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔“
سنن الترمذي، كتاب صفة القيامة، رقم: 2516 ـ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تعلیم دیں کہ مدد اللہ سے طلب کرنا، لیکن مذکورہ واقعات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ منسوب کیا گیا ہے کہ میں ہر اس کی فریاد کو پہنچتا ہوں جو مجھ پر کثرت سے درود بھیجے۔ الغرض قرآن وحدیث کی تعلیم کچھ اور ہے اور فضائل اعمال کی کچھ اور۔

تیسرا واقعہ :

اسی طرح ان دو واقعات کے علاوہ تیسرا اسی طرح کا واقعہ یہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک سود خور کے مرنے کے بعد اس کا سر (منہ وغیرہ) سور جیسا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے سر اور منہ درست ہو گیا۔
فضائل اعمال، ص : 876، حکایت نمبر : 43، مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔

تجزیہ :

حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو سود خور کے علاوہ لکھنے والے اور اس کا گواہ بننے والے پر بھی لعنت فرماتے رہے ہیں۔ اور اس خود ساختہ واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سود خور کی سفارش فرمارہے ہیں۔ العیاذ باللہ۔
واقعہ نمبر (1) میں ایک اور بات جو خلاف شریعت واسوہ رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بیان ہوئی ہے کہ آپ نے اس عورت کے منہ اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا، حالانکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو بیان فرماتی ہیں:
والله ما مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يد مرأة قط، غير أنه يبايعهن بالكلام.
یعنی اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک نے کبھی بھی کسی غیر عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا۔ اور آپ عورتوں سے بیعت زبانی لیا کرتے تھے۔
صحیح مسلم، كتاب الإمارة، باب كيفية بيعة النساء رقم : 1866
یہاں ہم اپنے تبلیغی بھائیوں کو دعوت فکر دیتے ہیں کہ آئیں غور کریں کہ حقیقت کیا ہے؟ کتب احادیث میں تو اسوۂ رسول علیہ السلام یہ منقول ہو اور فضائل کی کتاب میں کچھ اور بیان ہوا ہو۔
یہ لکھنے اور بیان کرنے والا کتنا بڑا بزرگ و عالم ہی کیوں نہ ہو۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ لہذا ایسی صورت میں ہم قرآن و حدیث کو ترجیح دیں، کیونکہ بنیاد نجات یہی ہے۔

چوتھا واقعہ عاشق الہی زندہ ہوتا ہے:

زکریا صاحب لکھتے ہیں: شیخ ابو یعقوب سنوسی کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک مرید آیا اور کہنے لگا کہ میں کل کو ظہر کے وقت مر جاؤں گا۔ چنانچہ دوسرے دن ظہر کے وقت مسجد حرام میں آیا، طواف کیا اور تھوڑی دور جا کر مر گیا، میں نے اس کو غسل کیا اور دفن کیا۔ جب میں نے اس کو قبر میں رکھا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ میں نے کہا کہ مرنے کے بعد بھی زندگی ہے۔ کہنے لگا کہ میں زندہ ہوں اور اللہ کا ہر عاشق زندہ ہی رہتا ہے۔
فضائل صدقات، ص: 606، حصه دوم کتب خانه فیضی لاهور، ص 563 – مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اس مرید کو اپنی موت کا علم ہو گیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اللہ کا ہر عاشق زندہ رہتا ہے۔

◈قرآن وسنت کی روشنی میں تجزیہ:

آئیے! اب ہم اس واقعہ کو قرآن اور احادیث کے میزان پر پرکھتے ہیں۔ اگر اس کے مطابق تو سر آنکھوں پر، ورنہ…؟
چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:
‏ ﴿إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾
”بے شک اللہ کو ہی قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے اسے جو ماں کے رحم میں ہوتا ہے۔ اور کوئی آدمی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا، اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ زمین کے کس خطے میں اس کی موت واقع ہوگی، بے شک اللہ بڑا جاننے والا، بڑا با خبر ہے۔“
(31-لقمان:34)
اس آیت مقدسہ میں اللہ رب العالمین نے پانچ باتوں کے بارہ میں بیان فرمایا کہ ان کا علم حقیقی صرف اللہ ہی کو ہے۔ اس کی مزید توضیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک سے ہوتی ہے۔ فرمایا:
غیب کی پانچ کنجیاں ہیں، جنھیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔(1) کوئی نہیں جانتا کہ کل ہوگا؟ (2) کوئی نہیں جانتا کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ (3) کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرے گا؟ (4) کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس خطہ ارضی پر مرے گا؟ اور (5) بارش کے نزول کا بھی کسی کو علم نہیں۔“
صحيح البخاري، كتاب الاستسقاء، باب لا يدري متى يجيء المطر الا الله تعالى، رقم: 1039.
یعنی اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا کہ کسی کو اپنی موت کا علم نہیں۔ اور ہمارے تبلیغی بھائی یہ لکھیں کہ مرید کو موت کا علم ہو گیا۔
مزید آگے چلئے! کیا عاشق الہی زندہ ہوتا ہے؟ قرآن سے پوچھتے ہیں۔ فرمایا:
﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ﴾
”اے میرے نبی! آپ بھی مرجائیں گے، اور یہ لوگ بھی مرجائیں گے۔“
(39-الزمر:30)
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾
اور محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت انبیاء گذر چکے ہیں، تو کیا وہ مر جائیں گے یا قتل کر دیے جائیں گے، تو تم لوگ الٹے پاؤں (دین سے) پھر جاؤ گے، اور جو دین سے الٹے پاؤں پھر جائے گا، تو اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا۔ اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو اچھا بدلہ دے گا۔“
(3-آل عمران:144)
اب یہاں چند ثانیے کے لیے غور کریں کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اللہ سے کون محبت کرنے والا ہے، یا اللہ عز وجل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کس سے محبت کرتا ہوگا؟ یقیناً جواب یہی ہوگا کہ دونوں ایک دوسرے کے محب و محبوب ہیں۔ تو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ہمیشہ زندگی ان کے لیے بھی روانہیں تو اور کون ان سے بڑھ کر اللہ کا عاشق (بقول مرید صاحب کے) ہوگا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وقتی طور پر انکار کیا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں آیت مذکورہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر استدلال کیا۔ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر اتفاق کیا۔
اب مقام غور وفکر ہے کہ اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو یہ فرمائیں کہ بقاصرف اللہ کے لیے ہے، خواہ کوئی بھی ہو، اس نے فوت ہونا ہے۔ لیکن واقعہ مذکورہ میں ہے کہ عاشق زندہ رہتا ہے۔اسی طرز کا ایک اور واقعہ ملاحظہ ہو۔

پانچواں واقعہ روز قیامت مدد :

ابوعلی روز باری کہتے ہیں کہ ایک فقیر میرے پاس عید کے دن آیا، بہت خستہ حال پرانے کپڑے، کہنے لگا: یہاں کوئی پاک صاف جگہ ایسی ہے جہاں کوئی غریب فقیر مر جائے۔ میں نے لا پروائی سے لغو سمجھ کر کہہ دیا کہ اندر آ جا اور جہاں چاہے پڑ کے مر جا۔ وہ اندر آیا، وضو کی، چند رکعات نماز پڑھی اور لیٹ کر مر گیا۔ میں نے اس کی تجہیز و تکفین کی، اور جب دفن کرنے لگا تو مجھے خیال آیا کہ اس کے منہ پر سے کفن ہٹا کر اس کا منہ زمین پر رکھ دوں، تا کہ حق تعالیٰ شانہ اس کی غربت پر رحم فرمائے۔ میں نے اس کا منہ کھولا اس نے آنکھیں کھول دیں۔ میں نے پوچھا: میرے سردار کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے؟ کہنے لگا کہ میں زندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کا ہر عاشق زندہ ہوتا ہے۔ میں کل قیامت میں اپنی وجاہت سے تیری مدد کروں گا۔“
فضائل صدقات، ص: 669، فیضی کتب خانه، لاهور، ص: 570، مکتبہ رحمانیہ، لاہور
اس واقعہ میں بھی چند باتیں مذکور ہیں:
● موت کا علم
● عاشق کا زندہ ہونا
● روزِ قیامت مددگار بننا

تبصرہ:

پہلی دو باتوں پر تو دلائل بیان کیے جا چکے ہیں۔ روزِ قیامت مدد کرنے کی بات تو اس سلسلے میں پہلے (سورۃ الاعراف، آیت: 188) بیان ہو چکی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ: ”آپ کہہ دیں کہ میں تو اپنی ذات کے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔“ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے نفع و نقصان کے مالک نہیں تو اور کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اے جماعت قریش! تم اپنی جانیں اللہ سے خرید لو، (یعنی بچالو) میں اللہ کے ہاں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے بنی عبد المطلب! میں اللہ کے ہاں تمہارے کسی کام نہ آؤں گا۔ اے چچا عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ کے ہاں آپ کے کچھ کام نہ آؤں گا۔ اے صفیہ پھوپھی! میں اللہ کے ہاں آپ کے کچھ کام نہ آؤں گا۔ اے فاطمہ میری لخت جگر! مجھ سے جو مانگنا ہے (یہیں) مانگ لو، میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا۔“
صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب في قوله: وانذر عشيرتك الاقربين، رقم: 206.
شافع روز محشر صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ ارشاد فرمائیں، اور مذکور بزرگ مدد کرنے کا دعوی کریں۔ مقام غور وتدبر ہے۔

چند مزید واقعات :

اسی طرز کے کئی اور بھی واقعات ہیں۔ مثلاً دیکھئے: فضائل صدقات، ص: 660 وغیرہ۔

چھٹا واقعہ پچاس سال تک عشاء و فجر ایک وضو کے ساتھ:

شیخ الحدیث ذکریا صاحب رقمطراز ہیں:
سعید بن المسیب کے متعلق لکھا ہے کہ پچاس برس تک عشاء اور صبح ایک ہی وضو سے پڑھی۔“
فضائل اعمال، ص: 362،674، فیضی کتب خانه لاهور، ص: 443،514، مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔

ساتواں واقعہ چالیس سال تک عشاء وفجر ایک وضو کے ساتھ :

مزید رقمطراز ہیں:
حضرت امام اعظم رحمہ اللہ کے متعلق تو بہت کثرت سے یہ چیز نقل کی گئی ہے کہ یہ تیسں یا چالیس یا پچاس برس عشاء اور صبح ایک وضو سے پڑھی۔“
فضائل اعمال، ص: 362، 674، فیضی کتب خانه، ص: 443، 514، مکتبہ رحمانیہ۔

آٹھواں واقعہ بارہ دن تک ایک ہی وضو سے ساری نمازیں:

لکھتے ہیں:
ایک سید صاحب کا قصہ لکھا ہے کہ بارہ دن تک ایک ہی وضو سے ساری نمازیں پڑھیں، اور پندرہ برس تک مسلسل لیٹنے کی نوبت نہیں آئی، کئی دن ایسے گزر جاتے کہ کوئی چیز چکھنے کی نوبت نہ آتی تھی۔
فضائل، ص: 360، فیضی کتب خانہ، ص: 440، مکتبہ رحمانیہ۔

نواں واقعہ ستر برس تک عبادت میں مشغول:

زکریا صاحب ایک بزرگ کی عبادت کا معمول بایں الفاظ نقل فرماتے ہیں کہ:
حضرت ہناد ایک محدث ہیں، ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی زیادہ روتے تھے۔ ایک مرتبہ صبح کو ہمیں سبق پڑھاتے رہے، اس کے بعد وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر زوال تک نفلیں پڑھتے رہے۔ دوپہر کو گھر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر میں آکر ظہر کی نماز پڑھائی اور عصر تک نفلوں میں مشغول رہے، پھر عصر کی نماز پڑھائی اور قرآنِ پاک کی تلاوت مغرب تک فرماتے رہے، مغرب کے بعد میں واپس چلا گیا۔ میں نے ان کے ایک پڑوسی سے تعجب سے کہا کہ یہ شخص کس قدر عبادت کرنے والے ہیں۔اس نے کہا کہ ستر برس سے ان کا یہی عمل ہے اور اگر تم ان کی رات کی عبادت دیکھو گے تو اور بھی تعجب کروگے.
فضائل اعمال، ص : 362، فیضی کتب خانه، ص : 443 ، مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔

تبصرہ:

اب ان واقعات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بزرگ تارک دنیا تھے اور مشاغل دنیا سے ان کو قطعاً کوئی حاجت نہ تھی، اور ان کی راتیں بھی مصلی پر جاگتے ہوئے عبادت میں گزرتی تھیں۔
یہ تو زکریا صاحب نے بزرگوں کا طرز عمل بیان کیا۔ اب ہم اس ہستی کی جانب نظر دوڑاتے ہیں کہ جن کی زندگی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے، کیا ان کی یہ تعلیمات ہیں؟
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دن کو روزہ رکھتے اور شب بھر قیام فرماتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی خبر ہوئی تو فرمایا:
”اے عبد اللہ! مجھے معلوم ہوا کہ تم دن کو روزہ رکھتے اور رات بھر قیام کرتے ہو؟ عبداللہ نے فرمایا: جی ہاں! فرمایا: ”اس طرح نہ کرو، روزہ رکھو بھی اور چھوڑ بھی دو۔ رات کو قیام بھی کرو اور سویا بھی کرو۔ اس لیے کہ جسم، آنکھوں، بیوی اور مہمان (سب کا) تم پر حق ہے۔“ (یعنی ان کے حقوق ادا کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔)“
صحيح البخاري، كتاب الصوم، باب حق الجسم في الصوم، رقم: 1975.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین صحابی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا معلوم کر کے ان میں سے ایک نے کہا: میں آج کے بعد ساری رات نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، چھوڑوں گا نہیں۔ تیسرے نے کہا: میں کبھی بھی نکاح نہیں کروں گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو انہیں طلب کر کے فرمایا:
أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكني أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني.
اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور خشیت رکھنے والا ہوں لیکن (اس کے باوجود) میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور ترک بھی کرتا ہوں، اور (رات کو) نماز بھی ادا کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور میں نے عورتوں سے نکاح بھی کیے ہوئے ہیں۔ جس نے میری سنت سے منہ موڑا، اس کا میرے ساتھ تعلق نہیں۔“
صحيح البخاري، كتاب النكاح باب الترغيب في النكاح، رقم : 5063.
یہ ہے اسوہ حسنہ! آیا بزرگوں کے مذکورہ بیان کردہ واقعات اس کے مطابق ہیں یا نہیں؟ مقام فکر ہے۔
ہمارے لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نمونہ ہے۔ اگر معاملات و عبادات اس کے مطابق ہے، تو پھر نجات پکی، اور اگر اسوۂ حسنہ کے خلاف معاملہ ہے تو پھر خواہ کتنے بڑے امام و بزرگ کی پیروی کریں، نجات و جنت کی کوئی گارنٹی نہیں۔

دسواں واقعہ قبر پرستی:

مولوی زکریا صاحب نے اپنی اس کتاب میں فضائل اعمال کے نام پر ایسے کثیر واقعات قلمبند کیے ہیں جو عقیدہ توحید و رسالت اور دیگر تعلیمات اسلامی کے خلاف ہیں۔ حضرت صاحب درود کی فضیلت میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں۔ جس سے قبر پرستی کو ہوا ملتی ہے۔ لکھتے ہیں:
بلخ میں ایک تاجر تھا جو بہت زیادہ مالدار تھا اس کا انتقال ہوا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ میراث میں اس کا مال آدھا آدھا تقسیم ہو گیا، لیکن ترکہ میں تین بال بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے موجود تھے، ایک ایک دونوں نے لے لیا، تیسرے بال کے متعلق بڑے بھائی نے کہا کہ اس کو آدھا آدھا کر لیں۔ چھوٹے بھائی نے کہا: ہرگز نہیں، خدا کی قسم! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک نہیں کاٹا جا سکتا۔ بڑے بھائی نے کہا: کیا تو اس پر راضی ہے کہ یہ تینوں بال تو لے لے اور یہ مال سارا میرے حصے میں لگادے۔ چھوٹا بھائی خوشی سے راضی ہو گیا۔ بڑے بھائی نے سارا مال لے لیا اور چھوٹے بھائی نے تینوں موئے مبارک لے لئے۔ وہ ان کو اپنی جیب میں ہر وقت رکھتا اور بار بار نکالتا اور ان کی زیارت کرتا اور درود شریف پڑھتا۔ تھوڑا ہی زمانہ گزرا تھا کہ بڑے بھائی کا سارا مال ختم ہو گیا۔ اور چھوٹا بھائی بہت زیادہ مالدار ہو گیا۔ جب اس چھوٹے کی وفات ہوئی تو صلحاء میں سے بعض نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو کوئی ضرورت ہو اس کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ تعالیٰ شانہ سے دعا کیا کرے۔“
فضائل اعمال، ص: 869 – فضائل درود شریف، ص: 35 – مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔

◈قرآن وسنت کی روشنی میں تبصرہ:

قارئین محترم! مقام غور ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبروں کو پختہ بنانے ، ان پر عمارت بنانے ، ان کی مجاوری سے منع کرتے رہے اور جو یہ دعا کرتے رہے:
اللهم لا تجعل قبرى وثنا.
”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔“
مسند احمد: 246/2
اور اپنے امتیوں کو حکم دیا کہ:
ولا تجعلوا قبرى عيدا
”میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا۔“
سنن ابی داؤد، باب زيارة القبور، رقم: 2042۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
وہ ہستی جو کہ یہود و نصاری پر اس وجہ سے لعنت بھیجے کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تھا۔ وہ کس طرح کسی کی قبر پر آنے کا لوگوں کو حکم دے سکتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھئے گا کہ علمائے دیو بند قبروں سے فیض حاصل کرنے کے قائل ہیں۔ جیسا کہ ان کی کتابوں سے مترشح ہے۔
المهند على المفند .
اسی طرح بزرگوں کی روحوں سے بھی مدد لینے کے بھی منکر نہیں ہیں۔
سوانح قاسمی .

گیارھواں واقعہ قبر سے ہاتھ نکلنا:

جناب شیخ الحدیث صاحب رقمطراز ہیں، مولانا جامی نے ایک نعت لکھی: ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر اس نظم کو پڑھیں گے۔ جب حج کے بعد مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ نے خواب میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ان کو یہ فرمایا: کہ اس کو (جامی کو) مدینہ نہ آنے دیں۔ امیر مکہ نے ممانعت کر دی۔ مگر ان پر جذ بہ وشوق اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف چل دیے۔ امیر مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آ رہا ہے۔ اس کو یہاں نہ آنے دو۔ امیر نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستہ سے پکڑوا کر بلایا، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا۔ اس پر امیر کو تیسری مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کوئی مجرم نہیں بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں، جن کو یہاں آکر میری قبر پر کھڑے ہو کر پڑھنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے گا، جس میں فتنہ ہو گا۔ اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزاز واکرام کیا گیا۔“
فضائل اعمال، ص: 890، مکتبہ رحمانیہ۔

بارھواں واقعہ آخر ہاتھ نکل آیا:

حضرت شیخ لکھتے ہیں:
سید احمد رفاعی رحمہ اللہ کا برصوفیہ میں سے ہیں، ان کا قصہ مشہور ہے کہ جب 555 ھ میں وہ زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور قبر اطہر کے قریب کھڑے ہو کر دو شعر پڑے تو دست مبارک باہر نکالا اور انھوں نے اس کو چوما۔
فضائل اعمال، ص: 890 – مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔
اب ان اشعار کا ترجمہ بھی زکریا صاحب نے نقل کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو: –
● آپ کے فراق سے کائنات عالم کا ذرہ ذرہ جاں بلب ہے اور دم توڑ رہا ہے۔ اے رسول خدا نگاہ کرم فرمائے۔ اے ختم المرسلین رحم فرمائیے۔
● عاجزوں کی دستگیری، بے کسوں کی مدد فرمائیے۔ اور مخلص عشق کی دلجوئی و دلداری کیجیے۔ مزید اشعار کا ترجمہ فضائل اعمال، ص 893 پر ملاحظہ فرمالیں۔

تبصرہ:

الغرض یہ اشعار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کو مخاطب کر کے لکھے گئے ہیں۔ اور آپ سے مدد طلب کی گئی ہے۔ حالانکہ یہ واقعہ بالکل من گھڑت ہے۔ اس واقعہ سے کیا معلوم ہوا یہ کہ:
⟐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مولانا جامی کے ارادے کا تو علم ہو گیا۔ لیکن احمد رفاعی کی آمد کا علم نہ ہوا۔
⟐ جامی کے اشعار پڑھنے پر قبر سے ہاتھ نکلنے پر تو اندیشہ فتنہ تھا لیکن رفاعی صاحب کے اشعار پر ہاتھ نکلا۔ کیا اس سے بھی فتنہ برپا ہوا؟ یہ کیا بات ہوئی کہ ایک مرتبہ ہاتھ نکلے تو اندیشہ فتنہ، دوسری مرتبہ کوئی مسئلہ نہیں۔
⟐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف علم غیب ہے، آپ سینوں کے راز بھی جان لیتے ہیں۔
⟐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں زندہ ہیں اور لوگوں کی پکار سنتے ہیں، تبھی تو اشعار سن کر ہاتھ باہر نکالا۔
⟐ اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس طرح ہاتھ نکلنے میں کیا فلسفہ ہے؟
الغرض یہ واقعہ بالکل تعلیمات اسلام کے خلاف شرک کے چور دروازے کھولتا ہے۔ محترم قارئین! یہ ڈھیر میں سے مٹھی بھر حوالے بھی بیان نہیں کیے۔ ابھی ہم نے وہ حوالے بیان کیے ہیں، جن سے عقیدہ توحید وغیرہ پر کسی نہ کسی طرح زد پڑتی ہے۔ اگر ایسی روایات وغیرہ بیان کرنا شروع کر دی جائیں جو کہ فضائل اعمال میں ضعیف و موضوع ہیں تو ایک مستقل کتاب منصہ شہود پر آجائے گی، لہذا ہم اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سے صرف نظر کرتے ہیں کہ اصل مقصود کتاب کی تردید نہیں، بلکہ لوگوں کو یہ دعوت فکر دینا مقصود ہے کہ جسے ہم گلستان سمجھ رہے ہیں کہیں وہ خارستان تو نہیں؟
آخر میں ایک اہم بات یہ کہ جب قرآن و حدیث میں شرعی امور کے بے شمار فضائل و درجات بیان ہوئے ہیں تو ہمیں ضعیف و موضوع روایات اور دیگر مبنی بر شرک واقعات کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟