قیامت کی نشانی : روما (اٹلی) فتح ہوگا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : روما (اٹلی) فتح ہوگا

عن أبى قبيل قال كنا عند عبد الله بن عمرو بن العاص وسئل أى المدينتي تفت أولا : القسطنطنية أو رومية ؟ فدعا عبد الله يصندوق له خلق قال فأخرج منه كتابا قال فقال : عبد الله بينما نحن حول رسول الله صلى الله عليه وسلم تكتب إذا سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ألى المدينتين تفتح أولا قسطنطنيه أو روسية ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم مدينة هرقل تفتح أو لا يعني قسطنطنيه
ابو قبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : ہم عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ کون سا شہر پہلے فتح ہو گا قسطنطنیہ یا رومیہ (اٹلی) ؟ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک صندوق منگوا کر اس سے ایک کتاب نکالی اور کہا کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے لکھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ قسطنطنیہ پہلے فتح ہوگا یا رومیہ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرقل کا شہر قسطنطنیہ پہلے فتح ہو گا۔
احمد (234/2) دارمی : باب من رخص فى كتابة العلم (486) حاكم (468/4) الذر المنشور (606/6) السلسلة الصحيحة (33/1) (4)

فوائد :

➊ روم کو روما سے موسوم کیا جاتا ہے جو موجودہ دور میں اٹلی کا دارالحکومت ہے۔
معجم البلدان (113/3)
➋ قیامت کی مذکورہ نشانی تا حال ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح اللہ کے رسول کی دوسری پیش گوئیوں کے مطابق روم و ایران، مصر و شام وغیرہ فتح ہوئے اسی طرح روما بھی فتح ہوگا۔ (انشاء اللہ)
➌ روما، قسطنطنیہ کی دوبارہ فتح کے بعد فتح ہو گا۔
➍ حق و باطل کی کشمکش جو روز اول سے شروع ہوئی تا قیامت جاری رہے گی کسی جگہ مسلمان قبضہ پائیں گے تو کسی جگہ شکست و ریخت سے دوچار ہوں گے مگر دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی امت مسلمہ اور دین اسلام کا استیصال نہیں کر سکتیں!
➎ حضرت عبد اللہ نے اپنی لکھی ہوئی حدیث پڑھ کر جواب دیا جس سے منکرین حدیث کے اس غلط نظریے کی تردید ہوتی ہے کہ دور نبوی میں حدیث لکھی نہیں جاتی تھی ! بلکہ بہت سے صحابہ حدیث کو ضبط تحریر میں لانے کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں۔