کتاب فیضانِ سنت کا تجزیہ قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

چند لمحات فیضان سنت کے ساتھ

برصغیر پاک و ہند میں تبلیغی جماعت کے مقابلے میں بریلوی مکتبہ فکر نے کراچی شہر میں مولوی شاہ احمد نورانی صاحب کی رہائش گاہ پر اپنی دعوت کو عام کرنے کی غرض سے ایک جماعت بنام”دعوتِ اسلامی“ قائم کی۔ اور اس کا امیر مولوی الیاس قادری عطار کو مقرر کیا گیا۔ ان کا مرکز کراچی شہر میں ہی پرانی سبزی منڈی پر ہے۔
الیاس قادری صاحب نے تبلیغی جماعت کے نصاب ” فضائل اعمال“ کے مقابلے میں ”فیضانِ سنت“ کتاب مرتب کی۔ جس میں موضوع،ضعیف، بلا سند احادیث و اقوال، عجیب وغریب واقعات کی بھرتی کی۔ جس کا مختصر سا تجزیہ سطور ذیل میں احاطہ تحریر کیا جارہا ہے۔ ان شاء اللہ۔
فیضانِ سنت ابتداء میں مفصل ایک جلد پر مشتمل کتاب تھی، جس کا تفصیلی جائزہ و میٹھی میٹھی سنتیں یا ۔۔۔؟ کتاب میں لیا گیا ہے۔ اب یہ کتاب از سر نو ترتیب کے ساتھ طبع ہوئی ہے۔ جس کے ٹائٹل پر ”تخریج شدہ فیضانِ سنت جلد اوّل“ لکھا ہے۔ اس تخریج شدہ ایڈیشن میں خوابوں، عجیب و غریب واقعات کے ساتھ ساتھ ضعیف و من گھڑت فضائل کی بھر مار ہے۔ اور ایسی ایسی چیزوں کو دین و مذہب کے نام پر پیش کیا گیا ہے ۔ جن کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت میں دور دور تک تذکرہ تک نہیں ملتا۔

مسئلہ نیت :

قرآن و صحیح احادیث میں اخلاص، اور درستگی نیت پر کافی ترغیب دلائی ہے کہ تمام کام خالص رضائے الہی کے مقاصد کے پیش نظر انجام دیے جائیں، لیکن اس میں شریعت نے ہمیں ہر جگہ پابند نہیں کیا کہ فلاں مقام پر، یا فلاں کام کرتے وقت یہ الفاظ زبان سے ادا کرنے ہیں ۔ یا یہ نیت کرنی ہے۔ بلکہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ۔
إنما الأعمال بالنيات.
یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
یہ حدیث بیان کرنے والے ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مخصوص الفاظ، یا مخصوص نظریہ سوائے رضائے الہی کے بیان نہیں کیا۔ لیکن الیاس قادری صاحب ہر ایک کام کی بیسیوں نیتیں بیان کیے جاتے ہیں۔ مثلاً لکھتے ہیں:
”یا اللہ! فیضانِ سنت عام ہو جانے کے تئیس حروف کی نسبت سے اس کتاب کو پڑھنے کی (23) نیتیں ۔“
فیضان سنت، ص 7، مكتبه المدينه، کراچی۔
آگے حضرت نے وہ نیتیں بیان کی ہیں۔
یہ تو ہے امیر دعوت اسلامی کا طریقہ کار۔ اب آئیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی طرف۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مقدس کی تلاوت کے وقت کسی قسم کی کوئی نیت بیان نہیں فرمائی نہ ہی جنتی جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے۔
کیا قرآن سے زیادہ فیضانِ سنت اہم کتاب ہے کہ اس کے لیے خاص اہتمام کیا جا رہا ہے۔ بلکہ اس کے درس دینے کے باقاعدہ طریقے،ص 12،11 پر بیان کیے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قرآن و صحیح احادیث کا درس دیا جاتا۔ اور اس کے سیکھنے سکھانے کی ترغیب دلائی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ” دعوت اسلامی“ کا رکن سینے سے فیضانِ سنت لگائے اور اس کا درس مساجد، مدارس، بازاروں، گلیوں میں دیتا اور اس کا مطالعہ کرتا تو نظر آئے گا۔ لیکن قرآن ان کے ہاتھ میں نظر نہیں آئے گا۔ اس کی وجہ ” فیضانِ سنت،ص: xii “ پر کچھ یوں رقم ہے:

 صرف فیضانِ سنت ہی کا درس:

(19) فیضانِ سنت کے علاوہ مکتبۃ المدینہ سے شائع ہونے والے مدنی رسائل سے بھی درس دے سکتے ہیں۔“
اس پر نمبر 1 ڈال کر حاشیہ کچھ یوں لکھا گیا ہے:
(1) امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسائل کے علاوہ کسی اور کتاب سے درس کی اجازت نہیں۔ مرکزی مجلس شوری۔
معلوم یہ ہوا کہ صرف کتب الیاس قادری ہی کا درس دیا جائے گا۔ وہاں درس قرآن کی اجازت نہیں ہے۔
بات چل رہی تھی نیت کی تو چند اور نیتیں ملاحظہ ہوں۔

کھانے کی نیتیں:

الیاس قادری صاحب کھانے کی نیتیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
کھانے کی 43 نیتیں پیش خدمت ہیں ۔
فیضان سنت،ص:182.
آگے حضرت نے وہ نیتیں بیان کی ہیں۔

 بیت الخلاء جانے کی نیتیں:

الیاس قادری صاحب بیت الخلاء جانے کی 41 نیتیں بیان کرتے ہیں۔
فیضانِ سنت، ص: 641

 وضو کی نیتیں:

الیاس قادری صاحب وضو کی 7 نیتیں بیان فرماتے ہیں۔
فیضان سنت، ص: 642

    اعتکاف کی نیتیں:

فیضانِ سنت،ص 191 اپر اجتماعی اعتکاف کی 41 نیتیں بیان فرماتے ہیں۔

خوشبو کی نیتیں:

الیاس قادری صاحب نے خوشبو لگانے کی صفہ نمبر 1225 پر سینتالیس نیتیں تحریر کی ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ قادری صاحب نے کن ذرائع سے یہ نیتیں تحریر کی ہیں، لیکن یہ بات ہم ان شاء اللہ وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ ان نیتوں کا قرآن و صحیح احادیث سے قطعاً کوئی ثبوت نہیں ملتا، بلکہ یہ حضرت صاحب کی ذہنی اختراع ہے۔
فیضانِ سنت میں قادری صاحب نے عجیب و غریب قصے، کہانیاں، واقعات وخواب نقل کیے ہیں۔ تاکہ لوگ دعوتِ اسلامی میں شامل ہو جائیں۔ دعوتِ اسلامی چونکہ بریلوی مکتبہ فکر کی جماعت ہے۔ لہذا ان کے عقائد بھی وہی ہیں یعنی غیر اللہ سے مدد مانگنا، انھیں مشکل کشا جاننا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نور من نور اللہ، حاضر و ناظر، عالم الغیب ہیں۔ اور ایسے واقعات بھی نقل کیے گئے ہیں، جن سے بزرگوں کا فوت ہو جانے کے بعد مدد کرنا، لوگوں کی راہنمائی کرنا وغیرہ ثابت ہوتا ہے۔ الغرض فضائل اعمال میں بیان کردہ واقعات کی مثل ہیں۔ پس نام و کردار تبدیل ہوتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں: حضرت لکھتے ہیں:
ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان اپنے انداز والفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں، ہمارا مدنی قافلہ ” نا کہ کھارڑی“ (بلوچستان، پاکستان) میں سنتوں کی تربیت کے لیے حاضر ہوا تھا، مدنی قافلے کے ایک مسافر کے سر میں چار چھوٹی چھوٹی گانٹھیں ہوگئی تھیں، جن کے سبب ان کو آدھا سیسی (یعنی آدھے سر) کا درد ہوا کرتا تھا، جب درد اُٹھتا تو درد کی طرف والے چہرے کا حصہ سیاہ پڑ جاتا اور وہ تکلیف کے سبب اس قدر تڑپتے کہ دیکھا نہ جاتا۔ ایک رات اسی طرح وہ درد سے تڑپنے لگے، ہم نے گولیاں کھا کر ان کو سلا دیا۔ صبح اُٹھے تو ہشاش بشاش تھے۔ انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ عز وجل مجھ پر کرم ہو گیا۔ میرے خواب میں سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے بمع چار یار علیہم الرضوان کرم فرمایا۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس کا درد ختم کردو۔ چنانچہ یار غار و یار مزار سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے میرا اس طرح مدنی آپریشن کیا کہ میرا سر کھول دیا اور میرے دماغ میں چار کالے دانے نکالے، اور فرمایا: ”بیٹا! اب تمھیں کچھ نہیں ہوگا۔ واقعی وہ اسلامی بھائی بالکل تندرست ہو چکے تھے،سفر سے واپسی پر انھوں نے دوبارہ چیک اپ کروایا۔ ڈاکٹر نے حیران ہو کر کہا: بھائی کمال سے تمہارے دماغ کے چاروں دانے غائب ہو چکے ہیں۔ اس پر اس نے رورو کر مدنی قافلے میں سفر کی برکت اور خواب کا تذکرہ کیا۔
فیضانِ سنت، ص: 46۔
اس کتاب میں اس طرح کے بیشمار خواب و واقعات میں کسی کا اپینڈکس کا درد صحیح ہو گیا، تو کسی کا ہیپا ٹائٹس سی کا مرض ختم ہو گیا۔ الغرض کہ دعوتِ اسلامی میں شمولیت اور فیضانِ سنت کے درس و مطالعہ کی یہ سب برکات ہیں۔
ہاں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ واقعہ مذکورہ تو خواب ہے، لیکن جناب اس بندے کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم بنفس نفیس تشریف لائے ہیں، کیونکہ بیدار ہونے پر اور ڈاکٹر کو دکھانے پر معلوم ہوا کہ وہ دانے جو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نکالے تھے، غائب تھے۔ اگر یہ خواب ہوتا تو ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کیونکہ خواب خواب، حقیقت حقیقت ہے۔ مثلاً خواب میں کوئی دیکھتا ہے کہ اسے گولی لگ گئی ہے۔ یا وہ اوپر سے نیچے گر گیا ہے، لیکن بیدار ہونے پر اس پر زخم یا چوٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا، کیونکہ معاملہ خواب کا تھا۔ اس بات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جانے کے بعد مع خلفاء اربعہ راشدین رضی اللہ عنہم کے تشریف لائے ہیں۔ اور آپ علم غیب رکھتے ہیں اور لوگوں کی مشکل کشائی کرتے ہیں۔ حالانکہ مذکورہ نظریات صراحتاً قرآن و احادیث کے مخالف ہیں۔

صاحب مزار نے مددفرمائی:

الیاس قادری صاحب نے یہ عنوان قائم کر کے لکھا ہے:
سبحان الله عز وجل! اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالی مزارات میں رہتے ہوئے بھی اپنے مہمانوں کی خاطر مدارات فرماتے ہیں۔
فیضانِ سنت ، ص: 208.
آگے صفحہ 209 پر عنوان قائم کیا ہے:
اولیاء بعد وفات بھی نفع پہنچاتے ہیں۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پہلے کے لوگ بزرگوں کے بارے میں کتنا اچھا عقیدہ رکھتے تھے اور بوقت ضرورت ان سے اپنی حاجتیں طلب کرتے تھے۔ ان کا یہ ذہن بنا ہوا ہوتا تھا کہ اللہ والے بعطائے الہی عزوجل مدد کیا کرتے ہیں۔ بہر حال اولیاء اللہ رحمہم اللہ تعالیٰ اپنے رب کائنات عزوجل کی عنایات سے مزارات میں حیات ہوتے ہیں۔ آنے جانے والوں کی بات سنتے ہیں، ہدایات واستعانت کرتے ہیں۔ اور اپنے گھر والوں کے معاملات کی بھی خبر رکھتے ہیں۔“
قارئین محترم! یہ فکر و فلسفہ لے کر دعوت اسلامی اُٹھی ہے۔ اور اسی کو فیضان سنت و دیگر لٹریچر میں عام کیا گیا ہے۔ تحریر مذکور ہی کو لے لیں۔ اس کی تردید میں ایک مستقل کتاب یہ لکھی جاسکتی ہے اور واضح قرآنی تعلیمات خلاف ہے۔ تفصیل کے شائقین ہماری کتاب شرک کے چور دروازے ملاحظہ فرمائیں۔

◈ رسول اللہﷺ سے دعوی محبت:

عموماً دعوت اسلامی کے بھائی عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں، حالانکہ صرف زبانی دعوؤں سے بات نہیں، بلکہ قرآنی اصول کے مطابق اطاعت و اتباع سے محبت معلوم ہوتی ہے۔ فیضانِ سنت میں قادری صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی قد رعموماً مختلف القابات کے ساتھ ایک سطر یا ڈیڑھ سطر میں لکھا ہے، جس سے عموماً محبت کو ثابت کرنے کا تاثر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اسی کتاب میں مولوی احمد رضا خان بریلوی کا نام قادری صاحب کس انداز سے لکھتے ہیں، ملاحظہ ہو:
”میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت، ولی نعمت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانه شمع رسالت، مجدد دین وملت، حاجی سنت، ماحی بدعت، عالم شریعت، پیر طریقت، باعث خیر و برکت، حضرت علامہ مولانا الحاج الحافظ القاری الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فرماتے ہیں۔
فیضان سنت، ص: 2287
اگر القابات سے محبت والفت کا اندازہ ہوتا ہے تو پھر قادری صاحب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ احمد رضا خان صاحب سے محبت ہے۔ بہر حال پسند اپنی اپنی۔
حاصل کلام یہ کہ اس کتاب فیضانِ سنت میں سنت کے نام پر اپنی آراء کو اور خود ساخته خلاف قرآن و حدیث نظریات کو بیان کیا گیا ہے۔ حالانکہ قرآن و صحیح احادیث میں سنت و اعمال کی اس قدر فضیلت ہے کہ ہمیں کہیں اور سے واقعات تلاش کرنے کی قطعاً حاجت نہیں ہے۔

وصلى الله تعالى على نبينا محمد وعلى اله وأصحابه وسلم