قیامت کی نشانی : دنیا سے محبت اور موت سے نفرت ہوگی
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا ثوبان ! كيف أنت إذا تداعت عليكم الأمم كتداعيكم على قصعة الطعام يصيبون منه قال ثوبان : بأبي وأمي يا رسول الله ؟ أمن قلة بنا؟ قال : لا ، أنتم يومئذ كثير ولكن يلقى فى قلوبكم الوهن قالوا : وما الوهن يا رسول الله ؟ قال حبكم الدنيا وكراهيتكم القتال
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا، اے ثوبان ! اس وقت تمہارا (مسلمانوں کا) کیا حال ہوگا جب (کافر) امتیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جس طرح تم کھانے کے برتن پر ٹوٹ پڑتے ہو؟ ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان یا رسول اللہ ! کیا اس وقت ہم قلت میں ہوں گے؟ فرمایا نہیں بلکہ تم کثرت میں ہو گے لیکن اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں وھن ڈال دیں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ! وھن کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت اور جہاد سے نفرت۔
احمد (473/2) ابو داؤد : كتاب الفتن و الملاحم (4297)
ایک روایت میں ہے کہ : ”دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔“
فوائد :
➊ دنیا سے محبت اور موت سے نفرت قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ اس نشانی کا ظہور وقوع پذیر ہے۔
➌ مسلمانوں کی شکست و ریخت کا بنیادی سبب دنیا سے محبت اور جہاد سے نفرت بتایا گیا ہے۔
➍ آج مسلمان ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں کرہ ارضی پر ہر طرف مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کشمیر ہو یا فلسطین ، بوسنیا ہو یا چیچنیا ہر جگہ مسلمان کشت و خون کا شکار ہیں۔ موجودہ دنوں میں افغانستان کے خلاف بھی ساری امتِ کافرہ مل کر چڑھ دوڑی ہیں اور نہتے عوام کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔
➎ ذلت و پستی اور ظلم و ستم سے محفوظ ہونے کے لئے وسیع پیمانے پر جہادی قوت ، ٹیکنالوجی ، جدید وسائل اور مجاہدانہ سیرت و کردار کے حامل افراد کی ضرورت ہے جو پوری حکمت عملی اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ امت مسلمہ کی صحیح راہنمائی کا بیڑہ اٹھائیں۔