والدین کی نافرمانی کی ممانعت
① سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟
”کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“
ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں نہیں، ضرور بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الإشراك بالله، وعقوق الوالدين.
”اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا:
ألا وقول الزور، ألا وشهادة الزور.
”سن لو! اور باطل و جھوٹی بات، سن لو! اور جھوٹی گواہی“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات تکرار سے فرما رہے تھے، حتیٰ کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ خاموش ہو جائیں۔
بخاری، کتاب الادب 5976، مسلم، کتاب الايمان 143 / 87۔
② سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس.
”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی، (کسی کا ناحق) قتل کرنا اور جھوٹی ڈبو دینے والی قسم اٹھانا کبیرہ گناہ ہیں“۔
بخاری، کتاب الديات 6870، النسائي، التحريم 7 / 82، مسند احمد 3 / 271، حدیث 1998۔
زائد چیزیں خرچ کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا ابن آدم، إنك أن تبذل الفضل خير لك وأن تمسكه شر لك، ولا تلام على كفاف، وابدأ بمن تعول، واليد العليا خير من اليد السفلى.
”اے ابن آدم! اگر تو زائد چیز خرچ کرے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہے، اور اگر تو اسے روک رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا۔ کفایت بھر چیزوں کے بارے میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں، اور جو تیری کفالت میں ہیں ان سے (خرچ کرنا) شروع کر، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے“۔
مسلم، کتاب الزکاة، باب ان الید العلیا خیر من الید السفلی 1036، ترمذی، کتاب الزہد 2343، مسند احمد، باقی مسند الانصار حدیث ابی امامة الباهلی الصدی 5 / 262۔
خوش خبری کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو بعض معاملات کے سلسلے میں کہیں بھیجتے تو فرماتے:
بشروا ولا تنفروا ويسروا ولا تعسروا.
”خوش خبری سنانا، نفرت نہ دلانا، آسانی پیدا کرنا، تنگی پیدا نہ کرنا“۔
بخاری، کتاب الادب 6124، مسلم، کتاب الجهاد والسیر 1733، ابوداؤد، کتاب الادب، باب في کراهیة المراء 483۔
تواضع و انکساری
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما نقصت صدقة من مال، وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا، وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله.
”صدقے سے مال کم نہیں ہوتا۔ درگزر کرنے سے اللہ بندے کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ کی خاطر تواضع و انکساری اختیار کرتا ہے تو اللہ اسے بلندی عطا فرماتا ہے“۔
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2588، ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2029، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 2 / 386، دارمی، کتاب الزکاة 1683۔
② سیدنا عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد ولا يبغي أحد على أحد.
”اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر سرکشی کرے“۔
مسلم، کتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها 2865 / 64، ابو داؤد، کتاب الادب 4895۔