كتاب الكبائر والأمور المنهي عنها
کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجتنبوا السبع الموبقات
”سات مہلک خصلتوں سے بچو۔“
عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التى حرم الله إلا بالحق، وأكل مال اليتيم، وأكل الربا، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات
”اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، جادو، کسی جان کو ناحق قتل کرنا جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، میدانِ جہاد سے فرار ہونا اور پاک دامن بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔“
بخاری، کتاب الوصایا، حدیث 2766، مسلم، کتاب الایمان، حدیث 89/145۔
یتیم کا مال کھانے سے ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجتنبوا السبع الموبقات
”سات مہلک چیزوں سے بچو۔“
پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ فرمایا:
الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التى حرم الله إلا بالحق، وأكل مال اليتيم، وأكل الربا، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات
”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، کسی جان کو جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے ناحق قتل کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، میدانِ جہاد سے فرار اختیار کرنا، بے خبر مومنات پر بہتان لگانا۔“
بخاری، کتاب الوصایا، حدیث 2766، مسلم، کتاب الایمان، حدیث 89/145۔
شراب نوشی پر دوام اختیار کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة: العاق لوالديه، والمرأة المترجلة، والديوث، وثلاثة لا يدخلون الجنة: العاق لوالديه، والمدمن الخمر، والمنان بما أعطى
”تین قسم کے لوگوں کو روزِ قیامت اللہ (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھے گا: اپنے والدین کا نافرمان، مردوں سے مشابہت رکھنے والی عورت اور بے غیرت شخص۔ اور تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے: اپنے والدین کا نافرمان، شراب نوشی پر دوام اختیار کرنے والا اور کوئی چیز دے کر احسان جتلانے والا۔“
نسائی، کتاب الزکاة، 5/ 60، مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، 2/ 182، حدیث 6185۔
برائی کے اظہار کی ممانعت
① سیدنا عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بذریعہ وحی لوگوں کا مواخذہ ہو جایا کرتا تھا۔ اب وحی کا سلسلہ تو منقطع ہو چکا، اب جو شخص ہمارے سامنے خیر و بھلائی ظاہر کرے گا تو ہم اسے امن دیں گے، اس کی تصدیق کریں گے اور اسے اپنے قریب کریں گے اور ہمیں اس کی مخفی باتوں سے کوئی سروکار نہیں، اور جس شخص نے ہمارے سامنے برائی کا اظہار کیا تو ہم اسے امن دیں گے نہ اس کی تصدیق کریں گے اگرچہ وہ کہتا پھرے کہ اس کا باطن صاف ہے۔“
بخاری، کتاب الشهادات 2641۔