مضمون کے اہم نکات
كتاب صفة الجنة
جنت کا بیان
گزشتہ صفحات میں بیان کردہ اعمال اور ان کے فضائل قرآن مجید اور صحیح احادیث سے بیان کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے بیان کیے کہ لوگ ان پر عمل کر کے دنیوی و اخروی اجر و ثواب کے مستحق بن جائیں اور دنیا کی تمام نعمتیں جس کے مقابلے میں حقیر ہیں۔ بندگانِ الہی اس کے وارث بن جائیں اور وہ ہے جنت۔ جس کا مختصر تعارف بیان کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں تو ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ دیکھنا تو درکنار، کسی دل میں ان کا تصور و خیال بھی نہیں آیا۔
◈ جنت کے مختلف نام:
⋆ جنت عدن
⋆ جنت النعيم
⋆جنت الماوى
⋆جنت الخلد
⋆جنت الفردوس
⋆ دار السلام
⋆دار المقامة
⋆دار الحيون
⋆مقام أمين
⋆مقعد صدق
⋆دار المتقين
⋆دار القرار
⋆دار الآخرة
◈ اللہ کا سلام:
لَهُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ ﴿٥٧﴾ سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ ﴿٥٨﴾
ان کے لیے جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے، اور بھی جو کچھ وہ طلب کریں۔ مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔
(36-يس:57 ، 58)
◈ فرشتوں کا سلام:
وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ﴿٢٣﴾ سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ﴿٢٤﴾
اور فرشتے ان پر (جنت کے) ہر دروازے سے داخل ہوں گے (اور کہیں گے کہ) تم پر سلام ہو بوجہ اس کے جو تم نے (دنیا میں تکالیف پر) صبر کیا (اب تمہارے لیے) آخرت کا اچھا گھر ہے۔“
(13-الرعد:23،24)
﴿الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴾
(نیک لوگوں کو جب) انہیں فرشتے فوت کرتے ہیں (تو وہ) خوش ہوتے ہیں، انہیں (فرشتے) کہتے ہیں کہ تم پر سلام ہو، جنت میں داخل ہو جاؤ، بوجہ اس کے جو تم (نیک) عمل کیا کرتے تھے۔“
(16-النحل:32)
﴿وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ﴾
اور انہیں جنت کے نگہبان (فرشتے) کہیں گے کہ تم پر سلام ہو، چین سے رہو، تم اس جنت میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ۔“
(39-الزمر:73)
◈ جنتیوں کا ایک دوسرے کو سلام:
﴿وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ﴾
”داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کیے، ان باغات میں جن کے نیچے نہریں چل رہی ہوں گے وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، اپنے رب کے حکم سے، ان کا وہاں آپس کا سلام و تحیہ سلام علیکم ہوگا۔
(14-إبراهيم:23)
﴿دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۚ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
(جنت میں) ان کی پکار سبحان اللہ ہو گی، اور ان کا باہمی سلام السلام علیکم ہو گا اور ان کی اخیر بات الحمد للہ رب العالمین ہو گی۔“
(10-يونس:10)
◈ اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی:
﴿يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ﴾
”انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی، اور رضامندی کی، اور جنتوں کی، ان کے لیے وہاں دائمی نعمت ہے۔“
(9-التوبة:21)
﴿وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾
”ان ایمان دار مردوں اور عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور ان صاف ستھرے پاکیزہ محلات کا جوان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے، یہی زبردست کامیابی ہے۔“
(9-التوبة:72)
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله عزوجل يقول لاهل الجنة: يا أهل الجنة فيقولون: لبيك، ربنا وسعديك، والخير فى يديك فيقول: هل رضيتم؟ فيقولون: ومالنا لا نرضى؟ يا رب وقد أعطيتنا مالم تعط احدا من خلقك. فيقول: ألا أعطيكم أفضل من ذلك؟ فيقولون: يا رب و أى شيء أفضل من ذلك؟ فيقول: أحل عليكم رضواني، فلا أسخط عليكم بعده أبدا.
اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا، اے جنتیو! وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں اور تیری اطاعت کر کے سعادت مندی کے طالب ہیں، اور تمام بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم راضی ہو گئے ہو؟ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم کیوں راضی نہ ہوں، تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میں تمہیں اس (سب کچھ) سے افضل چیز نہ عطا کر دوں؟ اہل جنت کہیں گے، اس (جنت) سے افضل چیز کون سی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تم پر اپنی رضا مندی نازل کرتا ہوں، آج کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔
صحيح مسلم ، كتاب الجنة ونعيمها ، باب اجلال الرضوان على اهل الجنة، رقم: 2829.
◈ آپس میں گفتگو:
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ﴿٢٥﴾ قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ ﴿٢٦﴾ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ ﴿٢٧﴾ إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلُ نَدْعُوهُ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ ﴿٢٨﴾
”اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے، وہ کہیں گے کہ اس اخروی زندگی سے پہلے ہم اپنے گھر والوں میں عذاب آخرت سے ڈرتے تھے۔ پس اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا، اور ہم کو تیز وتند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچالیا، ہم اس سے پہلے ہی اس کو پکارا کرتے تھے۔ بے شک وہ محسن اور مہربان ہے۔“
(52-الطور:25 تا28)
◈ بغض، کینہ ختم :
﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ۖ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ ۖ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۖ وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴾
”اور ہم ان کے سینوں سے ہر قسم کا کینہ نکال دیں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور وہ لوگ کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ احسان ہے، جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نہ پہنچاتا۔ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے، اور اُن سے پکار کر کہا جائے گا کہ یہ جنت تم کو دی گئی ہے۔ تمہارے اعمال کے بدلے۔“
(7-الأعراف:43)
◈ دیدار الہی :
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ﴿٢٢﴾ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴿٢٣﴾
اس روز بہت سے چہرے تر و تازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔“
(75-القيامة:22 ، 23)
﴿لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾
جو لوگ نیک عمل کریں گے انہیں جنت ملے گی، اور اللہ کا دیدار نصیب ہو گا، اور ان کے چہروں پر نہ کدورت چھائے گی۔ اور نہ ذلت۔ یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“
(10-يونس:26)
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دخل أهل الجنة الجنة، يقول الله تعالى: تريدون شيئا ازيدكم؟ فيقولون: الم تبيض وجوهنا؟ ألم تدخلنا الجنة وتنجنا من النار؟ قال: فيكشف الحجاب فما أعطوا شيئا احب إليهم من النظر الى ربهم ثم تلا للذين أحسنوا.
”جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کسی چیز کی ضرورت ہے، وہ میں تمہیں عطا کر دوں؟ وہ کہیں گے: اے اللہ! تو نے ہمارے چہرے روشن کر کے جنت میں داخل کیا اور جہنم سے نجات نہیں دے دی؟ (اب کیا چاہیں گے؟) پھر پردہ ہٹا دیا جائے گا، وہ اللہ کے چہرے کا دیدار کریں گے، اللہ کے دیدار سے بڑھ کر کوئی چیز انہیں نہ دی جائے گی۔ پھر آپ نے یہی آیت (بالا) تلاوت فرمائی۔“
صحيح مسلم، كتاب الإيمان، رقم: 297، 298.
◈ جنت کی چوڑائی :
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿١٣٢﴾ وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٣﴾
اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“
(3-آل عمران:132،133)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن فى الجنة لشجرة يسير الراكب فى ظلها مائة سنة.
”جنت میں ایسا درخت بھی ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے کے نیچے سو برس چلتا چلا جائے تو اسے عبور نہیں کر سکے گا۔“
صحيح مسلم، كتاب الجنة ونعيمها، باب يسير الراكب في ظلها ، رقم: 2826
سیدنا عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن للمؤمن فى الجنة لخيمة من لؤلوة واحدة مجوفة، طولها ستون ميلا للمؤمن فيها أهلون، يطوف عليهم المؤمن فلا يرى بعضهم بعضا.
جنت میں مومن کا ایسا خیمہ بھی ہو گا جو ایک گول موتی سے بنا ہوا ہو گا، جس کی لمبائی ساٹھ میل ہو گی اور اس میں مؤمن کے گھر والے ہوں گے، مؤمن ان سے ملاقات کے لیے جائے گا اور وہ (اس قدر دُور ہوں گے) کہ ایک دوسرے کو دیکھ نہ پائیں گے۔“
صحیح مسلم ، كتاب الجنة، باب في صفة خيام الجنة، رقم: 2838 .
◈ اچھی قیام گاہ :
﴿خَالِدِينَ فِيهَا ۚ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا﴾
”اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وہ بہت ہی اچھی جگہ اور عمدہ مقام ہے۔“
(25-الفرقان:76)
﴿وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾
جنت عدن کے بہترین بنگلے ملیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہو گی۔“
(61-الصف:12)
◈ موت کا خطرہ ختم:
﴿لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ ۖ وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ﴾
”وہاں وہ موت نہیں چکھیں گے، ہاں پہلی موت جو وہ مر چکے اور انہیں اللہ دوزخ کی سزا سے بچالے گا۔“
(44-الدخان:56)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يدخل اهل الجنة الجنة، واهل النار النار، ثم يقوم مؤذن بينهم: يا أهل النار لا موت، و يا أهل الجنة لا موت، خلود.
”جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ: اے جہنمیو! اب کوئی موت نہیں ہو گی،اے جنتیو! اب کوئی موت نہیں ہو گی، اب ہمیشہ جنت یا دوزخ میں زندہ رہو گے۔“
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب يدخل الجنة سبعون الفا بغير حساب، رقم: 6544.
◈ جنتی نہریں:
﴿مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾
”اس جنت کی صفت جس کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کبھی خراب نہ ہونے والی پانی کی نہریں ہیں، اور ایسی دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ کبھی نہیں بدلے گا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں، جن میں پینے والوں کو بڑی لذت ملے گی۔ اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہے اور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے میوے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ اس کی مثل ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہو گا، اور اسے گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ کر رکھ دے گا؟“
(47-محمد:15)
سیدنا حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن فى الجنة بحر الماء، وبحر العسل، وبحر اللبن، وبحر الخمر، ثم تشقق الانهار بعد.
جنت میں ایک پانی کا سمندر ہے، اور ایک شہد کا، اور ایک دودھ کا، اور ایک شراب کا سمندر ہے پھر ان سے نہریں پھوٹتی چلی جاتی ہیں۔“
◈ عورتیں اور حوریں:
إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً ﴿٣٥﴾ فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا ﴿٣٦﴾ عُرُبًا أَتْرَابًا ﴿٣٧﴾ لِّأَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٣٨﴾ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ﴿٣٩﴾ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ﴿٤٠﴾
”ہم نے ان حوروں کو خاص طور پر بنایا ہے، اور ہم نے انہیں کنواریاں کر دیا ہے، وہ اپنے شوہروں سے محبت کرنے والی اور ان کی ہم عمر ہیں، یہ سب دائیں ہاتھ والوں کے لیے ہیں، ان کا ایک گروہ ہے اگلوں میں سے، اور بہت بڑی جماعت ہے پچھلوں میں سے۔“
(56-الواقعة:35 تا 40)
أُولَٰئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُومٌ ﴿٤١﴾ فَوَاكِهُ ۖ وَهُم مُّكْرَمُونَ ﴿٤٢﴾ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿٤٣﴾ عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ ﴿٤٤﴾ يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ ﴿٤٥﴾ بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ ﴿٤٦﴾ لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ ﴿٤٧﴾ وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ ﴿٤٨﴾ كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ ﴿٤٩﴾
”انہیں کے لیے مقررہ روزی ہر طرح کے میوے ہیں، اور وہ ذی عزت و اکرام ہیں۔ نعمتوں والی جنتوں میں تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے جاری شراب کے جام کا ان پر دور چل رہا ہوگا۔ جو سفید اور پینے میں لذیذ ہوگی، نہ اس سے دردِ سر ہو اور نہ اُس کے پینے سے بہکیں گے، اور ان کے پاس نیچی نظریں رکھنے والی با حیاء بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی۔ ایسی جیسے چھپائے ہوئے موتی۔“
(37-الصافات:41 تا 49)
فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٥٦﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٧﴾ كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٥٨﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٩﴾
”وہاں شرمیلی، نیچی نگاہ والی حوریں ہیں جنہیں ان سے پہلے کسی جن وانس نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اپنے پالنے والے کی نعمتوں میں سے تم کس کس کے منکر ہو؟ وہ حوریں مثل یاقوت اور مونگے کے ہوں گی۔ اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو تم جھٹلاؤ گے؟“
(55-الرحمن:56 تا 59)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولو أن أمرأة من نساء أهل الجنة إطلعت إلى الأرض لا ضاءت ما بينهما، ولملأت ما بينهما ريحا ولنصيفها خير من الدنيا وما فيها.
”اگر جنت کی حور زمین پر جھانکے تو زمین و آسمان کا درمیان روشن ہو جائے، اور زمین و آسمان کا درمیانی خلا معطر ہو جائے، اور حور کا دوپٹہ دنیا کائنات (کے خزانوں) سے کہیں بہتر ہے۔“
صحیح بخاری، كتاب الرقاق، باب صفة الجنة والنار، رقم: 6568.
◈ جنت میں ہر خواہش پوری ہوگی:
﴿جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِي اللَّهُ الْمُتَّقِينَ﴾
ہمیشگی والے باغات جہاں وہ جائیں گے، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جو کچھ یہ طلب کریں گے وہاں ان کے لیے موجود ہو گا۔ پرہیز گاروں کو اللہ اسی طرح بدلے عطا فرماتا ہے۔“
(16-النحل:31)
﴿نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ﴾
”تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے، اور آخرت میں بھی رہیں گے، جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب جنت میں موجود ہے۔
(41-فصلت:31)
◈ والدین بیوی بچوں سے ملاقات:
جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ﴿٢٣﴾ سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ﴿٢٤﴾
ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے، اور ان کے آباء واجداد اور بیویوں اور اولادوں میں سے بھی جو نیکو کار ہوں گے ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے۔ کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو صبر کے بدلے، کیا ہی اچھا بدلہ ہے اس گھر کا۔“
(13-الرعد:23،24)
◈ جنت کی خوشبو:
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة، وإن ريحها يوجد من مسيرة أربعين عاما.
”جس نے کسی ذمی کو (ناحق) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا، اور جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے آئے گی۔“
صحيح بخارى، كتاب الجزية والموادعة، باب اثم من قتل معاهد ….. رقم: 3166.
◈ جنت کے دروازے:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما منكم من احد يتوضأ فيبلع او فيسبع الوضوء ثم يقول: اشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبد ورسوله وفي رواية… أشهد ان لا إله إلا الله وحده لا شريك له واشهد أن محمدا عبده ورسوله إلا فتحت له أبواب الجنة الثمانية، يدخل من أيها شاء.
تم میں سے جو کوئی اچھی طرح وضو کرے پھر کہے: اشهد ان لا اله الا الله الخ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“
صحيح مسلم، کتاب الوضوء، باب الذكر المستحب عقب الوضوء، رقم: 234.
◈ جنت کے درجات:
عن عبادة بن الصامت رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فى الجنة مائة درجة مابين كل درجتين كما بين السماء والأرض، والفردوس أعلها درجة، ومنها تفجر أنهار الجنة الأربعة، ومن فوقها يكون العرش، فإذا سألتم الله فاستلوه الفردوس.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے برابر فاصلہ ہے، سب سے اعلیٰ ترین درجہ کا نام فردوس ہے، فردوس سے جنت کی چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں، فردوس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے، جب بھی اللہ تعالیٰ سے (جنت کا) سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو۔“
سنن الترمذي ، كتاب صفة الجنة، باب ما جاء في صفة درجات الجنة ، رقم: 2531 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن فى الجنة مائة درجة أعدها الله للمجاهدين فى سبيل الله، ما بين الدرجتين كما بين السماء والأرض
جنت میں سو درجات ہیں، جنہیں اللہ نے مجاہدین کے لیے تیار کیا ہوا ہے، دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الجهاد، باب درجات المجاهدين، رقم: 2790.
◈ جنت کے بازار:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن فى الجنة لسوقا، يأتونها كل جمعة، فتهب ريح الشمال فتحثو فى وجوههم وثيابهم، فيزدادون حسنا و جمالا، فيرجعون إلى أهليهم وقد ازدادوا حسنا و جمالا فيقول لهم اهلوهم: والله لقد ازدادتم بعدنا حسنا و جمالا فيقولون: وانتم والله لقد ازددتم بعدنا حسنا وجمالا.
جنت میں ایک بازار جس میں ہر جمعہ کے دن جنتی لوگ آیا کریں گے شمال کی طرف سے ایک ہوا چلے گی جس کا گردوغبار (مشک اور زعفران پر مشتمل ہوگا جب وہ) جنتیوں کے چہروں اور کپڑوں پر پڑے گا تو اس سے ان کے حسن و جمال میں اضافہ ہو جائے گا، جب وہ پلٹ کر اپنے گھر آئیں گے تو ان کی بیویوں کا حسن و جمال بھی پہلے سے زیادہ ہوگا، بیویاں اپنے مردوں سے کہیں گی واللہ! تمہارا حسن و جمال ہمارے بعد تو بہت بڑھ گیا ہے۔ جنتی لوگ کہیں گے واللہ! ہمارے بعد تمہارا حسن و جمال بھی پہلے سے بہت بڑھ گیا ہے۔“
صحیح مسلم، كتاب الجنة، باب في سوق الجنة، رقم: 2833.
◈ جنت کے درخت:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن فى الجنة لشجرة يسير الراكب فى ظلها مائة سنة لا يقطعها.
”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک (گھڑ) سوار سو برس تک چلتا رہے، تب بھی ختم نہ ہو۔“
صحیح مسلم، كتاب الجنة، باب ان فى الجنة شجرة، رقم: 7136.
◈ لباس اور زیورات:
﴿إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ﴾
ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو اللہ ان جنتوں میں لے جائے گا جن کے درختوں تلے سے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں وہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سچے موتی بھی، اور وہاں ان کا لباس خالص ریشم کا ہوگا۔
(22-الحج:23)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو ان ما يقل ظفر مما فى الجنة بدا لتزخرفت له ما بين خوافق السموات والارض، ولو أن رجلا من أهل الجنة اطلع فبدا أساوره لطمس ضوء الشمس كما تطمس الشمس ضوء النجوم.
جنت کی چیزوں میں سے ایک ناخن کے برابر کوئی چیز ظاہر ہو جائے تو زمین و آسمان کے کناروں کے درمیان جو کچھ ہے اسے چمکا دے، اگر ایک جنتی مرد اپنے کنگن سمیت (دنیا میں) جھانکے تو سورج کی روشنی کو اس طرح ختم کر دے جس طرح سورج کی روشنی تاروں کی روشنی کو ختم کر دیتی ہے۔“
سنن ترمذى، كتاب صفة الجنة، باب ما جاء في صفة اهل الجنة، رقم: 2538 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی حلہ لایا گیا، لوگوں نے اس کی نفاست اور نرمی پر تعجب کا اظہار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أتعجبون من لين هذه؟ لـمـنـاديل سعد بن معاذ خير منها.
تم اس پر تعجب کرتے ہو جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہتر ہیں۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابه، باب مناقب سعد بن معاذ، رقم: 3802
◈ حوض کوثر:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترى فيه آباريق الذهب والفضة كعدد نجوم السماء.
حوض کوثر پر تم سونے اور چاندی کے جام، آسمان کے تاروں کے برابر دیکھو گے۔“
صحيح مسلم، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبينا، رقم: 2303/42
◈ نہر کوثر:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الكوثر نهر فى الجنة حافتاه، من ذهب ومجراه على الدر والياقوت، تربته أطيب من المسك وماؤه أعلى من العسل وأبيض من الثلج.
کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کا پانی موتی اور یاقوت پر بہتا ہے، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔
سنن ترمذی ، کتاب التفسير، باب ومن سورة الكوثر، رقم: 3361- البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
◈ جنتی لوگوں کا سانس:
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أهل الجنة يأكلون فيها ويشربون ولا يتفلون ولا يبولون، ولا يتغوطون ولا يمتخطون قالوا: فما بال الطعام؟ قال: جشاء ورشح كرشح المسك يلهمون التسبيح والتحميد، كما يلهمون النفس.
جنتی کھائیں اور پئیں گے لیکن نہ تھوکیں گے، نہ پیشاب، پاخانہ کریں گے۔نہ ناک سنکیں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: تو پھر کھانا کہاں جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈکار اور پسینہ آئیں گے (جس سے کھانا ہضم ہو جائے گا) جنتی تسبیح اور تحمید اس طرح کریں گے جس طرح سانس لیتے ہیں۔“
صحيح مسلم، كتاب الجنة، باب ما جاء في صفات الجنة و اهلها، رقم: 2835.
◈ جنت کی اللہ سے التجا:
ایک مؤمن مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے جنت طلب کرنی چاہیے، تا کہ جنت بھی آدمی کے لیے اپنے اندر داخل ہونے کی سفارش کرے، لہذا امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سأل الله الجنة ثلاث مرات قالت الجنة: أللهم أدخله الجنة، ومن استجار من النار ثلاث مرات قالت النار: أللهم أجره من النار
”جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ جنت کا سوال کرے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ اس کو جنت میں داخل کر دے۔ اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ اسے جہنم سے بچالے۔“
سنن ترمذى، كتاب صفة الجنة، باب ما جاء في صفة انهار الجنة، رقم: 2572 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔