حرام چیزوں کے نقصانات اور حرام تک پہنچانے والے ذرائع کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

حرام چیزیں باعث مضرت ہیں :

اللہ تعالیٰ انسانوں کا خالق ہے اور ان پر اس کے بے شمار احسانات ہیں، اس لیے یہ اسی کا حق ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے انسان کے لیے حلال اور جس چیز کو چاہے حرام ٹھہرائے۔ اس پر اعتراض کرنے یا اس کی نافرمانی کرنے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ یہ اس کی ربوبیت کا حق اور اس کی بندگی کا صریح تقاضا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرام و حلال، معقول وجوہ ہی کی بنا پر ٹھہرایا ہے اور انسان کا حقیقی مفاد اسی سے وابستہ ہے۔ اللہ نے پاکیزہ چیزوں ہی کو حلال قرار دیا اور ناپاک چیزوں ہی کو حرام ٹھہرایا ہے۔
البتہ یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے بعض اچھی چیزیں بھی حرام کر دی تھیں یہ فیصلہ ان کی سرکشی کی وجہ سے سزا کے طور پر تھا، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دائمی دین کے ساتھ مبعوث فرمایا تو اُس کی رحمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس بوجھ کو ہلکا کر دیا جائے۔ گناہوں کے کفارہ کے لیے بھی اسلام نے طیبات کو حرام نہیں کیا بلکہ کفارہ کی ادائیگی کی دوسری شکلیں متعین کر دیں۔
◈ چنانچہ خالص توبہ گناہوں کو اس طرح صاف کرتی ہے جس طرح پانی گندگی کو۔
◈ اسی طرح نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں اور صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے۔
◈ علاوہ ازیں مصائب و آلام میں گناہ اس طرح جھڑنے لگتے ہیں جس طرح موسم خزاں میں پتے جھڑتے ہیں۔
اسی لیے اسلام کی یہ حقیقت معروف ہوگئی کہ اس نے جن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے وہ انسانیت کے لیے ہر طرح سے خرابی و مضرت کا باعث ہیں۔
چنانچہ جو چیز خالص مضرت کی (نقصان کا باعث) تھی اس کو حرام کر دیا اور جو چیز خالص منفعت کی تھی اس کو حلال کر دیا۔ اسی طرح جس کی مضرت، منفعت سے زیادہ تھی اس کو حرام اور جس کی منفعت زیادہ تھی اس کو حلال قرار دیا۔ اس کی صراحت قرآن نے شراب اور جوئے کے معاملہ میں یوں کی ہے :
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا
وہ تم سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، کہو! ان دونوں چیزوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔
(البقرة : 219)
ایک مسلمان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ان خباثتوں اور مضرتوں (کے اسباب و دوائی) کو جان لے جن کی وجہ سے اسلام نے کسی چیز کو حرام ٹھہرایا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسروں کے مقابلہ میں اس کا علم کم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی حرام کردہ خباثت ابھی ظاہر نہ ہوئی ہو اور کسی دوسرے زمانہ میں ظاہر ہو جائے۔ مؤمن کا کام تو ہمیشہ سمع واطاعت ہے۔
خنزیر (سور) ہی کی مثال لیجئے۔ اللہ نے اس کا گوشت حرام کیا، لیکن اس وقت اس کی علت (وجہ، حکمت) مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آئی، سوائے اس کے کہ یہ نجس جانور ہے۔ لیکن زمانہ کی ترقی نے یہ انکشاف کیا کہ اس میں مہلک جراثیم اور کیڑے ہوتے ہیں۔ اگر یہ انکشاف نہ بھی ہوا ہوتا یا اس بارے میں آئندہ مزید انکشافات ہو جائیں، بہر صورت ایک مسلمان اپنے اس عقیدہ پر قائم رہے گا کہ سور کا گوشت حرام ہے۔
دوسری مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے واضح ہے :
اتقوا الملاعن الثلاث البراز فى الموارد وقارعة الطريق والظل
تین باتوں سے بچو جو موجب لعنت ہیں : پانی پینے کی جگہوں میں، وسط راہ میں اور سایہ دار جگہ میں پاخانہ کرنا۔
(ابوداود، كتاب الطهارة، باب المواضع التي نهي عن البول فيها ح : 26، ابن ماجه كتاب الطهارة، باب النهي عن الخلاء على قارعة الطريق ح : 328، وله شاهد في غير مسلم في كتاب الطهارة : باب النهي عن التخلى فى الطرق والظلال ح : 269 بلفظ اتقوا اللعانين)
اس حدیث کا مطلب قرونِ اولیٰ میں صرف اس حد تک سمجھا گیا کہ یہ بُری باتیں ہیں جو عقل سلیم اور شائستگی کے خلاف ہیں، لیکن علمی انکشافات کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ یہ چیزیں عام صحت کے لیے سخت مضر ہیں، کیونکہ ان سے خطرناک قسم کے متعدی امراض پھیلتے ہیں۔
اس طرح علم کی روشنی جتنی پھیلے گی اور انکشافات کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا اسلام کی وہ مصلحتیں بھی واضح ہوتی چلی جائیں گی جو اس کے حلال و حرام میں بلکہ پورے تشریعی نظام میں پوشیدہ ہیں اور مصلحتیں کیسے نہیں ہوں گی جبکہ یہ شریعت اس ہستی کی طرف سے ہے جو علیم و حکیم ہونے کے ساتھ اپنے بندوں پر مہربان بھی ہے :
وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اللہ بگاڑ پیدا کرنے والے کو بھی جانتا ہے اور بھلائی کرنے والے کو بھی اگر اللہ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا۔ یقینا اللہ غالب بھی ہے اور حکمت والا بھی۔
(البقرة : 220)

حلال حرام سے بے نیاز کر دیتا ہے :

اسلام کمال درجہ کی خوبیوں کا دین ہے اور اس نے لوگوں کے لیے بڑی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اُس نے جس چیز کو ہم پر حرام ٹھہرایا ہے اس کا نعم البدل ضرور عطاء کیا ہے۔ ایسا نعم البدل جس سے لوگوں کی ضرورتیں بھی پوری ہوں اور وہ حرام سے بے نیاز بھی ہو جائیں۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس پر بڑی عمدہ روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
◈ اسلام نے پانسوں (قسمت کے تیر جس سے فال اور شگون بد لیتے تھے) کے ذریعہ قسمت معلوم کرنے کو حرام ٹھہرایا اور اس کے بدل کے طور پر دعائے استخارہ عطا فرمائی۔
◈ سود کو حرام کیا تو اُس کے عوض نفع بخش تجارت کو جائز کیا۔ جوئے کو حرام کر دیا اور اس کی بجائے اس مال کا کھانا جائز کر دیا جو گھوڑے اونٹ اور تیروں کے مقابلوں کے ذریعہ حاصل ہو جو مقابلے شرعاً مفید خیال کیے گئے ہیں۔
◈ ریشم مردوں پر حرام کیا لیکن اس کے عوض اون کتان اور روئی کے انواع و اقسام کے لباس زینت سے نوازا۔
◈ زنا اور لواطت کو حرام ٹھہرایا اور ان کی بجائے سنت نکاح کو حلال ٹھہرایا۔
◈ منشیات کو حرام کیا لیکن اس کے نعم البدل کے طور پر لذیذ مشروبات عطا کئے جو روح اور بدن دونوں کے لیے مفید ہیں۔
◈ کھانے کی چیزوں میں جہاں ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیا وہاں پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیا۔
اگر ہم اسلام کے جملہ احکام کا تتبع کریں تو یہ حقیقت پوری طرح روشن ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اگر ایک جانب سے تنگی پیدا کی ہے (یہ تنگی پیدا کرنا بھی حکمت سے خالی نہیں) تو دوسری جانب سے وسعت کا دروازہ بھی کھول دیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مشقت اور تختی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا، بلکہ ان کے لیے آسانی پیدا کرنا اور ان کو خیر ہدایت اور رحمت سے نوازنا چاہتا ہے جیسا کہ فرمایا :
يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 26 وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا 27 يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اپنے احکام واضح کر دے اور تمہیں اُن لوگوں کے طریقوں کی ہدایت بخشے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں اور اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہو اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جو لوگ خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست بھٹک کر دُور نکل جاؤ اللہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
(النساء : 26،28)

جو چیز حرام کا باعث بنے وہ بھی حرام ہے :

اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو چیز حرام کا باعث بنے وہ بھی حرام ہے۔ اس طرح اسلام نے حرام کے ذرائع کا بھی سدباب کیا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام نے زنا کو حرام کیا تو اس کے مقدمات و محرکات کو بھی حرام کر دیا۔ مثلاً تبرج جاہلیہ، گناہ آمیز خلوت، بے جا اختلاط، برہنہ تصاویر، عریاں لٹریچر اور فحش گانے وغیرہ۔ اسی بنا پر فقہاء اسلام نے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ جو چیز حرام کا باعث بنے وہ بھی حرام ہے۔
یہ قاعدہ اسلام کے اس اصول کے عین مطابق ہے کہ گنہگار صرف وہ شخص نہیں ہے جو حرام کا مرتکب ہوا ہے بلکہ اس گناہ میں وہ تمام لوگ شریک ہیں جو اس کام میں کسی نہ کسی حیثیت سے معاون رہے ہیں۔ خواہ تعاون کی نوعیت مادی رہی ہو یا لٹریری تحریری۔ حرام کے معاملہ میں جس قدر وہ تعاون کرتے رہے ہیں اسی قدر ان کا گناہ میں حصہ ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف شراب پینے والے پر لعنت فرمائی ہے بلکہ نچوڑنے والے، اٹھا کر لے جانے والے اور جس کے لیے اٹھا کر لے جائی جائے ان سب پر نیز اس کی قیمت کھا جانے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے۔
ابو داود کتاب الاشربة باب العصير للخمر ح 3674، ابن ماجه کتاب الاشربة باب لعنة الخمر على عشره ح 3380، 3381
اسی طرح سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کی دستاویز لکھنے والے اور گواہ بننے والے، سب پر لعنت فرمائی ہے۔
مسلم کتاب المساقاة باب لعن آكل الربا ومؤكله ح 1598
لہذا جو چیز حرام میں معاونت کا باعث بنے وہ بھی حرام ہے اور جو شخص حرام میں معاونت کرے گا وہ گناہ میں شریک ہوگا۔