اہل سنت والجماعت کا منہج اور سنت و بدعت کی بنیادی پہچان

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بدعتیوں کی تردید میں اہل سنت والجماعت کا طریقہ کار:

اس سلسلے میں ان کا طریقہ کتاب وسنت پر مبنی ہے اور یہی طریقہ فائدہ مند ہے۔ وہ اس طرح کہ بدعتیوں کے شبہات پیش کرنے کے بعد اس کا توڑ پیش کرتے ہیں اور سنتوں پر کار بند رہنے، بدعات و محدثات سے باز رہنے کے وجوب پر کتاب وسنت سے دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں بے شمار کتابیں تالیف کی گئی ہیں اور ایمان و عقیدہ کے بارے میں شیعہ، خوارج، جہمیہ، معتزلہ اور اشاعرہ کے بدعتی اقوال پر کتب عقیدہ میں تردید کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ قرآن وحدیث میں کسی عمل کے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہونے کی تین شرائط ہیں:

[1] عقیدہ کا درست ہونا۔

[2] عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔

[3] عمل رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق کیا جائے۔

اگر مندرجہ بالاشرائط میں سے ایک یا زیادہ شرائط پوری نہ ہوں گی تو وہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں نا قابل قبول ہوگا۔

سنت کی تعریف:

سنت کے معنی ہیں طریقہ یعنی دین میں عقائد و اعمال و اخلاق و معاملات اور عادات میں رسول اللہ ﷺ کا جو طریقہ تھا وہ آپﷺ کی سنت ہے۔

بدعت کی تعریف:

بدعت سنت کا الٹ ہے، جس کو سنت کہتے ہیں وہ بدعت نہیں ہے۔ اور جو بدعت ہے وہ سنت نہیں ہے۔ اور بدعت ہر وہ عمل ہے جس کی اصل دین میں نہیں، لیکن لوگ اسے ثواب حاصل کرنے کی نیت سے کرتے ہیں۔

حقیقی اہل سنت والجماعت

اہل سنت و الجماعت سے مراد وہ لوگ ہیں جو سنت کی بیان کردہ تعریف پر پورے اترتے ہوئے سنت کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اگر دین میں کوئی نیا عقیدہ داخل کیا گیا تو وہ شرک فی الحکم میں آئے گا۔ اور اگر دین میں کوئی نیا عمل داخل کیا گیا تو وہ بدعت ہے۔ (النساء:115)،(المائدۃ:3) اور اس میں وہ حدیث بھی آتی ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امیر کی بات سننا اور ماننا، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو، میرے بعد جو تم میں سے زندہ رہے گا وہ سخت اختلاف دیکھے گا۔ اس وقت تم میری سنت اور خلفائے راشدین کا طریقہ لازم پکڑنا ، اسے دانتوں سے مضبوط پکڑے رہنا اور نئے نئے کاموں سے بچنا۔ [أبو داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة:4607]،[ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء في الأخذ بالسنة واجتناب البدعة:2676]

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہر بدعت گمراہی ہے، کوئی بدعت حسنہ نہیں۔ خلفائے راشدین کے فیصلوں کے متعلق مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں:

[1] رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مسئلہ:

جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضي اللہ عنہ کو ایک عظیم آزمائش میں ڈالا۔ انھوں نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر فرمایا: کہ اگر کوئی یہ کہے گا کہ رسول الله ﷺ فوت ہو گئے ہیں، تو میں تلوار سے اس کا سر اڑا دوں گا۔ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضي اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی میت کو سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما کے حجرہ میں دیکھ کر مسجد نبوی ﷺ میں صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین کے اجتماع میں تشریف لائے اور خطبہ دیا: جو شخص رسول (ﷺ) کی پوجا کرتا تھا تو رسول اللہ ﷺ تو وفات پا گئے اور جو اللہ کی پوجا کرتا ہے تو اللہ تعالی تو زندہ ہے۔

سب صحابہ کرام جمال ہم نے، جن میں سیدنا عمر رضي اللہ عنہ بھی شامل تھے، اس بات سے اتفاق کیا کہ رسول الله ﷺ فوت ہو گئے۔ اور اس کے بعد کسی صحابی رضي اللہ عنہ نے روضہ اطہر پر جا کر کوئی عرض پیش نہیں کی بلکہ سیدنا عمر رضي اللہ عنہ کی حکومت کے زمانہ میں جب قحط پڑتا تو سیدنا عمر رضي اللہ عنہ روضہ مبارک پر حاضر ہونے کی بجائے سیدنا عباس رضي اللہ عنہ سے بارش کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرواتے اور بارش ہو جاتی۔ اس بحث کے بعد یہ بات کلی طور پر ثابت ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ آپ ﷺ وفات پا چکے ہیں۔ اور اب آپ ﷺ کے ساتھ رابطہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن اب کچھ کلمہ گو جن میں حنفی بریلوی حنفی دیوبندی، شیعہ اور تبلیغی جماعت والوں کا عقیدہ ہے کہ فوت شدگان سے رابطہ ہو سکتا ہے اور یہ دین میں نیا عقیدہ ہے۔

[2] نماز تراویح کی جماعت:

سب کو معلوم ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں تین رات نماز تراویح کی جماعت کی امامت فرمائی، پھر آپ ﷺ نے کبھی بھی نماز تراویح جماعت سے نہیں پڑھائی۔ سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی نماز تراویح کی جماعت نہیں ہوئی۔ سیدنا عمر رضي اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بھی کچھ عرصہ تک تراویح کی جماعت نہیں ہوئی۔ ایک رات سیدنا عمر رضي اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں موجود صحابہ کرام کو نماز تراویح باجماعت پڑھنے کا حکم دیا۔ [بخاری، کتاب صلاة التراويح، باب فضل من قام رمضان:2009،2010]

اور اس سے سب صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین نے اتفاق کیا اور یہ اہل سنت و الجماعت کا عمل ٹھہرا۔

[3] حج تمتع کا مسئلہ:

رسول اللہ ﷺ نے حج تمتع کا حکم فرمایا: اس کے بعد حج تمتع ادا کیا جاتا رہا۔ سیدنا عمر رضي اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں انھوں نے بعض وجوہات کی بنا پر حج تمتع سے مسلمانوں کو منع فرمایا۔ لیکن سیدنا عبد اللہ بن عمر  رضي اللہ عنہما نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ لہذا حج تمتع نہ کرنا اہل سنت و الجماعت کا عمل نہ ٹھہرا۔ اور سنت رسول ﷺ کے مقابلے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو تسلیم نہ کیا گیا۔

[بخاری، کتاب الحج، باب التمتع على عهد رسول اللهﷺ:1571]،[سنن الترمذى، كتاب الحج، باب ماجاء في التمتع:824]

پھر بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق ہم اس معاملہ میں کوئی مخالفانہ رد عمل ظاہر نہیں کر سکتے بلکہ خاموشی اختیار کریں گے۔

[4] خلافت اور عمررضي اللہ عنہ کا موقف:

سیدنا عمر رضي اللہ عنہ پر مسجد نبوی میں صبح کی نماز کے وقت جب حملہ ہوا تو وہ شدید زخمی ہو گئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہ ان کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: میں نے لوگوں سے ایک بات سنی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کریں گے۔ میرے کہنے سے وہ ایک گھڑی تک سر جھکائے رہے پھر سر اٹھایا اور کہا اللہ تعالی اپنے دین کی حفاظت کرے گا اور میں اگر خلیفہ مقرر نہ کروں تو رسول اللہ ﷺ نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا۔ پھر اگر خلیفہ مقرر کروں تو سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر قسم اللہ تعالیٰ کی! جب انھوں نے رسول  اللہ ﷺ اور ابوبکر رضي اللہ عنہ کا ذکر کیا تو میں سمجھ گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے برابر کسی کو نہیں کرنےوالے اور وہ خلیفہ مقرر نہیں کریں گے۔

[مسلم، كتاب الإمارة، باب الاستخلاف و ترکه:1823]

(یعنی) رسول اللہ ﷺ کی پیروی سیدنا عمر و سیدنا ابو بکر (رضي اللہ عنہما) کی پیروی سے مقدم ہے۔ گو سیدنا ابوبکر وسیدنا عمر رضي اللہ عنہما کے فعل بھی خلاف شرع نہ تھے۔ مومن کا یہی کام ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرے۔ اور جب آپ ﷺ کا قول یا فعل بصحت پہنچ جائے، پھر اس کے خلاف کسی اور کے قول اور فعل کی کچھ پروا نہ کرے ۔اور اپنے پیغمبر ﷺ کے طریقے پر چلے۔ جب رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل کے مقابلہ میں سیدنا ابو بکر وسیدنا عمر رضي اللہ عنہما کی بات نہ مانی جائے گی، تو پھر دوسرے مسلمانوں کی بات تو بالکل ہی نہ مانی جائے گی۔ اور اگر کوئی مانے تو پھر اس کی عقل کا آپ خود اندازہ لگا لیں اور ایسے شخص کا انجام برا ہوگا۔