مضمون کے اہم نکات
اکیسواں شبہ: یتیم پوتے کی وراثت
اس شبہے کا تجزیہ مندرجہ ذیل ہے:
➊ پوتے کو چچا کی موجودگی میں دادا کی میراث سے حصہ نہ دینا نا انصافی اور ظلم ہے۔
➋ فقہاء کی غلطی ہے کہ دادا کو پوتے کا وارث بناتے ہیں جبکہ پوتے کو دادا کا وارث نہیں بناتے، حالانکہ نسبت ایک ہی ہے۔
➌ پوتا اپنے باپ کا قائم مقام ہے۔ اس کا چچا واسطہ نہیں، اس کا باپ واسطہ تھا اور وہ فوت ہو چکا ہے تو چاہیے کہ پوتا اپنے باپ کی طرح دادے کا وارث بن جائے۔
جوابات:
شبہ نمبر 1:
اس شبہ کا جواب دینے سے قبل منکرین حدیث سے ایک اہم سوال ہے کہ قرآن کریم میں ایسی کوئی آیت بتائیں جس میں چچا کی موجودگی میں یتیم پوتے کا وراثت میں حصہ بیان کیا گیا ہو۔ یہ مسئلہ صراحتاً یا اشارتاً ضرور قرآن کریم میں ہونا چاہیے تھا لیکن کسی طریقے سے بھی بیان نہیں کیا گیا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اس ظلم کو روکنے کی طرف توجہ نہیں فرمائی؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے:
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ
”اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔“
(40-المؤمن:31)
ہاں! اللہ تعالیٰ نے یتیم کے ساتھ ہمدردی کرنے کے دیگر بہت سے طریقے بتائے ہیں۔
➊ اللہ تعالیٰ نے ہر آیت میراث میں حصص میراث بیان کرنے کے ساتھ یہ بھی فرمایا:
مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
”تمہاری اس وصیت کی تکمیل کے بعد جو تم وصیت کرتے ہو اور قرضے کی ادائیگی کے بعد۔“
(4-النساء:12)
یعنی اللہ تعالیٰ نے وصیت کا بیان فرمایا تو دادا کو چاہیے کہ یتیم پوتے کے لیے وصیت کر دے اور ایک تہائی سے زیادہ وصیت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر دادا پوتے کے لیے ایک تہائی کی وصیت کر جائے تو پھر یتیم پوتے کو دو بچے ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ برابر حصہ مل جائے گا اور اگر بچے زیادہ ہوں تو پھر ایک تہائی وصیت کی صورت میں اس کا حصہ ان سے بڑھ جائے گا۔
➋ اگر دادا نے وصیت نہیں کی تو چچا اس کو اپنے مال میں شریک کر سکتا ہے بلکہ وہ اپنا سارا مال بھی اسے دے سکتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں یتیموں کو مال دینے کی ترغیب مذکور ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ
”اور جس شخص نے اللہ کی محبت میں قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کو مال دیا۔“
(2-البقرة:177)
نیز فرمایا:
قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ
”کہہ دیجیے: جو کچھ تم اپنے مال سے خرچ کرو تو وہ والدین، رشتہ داروں اور یتیموں کو دو۔“
(2-البقرة:215)
اس طرح اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں یتیموں پر مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔
➌ اگر چچا یتیم بھتیجے کو کچھ نہ دے تو دوسرے رشتہ دار اس کے ساتھ ہمدردی کر سکتے ہیں۔ درج ذیل آیت مبارکہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے۔ ارشاد ہوا:
وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ
”جب تقسیم ترکہ کے وقت رشتہ دار، یتیم اور مساکین موجود ہوں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو۔“
(4-النساء:8)
اسلام نے یہ مذکورہ تین طریقے اس لیے مقرر کیے ہیں کہ اگر کہیں یتیم ہو تو اسے ان میں سے کسی طریقے کے ذریعے سے مدد پہنچائی جا سکتی ہے۔
شبہ نمبر 2:
دادے کو یتیم پوتے کا وارث بنایا جاتا ہے۔ لیکن یتیم پوتے کو دادے کا وارث نہیں بنایا جاتا۔
جواب :
اللہ تعالیٰ نے قانون وراثت کی بنیاد قرب پر رکھی ہے، یعنی جو شخص رشتے میں میت کے زیادہ نزدیک ہوگا وہ میراث کا پہلے حق دار بنے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ
”جو کچھ والدین اور قرابت والے ترکہ چھوڑ جائیں، اس میں مردوں کا حصہ ہے، اور (اسی طرح) عورتوں کے لیے بھی اس ترکہ میں حصہ ہے جو ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں۔“
(4-النساء:7)
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ توالد کے رابطے اور اقربیت کی نسبت کے لحاظ سے میراث ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح میراث کی تینوں آیات میں الأقرب فالأقرب (پہلے قریب تر پھر جو ان کے قریب تر ہوں) کا قانون رکھا ہے، چنانچہ وراثت کے متعلق سورۂ نساء کی آیت نمبر 11 میں پہلے اولاد کا ذکر ہے، پھر والدین کا اور یہ الأقرب فالأقرب پر مبنی ہے۔ آیت نمبر 12 میں خاوند اور بیوی کی میراث کا ذکر فرمایا جو توالد کے بعد أقرب نسبت ہے جبکہ آیت نمبر 176 میں اخیافی اور علاقی بھائیوں کی میراث کا تذکرہ فرمایا تو اس میں بھی اخیافی، علاقی پر مقدم ہے۔ یہ بھی الأقرب فالأقرب کی بنیاد پر ہے۔
اسی اصول کی بنا پر یتیم لڑکے کا چچا، اس کے دادے کے زیادہ قریب ہے کیونکہ وہ اس کا بیٹا ہے اور یتیم لڑکا ایک واسطے (باپ) کی وجہ سے چچا کی نسبت دادے سے دور ہے اور باپ کے وفات پا جانے پر پوتا بیٹے کے مقام پر نہیں آ جاتا، وہ پوتا ہی رہتا ہے۔ اس طرح چچا کی موجودگی میں بھتیجا وارث نہیں بن سکتا۔ اگر ایسی صورت میں یتیم پوتے کو میراث میں حصہ دار بنا دیا جائے (جبکہ اس کے لیے کوئی شرعی دلیل بھی نہیں) تو یہ دادے کی طرف سے اپنے بیٹے کی حق تلفی ہوگی۔ اور دادے کو پوتے کا اس لیے وارث بنایا جاتا ہے کہ وہ پوتے کے لیے أقرب ہے جبکہ چچا ابعد ہے کیونکہ چچا، دادے کی وساطت سے چچا بنا ہے۔
شبہ نمبر 3:
پوتا اپنے باپ کا قائم مقام ہوتا ہے۔
جواب :
یہ قائم مقامی کا اصول حافظ اسلم اور پرویز صاحب کے خود ساختہ اصول میں سے ہے۔ اس کے لیے وہ قرآن کریم میں سے کوئی ماخذ پیش نہیں کر سکتے بلکہ یہ تو عقلی تقاضے کے بھی خلاف ہے۔ وہ اس طرح کہ پوتا اپنے باپ کی وساطت سے دادے کے قریب تھا جبکہ باپ اس کے دادے سے پہلے وفات پا گیا، اب اس کو واسطہ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ اگر کوئی شخص اعتراض میں یہ مثال پیش کرے کہ کسی کا باپ فوت ہو جائے اور اس کا دادا زندہ ہو تو دادا باپ کی جگہ پر قائم مقام ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں دادا اقربیت کی وجہ سے وارث بنتا ہے نہ کہ قائم مقامی کی وجہ سے جبکہ یتیم پوتے کے مسئلے میں أقرب (چچا) موجود ہے تو یہاں قائم مقامی کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔