شادی شدہ زانی کی حدِ رجم قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بیسواں شبہ: حد رجم

اس سلسلے میں منکرین حدیث کے مندرجہ ذیل اعتراضات ہیں:
➊ قرآن کریم سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔
➋ ہر قسم کے زانی کی سزا سو کوڑے ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ
”پس جب یہ عورتیں نکاح میں آ جائیں اور پھر اگر ان سے بے حیائی کا کام ہو جائے تو انہیں آزاد عورتوں سے نصف سزا دی جائے گی۔“
(4-النساء:25)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا کی سزا صرف کوڑے مارنا ہے کیونکہ رجم تو نصف نہیں ہو سکتا۔
➍ عمر رضی اللہ عنہ کے خطبے سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت رجم قرآن کریم میں تھی تو پھر وہ کہاں گئی؟
➎ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد رجم سورۂ النور نازل ہونے سے پہلے نافذ کی ہو اور پھر اس سورت کے نزول کے بعد رجم کا حکم منسوخ ہو گیا ہو۔

جواب :

جہاں تک پہلے شبہے کا تذکرہ ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ قرآن کریم میں زنا کے سلسلے میں مختلف سزاؤں کا تذکرہ موجود ہے۔
➊ اگر کوئی شخص کسی پر زنا کی تہمت لگائے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور پھر وہ چار چشم دید گواہ پیش نہ کر سکے تو اس کی (سزا حد قذف) اسی کوڑے ہے۔ اور اس کی گواہی کبھی بھی قابل اعتبار نہیں ہوگی۔
دیکھیے: سورة النور 4:24
➋ شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور پھر گواہ پیش نہ کر سکے تو ان کے درمیان لعان کرایا جائے گا۔
دیکھیے: سورة النور 6:24
➌ جس کسی عورت سے زنا ہو جائے، چار گواہ گواہی بھی دے دیں تو پھر اس کی سزا یہ ہے کہ اسے گھر میں محبوس کیا جائے اور تفصیلی سزا کا انتظار کیا جائے۔
دیکھیے: سورة النساء 5:4
یاد رہے کہ سورۂ نساء غزوہ احد کے بعد سے لے کر سن 4 ہجری کے آخر تک مختلف اوقات میں نازل ہوتی رہی ہے۔
➍ غلام اور لونڈی سے زنا ہو جائے اور وہ شادی شدہ ہوں تو ان کی سزا پچاس کوڑے ہے۔
دیکھیے : سورة النساء 25:4
➎ آزاد مرد اور آزاد عورت غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں زنا کا ارتکاب کر لیں تو ان کی سزا سو کوڑے ہے۔
دیکھیے: سورة النور .2:24
یہ پانچ قسمیں قرآن کریم کی مختلف آیات میں صراحت کے ساتھ مذکور ہیں۔
➏ آزاد مرد اور آزاد عورت سے شادی شدہ ہونے کی صورت میں زنا کا ارتکاب ہو جائے تو ان کی سزا رجم ہے اور یہ قرآن کریم میں اشارتاً موجود ہے، یعنی تورات میں مذکور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حد کو جاری فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی عتاب نہیں فرمایا۔ یہ واقعہ سورۂ المائدة (41:5-43) میں مذکور ہے۔ درج ذیل آیت بھی انہی آیات میں سے ہے:
إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا
”اگر تمہیں یہی حکم دیا جائے تو لے لو اور اگر یہ نہ دیا جائے تو اس سے بچو۔“
(5-المائدة:41)
هٰذا یہ اس حکم کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اپنی طرف سے تحریف کر کے جاری کیا تھا کہ شادی شدہ زانی کی سزا یہ ہے کہ اس کا منہ کالا کر کے الٹے رخ گدھے پر سوار کیا جائے لیکن عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے، جو پہلے یہود کے بڑے عالم تھے، عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان سے تورات منگوائیں۔ جب تورات لائی گئی تو ایک یہودی عالم نے آیت رجم پر ہاتھ رکھ دیا اور اس سے اگلی اور پچھلی عبارت پڑھنے لگا تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم مذکور تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں کو بلاط (مدینہ میں ایک جگہ) کے پاس رجم کر دیا گیا۔
صحيح البخاري، المحاربين، باب الرجم في البلاط، حدیث: 6819 ، وصحیح مسلم، الحدود، باب رجم اليهود، أهل الذمة، في الزنى، حديث : 1699
جب قرآنی آیت میں اس واقعے کی طرف واضح اشارہ موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی عتاب نہیں فرمایا تو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم بحوالہ تورات قرآن کا بھی ہے، لہذا یہ کہنا درست ہے کہ حد رجم قرآن کریم کی انہی آیات (المائدة:41-43) سے ثابت ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے ہر دور میں اس حکم پر عمل کیا ہے۔
◈ فائدہ: امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو کتاب المحاربین میں اس لیے بیان کیا ہے کہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ شادی شدہ ہونے کی صورت میں زنا کا ارتکاب کرنے والے، محاربین کی فہرست میں شامل ہیں جبکہ محاربین کی سزا میں یہ بھی شامل ہے کہ انہیں قتل کیا جائے، لہذا زانیوں کو رجم کرنا قرآن کریم کے اس اشارے سے بھی ثابت ہے۔

شبہ نمبر 2 :

منکرین حدیث درج ذیل آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ اس میں رجم نہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں کو شامل ہے۔
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ
”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔“
(24-النور:2)

جواب :

➊ تمام مفسرین اور محدثین کا اجماع ہے کہ اس آیت سے غیر شادی شدہ مراد ہیں۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ زانیوں کے نکاح کا ذکر اس کے بعد آیت: 3 میں کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ غیر شادی شدہ ہیں اور وہ زنا کے بعد نکاح کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے آیت: 3 میں قانون بیان کیا گیا ہے۔
➋ اگر اس آیت سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں مراد لیے جائیں تو جائز ہے لیکن قرآن کریم نے بظاہر ایک سزا کا ذکر کیا ہے جو دونوں کو محیط ہے، یعنی شادی شدہ کو بھی پہلے کوڑے مارے جائیں اور پھر رجم کیا جائے جیسا کہ بعض احادیث سے یہ ثابت ہے۔ اس بنا پر اس آیت میں صرف ایک سزا بیان کی گئی جبکہ دوسری سزا (رجم) قرآنی اشارات اور احادیث سے ثابت ہے جس کا قرآن کریم کے ساتھ کوئی اور تضاد نہیں۔

شبہ نمبر3:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ
”پس جب یہ عورتیں نکاح میں آ جائیں تو اگر ان سے بے حیائی کا کام سرزد ہو تو انہیں آزاد عورتوں سے نصف سزا دی جائے گی۔“
(4-النساء:25)
وہ اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حد زنا میں رجم نہیں کیونکہ رجم نصف نہیں ہو سکتا۔

جواب :

یہ اپنی جگہ درست ہے کہ یہاں نصف سزا پچاس کوڑے ہی مراد ہے اور رجم کی تنصیف نہیں ہو سکتی لیکن اس آیت کے آغاز پر غور و فکر کرنا چاہیے۔
وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ
”تم میں سے جو شخص اس بات کی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ آزاد مومن عورتوں کو نکاح میں لا سکے۔“
(4-النساء:25)
المحصنات سے آزاد غیر شادی شدہ عورت مراد ہے کیونکہ عادتاً اس کا مہر اور نفقہ زیادہ ہوتا ہے۔ بعض مرد اس کی استطاعت نہیں رکھتے، پھر آیت کے دوسرے حصے نصف ما على المحصنات میں بھی اس سے وہی عورت مراد ہے جو آیت کے آغاز میں مذکور ہے، یعنی کنواری عورت، چنانچہ جب آزاد غیر شادی شدہ پر زنا کی صورت میں سو کوڑے سزا ہے تو پھر لونڈی اگرچہ شادی شدہ ہو اس کی سزا پچاس کوڑے ہے، یعنی آیت کا رجم کے ثبوت اور عدم ثبوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہاں الْمُحْصَنَاتِ میں شادی شدہ عورت مراد نہیں۔

شبہ نمبر4:

عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا: کتاب اللہ میں رجم کے متعلق آیت تھی جس کو ہم پڑھتے تھے اور ہم نے اس پر عمل بھی کیا اور اس خطبے میں ہے: کتاب اللہ میں رجم کا حکم اس شخص کے بارے میں حق ہے جو شادی شدہ ہونے کی صورت میں زنا کرے۔ اس پر پرویزی اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ آیت موجود تھی تو کہاں گئی؟
قرآنی فیصلے، ص: 182

جواب :

اس آیت کی تلاوت منسوخ ہو گئی اور حکم باقی ہے اور نسخ قرآن کریم سے ثابت ہے۔
مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا
”جو آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلوا دیتے ہیں تو ہم اس سے بہتر یا اس جیسی آیت نازل فرما دیتے ہیں۔“
(2-البقرة:106)
ناسخ و منسوخ کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، اس لیے ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔
نیز فرمایا:
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ ‎﴿٦﴾‏ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ ‎﴿٧﴾
”ہم عنقریب آپ کو اسی طرح پڑھائیں گے کہ اسے بھولیں گے نہیں، مگر جو اللہ چاہے۔ بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔“
(87-الأعلى:6-7)
اس آیت میں ما شاء سے نسخ کی ایک قسم مراد ہے۔ ہاں آیت رجم جب منسوخ التلاوۃ ہوئی تو اثبات رجم کے اشارات سورۂ مائدہ اور احادیث متواترہ میں موجود ہیں جس سے لفظی اور عملی تواتر ثابت ہے۔

شبہ نمبر5:

بعض لوگ اس اشتباہ میں ہیں کہ شاید سورۂ نور میں مذکورہ سزا بعد میں اور رجم کا اثبات اس سے پہلے کا ہے، لہذا رجم کا حکم منسوخ ہو گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سورۂ نور سن 6 ہجری میں نازل ہوئی اور ترتیب نزولی کے لحاظ سے اس کا نمبر 102 ہے جبکہ سورۂ مائدہ صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی، یعنی سن 7 ہجری میں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے اس کا نمبر 112 ہے۔ اس طرح رجم کے بعض واقعات سورۂ نور کے نزول کے بعد کے ہیں، مثلاً:
➊ غامدیہ کو رجم کرنے میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شامل تھے۔
صحيح مسلم، الحدود، باب من اعترف على نفسه بالزنى، حديث: 1695
اور وہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کی درمیانی مدت میں مسلمان ہوئے اور یہ دونوں واقعات سورۂ نور کے بعد کے ہیں۔
➋ ایک گھریلو مزدور لڑکے نے شادی شدہ عورت سے زنا کیا، پھر عورت کے شوہر اور لڑکے کے باپ نے مالی عوض کے بدلے آپس میں صلح کر لی۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صلح کو مسترد کر دیا اور لڑکے کو کوڑے مارنے اور عورت کو رجم کرنے کا فرمایا۔ اس واقعے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خود حاضر تھے جو غزوہ خیبر کے وقت سن 7 ہجری میں اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے، لہذا یہ واقعہ بھی سورۂ نور کے بعد کا ہے۔
صحيح البخاري، الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور ، حدیث : 2696,2695، وصحيح مسلم، الحدود، باب من اعترف على نفسه بالزئی، حدیث: 1698,1697
◈ نوٹ: منکرین حدیث سے سوال ہے کہ شادی شدہ مرد اور عورت کی سزا یا تو غیر شادی شدہ کے مساوی ہو گی یا معمولی تعزیر ہو گی یا رجم ہوگا۔ پہلی دونوں صورتوں میں تو بالکل نا انصافی ہے کہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کو مساوی سزا دی جائے کیونکہ شادی شدہ کا جرم زیادہ سنگین ہے۔ اسی لیے اسلام نے غیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا مقرر کی ہے لیکن مغربی کفار فحاشی اور بدکاری کے لیے ہر طریقے سے راہیں ہموار کر رہے ہیں اور وہ ان سزاؤں کو جو فحاشی روکنے کا ذریعہ ہیں، وحشیانہ سزائیں کہتے ہیں۔ منکرین حدیث جو اصل میں مغرب کے آلہ کار ہیں وہ بھی اسی قسم کے شبہات کو ہوا دیتے ہیں تاکہ مسلمانوں میں فحاشی عام ہو جائے۔