تعزیت کے مسنون الفاظ، صبر و احتساب اور اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ عبداللہ ناصر رحمانی کی شرح کتاب التوحید من صحیح بخاری سے ماخوذ ہے۔

بسم الله الرحمن الرحيم

كتاب التوحيد

7377: حدثنا أبو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم الأحول، عن أبي عثمان النهدي، عن أسامة بن زيد قال: «كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ جاءه رسول إحدى بناته يدعوه إلى ابنها في الموت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ارجع، فأخبرها أن لله ما أخذ وله ما أعطى، وكل شيء عنده بأجل مسمى، فمرها فلتصبر ولتحتسب. فأعادت الرسول أنها أقسمت لتأتينها، فقام النبي صلى الله عليه وسلم، وقام معه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل، فدفع الصبي إليه ونفسه تقعقع كأنها في شن، ففاضت عيناه، فقال له سعد: يا رسول الله؟ قال: هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده، وإنما يرحم الله من عباده الرحماء.

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ آپ کی ایک صاحبزادی زینب کے بھیجے ہوئے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان کے لڑکے جاں کنی میں مبتلا ہیں اور وہ نبی کریم ﷺ کو بلا رہی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: کہ تم جا کر انہیں بتا دو کہ اللہ ہی کا سب مال ہے جو چاہے لے لے اور جو چاہے دیدے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے پس ان سے کہو کہ صبر کریں اور اس پر صبر ثواب کی نیت سے کریں۔ صاحبزادی نے دوبارہ آپ کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ سعد بن معاذ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی کھڑے ہوئے (پھر جب آپ صاحبزادی کے گھر پہنچے تو) بچہ آپ کو دیا گیا اور اس کی سانس اکھڑ رہی تھی جیسے پرانی مشک کا حال ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر نبی کریم ﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کہ یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔

فوائد و استنباطات: فضيلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

بناته: سے مراد رسول اللہﷺ کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہیں۔

تعزیت کے یہ الفاظ ہیں: أَنَّ لِلهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔

فمرها فلتصبر ولتحتسب: (یعنی) حکم دو صبر کرے اور صبر کر کے اللہ تعالی سے اجر لےلے۔ (فلتصبر) کا معنی حسب نفس اپنے آپ کو روکنا درج ذیل امور سے۔(نوحہ کرنا، جزع و فزع کرنا، شور مچانا، چیخنا چلّانا، ماتم کرنم، رخساروں کو پیٹنا، دامن پھاڑنا، وغیرہ) اور ایسی حرکت سرانجام دینا جو شریعت کے منافی ہو۔ اور جو شخص ان کاموں سے نہیں رکتا وہ صبر کی حدود سے خارج ہو جاتا ہے۔

ولتحتسب: اور اللہ رب الغزت سے ثواب اور اجر طلب کرنا،

سوال: نبی کریم ﷺ پہلے کیوں تشریف نہیں لے گئے؟

جواب: حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پہلے اپنی صاحبزادی کو تعزیت کے مسنون الفاظ بھیجے اور صبر و احتساب کی تلقین فرمائی۔ البتہ جب انہوں نے دوبارہ قسم دے کر آپ ﷺ کو بلایا تو آپ ﷺ تشریف لے گئے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں یہ حکمت ہو کہ آپ ﷺ نہایت رحیم اور رقیق القلب تھے، اس لیے پہلے پیغام کے ذریعے صبر کی تلقین فرمائی، پھر اصرار پر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کی رحمت و نرمی کا اندازہ اسی حدیث سے ہوتا ہے کہ بچے کی کیفیت دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو اپنی حیاتِ مبارکہ میں کئی بڑے صدمات بھی برداشت کرنے پڑے؛ آپ ﷺ کے صاحبزادے کم سنی میں فوت ہوئے، سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر بھی آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے، اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا صدمہ بھی آپ ﷺ کے لیے نہایت گہرا تھا۔

اسی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی وہ پیش گوئی بھی اہلِ ایمان کے لیے اطمینان کا باعث ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا۔

[حدثنا صدقة، حدثنا ابن عيينة، حدثنا أبو موسى، عن الحسن، سمع أبا بكرة، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر والحسن إلى جنبه ينظر إلى الناس مرة وإليه مرة، ويقول: ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين]

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا:  آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے اور حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور پھر حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔ (بخاری:3746)

شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

وقد فهم من هذا أن الحسن سيعيش، وأنه لن يموت طفلاً، بل سيبقى حتى يصلح الله به بين فئتين عظيمتين من المسلمين؛ لأن الرسول صلى الله عليه وسلم أخبر عن ذلك، وخبره لا يتخلف، بل هو صدق، وهو لا ينطق عن الهوى صلوات الله وسلامه وبركاته عليه۔

اور اس سے یہ سمجھا گیا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ زندہ رہیں گے، بچپن میں فوت نہیں ہوں گے، بلکہ اس وقت تک باقی رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروا دے گا؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی خبر دی تھی، اور آپ ﷺ کی دی ہوئی خبر خلافِ واقع نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ بالکل سچی ہوتی ہے، اور آپ ﷺ اپنی خواہشِ نفس سے کلام نہیں فرماتے۔ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل ہوں۔ ( شرح سنن أبي داود للعباد: ج 522 ص3)

يَرْحَمُ: میں معتزلہ کا رد ہے، جو رحمن کو مانتے ہیں مگر صفتِ رحمت کا انکار کرتے ہیں۔ یہاں یرحم عملی طور پر اللہ کی صفت طور پر بیان ہوا۔

الرُّحَمَاءَ: مبالغے کا صیغہ ہے، اور رحیم کی جمع ہے۔ (یعنی) ان کے دلّوں میں بہت زيادہ نرمی و شفقت ہو۔ تو اللہ تعالی اپنے بندوں پہ رحم کرتا ہے۔

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ آنسو جو ہیں اس رحمت کے جذبے کے منافی نہیں ہیں اور نہ اس سے روکا گیا ہے۔

ماتم، چیخنا، چلانا، کپڑے پھاڑنا وغیرہ سے منع کیا گیا ہے۔

او رایسے جملے کہنا جو جھوٹ پر مبنی ہوں ان سے بھی منع کیا گیا ہے۔

کلام اور جزع و فزع سے بھی منع کیا گیا ہے۔

اور حدیث کا مقصود: اللہ رب العزت کی صفت رحمت کا اثبات  اور ہمارا اس پہ ایمان ہے اور اللہ رب العزت کی رحمت برحق ہے۔ اور کیفیت کیا ہے ہم نہیں جانتے۔