مضمون کے اہم نکات
سوال:
روزہ کشائی کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:
بعض علاقوں میں روزہ کشائی کی رسم کی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب کوئی بچہ اپنا پہلا روزہ رکھتا ہے تو افطاری کے وقت اس کے گلے میں ہار پہنائے جاتے ہیں، اس کی طرف سے دیگیں پکا کر لوگوں میں تقسیم کی جاتی ہیں، مساجد میں افطاری بھیجی جاتی ہے۔ اسے روزہ کشائی کا نام دیا جاتا ہے۔
ایسی رسومات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تکلف ہے جسے اسلام میں داخل کر دیا گیا، اس پر سخت نگیر ہونی چاہیے تا کہ یہ رسم لوگوں میں رواج نہ پائے۔
سوال:
کیا ماہ رمضان میں فوت ہونے والا عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے؟
جواب:
اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔
سوال:
روزہ رکھا ہے کہ حیض آ گیا، اب کیا حکم ہے؟
جواب:
روزہ توڑ دے، کیونکہ حیض میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ حیض کی وجہ سے رمضان کے جتنے روزے نہ رکھ سکے، ان کی قضا اگلے سال تک دینا ضروری ہے۔
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم
”کیا ایسا نہیں کہ حائضہ نماز پڑھتی ہے نہ روزہ رکھتی ہے۔“
(صحيح البخاري: 304، صحيح مسلم: 79)
❀ معاذہ رحمہا اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے سوال و جواب بیان کرتی ہیں:
ما بال الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة فقالت أحرورية أنت قلت لست بحرورية ولكني أسأل قالت كان يصيبنا ذلك فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة
”عرض کیا: حائضہ روزے کی قضا تو دیتی ہے، نماز کی قضا کیوں نہیں دیتی؟ فرمایا: آپ حروریہ ہیں؟ عرض کیا نہیں، میں حروریہ نہیں ہوں، فقط سوال کیا ہے، فرمایا: ہم ماہواری میں ہوتیں تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، نماز کی قضا کا نہیں۔“
(صحيح البخاري: 321، صحيح مسلم: 335)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إجماع أن الحائض لا تصوم في أيام حيضتها وتقضي الصوم ولا تقضي الصلاة لا خلاف في شيء من ذلك والحمد لله
”اجماع ہے کہ عورت ماہواری میں روزے نہیں رکھ سکتی، بلکہ بعد میں قضا دے گی، البتہ نماز کی قضا نہیں ہے۔ الحمد للہ! اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 22/107)
حائضہ روزہ نہیں رکھے گی، یہ مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے، البتہ روزے کی حالت میں حیض آ گیا تو اس روزے کی اور باقی روزے جو رہ گئے، ان کی قضا دے گی۔
سوال:
عورت کا حیض ختم ہو چکا ہے اگر اس نے ابھی غسل نہیں کیا تو کیا وہ غسل سے پہلے روزہ رکھ سکتی ہے؟
جواب:
رکھ سکتی ہے، کیونکہ اس کا حیض ختم ہو چکا ہے، اسے طہارت حاصل ہو چکی ہے، البتہ نماز وغیرہ کے لیے غسل ضروری ہے۔
سوال:
بچے یا بچی پر روزہ کب فرض ہوگا؟
جواب:
جب اس میں بلوغت کی کوئی نشانی ظاہر ہو جائے یا پندرہ سال کا ہو جائے۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
الاحتلام والإنبات واستكمال خمس عشرة سنة حد للبلوغ الذي يجب على الرجال والنساء بوجود أي واحدة من هذه الخصال كان موجودة الفرائض والحدود وفي المرأة خصلة رابعة تجب بوجودها فيها عليها الفرائض وهي الحيض وقد أجمع أهل العلم على أن بوجود الحيض في المرأة تجب الفرائض
”احتلام، زیر ناف بال اور پندرہ سال عمر مرد اور عورت کی بلوغت کی نشانی ہے، ان میں سے جو بھی علامت پائی جائے، فرائض و حدود کو واجب کر دے گی۔ البتہ عورت کی چوتھی علامت بلوغ ماہواری ہے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ عورت کو ماہواری آئے تو اس پر فرائض کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے۔“
(الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف: 4/388)
سوال:
اگر حاملہ کو بچے کی ولادت سے ایک دو دن پہلے خون آئے تو کیا وہ اس دوران نماز روزہ کرے گی؟
جواب:
یہ دمِ فاسد ہے، عورت بدستور پاک ہے، نماز روزہ جاری رکھے گی۔