تین مساجد کا سفرِ زیارت :
مستحب سفر سوائے تین مساجد کے اور کسی طرف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان تینوں مساجد کو تعمیر کرنے کا شرف جلیل القدر انبیاء کرام علیہم السلام کو حاصل ہے۔ جن میں مسجد الحرام کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر اور مسجد نبوی کو خاتم المرسلین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر فرمایا جس کی بنیاد ہی تقویٰ پر ہے۔ دوسری مسجد ایلیاء یعنی مسجد اقصی ہے جو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے وقت سے بھی پہلے حضرت اسحاق علیہ السلام کی تعمیر شدہ ہے۔
صحیحین میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام۔ میں نے سوال کیا کہ اس کے بعد کون سی مسجد تعمیر ہوئی؟ آپ نے فرمایا: مسجد اقصی۔
میں نے پھر سوال کیا کہ مسجد الحرام اور مسجد اقصی کی تعمیر کے درمیان کتنی مدت کا وقفہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد اقصی چالیس سال بعد تعمیر ہوئی۔ اس گفتگو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں بھی وقت ہو جائے نماز پڑھ لیا کرو، وہی جگہ تمہارے لیے مسجد ہے۔ صحیح بخاری میں یہ الفاظ منقول ہیں:
فإن فيه الفضل
”اسی جگہ نماز پڑھنا افضل ہے۔“
آپ کا معمول بھی یہی تھا کہ جہاں نماز کا وقت ہو جاتا فوراً پڑھ لیتے۔
صحیح بخاری کتاب احادیث الأنبیاء: باب (10) (حدیث: 3425، 3366) کتاب المساجد باب المساجد ومواضع الصلاة (حدیث: 520)
مسجد اقصی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے وقت بھی تھی البتہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اسے وسیع کر دیا۔ پس ان تین مساجد کو انبیاء کرام علیہم السلام نے تعمیر کیا تاکہ وہ خود اور دوسرے لوگ بھی ان میں نماز ادا کریں۔ پس جب انبیاء کرام علیہم السلام نے مذکورہ مساجد میں نماز ادا کرنے کا قصد کیا تو ان کی طرف سفر کر کے وہاں عبادت کرنا مشروع قرار دے دیا گیا، تاکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع ہو جائے۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب بیت اللہ تعمیر کر لیا تو انہیں حکم الہی ہوا کہ وہ لوگوں کو اس کا حج کرنے کی دعوت دیں، چنانچہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک لوگ جوق در جوق بیت اللہ کے حج کی نیت سے سفر کر کے مکہ مکرمہ آتے رہے۔ اگرچہ ان پر حج فرض نہ تھا جیسا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں بھی فرض نہ تھا۔ حج کی فرضیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور میں ہوئی جبکہ سورۃ آل عمران نازل ہوئی۔
سورہ بقرہ میں تو تکمیلِ حج و عمرہ کا حکم اس شخص کے لیے ہے جو حج یا عمرہ کو شروع کر لے۔ اس لیے جمہور علماء کے نزدیک نفلی حج یا عمرہ کی تکمیل واجب ہے۔ البتہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں پر اتمام کا مقصد وجوب بتانا ہے۔ لیکن ہماری رائے میں پہلا موقف صحیح ہے۔