خیر خواہی کرنے کا ثواب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

خیر خواہی کرنے کا ثواب

دین خیر خواہی کا نام ہے، جس کی دلیل رسول اکرم، سید المرسلین محمد عربی علیہ الصلاۃ و السلام کی حدیث یہ ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: یقیناً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
الدين النصيحة، قلنا: لمن؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم .
”دین خیر خواہی کا نام ہے، ہم نے کہا: کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ کے لیے، اور اس کی کتاب کے لیے، اور اس کے رسول کے لیے، اور آئمہ مسلمین اور تمام مسلمانوں کے لیے۔“
صحیح مسلم، كتاب الايمان، رقم: 196.
خیر خواہی کرنے والے شخص کے لیے اللہ رب العزت نے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
﴿لَّا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا﴾
”ان کی بہت سی سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہے، سوائے اس آدمی (کی سرگوشی) کے جو کسی کو صدقہ یا بھلائی یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے، اور جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسا کرے گا، تو ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے۔“
(4-النساء:114)
اصلاح اور خیر خواہی کرنے والوں اور ارادہ اصلاح و خیر رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت جوش مارتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
”سوائے ان لوگوں کے جو اس گناہ کے بعد توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں، تو بے شک اللہ بڑا غفور والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
(24-النور:5)
اہل ایمان مصلحین کو نہ مستقبل کا کوئی خوف لاحق ہو گا اور نہ ماضی کا غم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
”پس جو لوگ ایمان لائیں گے، اور اصلاح کریں گے، انہیں نہ مستقبل کا کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ ماضی کا غم۔“
(6-الأنعام:48)
خیر خواہی کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ انسان جو اچھی چیز، اچھا عمل اپنے لیے پسند کرتا ہے، وہی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے کرے۔ چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه .
”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے بھی وہ چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“
صحیح بخاري، كتاب الإيمان، باب من الإيمان أن يحب لأخيه……، رقم: 13 ۔ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب الدليل على أن من خصال الإيمان أن يحب لأخيه ما يحب لنفسه من الخير، رقم: 170.