کیا قرآن اور صحیح حدیث میں تعارض ممکن ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی کتاب "حجیت حدیث” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں

انکارِ حدیث دراصل انکارِ قرآن ہے، قرآن کی آڑ میں احادیث کو ٹھکرایا جاتا ہے۔

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يقرؤون القرآن لا يجاوز حلوقهم -أو حناجرهم- يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية.
وہ قرآن پڑھیں گے، لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
[صحیح البخاري:6931]

❀ یہ حدیث خوارج کا حال بتاتی ہے کہ وہ فہمِ دین سے ناآشنا ہوں گے، اسی وجہ سے خوارج قرآن و حدیث کی توہین اور مسلمانوں کی تکفیر کے مرتکب ہوئے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:

رد الروايات الصحيحة والطعن في أئمة الحديث الضابطين مع إمكان توجيه ما رووا من الأمور التي أقدم عليها كثير من غير أهل الحديث وقد يقضي قصور فهم من فعل ذٰلك منهم ومن ثم قال الكرماني: لا حاجة لتخطئة الرواة الثقاة.
بہت سے غیر اہل حدیث لوگوں نے احادیثِ صحیحہ اور روایاتِ ثابتہ کا انکار کیا ہے، ائمہ حدیث پر طعن کیا ہے، یہ اقدام ان کے ناقص العقل و قاصر الفہم ہونے پر دلیل ہے، اسی وجہ سے علامہ کرمانی (شارحِ بخاری) نے کہا ہے کہ ثقہ راویوں کی طرف خواہ مخواہ غلطی کی نسبت کرنے کی ضرورت نہیں (بلکہ ان کی روایتوں میں جمع و توفیق اور تطبیق دینا ضروری ہے) [فتح الباری:13/401]

❀ صحیح حدیث قرآن کے موافق ہے، مخالف نہیں، قرآن اور حدیث دونوں وحی ہیں، وحی حق ہے، حق حق کے معارض نہیں ہو سکتا، ایک حق کو دوسرے حق پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے جو بھی قرآن و حدیث کی صورت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیا ہے، اسے دل و جان سے حق تسلیم کرتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں۔

زہری رحمہ اللہ (125ھ) فرماتے ہیں:

على الله البيان وعلى الرسول البلاغ وعلينا التسليم.
اللہ نے بیان کیا، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچایا، ہم پر لازم ہے کہ ہم سرِ تسلیم خم کریں۔
[الزُّهد لابن أبي عاصم:71]،[حِلية الأولياء لأبي نُعيم:3/369] عقيدة السلف أصحاب الحديث لأبي إسماعيل الصَّابوني، واللَّفظ لَهُ،[تغليق التَّعليق لابن حجر:5/365، وسنده صحيح]

حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:

يحذر بذٰلك مخالفة السنن التي سنها رسول الله صلى الله عليه وسلم مما ليس له في القرآن ذكر على ما ذهبت إليه الخوارج والروافض فإنهم تعلقوا بظاهر القرآن وتركوا السنن التي قد ضمنت بيان الكتاب فتحيروا وضلوا.
جن سنتوں کا ذکر قرآن کریم میں نہیں، ان کی مخالفت سے بھی اجتناب کیا جائے، خوارج اور روافض نے صرف قرآن کے ظاہر کو لیا ہے اور ان احادیث کو چھوڑ دیا ہے، جو قرآن کی توضیح و تشریح پر مشتمل ہیں، اس لیے وہ پریشان اور گمراہ ہو گئے۔ [معالم السنن:4/298]

اوزاعی رحمہ اللہ نے بقیہ بن ولید رحمہ اللہ سے پوچھا:

جو لوگ حدیث سے بغض رکھتے ہیں، ان کے متعلق کیا خیال ہے؟ کہا: وہ برے لوگ ہیں، تو اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ليس من صاحب بدعة تحدثه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بخلاف بدعته بحديث إلا أبغض الحديث.
جس بدعتی کو بھی آپ اس کی بدعت کے خلاف حدیث سنائیں گے، تو وہ اس حدیث کو ہی برا سمجھے گا۔
[شرف أصحاب الحديث للخطيب:150]،[الحُجَّة لأبي القاسم الأصبهاني:1/207، وسنده صحيح]

امام آجری رحمہ اللہ (360ھ) فرماتے ہیں:

ينبغي لأهل العلم والعقل إذا سمعوا قائلا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في شيء قد ثبت عند العلماء، فعارض إنسان جاهل فقال: لا أقبل إلا ما كان في كتاب الله تعالى، قيل له: أنت رجل سوء، وأنت ممن يحذرناك النبي صلى الله عليه وسلم، وحذر منك العلماء.
کسی سے حدیث بیان کی جائے اور وہ کہے کہ میں صرف قرآن کو مانتا ہوں، تو اسے برا کہنا چاہیے، یہ اہل علم و عقل کی ذمہ داری ہے۔ اسے کہیں کہ تیرے جیسے جاہلوں سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور علماء نے خبردار کیا ہے۔ [الشَّريعة:1/410]

امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:

لا تخالف سنة لرسول الله كتاب الله بحال.
کسی بھی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرآن کے مخالف نہیں ہو سکتی۔ [الرِّسالة: ص546]

علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:

التعارض إما أن يعتبر من جهة ما في نفس الأمر، وإما من جهة نظر المجتهد، أما من جهة ما في نفس الأمر؛ فغير ممكن بإطلاق.
تعارض کی دو قسمیں ہیں، حقیقت میں ہو گا یا صرف مجتہد کی نظر میں ہو گا، (قرآن اور صحیح حدیث میں) حقیقی تعارض ناممکن ہے۔
[المُوافقات:4/294]

❀ یہ قاعدہ کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیا جائے گا، اگر قرآن کے موافق ہو، تو درست، ورنہ اسے چھوڑ دیا جائے گا، ایک مفروضہ تو ہو سکتا ہے، حقیقت میں صحیح حدیث کا قرآن کے مخالف ہونا ممکن نہیں۔

حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:

ليس في القرآن دلالة على عرض الحديث على القرآن.
قرآن میں ایسی کوئی دلیل نہیں، جس سے ثابت ہوتا ہو کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیا جائے گا۔ [دلائل النبوة:1/27]

❀ اگر بات کسی ایک انسان یا بعض انسانوں کی عقل کو معیار ماننے کی ہے، تو گزارش ہے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات سے ٹکراتی نظر آئیں، تو کیا کیا جائے؟ کیا یہاں بھی عقل کو حاکم مان لیا جائے؟ اگر ہاں تو کس آیت کو لیا جائے گا اور کس کو چھوڑا جائے گا۔ اگر نہیں تو جو اصول قرآن کے بارے میں اپنایا جائے گا اسے حدیث پر بھی لاگو کر لیجئے گا۔

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا ألفين أحدكم متكئا على أريكته يأتيه الأمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه فيقول: لا ندري ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه.
میں کسی کو اس طرح نہ دیکھوں کہ وہ تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہو اور اسے میری حدیث پہنچے، تو وہ کہے کہ ہم نہیں جانتے، ہم تو صرف قرآن کا اتباع کریں گے۔
[سنن أبي داود:4605]،[سنن الترمذي:2663]،[سنن ابن ماجه:13]،[مسند الحميدي:551]،[دلائل النبوة للبيهقي:6/549 وسنده صحيح]

❀ اس حدیث کو امام ترمذی نے ’’حسن صحیح‘‘، نیز امام ابن حبان (13) اور امام حاکم رحمہ اللہ،1/ 108-109 نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ بغوی نے ’’حسن‘‘ قرار دیا ہے۔ (شرح السنة: 201/1)

حافظ بغوی رحمہ اللہ (516ھ) فرماتے ہیں:

في الحديث دليل على أنه لا حاجة بالحديث إلى أن يعرض على الكتاب، وأنه مهما ثبت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان حجة بنفسه.
یہ حدیث دلالت کناں ہے کہ حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں، وہ حدیث ثابت ہے، تو بذاتِ خود حجت ہے۔
[شرح السُّنَّة: 201/1]

علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:

إن السنة جاءت مفسرة للكتاب، فمن أخذ بالكتاب من غير معرفة بالسنة زل عن الكتاب كما زل عن السنة.
حدیث قرآن کریم کی تفسیر ہے، لہذا جس نے حدیث کی معرفت کے بغیر قرآن کریم کو سمجھا، وہ قرآن میں بھی غلطی کھائے گا، جیسے اس نے حدیث میں غلطی کھائی ہے۔ [الاعتصام: 107/1]

قرآن اور حدیث کے مابین تعارض کی مثال ملاحظہ فرمائیں۔

[1] متواتر حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنكم سترون ربكم كما ترون هٰذا القمر، لا تضامون في رؤيته….
آپ اپنے رب کو دیکھیں گے، جس طرح بھیڑ کے بغیر چاند دیکھتے ہیں۔ [صحیح البخاري: 7434، صحیح مسلم: 633]

جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار کی درخواست کی، تو اللہ نے فرمایا:

[لَنۡ تَرٰىنِیۡ]
موسیٰ! تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ (الأعراف:143)

❀ حدیث میں دیدارِ الٰہی کا ثبوت ہے اور قرآن کے ظاہر سے اس کی نفی ہو رہی ہے، اس تعارض کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ حدیث ’’صحیح‘‘ نہیں، بالفرض اس کو ’’صحیح‘‘ مان لیا جائے، تو اس سے مراد ’’علم‘‘ ہے، نہ کہ دیدارِ الٰہی۔

اللہ کا فرمان ہے:

[اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ]
آپ کو علم نہیں کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے؟ (النور:41)

❀ یہ حدیث متواتر ہے، اس کی صحت میں شبہ نہیں، قرآن نے جس دیدارِ الٰہی کی نفی کی ہے، اس کا تعلق دنیا سے ہے، حدیث نے جس کا اثبات کیا ہے، اس کا تعلق آخرت سے ہے، دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی، البتہ آخرت میں وہ مومنوں کو اپنا دیدار کرائے گا، لہذا تعارض ختم ہوا، یہاں رؤیت کی تعبیر علم سے کرنا قرآن و حدیث اور صحابہ و سلف صالحین کے متفقہ فہم کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ]،[اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ]
اس دن چہرے شگفتہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ (القیامة: 22۔23)

نظر کی نسبت چہرے کی طرف ہے، جو آنکھوں کا محل ہے، اس کو ’إِلَىٰ‘ کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے، معلوم ہوا کہ یہ رؤیت بصری ہوگی نہ کہ قلبی، یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہوگا اور منکر اس سے محروم رہے گا۔
اسی حدیث میں ہے کہ جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیدارِ الٰہی کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هل تضارون في رؤية الشمس بالظهيرة صحوا ليس معها سحاب؟ وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر صحوا ليس فيها سحاب؟ قالوا: لا يا رسول الله، قال: ما تضارون في رؤية الله تبارك وتعالى يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما.
جب سورج نصف النہار پر ہو اور بادل بھی نہ ہو، تو کیا سورج دیکھنے میں دقت یا دشواری ہوتی ہے؟ اور جب چودھویں کا چاند جلوہ آرا ہو اور بادل بھی نہ ہو، تو کیا چاند دیکھنے میں دقت ہوتی ہے؟ عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! فرمایا: آپ جس طرح دنیا میں سورج یا چاند کو دیکھتے ہیں، اسی طرح روزِ قیامت اللہ کا دیدار کریں گے۔ [صحیح مسلم:183]
❀ واضح ہوا کہ دیدار بصری ہوگا نہ کہ قلبی۔

امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ (276ھ) فرماتے ہیں:

لو كان الله تعالى لا يرىٰ في حال من الأحوال، ولا يجوز عليه النظر، لكان موسىٰ عليه السلام قد خفي عليه من وصف الله تعالى ما علموه.
اگر کسی صورت بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ناممکن ہو تو یہ لازم آئے گا کہ اللہ کے جس وصف کو موسیٰ علیہ السلام نہ جان سکے، اسے منکرینِ حدیث جان گئے۔ [تاویل مختلف الحدیث: ص 299]

❀ حدیث کو قرآن پر پیش کرنے والا اصول غلط ہوا، یاد رہے کہ کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں ہوتی، ظاہری مخالفت ہو سکتی ہے، حقیقت میں مخالفت نہیں ہو سکتی، لہذا ایک صحیح، مرفوع اور متصل حدیث پیش کی جائے، جو قرآن کے خلاف ہو، اللہ کی توفیق سے ہم اس تعارض کو رفع کر دیں گے، اگر قرآن کا قرآن سے ظاہری تعارض رفع ہو سکتا ہے، تو قرآن اور حدیث کا ظاہری تعارض بھی رفع ہو سکتا ہے۔ صحابہ کرام اور ائمہ عظام نے احادیث کو قرآن پر پیش کر کے یہ بتایا ہے کہ کوئی صحیح حدیث درحقیقت قرآن کے مخالف نہیں۔

امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:

من ادعىٰ من الجهلة أن شيئا من سنن النبي صلى الله عليه وسلم إذا ثبت من جهة النقل مخالف لشيء من كتاب الله، فأنا الضامن بتثبيت صحة مذهبنا علىٰ ما أبوح به منذ أكثر من أربعين سنة.
جو جاہل دعویٰ کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت حدیث کسی قرآنی آیت کے مخالف ہے، تو میں نے چالیس برس سے یہ چیلنج کیا ہے کہ اس بارے میں ہم محدثین کا مذہب صحیح ہے (کہ کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں ہے)۔ [کتاب التوحید: 110/1]

❀ انکارِ حدیث ایک مرض ہے، یہ عقل کو شیطان کے تابع کر دیتا ہے، شیطان اس کی طرف باطل القا کرتا ہے، شبہات و وساوس کے اندھیروں سے اسے بھر دیتا ہے۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَنۡ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکۡرِمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ]
اللہ تعالیٰ جسے ذلیل کر دے، اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، اللہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ (الحج: 18)

نیز فرمایا:

[اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمۡ وَ اَعۡمٰۤی اَبۡصَارَہُمۡ]
یہ وہ لوگ ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے، پھر انہیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔ (محمّد: 23)
❀ حدیثِ حق ہے، یہ لوگ اسے نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ سمجھ سکتے ہیں۔

قوام السنہ اسماعیل بن محمد اصفہانی رحمہ اللہ (535ھ) فرماتے ہیں:

قول من قال: تعرض السنة على القرآن فإن وافقت ظاهره وإلا استعملنا ظاهر القرآن وتركنا الحديث، فهٰذا جهل لأن سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم مع كتاب الله عز وجل تقام مقام البيان عن الله عز وجل، وليس شيء من سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم يخالف كتاب الله لأن الله عز وجل أعلم خلقه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم يهدي إلىٰ صراط مستقيم فقال: [و انک لتہۡدیۡۤ الٰی صراط مسۡتقیۡم] وليس لنا مع سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأمر شيء إلا الاتباع والتسليم ولا يعرض علىٰ قياس ولا غيره، وكل ما سواها من قول الآدميين تبع لها، ولا عذر لأحد يتعمد ترك السنة، ويذهب إلىٰ غيرها، لأنه لا حجة لقول أحد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صح.

منکرینِ حدیث کا یہ کہنا کہ سنت کو قرآن پر پیش کیا جائے گا، اگر وہ قرآن کے موافق ہوئی، تو درست، ورنہ ہم قرآن کے ظاہر پر عمل کریں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں گے، سراسر جہالت ہے، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے موافق ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے قرآن کی تفسیر و تشریح ہے، کوئی سنت قرآن کے مخالف و معارض نہیں ہے، اللہ نے اپنی مخلوق کو بتلایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیدھی راہ کی راہنمائی فرماتے ہیں، فرمایا: [وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ] (الشوریٰ:52) آپ ضرور صراطِ مستقیم کی ارشاد و راہنمائی فرماتے ہیں۔ ہمارے لیے رسول کریم ﷺ کے اتباع کے بغیر چارہ نہیں، حدیث کو عقل پر بھی پیش نہیں کیا جائے گا، امتیوں کے اقوال و افعال تو حدیث کے تابع ہیں، جان بوجھ کر سنت کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف جانے کی گنجائش نہیں ہے، جب رسول اللہ ﷺ کا قول صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خلاف کسی کا قول حجت نہیں ہے۔ [الحجة في بيان المحجة:425/2-426]

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

[مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ]
جس نے رسول کی اطاعت کی، درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (النساء: 80)

❀ یہ آیت نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال وافعال واحوال اللہ کی وحی ہیں، جب رسول اللہ ﷺ کے اقوال وافعال اللہ کی وحی کے تابع ہیں، تو انہیں قرآن کریم پر پیش کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟

حافظ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:

صح أن كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم كله في الدين وحي من عند الله عز وجل لا شك في ذلك ولا خلاف بين أحد من أهل اللغة والشريعة في أن كل وحي نزل من عند الله تعالى فهو ذكر منزل.
یہ لا ریب حقیقت ہے کہ دین کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی تمام باتیں وحی الہی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کے منزل من اللہ ہونے میں اہل لغت وشرع میں کوئی اختلاف نہیں۔ [الاحکام فی اصول الاحکام:1/135]

حسان بن عطیہ رحمہ اللہ (120ھ) فرماتے ہیں:

كان جبريل ينزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسنة كما ينزل عليه بالقرآن ويعلمه إياها كما يعلمه القرآن.
جبريل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ پر سنت لے کر بھی نازل ہوتے تھے، جس طرح قرآن لے کر نازل ہوتے تھے، آپ ﷺ کو سنت کی ویسے ہی تعلیم دیتے تھے، جیسے قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ [السنۃ للمروزی:28-116 وسندہ صحیح]

علامہ ابو البقاء حسینی حنفی رحمہ اللہ (1092ھ) کہتے ہیں:

الحاصل أن القرآن والحديث يتحدان في كونهما وحيا منزلا من عند الله بدليل: [اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی]، الحاصل فرمانِ الٰہی: [اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی] (النجم: 5) کے مطابق قرآن وحدیث دونوں وحی ہیں۔ [الکلیّات: ص722]

علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:

قد اتفق من يعتد به من أهل العلم على أن السنة المطهرة مستقلة بتشريع الأحكام وأنها كالقرآن في تحليل الحلال وتحريم الحرام.
معتبر علمائے اسلام سنتِ مطہرہ کی مستقل تشریعی حیثیت پر متفق ہیں، یہ حلال و حرام میں قرآن کی طرح ہے۔ [ارشاد الفحول:1/96]

نیز فرماتے ہیں:

إن ثبوت حجية السنة المطهرة واستقلالها بتشريع الأحكام ضرورة دينية ولا يخالف في ذلك إلا من لا حظ له في دين الإسلام.
سنتِ مطہرہ کی حجیت اور اس کا احکامِ شرعیہ کا مستقل مصدر ہونے کا ثبوت ضروریاتِ دین میں سے ہے، اس میں اختلاف وہی کرتا ہے، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ [ارشاد الفحول:1/97]

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ]
اہلِ ایمان! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے ولی الامر کی اطاعت کرو۔ (النساء:59)

❀ اللہ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا تو ’’اطیعوا‘‘ کا صیغہ امر الگ الگ ذکر فرمایا، جب اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا، تو صیغہ امر نہیں دہرایا، بلکہ عطف پر اکتفا کیا، ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث مستقل بالذات دلیل ہیں، لہٰذا آپ کی احادیث کو کتاب اللہ پر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

أمر تعالى بطاعته وطاعة رسوله، وأعاد الفعل إعلاما بأن طاعة الرسول تجب استقلالا من غير عرض ما أمر به على الكتاب، بل إذا أمر وجبت طاعته مطلقا، سواء كان ما أمر به في الكتاب أو لم يكن فيه، فإنه أوتي الكتاب ومثله معه.
اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے، ’’اطیعوا‘‘ کو دو بار ذکر کر کے یہ باور کروایا کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیے بغیر اطاعتِ رسول مستقل شرعی مصدر و مآخذ ہونے کی حیثیت سے واجب ہے، بلکہ جب حکم دیا، تو مطلق طور پر اطاعتِ رسول واجب ہو گئی، خواہ اس بات کا حکم کتاب اللہ میں ہو یا نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ کو قرآن عطا کیا گیا ہے اور قرآن کے ساتھ اس کی مثل حدیث بھی دی گئی ہے۔ [اعلام الموقعین:1/38]

عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ (114ھ) فرماتے ہیں:

أولو العلم والفقه، وطاعة الرسول اتباع الكتاب والسنة.
اولی الامر سے مراد علماء و فقہاء ہیں اور اطاعتِ رسول کتاب و سنت کی پیروی کا نام ہے۔ [سنن الدارمی:225]،[تفسیر ابن جریر:7/175 وسندہ صحیح]

❀ قرآن و حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہوا کہ حدیث وحی ہے، اسے قرآن پر پیش کرنا ضلالت ہے، حدیث کا انکار کفر ہے۔

حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) فرماتے ہیں:

إن من أنكر كون حديث النبي صلى الله عليه وسلم قولا كان أو فعلا بشرطه المعروف في الأصول حجة، كفر وخرج عن دائرة الإسلام وحشر مع اليهود والنصارى، أو مع من شاء الله من فرق الكفرة.
قولی حدیث ہو یا اصول کی معروف شرائط کے مطابق فعلی حدیث ہو، جس نے بھی اس کے حجت ہونے کا انکار کیا، وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، اس کا حشر یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہو گا یا ان کافر فرقوں کے ساتھ، جن کے ساتھ اللہ چاہے گا۔ [مفتاح الجنۃ:3]