اچھا اور پاکیزہ کلام بھی صدقہ ہے
① سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا النار ولو بشق تمرة فمن لم يجد فبكلمة طيبة
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے ورنہ خاموش رہے“۔
بخاری، کتاب الرقاق 6563، مسلم، کتاب الزكاة 1016، ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2415۔
② سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صمت نجا
”جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی“۔
ترمذی 2501 روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمسك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك
”اپنی زبان پر قابو رکھ، تیرا گھر تجھے کافی ہونا چاہیے اور اپنی خطاؤں پر رویا کر“۔
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2406، روایت صحیح ہے۔
صبح و شام نیک عمل کرنا
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من حافظين رفعا إلى الله تعالى ما حفظا من عمل العبد فى ليل أو نهار فيجد الله تعالى فى أول الصحيفة وآخرها خيرا إلا قال الله تعالى لملائكته : أشهدكم أني قد غفرت لعبدي ما بين طرفي الصحيفة
”جب دو محافظ فرشتے بندے کے دن یا رات کے اعمال لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رجسٹر کے اول و آخر میں خیر و بھلائی ہی پاتا ہے تو وہ فرشتوں سے فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کو اس رجسٹر کے دونوں اطراف میں جو کچھ ہے بخش دیا“۔
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 981، روایت ضعیف ہے اس کی سند میں تمام راوی ضعیف ہیں اور حسن مدلس ہے۔
فقر اور اس کے متعلق احکامات
① سیدنا ابن عباس اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اطلعت فى الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء ، واطلعت فى النار فرأيت أكثر أهلها النساء
”میں نے جنت میں جھانکا تو میں نے وہاں اکثریت فقراء کی دیکھی، جبکہ میں نے جہنم میں جھانکا تو میں نے وہاں عورتوں کو کثرت سے دیکھا“۔
بخاری 11/ 278، مسلم، کتاب الذكر والدعاء والتوبة 2737۔ ترمذی، صفة جهنم 2602۔
② سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا
”فقراء مہاجرین روزِ قیامت، مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے“۔
مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2285/4، ابن حبان 677.
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يدخل فقراء المسلمين الجنة قبل الأغنياء بنصف يوم وهو خمس مائة عام
”فقراء مسلمان مال داروں سے نصف یوم پہلے جنت میں جائیں گے، اور وہ نصف یوم پانچ سو سال کے برابر ہے“۔
ترمذی، کتاب الزهد 2353، ابن ماجه، کتاب الزهد 4122، روایت صحیح ہے۔
④ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ابغوني ضعفاءكم فإنما ترزقون وتنصرون بضعفائكم
”مجھے ضعفاء میں تلاش کرو، تمہیں اپنے ضعفاء کی وجہ ہی سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری نصرت کی جاتی ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الجهاد 2594، ترمذی، کتاب الجهاد 1702، روایت صحیح ہے۔
⑤ سیدنا مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا سعد کی رائے کو دیگر لوگوں کی رائے پر فضیلت حاصل ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم
”تمہیں تمہارے ضعفاء ہی کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور انہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے“۔
بخاری، کتاب الجهاد والسير 2896، نسائی، کتاب الجهاد 45/6۔
⑥ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رب أشعث أغبر مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره
”بسا اوقات پراگندہ بالوں والا، غبار آلود پاؤں والا، دروازوں ہی سے ہٹا دیا جانے والا اگر اللہ پر قسم اٹھا لے تو وہ اسے پورا کر دیتا ہے“۔
مسلم 2622۔
⑦ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انظر ماذا تقول
”دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو؟“
انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، تین مرتبہ ایسے ہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن كنت تحبني فأعد للفقر تجفافا ، فإن الفقر أسرع إلى من يحبني من السيل إلى منتهاه
”اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو پھر فقر و فاقے کے لیے تیار ہو جاؤ، کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے اس کی طرف فقر اس سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے جو نشیبی علاقوں کی طرف بہتا ہے“۔
ترمذی، کتاب الزهد 2350، روایت حسن ہے۔
⑧ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أحب الله عبدا حماه الدنيا كما يظل أحدكم يحمي سقيمه الماء
”جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اس طرح بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے مریض کو اس کی حالتِ مرض میں پانی سے بچاتا ہے“۔
ترمذی، کتاب الطب 2036، روایت حسن ہے۔
⑨ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح گزرتیں کہ آپ کے اہل خانہ بھوکے ہوتے، انہیں رات کا کھانا نصیب نہ ہوتا، اور اکثر اوقات ان کی روٹی جو سے تیار ہوتی تھی۔
ترمذی، کتاب الزهد 2360، مسند احمد، ومن مسند بنی ھاشم 1/ 255، روایت حسن ہے۔
⑩ سماک بن حرب نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا: ”کیا تم اپنی پسند کے مطابق نہیں کھاتے پیتے ہو؟ میں نے تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کے پاس پیٹ بھرنے کے لیے ردی قسم کی کھجور نہیں تھی“۔
مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2977، ترمذی، کتاب الزهد 2372۔
⑪ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ تیس صاع (تقریبا ستر کلو) جو کے عوض ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔
بخاری، کتاب الجهاد والسير 2916، ترمذی، کتاب البيوع 1214۔