سوال: کیا حد زنا میں چار گواہ ضروری ہیں؟
جواب: زنا کی حد (رجم یا سو کوڑے) اس صورت میں واجب ہوگی، جب زنا ثابت ہو جائے، زنا کا ثبوت کئی طرح سے ہو سکتا ہے۔
① زانی خود اعتراف کر لے۔
② چار عادل لوگ گواہی دے دیں کہ ہم نے خود انہیں زنا کرتے دیکھا ہے۔
③ کوئی ایسا ثبوت مل جائے کہ جو چار گواہوں کے قائم مقام ہو، مثلاً زنا کی حقیقی ویڈیو ریکارڈ ہو جائے، ویڈیو کے جعلی نہ ہونے کی صورت میں یہ چار گواہوں کے قائم مقام ہوگی۔
❀ اگر کسی صورت میں چار سے کم گواہ ہوں، تو حد زنا ثابت نہ ہوگی، کیونکہ حد زنا میں چار سے کم گواہ قبول نہیں۔
❀ اگر کوئی شخص تین گواہ لائے، چوتھا نہ مل سکے، تو بھی اسے حد قذف لگے گی اور آئندہ اس کی کسی معاملہ میں گواہی معتبر نہ ہوگی۔
الله تعالی کا فرمان ہے:
[وَ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَاۡتُوۡا بِاَرۡبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجۡلِدُوۡہُمۡ ثَمٰنِیۡنَ جَلۡدَۃً وَّ لَا تَقۡبَلُوۡا لَہُمۡ شَہَادَۃً اَبَدًا ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ]
جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، پھر چار گواہ بھی نہیں لے کر آتے، تو انہیں اسی کوڑے (حد قذف میں) لگاؤ اور آئندہ ان کی گواہی بھی قبول نہ کرو، یہ فاسق لوگ ہیں۔ [النور:4]
علامہ الکیاالہراسی رحمہ اللہ (504ھ) فرماتے ہیں:
[دليل على أن الأربع حد في هٰذا الباب، لا يجوز ان ينقضي منه شيء، ودليل على أن القاذف مكذب شرعا، إذا لم يأت بأربعة شهداء]
یہ آیت دلیل ہے کہ اس (زنا) کے باب میں (کم سے کم) چار (گواہ) ہونا حد ہے، اس سے کم گواہ ہونا جائز نہیں، نیز یہ دلیل ہے کہ تہمت زنا لگانے والا اگر چار گواہ نہ لا سکے، تو وہ شرعی طور پر جھوٹا قرار پائے گا۔ [أحكام القرآن: 308/4]