خوف اور اس کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من خاف أدلج ، ومن أدلج بلغ المنزل ، ألا إن سلعة الله غالية ، ألا إن سلعة الله الجنة
”جس شخص کے دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے وہ اپنا (نیکیوں والا) سفر ابتدائی شب میں (یعنی جلد) شروع کر دیتا ہے، اور جو اپنا سفر جلد شروع کرتا ہے وہی منزل پر پہنچتا ہے۔ سن لو! اللہ کا سامان قیمتی اور مہنگا ہے، سن لو! بے شک اللہ کا سامان جنت ہے۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله 2450، روایت حسن ہے۔
② سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يقول الله تعالى : أخرجوا من النار من ذكرني يوما أو خافني فى مقام
”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس شخص نے کسی ایک دن مجھے یاد کیا یا کسی موقع پر وہ مجھ سے ڈرا، اسے آگ سے نکال دو۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله 2594، یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں مبارک بن فضالہ مدلس راوی ہے اور وہ ‘عن’ سے روایت کر رہا ہے۔
③ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قریب المرگ نوجوان کے پاس آئے اور اس سے پوچھا:
كيف تجدك؟
”تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟“
اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ سے (رحمت و مغفرت کی) امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يجتمعان فى قلب عبد فى مثل هذا الموطن إلا أعطاه الله ما يرجو ، وآمنه مما يخاف
”اس موقع پر بندے کے دل میں جو دو چیزیں (خوف و امید) جمع ہوتی ہیں تو اللہ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کی وہ امید کرتا ہے اور جس چیز سے وہ ڈرتا ہے اس کے بارے میں امن عطا کر دیتا ہے۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله 983، ابن ماجه، کتاب الزهد 4261، روایت حسن ہے۔
④ سیدنا ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے میری ملاقات ہوئی جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ وہ سب اپنے بارے میں نفاق کا اندیشہ رکھتے تھے اور اپنے دین کے بارے میں کسی چال و تدبیر سے بے خوف نہیں تھے، اور ان میں سے کوئی بھی نہیں کہتا تھا کہ وہ جبریل علیہ السلام کے ایمان جیسی حالت پر ہے۔
بخاری 1/ 135، معلق روایت ہے۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرنا
① سیدنا عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا ہے اس کے متعلق ہمیں بتائیں گے۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن رجلا حضره الموت فلما آيس من الحياة أوصى أهله : إذا أنا مت فاجمعوا لي حطبا كثيرا ثم أوقدوا فيه نارا حتى إذا أكلت لحمي وخلصت إلى عظمي فانتحشت فخذوها فاطحنوها ثم انتظروا يوما ريحا فإذا كان يوم ريح فاطرحوه فى اليم ، ففعلوا فجمعه الله فقال له : لم فعلت ذلك؟ قال : من خشيتك ، فغفر له
”ایک شخص کی موت کا وقت قریب آیا اور جب وہ زندگی سے مایوس ہو گیا تو اس نے اپنے اہل خانہ کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو میرے لیے بہت سی لکڑیاں جمع کر کے ان میں آگ لگا دینا۔ اور جب آگ میرے گوشت کو کھا جائے اور میری ہڈی تک پہنچ جائے اور وہ بھی جل کر کوئلہ ہو جائے تو اس کو پیسنا پھر کسی تیز ہوا والا دن دیکھنا اور اس (راکھ) کو دریا میں بہا دینا چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ پھر اللہ نے اس کو جمع کر کے اس سے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف کی وجہ سے، پس اللہ نے اسے معاف کر دیا۔
بخاری، کتاب احادیث الانبیاء 3452۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص کفن چور تھا۔
خشوع کے متعلق احکامات
① سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ، ومن دعاء لا يسمع ، ومن نفس لا تشبع ، ومن علم لا ينفع ، أعوذ بك من هؤلاء الأربع
”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو، ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسے علم سے جو نفع مند نہ ہو۔ میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3482، نسائی، کتاب الاستعاذة 254/8، 255، روایت صحیح ہے۔
غلو سے اجتناب ضروری ہے
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هلك المتنطعون
”غلو اور تکلیف سے کام لینے والے ہلاک ہو گئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔
مسلم، کتاب العلم 2670، ابوداؤد، کتاب السنة 4608۔